ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

کوڑے کے ڈھیر پر – بتول جون ۲۰۲۳

وہ کوڑے کا ڈھیر تھا جس پہ وہ سب دائرے کی شکل میں بیٹھے تھے۔ سب کی شکلیں بگڑی ہوئیں جن پہ مردنی چھائی تھی۔بچوں کے چہروں پر بچپن میں ہی بڑھاپے کی جھریاں نمایاں تھیں۔ سب کے پاس ایک ایک آٹے کی خالی بوری دھری تھی جن پر مکھیاں ایسے بھنبھنا رہی تھیں جیسے روشنی کے گرد پتنگے… مکھیاں ہی ان کی واحد رفیق تھیں جو بھری دوپہروں میں بھن بھن کرتی ان کی سوتی زندگیوں میں ارتعاش پیدا کرتیں۔
وہ سب ایسے ہی روز وہاں آتے ۔ابھی دکانوں کی اور سبزیوں کے ٹھیلوں کی شٹریں نہ اٹھی ہوتیں کہ وہ اپنی اپنی بوریاں لیے حاضر ہو جاتےاور یوں کوڑے کے ڈھیر پر بیٹھ کر انتظار کرتے۔ سب کے چہروں بشروں سے بے فکری عیاں تھی مگر انتظار نمایاں ہوتا، مانو ابھی دکانوں کے شٹر اٹھیں گے اور یہ سب دھاوا بول دیں گے – ان میں بچے، بوڑھے، جوان، زن و مرد ہر نوع کے انسان موجود ہوتے- ان سب کی بیٹھک کوڑے کے ڈھیر پر ہوتی مگر وہ ایک دوسرے سے اتنے ہی لاتعلق…. سب کے ذہنوں میں اپنے مسئلوں کے انبار تھے اوروں سے کیا سروکار، مگر سب کا مقام ایک تھا ،کوڑے کا ڈھیر….
عورتوں کی گودوں میں میلے کچیلے بچے کچھ سوتے ،کچھ مکھیوں کے مخل ہونے سے بار بار کسمساتے، کچھ منہ پھاڑے روتے مگر سبزی منڈی میں ان کے رونے کی آواز کسی کے کانوں میں نہ پڑتی کیوں کہ ہر کوئی مصروف تھا۔ کسی کو کیا پڑی کہ ایک بچے کے رونے پہ کان دھرے۔ہوتے ہیں کچھ بچے ایسے ہی بدنصیب جن کے رونے دھونے سے لوگ تو دور کی بات ماں کو بھی فرق نہیں پڑتا اور جب یہ روتے ہیں تو مائیں ان کو دو ہاتھ مزید جڑ دیتی ہیں اور پھر وہ ہوتے ہیں اور ان کی بھاں بھاں…. ایسے بچے کسی کے منے، سوہنے، کاکے نہیں ہوتے بلکہ انہیں تو بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ تم بچے نہیں ہو…. تم پورے مرد یا پوری عورت ہو پیدائشی طور پر اس لیے تمہیں رونا دھونا نہیں جچتا ۔
ایسی ہی بدنصیب کرم جلی نصیبو کی بیٹی بھی تھی جو صبح کاذب سے رو رہی تھی مگر اس مجمعے میں اس کے رونے پر کوئی دھیان نہیں دے رہا تھا حتیٰ کہ اس کی اپنی ماں بھی نہیں۔ وہ تو بس باقی سب کی طرح سبزی پھلوں کی ریڑھیوں اور چلتی پھرتی دوڑتی گاڑیوں پر نظریں جمائے بیٹھی تھی کہ وقت کی سوئی آگے بڑھی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ جاں فزا سمے آگیا جب گاڑیوں کے ہارن بجنے لگے اوردکانوں کے شٹر اوپر کو اٹھنے لگے – دکان دار جھاڑن سے اشیاجھاڑتے چیزوں کو ترتیب دے رہے تھے-پھل فروش اور سبزی فروش سبزیوں اور پھلوں پر پانی کا چھڑکاؤ کر رہے تھے۔ گاہکوں کی آمد شروع ہو چکی تھی ہر طرف خرید و فروخت کا سلسلہ شروع ہؤا اور فضا میں ایک ہڑبونگ کی سی کیفیت چھا گئی –۔
ان سب نے بھی جمائیاں لیں، اپنی اپنی بوریاں سنبھالیں اور مختلف سمتوں میں چيونٹیوں کی طرح رینگتے چل پڑے۔ ہر کسی کا اپنا کاروبار تھا- گالو اپنی بوری سنبھالتا پھل کی ریڑھی کے پاس آ کھڑا ہؤا اور گھلے سڑے پھل کے لیے بوری کا منہ کھول دیا۔پھل فروش چن چن کر گلے سڑے پھل اس میں ڈالنے لگا۔ گالو کے گال ،لال لال مگر گلے سڑے انار دیکھ کر گلنار ہو گئے۔ اس نے ایک نظر کاٹن میں بند اناروں پر ڈالی جو ابھرے ابھرے پیٹیوں میں ترتیب سے سجے تھے۔ وائے! میرے مولا… یہ کس کے نصیب میں ہوں گےاس کے منہ سے رال ٹپکی۔تب ہی ایک خاتون نک سک سے تیار برینڈیڈ کپڑوں میں ملبوس گالو سے ذرہ فاصلے پر کھڑی ہو کر ان انار کے بھاؤ معلوم کرنے لگی جنہیں دیکھ کر گالو کی رال ٹپکی تھی۔گالو کی نظر اب بھی ان اناروں پہ تھی، وہ تو تب چونکا جب دکان دار نے انار تول کر اس خاتون کو پکڑائے۔
’’چل تیرا کام ہو گیا… سب صفائی ہو گئ‘‘۔
پھل فروش نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے بے پروائی سے روز کا جملہ دہرایا۔ گالو دور تک خاتون کو دیکھتا اپنی بوری کا منہ بند کرنے لگا جس میں گلے سڑے انار تھے۔یہ ایسی ہی منڈی تھی جہاں روز ان کے ایسے ہی چھوٹے چھوٹے جذبات فروخت ہوتے اور وہ انہیں کسی اور کے ہاتھوں میں دیکھ کر حسرت زدہ رہ جاتے۔
گالو کا دوست لالو جو عمر میں گالو سے سات آٹھ برس چھوٹا ہوگا، اپنی بہن کے ساتھ کوڑے کے ڈھیر پر بیٹھا پھلوں کی خالی پیٹیوں سے لوہے کے کیل کھرچ کھرچ کر نکال رہا تھا – گالو کا کام اگر گلے سڑے پھل اکٹھے کرنا تھا تو لالو کا کام ان کیلوں، پرانے اخباروں، گتوں اور دوسری لوہے کی اشیا جو کوڑے میں پائی جاتیں ان کو اکٹھا کر کے فروخت کرناتھا- اس کی بہن ریشمی پاس بیٹھی دانتوں سے امرود کا سڑا ہؤا حصہ الگ کر کے پھینکتی جاتی اور صاف حصہ نگل جاتی۔ یہ کام وہ اس مہارت سے کر رہی تھی مانو بچپن سے اسے سکھایا گیا تھا کہ امرود کے کس حصے میں کیڑے پائے جاتے ہیں اور کون سا حصہ صاف ہوتا ہے۔وہ امرود ختم کرتی،پھراٹھ کرامرود کی ریڑھی کےپاس کھڑی ہو کرباسی امرودوں کے ڈھیر میں سےجو کم قیمت پر بکنے کے لیے رکھے تھے، اپنی مرضی کا امرود اٹھاتی۔ پھل فروش ایک نظر خشمگیں اس پہ ڈالتا اور پھر اپنے کام میں مشغول ہو جاتا اور وہ اپنا موروثی حق سمجھ کر امرود چرا لاتی جیسے دکان دار کو تو کچھ معلوم ہی نہیں ۔
گالو کی بہ نسبت لالو کی زندگی کچھ بہتر تھی کہ کم از کم وہ اشیا بیچ کر تو کچھ کماتا تھا۔ مگر گالو کو تو بچپن سے ہی گلے سڑے پھلوں کی عادت تھی. وہ اس پر زندہ تھا، اس نے اس سےآگے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ اس کی سوچ بس یہیں تک محدود تھی۔ وہ ہر شام گلے سڑے پھل اور سبزیوں کی بوری گھر لاتا اور اس کی ماں ان میں سے چن چن کر نسبتاً بہتر پھل اور سبزیاں الگ کرتی اور یوں ان کی زندگی کی گاڑی رواں تھی۔
بوڑھا کرم داد جو کوڑے کے ڈھیر پر بیٹھا تھا دور سے کالے شیشے کی گاڑی کو آتا دیکھ کر اٹھا۔ یرقان زدہ سینے پہ ایک کھانسی کا ریلا آیا اور وہ سینہ تھام کر کھڑے کھڑے دہرا ہو گیا۔ جب کھانسی کا دورہ ختم ہؤا تو اس نے اپنی شلوار جھاڑی اور ایک پاؤں جو کہ بالکل ٹھیک تھا اس پر لنگڑا کر چلنے لگا۔ یہ لنگڑانا اسے اس عمر میں کس نے سکھایا تھا، یہ شعبدے بازی اس عمر میں وہ کیوں کر رہا تھا اس بات سے باقی دنیا ناواقف تھی مگر وہ جانتا تھا کہ یہ لنگڑانا اسے گھر میں اس کی جوان بیٹی کی موجودگی نے سکھایا تھا جو اپنی غریب برادری میں سب سے حسین تھی- جس کا بچپن بھیک مانگتے گزراتھا مگر اس کی جوانی اس کے باپ کو عزیز تھی اس لیے اس کے باپ نے لنگڑانا سیکھ لیا۔ گو یہ اللہ کی نظر میں دھوکا تھا مگر وہ اللہ کی ناراضی مول لے کر بعد میں اس رحیم کو منا سکتا تھا مگر اپنی بیٹی کی عزت دوبارہ ملنا مشکل تھا-
سیاہ گاڑی کے شیشے نیچے ہوتے دیکھ کر اس کی لنگڑاہٹ میں مزید اضافہ ہؤا اور وہ ایک طرف کو بالکل صراحی کی طرح جھک کر چلنے لگا۔ سیاہ گاڑی والے نے اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر بٹوہ کھولا اور پچاس پچاس کے دو نوٹ نکال کر اسے پکڑائے۔ اس نے تشکر سےاس بندے کو دیکھا اور رٹی رٹائی دعائیں دہرانے لگا جن میں بار بار مالا جپنے سے خلوص باقی نہ رہا تھا بس عادت تھی۔ گاڑی والے نے شیشہ چڑھایا اور زن سے آگے بڑھ گیا مانو اس کو بھی ان دعاؤں کی ضرورت نہ تھی –۔
بوڑھا کرم داد لنگڑاتا دوسری گاڑی کی جانب چل پڑا۔ کوڑے کے ڈھیر پر بیٹھے بھالے نے اسے استہزا سے دیکھا اور باچھیں کھول کر ہنسنے لگا-ہنسنے سے اس کے پیلے پان زدہ دانت نمائش کرنے لگے-اگر پوری دنیا ناواقف تھی تو صرف وہ ہی کرم داد کے اس فعل سے واقف تھا مگر کچھ بولتا نہ تھا صرف استہزاسے ہنس دیتا – بھالے کی عمر چالیس کے لگ بھگ تھی۔ وہ نہ کسی سے کچھ مانگتا تھا نہ کوڑے کے ڈھیر سے سارا دن کہیں اٹھتا تھا بس سرِشام وہ کہیں غائب ہو جاتا اور پھر صبح ہی صبح کوڑے کے ڈھیر پہ آ براجمان ہوتا اور سارا دن تمباکو کے سوٹے لگاتے گزار دیتا۔ پتا نہیں اس کے پاس تمباکو آتا کہا ںسے تھا! اس کے پاس تو اتنے پیسے بھی نہ تھے کہ وہ اپنی پیٹ پوجا ہی کر لیتا۔ پہروں بھوکا رہتا مگر تمباکو کے مشغلے میں بڑے انہماک سے مشغول ہوتا۔ سارا سارا دن خود کو کھجلاتا آتے جاتے لوگوں کو دیکھا کرتا۔اس کے لیے زندگی اس قدر بے معنی تھی جس قدر آتے جاتے مصروف لوگوں کے لیے با معنی۔ در اصل ان سب کی زندگیاں ان کے تعارف کی طرح ادھوری تھیں اوربے معنی۔
نصیبو اپنے نام کی طرح بدنصیب تھی۔ رات چیتھڑے جیسی جُھگی میں گزارتی اور صبح کاذب مرغ کی اذان کے ساتھ وہ یہاں آ موجود ہوتی۔میاں نے ساری زندگی سکھ نہ دیا۔ جب زندہ تھا تب بھی جھُگی میں پڑا رہتا۔ سارا دن گھروں میں کام کرکے مہینے بعد جو چار پیسے ہاتھ آتے وہ ہتھیا لیتا۔ جس دن نصیبو گھروں سےکچھ مانگ تانگ کر لے آتی تو اس کی عید ہو جاتی ورنہ خود کبھی ہل جل کر کام جوگا نہ ہؤا۔مرا تو بھی نصیبو کے گلے میں منی کا طوق پہنا کے مرا۔پر اس کے مرنے پہ نصیبو نے ایک آنسو بھی نہ بہایا۔ شاید اس کے جذبات مر گئے تھے یا اس کے شوہر کی بے حسی تھی جو نصیبو دیگر بیواؤں کی طرح فطرتاً بھی ایک آنسو نہ بہا سکی۔ وہ تھا ہی سرے سے نصیبو کی کمائی پر پلنے والا اس لیے جب مرا تو نصیبو کو دکھ کا شائبہ بھی نہ ہؤا۔ اب نصیبو کے پاس وہ پیسے بچ گئے تھے جو وہ زبردستی اس سے چھین کر عیش کرتا تھا –اس کے مرنے کے بعد نصیبو کو لگا کہ بڑا بوجھ سر سے ہٹ گیا ہے۔ مگر اب منی تھی، جسے ساتھ لے کر گھروں میں کام کرنا ممکن نہ تھا اور چھوڑتی تو کس کے پاس۔ سو وہ اس کوڑے کے ڈھیر پر آبیٹھی۔ یہاں کچھ نہ کچھ پیٹ کا دوزخ بھرنے کو مل جاتا اور ساتھ بھیک بھی۔
آج صبح سے ہی نصیبو کا دل بہت اداس تھا۔ پچھلے کچھ دنوں سے منی کے دانت نکلنے شروع ہوئے تھے جس کی وجہ سے اس کا پیٹ خراب تھا۔ ڈاکٹروں کے بارے میں تو خیر صدیاں ہوئیں اس نے سوچنا چھوڑ دیا تھا کہ غریبوں کا مسیحا ڈاکٹر نہیں خدا ہوتا ہے – مگروہ سوچتی خدا بھی غریبوں کو یوں ہی چھوڑ دیتا ہے آخر کیوں؟ شاید امیروں کی آزمائش کے لیے ورنہ خدا کے خزانوں میں کمی تو نہیں… وہ انہی سوچوں میں غلطاں و پیچاں کوڑے کے ڈھیر پر بیٹھی تھی۔ گود میں منی روتے روتے سو گئی تھی اور اب چھوٹے چھوٹے خراٹے لے رہی تھی۔ کبھی کبھی جب مکھی بھنبھناتی اس کی ناک پہ بیٹھ جاتی تو وہ کسمسا جاتی۔
سبزی منڈی میں دن ڈھل رہا تھا۔ دھوپ کی تمازت میں کچھ کمی واقع ہوئی۔ یہ منڈی جی ٹی روڈ کے کنارے پر تھی۔ آتی جاتی گاڑیوں پر نصیبو کی نظریں ہر وقت مرکوز ہوتیں۔ جب بھی کسی گاڑی کی رفتار آہستہ ہوتی تو وہ ہوشیار ہو جاتی۔ ابھی بھی ایک سیاہ کرولا روڈ سے ذرا ڈھلوان میں آ کے رکی۔ اگلی سیٹ سے ایک خانساماں نما آدمی ہاتھ میں سبزی کا تھیلا لیے منڈی کی طرف بڑھ گیا۔نصیبو نے بچی کو کندھے پہ ڈالا اور گاڑی کی طرف آگئی۔ گاڑی کی پچھلی نشست پر ایک عورت اور آدمی براجمان تھے۔ عورت تراشیدہ بالوں کو شانوں پہ بکھیرے موبائل دیکھنے میں مصروف تھی –۔
’’اےباجی!‘‘ اس نے شیشہ انگلی سے بجایا۔ عورت نے ایک پل کو اسے دیکھا اور پھر موبائل میں مشغول ہو گئی – ۔
’’باجی جی اللہ کے نام پہ کچھ پیسے دے دو میری بیٹی بیمار ہے کچھ مدد کرو‘‘ روز کا جملہ اس نے دہرایا۔ یہ جملہ وہ تب بھی بولتی تھی جب اس کی بیٹی صحت مند تھی –۔
اندر اے سی کی خنکی میں موجود خاتون کی محویت میں شاید خلل پڑا اس لیے اس نے سر اٹھائے بغیر انگلی کے اشارے سے منع کر دیا- نصیبو کے دل میں آئی کہ دو تین گالیاں دے اور چلتی بنے مگر ساتھ بیٹھے آدمی کو دیکھ کر اس کی امید از سرِ نو بندھی۔ عورت کو ہم درد و ہم جنس سمجھ کر وہ اس سے مدد مانگنے چلی تھی مگر وہاں سے مایوس ہو کر وہ دوسری کھڑکی کی طرف آگئی اور شیشہ اسی طرح بجایا۔ توجہ نہ پا کر وہ اور زور سے بجانے لگی تو شیشہ نیچے ہؤا –۔
’’صاحب جی اللہ کے نام پہ کچھ مدد کر دو میری بیٹی اتنے دنوں سے بیمار ہے‘‘۔
آدمی نے ایک نظر اسے دیکھا اور بٹوے سے چند نوٹ نکال کر اسے تھمائے –۔
’’ میرے لیے دعا کیجیے گا کہ اللہ مجھے اولاد سے نوازے ‘‘آدمی کی آواز میں دکھ بول رہا تھا جبکہ خاتون ہنوز موبائل میں مصروف تھی –۔
’’صاحب جی ہماری تو بد دعائیں بھی آپ لوگوں کو نہیں لگتیں دعائیں خاک لگیں گی…دینے والی صرف اللہ کی ذات ہے ان سے مانگیں ہم تو خود مانگنے والوں میں سے ہیں ہم کیا کسی کو کچھ دلا سکیں گے‘‘ نصیبو نے پیسے پکڑتے ہوئے کہا اور وہاں سے چل کر دوسری گاڑی کے پاس کھڑی ہو گئی مگر وہاں سے سختی سے منع کیا گیا بلکہ بھیک مانگنے پر کچھ جھڑکیاں بھی ملیں۔
مگر وہ تو پیدا ہی جھڑکیاں کھانے کے لیے ہوئی تھی سو جھڑکیاں سنتی وہ تیسری گاڑی کی طرف آئی لیکن یہاں بھی خشک جواب ملا۔ سوائے اس ایک صاحب کے جنھوں نے پیسے دیے تھے مگر مفت میں نہیں بدلے میں دعا کی اپیل کی تھی۔ کیا ہر کوئی صرف اپنے مقصد کے لیے اس دنیا میں آیا ہے؟ کیا اوروں سے کسی کا کوئی واسطہ نہیں سوائے اپنے مطلب کے….؟
آج نصیبوکےپاس صرف چندایک نوٹ جمع ہوئےتھے۔وہ تھک ہارکرکوڑےکے ڈھیر پہ آ بیٹھی۔ اس نے دزدیدہ نظروں سے سبزی منڈی میں چلتی پھرتی عورتوں کو دیکھا جن کے ہاتھوں کی دسوں انگلیوں میں شاپر تھے بلکہ کچھ کچھ انگلیوں میں تو دو دو شاپر اڑسے تھے۔
منی اس کی گود میں کسمسائی۔ اس کا جسم بخار میں پھنک رہا تھا جس کی وجہ سے نصیبو کی گود گرم ہو رہی تھی۔وہ پہلے بسوری اور پھر گلہ پھاڑ کے رونے لگی۔نصیبو نے دودھ پلانے کے لیے اسے اپنے سینے کے قریب کیا۔ اس کی نظر اب بھی ان عورتوں پر تھی جو سبزی فروشوں کے ساتھ بھاؤ تاؤ کر رہی تھیں۔ پتہ نہیں اتنی زیادہ چیزیں خرید کر کیا کریں گی یہ….آہ…. ایک دم اس کے ہونٹوں سے سسکی نکلی اور اس نے منی کے ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کیا۔ اور اپنی چھاتی سہلانے لگی جہاں منی نے دودھ نہ ہونے کی وجہ سے زور سے کاٹا تھا –۔
’’کرم جلی، بدنصیب اب اپنی ماں کا گوشت نوچے گی کیا؟‘‘ اس نے ایک اور تھپڑ رسید کیا۔ منی کا گلہ مزید پھٹ گیا اور وہ اونچی تانوں میں رونے لگی-عین اسی وقت اس کے پیٹ میں مروڑ اٹھا اور اس نے نصیبو کی گود میں ہی فراغت حاصل کرلی –۔
’’ اللہ تجھے غارت کرے پتہ نہیں یہ سب کچھ آتا کیسے ہے جب تیرے پیٹ میں کچھ جاتا نہیں بدنصیب‘‘ –۔
اس نے پاس کوڑے کے ڈھیر پہ پڑا ایک پرانا اخبار اٹھایا اور منی کی نجاست اس سے صاف کرنے لگی۔ نجاست صاف کر کے اس نے روتی ہوئی منی کو کندھے پہ ڈالا اور اپنی جھگی کی اور چل دی۔ نجاست بھرا اخبار اس نے ادھر ہی کوڑے کے ڈھیر پہ پھینک دیا جس کی شہ سرخی میں لکھا تھا۔
’’ ملک کے مایہ ناز بزنس مین کی بیٹی کی برائڈل شاور آج دھوم دھام سے منائی گئی۔ذرائع کے مطابق دلہن نے برائڈل شاور میں جو لباس زیب تن کیا تھا اس میں سونے کے تار پروئے گئے تھے ‘‘-
٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
1.8 4 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x