۲۰۲۲ بتول نومبرکچرے میں کلی – بتول نومبر ۲۰۲۲

کچرے میں کلی – بتول نومبر ۲۰۲۲

رات کے پچھلے پہر کریم صاحب کی معمول کے مطابق آنکھ کھلی۔وہ اپنے بستر سے اٹھتے ہوئے اللہ کی حمد بیان کر رہے تھے ۔پھر وہ صحن میں لگے نلکے سے وضو کرتے ہوئےآسمان کو دیکھنے لگے جو بادلوں سے ڈھکا ہؤا تھا،یوں معلوم ہوتا تھا جیسے یہ کسی وقت بھی برس پڑیں گے۔
وضو کرکےانہوں نے ایک نظر اپنی بیوی پر ڈالی اور دروازے سے باہر نکل گئے ۔ ان کا رخ مسجد کی جانب تھا جوان کی آبائی مسجد تھی گھر سے کچھ فاصلے پر ۔ کریم صاحب روز تہجد کا اہتمام وہاں ہی کرتے   تھے۔کریم صاحب اللہ سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی راہ چل رہے تھے کہ اچانک کانوں میں پڑنے والی آواز سے ان کے قدم رکے ۔ وہ کسی بچے کی بلک بلک کر رونے کی آواز تھی ۔ کریم صاحب حیران پریشان اپنے ارد گرد کا جائزہ لینے لگے مگرکچھ دکھائی نہ پڑتا تھا ۔ ایک تو نیم اندھیرا تھا دوسرا دائیں جانب بڑا سا کچرے کا ڈھیر لگا تھا ۔ابھی وہ حالات کا جائزہ ہی لے رہے تھے کہ آواز آنا بند ہوگئی ۔ کریم صاحب نے اپنے خیالوں کو ترتیب دیتے ہوئےسوچا کہ یا وہ ان کا وہم ہوگا یا کہیں پاس کے گھر سے آواز آرہی ہوگی ویسے ہی اس وقت فضا میں سکوت تھا ۔ یہ سوچتے ہوئے انہوں نے آگے بڑھنے کے لیے قدم بڑھائے ہی تھے کہ بچے کی پھر سے گلا پھاڑ کر رونے کی آوازآئی ۔ وہ لمحہ بھر کو ٹھہرے اور آواز کا تعاقب کرنے لگے ۔ انہیں کچرے میں کسی ہلچل کا گمان ہوا ۔انہوں نے جیب سے موبائل نکالا اور ٹارچ جلاتے ہوئے وہاں کا جائزہ لینے لگے ۔
پانچ منٹ کی تگ و دو کے بعد بالآخر انہیں کچرے کے ڈھیر سے ایک بچہ مل گیا ۔اس کی حالت کچھ یوں تھی کہ اسے بہت سے کچرے کے نیچے دبایا گیا تھا تاکہ اس کی آواز دب جائے اور وہ وہیںمر جائے۔ دوسری کوشش یہ ہوسکتی تھی کہ اسے کوئی جانور باآسانی کھا نہ لے ۔بہرحال بچہ وہاں پھینکا گیا تھا اوربہت کمزور تھا ۔ معلوم نہیں کب سے وہاں تھا اور اب بھوک سے نڈھال ہورہا تھا اوراب بہت ہلکی آواز میں سسکنےلگاتھا ۔ کریم صاحب حیران تھے کہ اس حال میں بچہ اتنا اونچا کیسے رو سکتا تھا پھر خیال آیا کہ اللہ جو چاہے کردیتاہے اس نے چاہا کہ بچہ مجھے ملے سو اس نے سبب پیدا کردیا ۔ اب وہ بچے کو ہاتھ میں لیے سوچ رہے تھے کیاکریں , گھر واپس جاتے تو فجر کا وقت ہوجاتا انہیں اذان بھی دینی تھی اور بچے کو مسجد کیسے لے جاتے جبکہ اس کی حالت کافی نازک تھی ۔
پھر آسمان کی طرف سر اٹھا کر دیکھا تو آسمان صاف تھا ۔ صبح رات کے اندھیرے پر غالب آنے والی تھی۔ فجرہونے میں بیس پچیس منٹ بچے تھے ۔ انہوں نے واپسی کا ارادہ ترک کرتے ہوئے مسجد کی راہ لی ۔
ابھی وہ بچے کے دودھ کےلیے پریشان ہی تھے کہ انہیں یاد آیا مسجد کے برآمدے میں ایک چھوٹا سا کچن ہے جہاںایک چولہا اور چھوٹی سی فریج ہے ۔ دودھ تو تھا وہاں صبح ہی خریدا تھا , کریم صاحب بلیوں کو روز دودھ ڈالتےتھے اور برتن کچھ یوں بھی استعمال کے وہاں تھے کہ جب کوئی غریب روٹی مانگنے آتا تو اس کو کھانا کھلایا جاتا ۔انہیں گوارا نہ تھا کہ کوئی سائل آئے تو وہ اسے خالی ہاتھ لوٹائیں , انہیں اللہ کی اس ادا پر بہت پیار آتا تھا کہ وہ توگنہگاروں کو نہیں دھتکارتا پھر وہ بندہ بشر ہوکر اس کی مخلوق کو کیسے جھڑک دیں ۔آج ان کی تہجد کی نماز نکل گئی تھی ۔ اب فجر میں بس دس منٹ باقی تھے ۔ انہوں نے کچن میں آکر دود ھ گرم کیا پھر ساتھ ساتھ سوچنے لگے کہ بچے کو دودھ پلایا کیسے جائے۔ اتنے میں ان کی نظر فرسٹ ایڈباکس پر پڑی ۔اس میں سے روئی کا صاف اور نیا پیک کھول کر روئی نکالی , دودھ ایک برتن میں نکال کروہ ٹھنڈا کر چکے تھے ۔
اب وہیں بچے کے پاس چبوترے پر برتن رکھا اور بچے کو گود میں لے کر بیٹھ گئے ۔ روئی دودھ میں بھگوبھگو کر بچے کے منہ میں نچوڑتے ہوئے اسے دودھ پلایا , بچہ بہت بھوکا لگتا تھا وہ ہاتھ پاؤں مارے

بغیرخاموشی سے دودھ پیتا رہا ۔ اس میں اتنی طاقت بھی نہیں تھی کہ آواز نکالتا، وہ بنا آواز آنسو بہا رہا تھا ۔اس کی حالت دیکھ کر کریم صاحب کا دل پگھلا جارہا تھا، انہوں نے اچھے سے تسلی کی کہ بچے کا پیٹ بھر گیاہے پھر اس کا چہرہ اپنی چادر سے صاف کیا اور اس کو سلاکر وہیں لٹادیا ۔
فجر کی نماز کے بعد مسجد سے نکلتے ہوئے صدیق صاحب ان کی گود میں بچہ دیکھ کر حیران ہوئے اورسلام دعا کے بعد اپنی بے چینی کا اظہار بھی کردیا ۔ کریم صاحب نے انہیں سارا واقعہ سنایا اور دونوں افسوس سے سر ہلاتے ہوئے گویا ہوئے، اللہ ہدایت دے ایسے لوگوں کو جو اپنی ہی اولادیں پھینک دیتے ہیں , اللہ ہدایت دے انہیں کہ وہ حلال اولادیں پیدا کریں , اللہ ہدایت دے کہ جو وہ پیدا کریں اس کی پرورش کریں ،آمین ۔کریم صاحب گھر میں داخل ہوئے تو آمنہ بیگم کچن میں روٹیاں ڈال رہی تھیں ۔ تب ہی آواز دے کر انہیںناشتے کا بلاوا دیا ۔ کریم صاحب سلام کرتے ہوئے کچن میں داخل ہوئے تو آمنہ ان پر ایک نظر ڈالتے ہی
ششد رہ گئیں ۔
’’یہ کس کا بچہ اٹھا لائے آپ ؟‘‘
’’کھانا چھوڑو پہلے بچے کا منہ ہاتھ دھلا کر کسی صاف گرم کپڑے میں لپیٹ دو، آج ویسے ہی موسم تھوڑابہتر ہے ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے‘‘کریم صاحب نے انہیں پوری روداد سناتے ہوئے کہا۔ ’’صبح ہوتے ہی بازارسے اس کی ضروریات کی کوئی چیزیں لے آؤں گا‘‘ ۔وہ غمگین تھے کہ کوئی ماں باپ اپنی اولاد ایسے کیسےپھینک سکتے ہیں ۔آمنہ نے ان کی بات سنتے ہوئے آخری روٹی توے پر ڈالی اور گویا ہوئیں۔
’’ اچھا کیا آپ لے آئے…. پتا نہیں کتے نہ منہ مار دیتے کیا ہوتا نجانے ننھی جان کے ساتھ ‘‘۔
’’ہاں , مجھے لگتا ہے اللہ نے اس کی کفالت ہمیں سونپی ہے تبھی یہ اس وقت ملا مجھے جب میں اللہ کی طرف جارہا تھا ‘‘۔
آمنہ بیگم نے بچے کو تھامتے ہوئے انہیں اطلاع دی کہ بچے کو بخار ہے ،دن نکلتا ہے تو پاس کے اسپتال بھی لے جائیں گے، اور ایک ڈبے میں گرم پانی ڈالے اس کو صاف کرنے کی غرض سے کمرے میں چلی گئیں ۔ انہوں نے بچے کو چارپائی پر ڈالا تو ان کی شکل بار بار رنگ بدل رہی تھی۔ وہ پریشانی اور حیرانی کی ملی جلی کیفیت میں تھیں ۔ انہیں بچے کے پھینکے جانے کی اصل وجہ سمجھ آنے لگی تھی ۔آمنہ بیگم کے ہاں تین اولادیں ہوئی تھیں دو لڑکے ایک لڑکی اور تینوں ہی چند ماہ زندہ رہ کر وفات پاگئےتھے ۔ ان کی کافی دعاؤں کے بعد بھی کوئی اولاد نہ ہوئی تو انہوں نے اپنا نصیب سمجھ کر یہ آس لگاناچھوڑدی ۔ اب جب کریم صاحب کسی بچے کو لے آئے تھے اور اس کی کفالت کا کہہ رہے تھے تو آمنہ بیگم پریشان بھی تھیں اور خوش بھی مگر حقیقت جان لینے کے بعد معاملہ اب کچھ اور تھا ۔
وہ بچے کو پرسکون نیند میں پاکر کریم صاحب کے پاس کچن میں آئیں جو انہی کے انتظار میں بیٹھے ہوئےتھے ۔ ’’کیا ہؤا آمنہ , اتنی پر یشا ن کیوں ہیں آپ ؟‘‘
آمنہ لمحے بھر کچھ سوچتے ہوئے بولیں ’’ کریم صاحب بچہ’ بچہ‘ نہیں ہے ‘‘۔
’’ کیا مطلب ؟‘‘وہ حیران ہوئے ۔
’’مطلب نہ وہ نر ہے نہ ہی مادہ ‘‘ ان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ آگے کی بات سمجھ گئے تھے ۔
آمنہ نے کھانا نکالتے ہوئے سوال کیا ۔’’ اب ہم اس کی کفالت کیسے کریں گے ۔ یہ تو مشکل ہوجائے گی …پھرمعاشرہ …‘‘
انہوں نے آمنہ کی بات کاٹتے ہوئے کہا’’ کیا معاشرہ ؟ ہمیں یہ معاشرہ نہیں پالتا اور اس بچے کا رازق بھی اللہ ہی ہے وہ بچہ اپنی مرضی سے اس طرح کا پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ اللہ ہی کی مخلوق ہے اس کا اتنا ہی حق ہےجتنا کہ دوسرے لوگوں کا ۔ نہ وہ اچھوت ہے اور نہ ہی غلیظ….یہ ہم انسانوں کی سوچ ہے جو گرگئی ہے اورروز بہ روز گرتی جارہی ہے ۔کیا اس جیسے لوگ صرف اس لیے حقارت کا نشانہ بنتے ہیں کہ ان کی کوئی ایک شناخت نہیں ہے ؟ وہ نسل نہیں بڑھا سکتے ؟بس اسی لیے نا، مگر وہ بھی تو دل رکھتے ہیں ان کا بھی تو ذہن ہے ، جذبات ہیں ، احساسات ہیں ۔ یہ آزمائش ہوتی ہے نہ کہ عذاب‘‘۔

’’ٹھیک ہے سائنس اتنی ترقی کر چکی مگر انسان آج بھی جاہل ہی ہے ۔ زمانہ بدلنے سے کیا ہؤا سوچ تووہی کی و ہی ہے نا‘‘ ۔آمنہ ابھی بھی الجھن میں تھیں۔
’’ہمیں اللہ نے ذمہ داری سونپی ہے آمنہ ،ہمیں اس کی پرورش کرکے ثابت کرنا ہے کہ ایسے بچے نفرت وحقارت کے نہیں بلکہ پیار اور محبت کے حق دارہیں۔یہ بھی اللہ کے بندے ہوتے ہیں ۔ یہ بچہ اللہ کا بندہ ہے ….عبداللہ ! ہم اس کی پرورش کرکے اس کی شناخت بنائیںگے تاکہ آئندہ اس جیسے بچے پھینکے نہ جائیں بلکہ اپنا حق پائیں ‘‘۔
فیصلے کرلینے اور نبھانے میں فرق ہؤا کرتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے بات کہہ دینے میں اور اس کے پوراکرنے میں ہوتا ہے ۔مولوی صاحب نے اس آزمائش پر سر توجھکایا تھا مگر انہیں علم نہ تھا ابھی امتحاں اوربھی باقی ہیں ۔عبداللہ سال بھر کا تھا کہ ایک صبح خواجہ سراؤں کا ٹولہ ان کے گھر کے باہر موجود تھا ۔وہ ا حتجاج کررہے تھے کہ بچہ ان کو دے دیا جائے وہ اس کو پالیں گے ۔کریم صاحب کی کوشش تھی کہ یہ بات پردے میںرہ جائے مگر ایسی باتیں چھپائے نہیں چھپتیں ۔خواجہ سراؤں کا ٹولہ بضد تھا کہ وہ بچہ لے کر ہی دہلیز سےرخصت ہوں گے ۔
کریم صاحب نے بہت مشکلوں سے گاؤں کے چند باشعور لوگوں کی مدد لیتے ہوئے ان کو وہاں سے بھیجا۔وہ ٹولہ چلا تو گیا تھا مگر دھمکا گیا تھا کہ بچہ آج نہیں تو کل انہی کے پاس ہوگا ۔یہ راہ کچھ آسان نہ تھی جس پر مولوی صاحب نے قدم بڑھائے تھے ۔
’’ہمیں یہ بچہ کسی کے حوالے نہیں کرنا….اور ان کے حوالے تو بالکل بھی نہیں۔ جو ہوگا دیکھا جائے گا ‘‘اس بارآمنہ نے بھی تسلی کے انداز میں اپنا دوٹوک فیصلہ سنا دیا ۔
پھر کئی آزمائشیں گاہے بگاہےآتی رہیں ۔ کبھی بچہ بیمار ہوجاتا تو اسپتال میں پرچی بنوانے کے لیے ایک الگ ہی جنگ لڑنی پڑتی ،بحث مباحثے کے بعد کہیں جاکر بیمار کو دوا ملتی ۔اس سب کے باوجود اللّٰہ نےہمیشہ راہ میں آسانیاں بھی دیں ۔ بے شک اللّٰہ بڑا کارساز ہے ۔ عبداللہ اب دوسال کا ہورہا تھا ۔ بلاشبہ وہ بہت خوبصورت تھا ۔ لمبی گھنی پلکیں , گرے آنکھیں , گلابی چھوٹے ہونٹ جب مسکراتے تو اس کی معصومیت کو چار چاند لگادیتے ۔ ان دونوں  نےا س کی پرور ش میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی ۔کریم صاحب اب اپنا کام شروع کر چکے تھے ۔ اس کے آنے سے ان کےرزق میں برکت بڑھ گئی تھی ۔ کریم صاحب کے کندھوں پر اب دو لوگوں کے نان نفقے کے بجائے تین کی روزی روٹی کی ذمہ داری تھی جسے وہ بخوبی نبھارہے تھے ۔کر یم صاحب جب دکان سے واپس آتے تو کچھ وقت عبداللہ کے ساتھ گزارتے ۔ اس سارے وقت میں وہ اس سے بہت سی باتیں کرتے , اس کے ساتھ کھیلتے، اسے اللہ کہنا سکھاتے ۔ وہ چاہتے تھے جو پہلا لفظ وہ بولے وہ اللہ ہو ۔ان کےصبر اور کوشش کا اجر انہیں تب ملا جب ایک رات سونے سے پہلے کریم صاحب کوپیچھے پیچھےاس نے اللہ کا لفظ ادا کر لیااور وہ خوشی سے نہال ہو گئے۔ بے ساختہ اس کے چہرے کابوسہ لیا اور آمنہ بیگم سے عبداللہ کو شہد چٹانے کا کہا ۔ وہ اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے کہ اس نے ماں باپ کو مخاطب کرنے سے قبل اللہ کو پکارا تھا ۔
عبداللہ تو اپنی ننھی ننھی آنکھوں میں حیرانی لیے اپنے باپ کا چہرہ دیکھ رہا تھا جو اس لفظ کی ادائیگی پراسے پیار کر رہا تھا۔ اسے کیا معلوم وہ کیوں خوش ہوئے تھے ۔ وہ انہیں اوپر دیکھتا پاکر دوبارہ اپنے کھیل میں محو ہوگیا ۔
دن مہینوں میں تبدیل ہوئے , مہینے سالوں میں اور دیکھتے ہی دیکھتے عبداللہ سات سال کا ہوگیا ۔ وہ اپنی عمر کے بچوں سے زیادہ بہتر جسامت کا تھا ۔ ذہین , سمجھدار اور سلجھا ہؤا ۔ ماں باپ کا فوراً سے کہناماننے والا , اللہ سے باتیں کرنے والا ۔کچی عمر میں کریم صاحب نے اسے نا صرف اللہ کے بندے کا نام دیاتھا بلکہ گاہے بگاہے اسے اللہ سے جوڑنے کا سامان بھی کرتے رہے تھے ۔
آج وہ سات سال کا ہؤا تھا ۔ آج اس کی پہلی نماز کی باقاعدہ ادائیگی تھی ۔ کریم صاحب ایک بچے کے طورپر نماز اور دیگر ضروری باتیں سکھاتے اور بتاتے آئے تھے مگر آج اس کی مکمل کلاس تھی جو اس کی آنے والی زندگی کا پہلا قدم تھی ۔

عبداللہ , چودہ سال کا تھا جب میٹرک کر چکا تھا ۔ وہ اپنی عمر کے بچوں سے آگے رہا تھا ۔ جہاں اللہ کو ئی کمی رکھتا ہے کسی چیز میں تو دوسری طرف اس کمی کو پورا کرنے کے لیے انسان کی پہنچ سے زیادہ نوازتا بھی ہے ۔کریم صاحب اس کی مارکس شیٹ ہاتھ میں لیے خوشی سے سوچتے ہوئے گھر آئے تھے ۔
’’آمنہ…. آمنہ دیکھو ہمارے بیٹے نے فرسٹ ڈویژن لی ہے۔ گاؤں کا پہلا بچہ ہے جو اتنا لائق فائق نکلا ہے‘‘ ۔
وہ دونوں خوشی سے اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ اس کا کرم یاد کر رہے تھے جیسے اس نے عبداللہ کے لیے تھوڑی جگہ بنادی تھی ۔وہ بھول نہ سکتے تھے شروع کے چند مہینے ان کے لیے کتنی پریشانی کا سبب رہے تھے جب گاؤں میں یہ بات پھیلی تھی کہ مکی مسجد کے امام ایک خنثاکی کفالت کررہے ہیں ۔ کچرے سے اٹھایا ہے بچہ ۔ لوگوں نے ان کے گھر آکر بڑی لعن طعن کی، برا بھلا کہا، اللہ کےعذاب سے ڈرایا اور اپنے الفاظ اور رویے سے کیا کیا اذیتیں نہ دیں ۔ مولوی صاحب کا سب کو ایک ہی جواب ہوتا جو انہوں نے آمنہ کو بھی دیا تھا کہ یہ اللہ کا بندہ ہے , اس کی زمین پر اس کا پورا حق ہے ۔
شروع کے ایک دو سال تک وہ نشانہ بنتے رہے مگر لوگ آہستہ آہستہ عبداللہ کے لیے جگہ بنانے لگے تھے ۔
شاید اسے ایک جاندار سمجھ کر ہمدردی کرتے تھے، ایسا مولوی صاحب کو لگتا تھا ۔ ابھی انہیں معلوم نہ تھاکہ یہ لوگ نہ صرف تنگ ذہن ہیں بلکہ ان میں سے بہت سے گندے ذہن بھی ہیں ۔تعلیم ہر بچے کا حق ہےمگر جب بچے جنسی ابہام کے مالک ہوں توتعلیم بھی مشکلات کا نام بن جاتی ہے۔مولوی صاحب نے عبداللہ کو جب گاؤں کے اسکول میں داخل کروایا تو انہیں امید تھی اور کچھ ا عتماد تھا کہ استاد عظیم ہوتا ہے ، استاد سے کسی ناروا بات یا حرکت کی توقع نہیں ہوتی ۔مگر اس  کے استاد پاس بٹھا کر اس سے چھیڑ چھاڑکرتے تھے جو کہ ان کے نزدیک کوئی غیر مہذب حرکات نہ تھیں صرف اس لیے کہ ایسے بچوں کی خیرہوتی ہے۔
ا یک دن مولوی صاحب پانچ سالہ عبداللہ کا ماتھا چومتے ہوئے گال پر بوسہ دینے لگے تو عبداللہ شرارت میںمنہ پیچھے کرنے لگا اتنے میں ان کے ہونٹ اس کے ہونٹ سے مس ہوئے ۔ بے اختیار عبداللہ کہہ اٹھا بابا آپ مجھے ایسے پیار نہیں کرتے , مولوی صاحب حیران ہوئے پھر اس کو سمجھاتے ہوئے بولے بیٹا، یہ بری بات ہوتی ہے نا اس لیے ۔
’’مگر بابا ماسٹر جی تو روز پاس بٹھا کر لنچ بریک میں ایسے ہی پیار کرتے ہیں , وہ کہتے ہیں میں انہیںبہت پیارا لگتا ہوں‘‘ ۔
مولوی صاحب کا تو دماغ گھوم کر رہ گیا ۔انہوں نے ویسے تو عبداللہ کو سمجھدار بنایا تھا اور بہت کچھ سمجھایا بھی تھا اس کی شخصیت کے لحاظ سے پردے میں رکھ کر مگر انہیں اندازہ ہی نہ تھا کہ کوئی اتنی گری ہوئی حرکت بھی کرے گا ۔ انہوں نے عبداللہ سے تفتیش کرتے ہوئے سب پوچھا اور ذہن میں لائحہ عمل تیار کرتے ہوئے اسے  وضو کرنے کا کہا ۔یہ عبد اللہ کو قرآن پڑھانے کا وقت تھا ۔
مولوی صاحب اگلی صبح ماسٹر کے پاس گئے تو وہ انہیں دیکھ کر حیران ہؤا پھر مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’عبداللہ نہیں آیا ۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا ؟‘‘
’’وہ اب یہاں نہیں آئے گا ‘‘کریم صاحب نے جواباً کہا ۔ ماسٹر صاحب پہلے تو گھبرائے پھر ڈرتے ڈرتے وجہ پوچھ ہی لی ۔
&جہاں تم جیسے بھیڑیے ہوں , وہاں ایسے بچے بلکہ ہر طرح کے بچے نہ ہی آئیں تو بہتر ہے وہ ان کا اشارہ سمجھ گئے تھے مگر ڈھٹائی کا خوب مظاہرہ کر رہے تھے ۔
’’طارق ابھی تم کیا سبق دے رہے تھے بچوں کو ؟حقوق العباد کیا ہوتے ہیں ,اللہ کی حدود کیا ہیں، نرمی سےکیسے پیش آنا چاہیے , اللہ کے کسی بندے کسی مخلوق کو ستانا نہیں چاہیے، ہر شخص عزت کے لائق ہے ۔میرا خیال ہے پہلے خود اپنے دل اور ایمان سے یہ اصول و ضوابط سیکھ لو پھر آگے کسی کو سکھانا‘‘ ۔قرآن تو پہلے بھی خود ہی پڑھاتے تھے، اب انہوں نے عبداللہ کو اسکول کا سبق بھی خود ہی پڑھانے کافیصلہ کیا ۔ وہ تھوڑا وقت نکال لیتے مگر یوں لوگوں کے ہاتھوں بچپن کو بکھرنے نہ دیتے ۔
عبداللہ پرائیویٹ پیپر دیا کرتا تھا ۔ اس کے آٹھویں جماعت

میں آنے تک کریم صاحب کے حالات اتنے بہتر ہو گئے تھے کہ وہ اس جیسے بچوں کے لیے ایک چھوٹا ادارہ کھول سکتے۔ اس سلسلے میں وہ کئی بار شہرگئے تھے اور ایک فلاحی این جی او کے ساتھ مل کر کام کرنے لگے تھے۔کریم صاحب اچھا پڑھے لکھےتھے ۔ ان کی پیدائش شہر ہی میں ہوئی تھی ۔ ان کے ماں باپ ان کی کم عمری میں ایک حادثے میں چل بسے۔پھر اپنی پڑھائی مکمل کرکے وہ اپنے دادا دادی کے پاس گاؤں چلے آئے ان پر ان دونوں کی ذمہ داری تھی۔
آمنہ بھی شہر کی پڑھی لکھی خاتون تھیں ۔ ان کے ہوتے ہوئے ہی اماں بی اور ابا اس دنیا سے رخصت ہوئےتھے ۔ اولاد نہ ہوتے ہوئے اب کریم صاحب کا وہاں سے جانے کا من نہیں تھا ۔ انہوں نے وہیں زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا تھا ۔کریم صاحب کے اچھے تعلقات تھے ۔ ان کا کسی نہ کسی کام سے شہر آنا جانا لگارہتا تھا ۔
دسویں جماعت کے بعد وہ عبداللہ کو آگے پڑھانا چاہتے تھے اور فکر مند بھی تھے کہ اس سب کے لیے اسےشہر بھیجنا ہوگا ۔ وہاں طرح طرح کے لوگ ہوں گے اور کوئی کچھ غلط ہی نہ کردے یہ سوچ کر ہی ان کی جان پر بن آتی ۔عبداللہ کے گود میں آنے کے بعد انہوں نے ایسے بچوں کے بارے میں معلومات لینی بھی شروع کر لی تھیںاورانہیں پتہ چلا تھا کہ کئی صورتوں میں ایسے بچوں کا علاج کے بعد نارمل زندگی گزارنا ممکن ہے۔بالآخرانہوں نے ایک ایسے ہی ادارے سے رابطہ قائم کیا، عبداللہ کے چیک اپ اور علاج کے ساتھ ساتھ اس کی تعلیم کے لیے ایک مناسب حل ڈھونڈ لیا۔
این جی او نے ابھی چھوٹے بچوں کے لیے سکولنگ سسٹم شروع کیا تھا ۔ انہیں مزید استادوں کی ضرورت تھی ۔ یہ سب مل کر حاجت مند طبقے کے بچوں کو معاشرے میں آگے بڑھنے، مضبوط بننے اور نام بنانے میں مدد کے لیے کوشاں تھے ۔ ان کا ماننا تھا کہ اس معاشرے اور ملک کی ترقی اور بقاکے لیےان کا بھی اتناہی فرض ہے جتنا کسی حکومتی ادارے کا ۔ وہ ان بچوں کو بہترین ماحول دے کر مضبوطی سے اٹھانا چاہتےتھے ۔
کریم صاحب نے وہاں بات کرکے عبداللہ کو چھوٹی جماعت کے بچوں کو پڑھانے کے لیے لگوادیا ساتھ ہی ایک کمرہ بھی دلوادیا ۔و ہ اسے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے ۔ ان کا فیصلہ تھا کہ عبداللہ پرائیویٹ ہی پڑھائی جاری رکھے کالج تک اور یہاں پڑھاتا رہے۔ عبداللہ کےلیے کوئی راہ آسان نہ تھی۔کریم صاحب کی اس کو مستحکم بنانے کے ساتھ ساتھ محفوظ رکھنے کی بھی کوشش تھی ۔ بہت سے حالات , واقعات  اور لوگوں کی اس کے بارے میں باتیں ایسی تھیں کہ وہ اس سے چھپانے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے۔ عبداللہ جب نویں میں آیا توبائیولوجی کا سٹوڈنٹ تھا ، تب وہ ان معاملات کو اچھے سے سمجھ سکتا تھا ۔ مولوی صاحب اسے کافی عرصہ سے بتاتے اور سمجھاتے آئے تھے اور قرآن سے بھی سکھاتے آئے تھے ۔وہ کافی سمجھدار بھی تھا،چپ کرکے بات کو سنتا , سمجھتا اور عمل کرتا ۔ مگر انہیں ڈر تھا کہ کبھی وہ اللہ سے شکوہ نہ کر بیٹھےاس لیے وقتاً فوقتاً اس کو سمجھاتے رہتے ۔ مولوی صاحب نے اس کو اس کی شخصیت کے بارے میں تو بتایاتھا اور کافی حد تک اسے مضبوط اور زمانے کا مقابلہ کرنے والا بھی بنایا تھا ۔ اس ماحول میں اس کے ذہن نے پختہ نشوونما پائی تھی ۔ لیکن کبھی یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ ان کی اولاد نہیں ہے ۔
عبداللہ کا کہنا تھا کہ کالج جانا بھی ضروری ہے ۔ کبھی کبھی ہی سہی ۔ اب آگے کی پڑھائی کچھ مشکل تھی جس کے لیے اسے محنت کے ساتھ ساتھ اپنے استادوں کی بھی ضرورت تھی ۔ مولوی صاحب نے ڈرتے ہوئے اللہ کی مدد مانگی اور اس کی بات سمجھتے ہوئے کالج میں داخلے کے لیے راضی ہوگئے ۔ عبداللہ کے میٹرک میں اچھے نمبر ہونے کی وجہ سے شہر کے مشہور کالج میں نام آیا ۔ ایڈمشن کے دن کریم صاحب کی اختر سے مڈ بھیڑ ہوگئی جو یہاں ہیڈ کلرک تھا۔ یہ ان کے گاؤں سے ہی تھااور کریم صاحب کو اچھی طرح جانتا تھا۔ عبداللہ کو دیکھ کر وہ معنی خیز انداز میں مسکرایا۔
’’کریم صاحب نمبر تو اس کے اچھے ہیں مگر یہ لڑکوں کا کالج ہے، دیکھ لیجیے‘‘ اس کے چہرے پر خباثت تھی’’جنس کے خانے میں تو مرد لکھا ہے مگرلوگ پہچان لیتے ہیں، بڑی مشکل ہو جائے گی۔اور اگرانتظامیہ میں کسی کو پتہ لگ گیا تو میری الگ شامت آئے گی‘‘۔کریم صاحب بے بسی سے اس کی شکل دیکھنے لگے’’آپ ہی کچھ کریں مہربانی ہوگی‘‘۔اختر اس

جیسے ہیرے کو جو ان کے کالج کو بہت شہرت دے سکتا تھا ہاتھ سے گنوانا نہیں چاہتاتھا ۔ اس کےناپاک ذہن میں کچھ اور ہی چل رہا تھا ۔ وہ سوچتے ہوئے آگے بڑھااور انتظامیہ سے اس کا داخلہ کرنے کاکہہ کر ایک عجیب سی مسکراہٹ عبداللہ کی طرف اچھال کر چل دیا ۔
داخلے کے بعد کریم صاحب اللہ کے شکر گزار تھے اور اختر صاحب کےلیے ان کے دل سے دعائیںنکل رہی تھیں ۔ وہ سوچ رہے تھے کہ ابھی چند ایک اچھے لو گ باقی ہیں۔
عبداللہ اپنے ہوسٹل آچکا تھا کمرے میں لیٹے ہوئے وہ اختر صاحب کے انداز کو سوچ رہا تھا ۔ بار بار ذہن سے جھٹکنا چاہتے ہوئے بھی اسے انہی کا خیال آرہا تھا۔
عبداللہ کی کلاسز دوپہر کی تھیں وہ صبح ان بچوں کو پڑھاتا پھر اپنے کالج جایا کرتا ۔ آج اس کا تیسرا دن تھاکالج میں , اسے جان لینا , پہچان لینا اب مشکل نہیں رہا تھا ۔راستوں میں گزرتے ہوئے اس کی طرف کئی بارمبہم سے اشارے ہوتی اور کبھی بلاوجہ کی مسکراہٹیں۔ یہاں تک کہ کبھی استادبھی کلاس میں اسے اپنےگھٹیا مذاق کا نشانہ بناتے اور پوری کلاس اس پر ہنستی ۔ عبداللہ ان کے اس رویے سے بہت دلبرداشتہ ہوتامگر پڑھنے کے لیے صبر کے گھونٹ تو پینے ہی تھے لہٰذا برداشت کا دامن تھامے رہتاا اور بظاہر پر سکو ن نظر آتا ۔
ابھی اسے ایک ہفتہ ہؤا تھا کالج جاتے ۔ فزکس کی لیب میں بچے اس کا مذاق اڑا رہے تھے , اختر صاحب وہاں سے گزرے جھانک کر اندر دیکھا اور عبداللہ سے چھٹی کے بعد ان کے روم میں آنے کے لیے کہا ۔
بچے ان کی ڈانٹ پر خاموش تو ہوگئے تھے مگر آپس میں باتیں بگاڑ کر ہنس رہے تھے ۔ چھٹی کے بعد عبداللہ سوچتے ہوئے ان کے کمرے کے باہر رکا اور ان کے پیون سے اجازت لینے کا کہا ۔
اختر صاحب نے اسے کافی لمبا انتظار کرایا تھا یہاں تک کہ کالج خالی ہوچکا تھا ۔ عبداللہ سہما ہوا تھا وہ جا بھی نہیں سکتا تھا کہیں اس کو اس حرکت پر نکال ہی نہ دیتے ۔ آدھ گھنٹے بعد اندر سے بلاوا آیا ۔ اسے لگ رہا تھا اندر کوئی میٹنگ چل رہی ہے مگر جب وہ داخل ہوا تو کمرہ خالی تھا۔ اسے حیرانی ہوئی جب سر نےاپنے پیون سے چھٹی کرلینے کا کہا ۔ اس کے ذہن میں الارم بجنے لگا کچھ تھا جو غلط تھا۔اختر نے اسےبیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود کرسی پر آگے ہوکر بیٹھے اور حال چال دریافت کرتے ہوئے عبداللہ کےہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور عجیب انداز میں مسکرانے لگے۔ عبداللہ گھبرا گیا تھا مگر اس کے باپ کی تربیت نے اسے سکھایا تھا کہ وہ ڈرپوک اور کمزور نہیں ہے اسے مقابلہ کرنا ہے ایسے لوگوں کا ۔ عبداللہ نے جھٹکے سے ہاتھ پیچھے کھینچے تو اختر صاحب ایک جاندار قہقہہ لگا کر ہنسے تھے۔ پھر گویا ہوئے۔
’’ میں گارنٹی دیتا ہوں اس کالج میں آج کے بعد تمہیں کوئی پریشان نہیں کرے گا میں خود قدم قدم تمہارا ساتھ دوں گا اگر ….‘‘
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد بولے’’اگر تم مجھ سے تعلقات قائم کرلو‘‘ ۔
وہ ان کی بات کا اشارہ سمجھ گیا تھا۔ غصے سے اس کا رنگ سرخ ہوگیا ’’سر آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے،میں وہ نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں‘‘ اور ذرا بھی دیر کیے بغیر غصے سے اٹھ کر  وہاں سے نکل گیا تھا ۔ اختر صاحب کو اس ردِ عمل کی توقع نہیں تھی اس لیے اسے روک نہ پائے ۔
اس رات عبداللہ اپنے کمرے میں آکر تکیے پر اوندھے منہ لیٹا بہت رویا تھا ۔ زندگی میں  بہت سے مواقع آئےتھے جب اسے اس طرح کی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔ بہت سے مواقع آئے تھے جب تشدد کیا گیا تھا ۔ بہت سے مواقع آئے تھے جب ہراس کیا گیا تھا ۔ وہ ہر بات بابا کو نہیں بتاتا تھا وہ خود سہہ کر اللہ کی پناہ مانگتا تھا کہ کہیں بابا پریشان نہ ہوجائیں وہ پہلے ہی بہت محنت کر رہے تھے اس کے لیے ۔ وہ سات سال کا تھاجب گلی میں ایک لڑکے نے اس روک کر چھیڑ چھاڑ کرنا چاہی ۔ عبداللہ سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا وہ لڑکاپیچھے سے چلایا اور اپنے دوست سے کہنے لگا ۔
’’اکڑ تو دیکھ سالے کی غرور پتا نہیں کس بات کا ہے اس میں…. اوپر سے مولوی صاحب نے اسے کچرےسے اٹھا کر پال پوس کر بڑا تو کیا ہے ساتھ ہی اس کا دماغ بھی خراب کر دیا ہے…. اپنی اوقات ہی بھول

گیاہے یہ!‘‘
عبداللہ کچھ کہنے کے بجائے مردہ قدموں سے چلتا ہوا گھر تک آیا اور باہر چبوترے پر بیٹھ گیا ۔ اسےافسوس ہوا تھا اس بات پر نہیں کہ وہ لے پالک تھا بلکہ اس بات پر کہ اس کو پھینک دیا گیا تھا ۔ وہ کافی سمجھدار تھا اس نے باپ سے ذکر نہیں کیا تھا ۔ اس کا ماننا تھا کہ جس باپ نے پردہ رکھا ہے اس کےسامنے حقیقت سے پردہ اٹھا کر انہیں تکلیف نہیں دینی چاہیے۔اس نے کبھی اللہ سے شکوہ نہیں کیا , کرتا بھی تو کیا بس اس جسم کے لیے ؟
وہ شکر کرتا تو اس بات کا کہ وہ محفوظ ہاتھوں میں تھا , گندے لوگوں میں نہیں تھا ۔ وہ اچھا کھاتا اور پہنتاتھا ،خوبصورت تھا ایک خوبرو مرد کی طرح ۔ وہ شکوہ کرتا تو کیونکر کرتا وہ بھی اس کمی کے لیے جواللہ نے خود دی تھی تو کتنا کچھ اور دے بھی دیا تھا ۔ وہ اللہ کا شکر گزار تھا کہ بہترین زندگی گزار رہا تھااسے کریم صاحب جیسا سرپرست ملا تھا، اس کو عزت ملی تھی اس کو پھینک نہیں دیا گیا تھا ۔کریم صاحب نے اسے کچرے سے اٹھا کر کلی بنایا تھا وہ ان کی محنت کو پھر سےکچرے کا ڈھیر نہیں کرنا چاہتا تھامگر کبھی کبھی وہ معاشرے کے درندوں کا روپ دیکھ کر دلبرداشتہ ہوجاتا تھا ۔اس کا علاج جاری تھا اوراس نے آج پھر سے عزم کیا تھا کہ وہ اپنے جیسے اور لوگوں کا مستقبل بہتر بنانے کی کوشش کرے گا ۔
کچھ دنوں بعد اختر صاحب نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی کوشش کی تھی ۔کریم صاحب ہر چار چھ دن بعد اس کے ہاں چکر لگاتے تھے ۔ اب کی بار آئے تو عبداللہ کو دیکھ کر خاصاپریشان ہوئے ۔ ان کا وہ پھول مرجھایا ہؤا تھا ۔ انہوں نے اسے گلے لگا کر خیر خیریت پوچھی تو عبداللہ ان کے سینے سے لگا رو دیا ۔
’’ بابا اب برداشت نہیں ہوتا یہاں کے لوگ بہت برے ہیں‘‘ وہ جتنا بھی مضبوط ہوتا آخر کار ایک دل رکھتا تھااور کم عمر ہی تھا ۔
اس نے انہیں سارے حالات و واقعات بتائے اور اختر صاحب کا نام لے کر بس خاموش ہورہا۔ کریم صاحب نے اس سے خود ہی سوال کیا وہ نظریں جھکائے بیٹھا رہا۔ انہوں نے مزید کچھ کہے بغیراس سے پرائیویٹ پیپر دینے کا کہا اور ساتھ ہی سمجھایا کہ مشکلیں آزمائشیں تو آتی ہیں بیٹا، یاد رکھنا ہم ڈر کر پیچھے نہیں ہٹ رہے ہم پہلے سے زیادہ مضبوط اور طاقت ور بن کر ابھریں گے کہ ان جیسے لوگ اپنی  حدود میں رہیں اورآنے والوں کی زندگیاں تباہ نہ کریں ۔
عبداللہ کی زندگی کے یہ دو سال کافی مشکل گزرے تھے مگر ساتھ ہی ساتھ ان دو سالوں میں این جی او کےساتھ فرسٹ ایڈ پر کام کرتے ہوئے اس نے اپنا بہت نام بنالیا تھا ۔ ایک دنیا تھی جو اس کا نام لے کر اس کی مثالیں دیتی تھی ۔اس نے انٹر میں بھی بڑی کامیابی حاصل کی تھی یہاں تک کہ میڈیکل میں ایڈمشن کے وقت تک وہ علاج کے مشکل مراحل سے گزر کر ایک مکمل مرد میں ڈھل چکا تھا۔ایک ہی سال میں اس نےکالج میں اپنا نام منوالیا تھا ۔ ہر چیز میں اس کی لگن اور محنت اپنی مثال آپ تھے۔ وہ نہیں چاہتا  تھا کہ وہ کمزور نظر آئے ۔ وہ یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ ان جیسوں کو کمزور تصور کرکے پیچھے رکھا جائے ۔ اس سال کے سپورٹس میں اس نے گولڈ میڈل جیتا تھا ۔میڈیکل کے چوتھے سال میں وہ اپنی ایک این جی او اپنے با پ کے  نام سے کھول چکا تھا ۔ جہاں اس جیسےبچوں کو لایا جاتا جو کچرے کی نظر ہوجاتے یا کچی آبادیوں میں رلتے پائے جاتے۔ میڈیکل کی پڑھائی مکمل کرکے وہ ہاؤس جاب کے ساتھ ساتھ دین کی تعلیم بھی لینے لگا ۔ اس کے دن رات محنت میں کٹ رہےتھے۔ روز بہ روز وہ ترقی کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا ۔
پورے دو سال بعد اس کا نام ایک نئی فیلڈ میں اجاگر ہؤا تھا ۔ اب وہ ایک ڈاکٹر، ایک این جی او کا صدر ہونےکے ساتھ ساتھ سماجی علوم پرایک سکا لر بھی تھا ۔پوری دنیا اسے سنتی تھی ۔ اس کا نام تھا ، ایک ایسے شخص کا جسے دنیا نے بہت سی ٹھوکریں ماریں ،دھتکارا ، گندا کرنا چاہا آج وہی دنیا اس کی گرویدہ تھی ۔
عزت کرتی تھی، آج اس کے ساتھ کوئی بدتمیزی تو کیا اونچی آواز میں بات کرنے کی ہمت نہیں رکھتا  تھا ۔ایک ایسا شخص جو کوشش نہ کرتا تو اسی زمانے کی دھول ہوکر رہ جاتا ۔کریم صاحب اور ان کی بیگم ایک سال قبل شہر شفٹ ہوگئے تھے ۔ وہ اپنی پور ی توجہ ٹی وی پر مرکوزکیے نم دیدہ ہوکر اپنے بیٹے کو دیکھ اور سن رہے تھے جو ایک بین الاقوامی فورم پر خطاب

کر رہا تھا۔اپنی بات اس نے اپنی زندگی کی کہانی سے شروع کی ، جس طرح اسے ہراساں کیا گیا، نشانہ بنانے کی کوششیں کی گئیں ۔ اکثر ایسی باتیں تھیں جو خود مولوی صاحب پہلی بار سن رہے تھے اور اپنے بیٹے کی بہادری پر رشک کر رہے تھے ۔
عبداللہ دنیا سے کہہ رہا تھا کہ اس جیسے اور بہت سے لوگ نفرت کے حقدارنہیں ہیں ۔ ان کو بھی وہی محبت دی جانی چاہیے جو کسی عام شخص کو ۔ وہ بتا رہا تھا کہ وہ اللہ کے آگےکبھی شکوہ نہ کر سکا ۔ کرتا بھی تو کس چیز کا , اس جسم کا ؟ جس کو دنیا دیکھتی ہے پرکھتی ہے ۔ اللہ توروح دیکھتا ہے باطن پر نظر کرتا ہے ۔ اللہ نے انسانوں کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ہے یہ ہم انسان ہی ہیں جو تفریق کرتے ہیں ۔ جانوروں نے تو کوئی ایسا معیار نہ بنایا ۔وہ کہہ رہا تھا۔
’’یہ انسان ہی کی سوچ ہے جس پر کبھی رشک آتا ہے اور کبھی افسوس ہوتا ہے ۔ میں نے ہر حال میں اللہ کاشکر ادا کیا ہے ۔ ہمارا حق ہے کہ ہم اس کا شکر ادا کریں ۔مجھ جیسے تمام بچوں کے حقوق وہی ہیں جو کسی عام شخص کے ہیں ۔ہمیں شکوہ نہیں کرنا چاہیے کہ اللہ نے ہمیں ایسی اولاد کیوں دی ۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ہماری اوقات نہیں کہ اسے مشورہ دیں ۔
یہ ہم پر ہے کہ ہم ان بچوں کی شخصیت کو کیسے پرواں چڑھاتے ہیں کیسے ان کو سہارا دے کر کھڑاکرتے ہیں ۔ ایک زندہ مثال میں بھی ہوں ۔ میرے بابا نے مجھے پھینکا نہیں انہوں نے مجھے ایک مثال بنا کرابھارا ہے انہوں نے واضح کیا ہے کہ جاندار جیسا بھی ہو جاندار ہی ہوتا ہے ۔ انسان میں کمی ہو تو بھی انسان ہی رہتا ہے ۔ میں اللہ کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھے عام بنایا مگر میں عاموں میں خاص بنایا گیاہوں بلکہ میرے جیسا ہر شخص خاص ہے۔اس لائق ہے کہ اسے ان گمراہ انسانوں سے بچایا جائے جو اسےاپنا نشانہ بناتے ہیں، جو اپنے گندے خیالات کے تحت ان جیسے بچوں کے ساتھ غلط کرتے ہیں ۔ درحقیقت اس پیدائش کے لوگ گندے یا حقیر نہیں ہیں ، حقیر ،ناپاک وہ ہیں جو انہیں کمزور اور پست سمجھ کر ان کے ساتھ نا انصافی کرتے ہیں ۔ ہمارا اتنا ہی حق ہے جتنا سب کا ۔ اللہ نے تو علم سیکھنے کے لیے شرطیں نہیں لگائیں ۔ اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے تو ہر انسان کی طرح صلاحیتیں دے کر…. ہمیں زندہ رہنے کے لیے سروایئو کرنا ہے اور سروائیول کے لیے ہمیں بھی وہی زندگی گزارنی ہے جو ہر عام انسان  گزارتا ہے ۔ انسان کا یہ جسم اگر صحت مند ہے تو اللہ کی دین ہے اور اگر کوئی کمی یا معذوری ہے تو بھی اللہ کی دین ہے ۔ ہمیںاس بات کو سمجھ لینے کی ضرورت ہے ۔ ہم ساتھ چل کر بہترین کام   کر سکتے ہیں ۔ ہم اسی لیے پست ہیںکہ ہم نے انسانوں میں تفریق کردی ہے اپنے معیار کے مطابق ان کی رینکنگ کردی ہے ۔ غریب کے ساتھ ایسا رویہ رکھنا ہے اور امیر کے ساتھ ایسا ۔ یہ سب سکھایا نہیں گیا انسان نے خود اپنایا ہے تو کیوں نہ مثبت طرز اپنائیں،ایسے بچوں کو بہتر زندگی اور مستقبل دیں۔میں سب سے اپیل کرتا ہوں جن کے آس پاس ایسے لوگ موجود ہوں وہ ان کی زندگی بہتر کریں نہ کہ اجیرن اور اگر خود نہیں ان کا ساتھ دے سکتے تو میرے ادارے کے پاس لے آئیں یا ایسے بہت سے ادارے کام کررہے ہیں مگر خدارا ان کو کچرا سمجھ کر کچرے کی نظر نہ کریں ۔ اللہ اپنے بندوں کو پال لیتا ہے ہم وسیلہ بنائے گئے ہیں ۔ ہمیں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی ان کی کفالت کرتے ہوئے ۔ ہم ان کو بہتر تعلیم اور بہترین مستقبل دینا چاہتے ہیں ۔اللہ میری اور اس کام میں مصروف تمام ساتھیوں کی بہترین مدد فرمائے آمین‘‘۔
پروگرام ختم ہوچکا تھا ۔ کریم صاحب نم آنکھوں سے اللہ کے شکر گزار تھے کہ اس نے اپنے بندے کو تنہانہیں چھوڑا تھا ۔ عبداللہ نے اللہ کا بندہ بن کر دکھایا تھا ۔ وہ ہارا نہیں تھا ، اللہ کی ڈالی ہوئی ایک بے حدمشکل آزمائش میں سے سرخرو ہو کر نکلا تھا، انسانوں کے اندراپنے انسانی وجود کومنوانے کی اس جنگ کو جیت گیا تھا ۔
٭ ٭ ٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here