ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

کملی پھوپھو – بتول فروری ۲۰۲۱

’’ یہ لیں ، اتنی گرمی ہے باہر ۔ پھپھو کو نہ جانے کیاایمرجنسی ہوتی ہے ‘‘۔
محمود نے ایک بڑا ساشاپر صحن میں بچھی چا ر پائی پر پھینکتے ہوئے برا سامنہ بنایا۔
’’ اب کیا منگوا لیا اس کملی نے ‘‘۔
عارفہ نے بڑ بڑاتے ہوئے شاپر کھولا اوراُس میںڈھیر سارے رنگ برنگے قمقمے اور تاریں نکلیں۔
’’ اے ہے اے کملی ! ادھرآ۔ یہ کس کے باپ کا ولیمہ ہے جو تو نے اتنے بجلی والے قمقمے منگوا لیے ہیں ‘‘۔
آوازیں دیتی ہوئی عارفہ سیڑھیاں چڑھی جہاں اوپر چھت پر کملی پھوپھو کپڑے سی رہی تھیں۔

٭…٭…٭

چوہدری بلال صاحب، جدی پشتی زمیندار اوردیندار آدمی تھے جنہوں نے اپنی اکلوتی بہن کشمالہ کو بیوگی کے بعد اپنے پاس رکھا ہؤ ا تھا ۔ کشمالہ عرف کملی ، جس کو 13سالہ ازدواجی زندگی میں یکے بعد دیگرے دو بیٹیوں ، ایک بیٹی اور شوہر کی وفات کا غم سہنا پڑا ۔ سر پر ماںباپ کا سایہ تھانہیں اور دوسری شادی کرنے پر رضا مند نہیں تھیں عارفہ بیگم کی مخالفت کے باوجود چوہدری بلال نے اپنی بیوہ اوردکھیاری بہن کو گھر میںجگہ دی ۔ کملی اس کا نام بچپن سے نہ تھا ۔ یہ نام اسے دوران عدت عارفہ بیگم سے ملا اور دیکھتے دیکھتے سارے گھر والوں کے منہ پر بلکہ ملازمین کے منہ پر بھی کملی ہی چڑھ گیا۔
کشمالہ کو کملی کہلائے جانے پر کوئی اعتراض نہ تھا ۔ کملی جو ہوئی !
وہ ہمیشہ سے کملی نہ تھی ۔
اپنی آنکھوں کے سامنے 3سالہ موحد، ڈیڑھ سالہ مدبر اور 2سالہ فاطمہ کو سفید اُجلے کفن میں آنگن سے اٹھتے دیکھا ۔ پھر اپنے شوہر کو اپنی آنکھوں کے سامنے اوراپنی آغوش میں آخری سانسیں لیتے دیکھا ۔ گائوں والے مولوی صاحب کے منع کرنے کے باوجود کملی روز قبرستان جاتی ۔ اتنے بچوں اور شوہر کے پاس بیٹھ کر گھنٹوں ان سے باتیں کرتی ۔
وہ بالکل عام سی عورت تھی ۔ پانچویں تک پڑھی ہوئی واجبی سا قرآن مجیدپڑھ لیتی تھی اور کبھی کبھی نماز۔ ان حادثات کے بعد تو وہ بالکل ’’کملی ‘‘ ہو گئی۔

٭…٭…٭

’’ محمود!میرا بچہ آگیا ، تیری بڑی مہر بانی ۔ بہت پیارے قمقمے ہیں، دیکھ تو سہی کیسی چمک ہے ان میں ‘‘۔
آنکھوںمیںقمقموں کی ساری چمک لیے کملی پھوپھو نے محمود کا ماتھا چوما ۔ اس کے ہاتھوں میں شربت کا گلاس تھمایا ۔ عارفہ سے خاموشی سے تربیتی بھاشن سننے کے بعد بھی ، اُس کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ اور آنکھوں میں ایسے چمک تھی گویا کسی بچے کوعیدی ملی ہو۔
’’ پھو پھو ! یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ؟ گائوں میںشادی ہے کسی کی؟‘‘
ارم نے قمقموں کو چھوتے ہوئے پوچھا۔
’’ پتری ،شادی ہی سمجھ‘‘
کملی پھو پھو ایک وجدانہ کیفیت میں گویا ہوئیں اور واپس کپڑے سینے لگ گئیں۔
’’ اے محمود پتر، میرا ہاتھ رکے گا ۔ یہ قمقمے بہت خیال سے میرے ٹرنک میں رکھ آ‘‘۔
’’ کملی پھو پھو کا ٹاپ سیکرٹ ٹرنک !‘‘ اس خیال سے محمود کے منہ میںپانی بھر آیا اور انتہائی فرمانبرداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ شاپر لے گیا ۔
’’ دیکھوں تو ، اس ٹرنک میں کیا ہے کہ پھو پھو گھنٹوں اس کے سرہانے بیٹھی رہتی ہیں ‘‘۔
خستہ حال نیلے رنگ کا ٹرنک کھولا ۔ دل اور قمقمے سنبھالے کیا دیکھتا ہے ،رنگین ڈوریاں ، سجاوٹی پھول،دو تین لالٹین، ننھے منھے ٹمٹمانے والے بلب، ایسے لگ رہا تھا شادی کی سجاوٹ کی کوئی دکان ہو۔
محمود کے دل نے زور دار دہائی دی ۔’’ کملی !‘‘
ابھی یہ کارروائی جاری ہی تھی کہ پیروں کی آہٹ پر محمود نے مڑ کر دیکھا ۔ کملی پھو پھو ایسے جھینپی جیسے چوری پکڑی گئی ہو۔
’’ پھو پھو ، نہ میلاد قریب ہے ، نہ کوئی بیاہ ، نہ کسی کے ہاں خوشخبری ہے ، یہ کیا جمع کررہی ہیں ؟‘‘
’’ ملاقات کی تیاری کر رہی ہوں پتر ۔ وڈے لوگ آئیں گے کچھ تو انتظام کر کے رکھوں‘‘۔
مغرب کی اذان فضا میں گونجی اور کملی پھو پھو اپنے آنسو پونچھتے مصلے پر کھڑی ہو گئیں۔
’’ لو جی ، اب ان سے کیا بات کروں ۔ دو گھنٹے تو گئے ان کے مراقبے میں ‘‘ محمود بڑ بڑاتا ہؤا کمرے سے نکل آیا ۔
’’ ارم تم نے کچھ نوٹس کیا ہے ؟‘‘
لان میں بے پروائی سے کنو چھیلتے ، ارم سے محمود مخاطب ہؤا۔
’’ کملی پھو پھو اب اپنے بچوں کو یاد کر کے بہت کم روتی ہیں ۔ پہلے کیا حالت ہوتی تھی ، کئی کئی دن نہ کھانے کا ہوش نہ پہننے کا اور تو اور ان کے ٹرنک میں ایسی عجیب چیزیں پڑی ہیں جیسے شادی کا سامان ‘‘۔
’’ پھو پھو کہیںکسی میںانوالو تو نہیں ہو گئیں ؟‘‘ارم نے موٹی موٹی آنکھیں گھما کر کہا۔
’’ کون پاگل انوالو ہوگا ۔ دیکھتی نہیں ہو، صبح قبرستان میں گزارتی ہیں ، پھر سارے گائوں کے پھیرے لگاتی ہیں اور شام میں کمیوں، مراثیوں اور خواجہ سرائوں کے کپڑے سیتی ہیں ۔ بیچ وہ دو دو کلو میٹر لمبی نمازیں ‘‘۔
آخر میں دونوںبہن بھائی کی ہنسی چھوٹ گئی جب عارفہ پیر پٹختے برآمدے سے گزریں ۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور اٹھ کر اندر بھاگے کہ بریکنگ نیوزکیا ہے ، لیکن سین دیکھ کر قدم باہر ہی رُک گئے۔
’’ غضب خدا کا ! انور مسیح کی بیٹی کے علاج کے لیے اس نے اپنا جہیز کا خاندانی سیٹ بیچ دیا ۔ ہماری ہی عزت کا خیال کرلیا ہوتا جن کی روٹیاں توڑتی ہے یہ میری بچی کے کام آتا وہ خاندانی سیٹ‘‘۔
چوہدری بلال خاموشی سے صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے اور فکر انگیز لکیریں ان کی پیشانی پر بھی تھیں ۔
’’ میںبات کروں گا ‘‘۔
’’ ہونہہ، آپ کیا بات کریں گے ۔ میںبات کروں گی پاگل خانے کہ آکر اسے لے جائیں ۔ صدمے کی وجہ سے دماغ چل چکا ہے آپ کی بہن کا ‘‘۔
ارم اور محمود کھسک لیے۔

٭…٭…٭

’’ پھو پھو یہ آپ نے لکھا ہے ؟‘‘
محمودنے کملی پھو پھو کے بستر سرہانے ایک بوسیدہ سا کاغذ اور اس پر ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں لکھا ایک مصرعہ دیکھا۔
’’پتر، پڑھا تھا ایک رسالے میں مجھے بڑا اچھا لگا ۔ وہ گائوںکے وڈے ماسٹر جی ہیں نا ! ان سے جا کر ترجمہ کرایا تھا ۔ فارسی زبان ہے یہ ‘‘۔
’’ مطلب کیا ہے ؟یہاں تو ترجمہ نہیں لکھا ؟‘‘
محمود نے کاغذ کو الٹ پلٹ کر تے سوال کیا ۔
’’ ابھی تو نماز کا وقت ہو گیا ہے ، بعد میں بتائوں گی تجھے ‘‘۔

٭…٭…٭

کئی دنوں سے کملی پھو پھو اپنے کمرے سے نہیںنکلیں ، بس کھانے کے وقت آتیںدو نوالے منہ میںڈالتیں اور کمرے میں گھس جاتیں۔
کمرے میںان کے پیچھے پیچھے چونے اور سیمنٹ کی بالٹیاں جا رہی تھیں ۔ پھر دو دن خوب کھٹ کھٹ کی آوازیں آتیں۔
لیکن بلال ہائوس میں کسی کو نہ فرصت تھی نہ ضرورت پھو پھو کے نئے کارناموں کی زیارت کرتے۔ دو دن اور گزرے اور کمرے سے کھانسنے کی آوازیں آنے لگ گئیں ۔ کھانے کے لیے نکلنا چھوڑ دیا تو ملازمین نے گھر والوں کو توجہ دلائی۔
چوہدری بلال تو کئی ہفتوں سے کاروباری سر گرمیوں میں شہر شہر گھوم رہے تھے ۔ ارم کے پیپر تھے اور عارفہ تو تھیں ، چارو ناچار ،محمودکو ان کے کمرے میں جانا پڑا۔
کمرہ گویا کسی نئی نویلی دلہن کا کمرہ ہو ۔ چونا اور سیمنٹ ہوئی دیواریں۔الماری پر نیا سیٹ سلیقہ سے سجائے پھول ۔ دیواروں پر قمقمے اور پردوں پر رنگین ڈوریاں۔
کملی پھو پھو چہرے پر صدیوں کی تھکن سجا کے ٹوٹی پھوٹی مسکراہٹ لیے گویا محمود کی آمد کا انتظار کر رہی تھیں ۔ جیسے پوچھ رہی ہوں ۔
’’ کیسی لگی میری محنت‘‘۔
’’ کشمالہ پھو پھو ؟‘‘ محمود حیرت سے اتنا ہی بول سکا ۔’’ اونہوں ‘‘ کملی ہی بول پتر ۔ مجھے کیا پتا ، کشمالہ سے کملی بننے میں کیا کیاگزری۔بس کملی پھو پھوہی بول‘‘۔
’’ یہ کیا ہے ؟‘‘ وہ بس اتنا کہہ سکا ۔
’’ تیاری پتر ملنے کی تیاری‘‘۔
’’ کملی باجی ! آپ سے ملنے بہت ساری عورتیں آئی ہیں ‘‘۔
’’ بھیج دو پروین بوا‘‘۔
محمود کو انہوںنے اپنے سر ہانے بٹھالیا۔
’’ ہائے آپا !‘‘
’’ نی باجی ، میںمر جاواں‘‘۔
’’ اللہ ! میری سوہنی باجی‘‘۔
اور اس طرح کی کئی آوازیںاکٹھے داخل ہوئیں ۔ اسے لگ رہا تھا جیسے گائوں کے سارے مسکین، یتیم ، جھونپڑی واس، جمعداروں کی عورتیں کملی کی سگی رشتہ دار ہوں ۔
کملی پھو پھو نے سب کو خاموش ہونے کا بولا اور ان پر ایسا رعب طاری ہویا گویا وہ پیرنی ہوں اور باقی سب مرید نیاں۔
’’ اماں صغراں ، روتی کیوں ہے ؟‘‘
’’ اوئے مائی چھیداں ، تو تو ہر گھر کی شادی پرکیسی ڈھولکی بجاتی ہے ، ناچتی ہے گاتی ہے ،آج بجا ، آج گا، آج ناچ ‘‘۔
محمود منہ کھولے اُن سب کو دیکھ رہا تھا۔
’’ یہ کیا ہورہا ہے یہ کون ہیں اور کملی پھو پھو کیا کہہ رہی ہیں ‘‘۔
اُس کی سوالیہ نظروں کو دیکھ کر شیدے نائی کی بیوی بولی۔
’’ پتر ، آپا نے بولا تھا کہ اگر وہ 6دن تک گائوں کے چکر نہ لگائیںاور قبرستان نہ جائیں تو سمجھ جاتیں کہ رب راکھا کہنے کاوقت آگیا ہے‘‘۔
وہ پانچویں جماعت پاس، جو عارفہ بیگم کے سامنے اپنی صفائی میں کبھی کچھ کہہ ہی نہ پاتی تھیں ۔ کسی پروفیسر کی طرح بولیں۔
’’ جب موحد ، مدبر اور فاطمہ کے ننھے منھے ہاتھ میرے ہاتھوں میں ٹھنڈے ہوئے ، اور جب ان کو میرے سامنے کفن میں اٹھایا گیا اورجب اُن پر مٹی ڈالی جا رہی تھی ، میرے لاکھ چاہنے کے باوجود میں اُن کے ساتھ ، ان کے پاس جا کر قبر میں لپٹ نہ سکی ۔ میں اُس اندھیر جگہ اور مٹی کے منوں کے بوجھ تلے اترنے کا ، اس غم کی گھڑی میں بھی سوچ نہ سکتی تھی۔لیکن میںنے ان کو اترتے دیکھا۔پھر موحد کے ابا ، میری گود میں سانسوںسے جنگ لڑ رہے تھے ۔ ان کا جسم ، ان کی آنکھیں ان کی سانسیں موت سے لڑ رہی تھیں ۔ دو گھنٹے میری آنکھیں یہ منظر دیکھتی رہیں ۔ آخر میں جیت موت کی ہوئی اور وہ سب کچھ سمیٹ کر چلی گئی۔
بندہ جتنا بھی جی لے ، آخر میںموت نے سانسیں سمیٹ کر اگلے سفر پر لے جانا ہے میری پیاریو۔ موت کے بعد ہی تو ایک سوہنا سفر شروع ہوتا ہے ، میں نے سوچا موت سے دوستی کر لے کملی ، جب وہ آئے تو پکی سہیلیوں کی طرح آئے ، اور میں اسے دیکھ کر ایسے خوش ہوں جیسے بچھڑی سکھیاں ملتی ہوں ۔
محمود پتر ، یہ قمقمے جلائو ۔
بتیاں جلائو۔
یہاںبھی چراغاں ، وہاں بھی چراغاں
رب دی شان …‘‘
آواز دھیمی ہوتی جا رہی تھی ۔
اشھدان لا الٰہ الا……
آواز دھیمی ہوتے ہوتے بس لب ہلتے رہ گئے۔
ان کے ہاتھ میں ایک مڑا تڑا کاغذ زمین پر جا پڑا۔
محمود نے سسکیوں اور آہوں کی شہنائیوں میں وہ کاغذ اٹھایا ۔
آنسو پونچھتے ہوئے پڑھنے کی کوشش کی ۔
پھو پھو نے اس کے لیے ترجمہ بھی کر دیا تھا ۔
’’نمی دانم کہ آخر چوں دم دیدار می رقصم ‘‘

امیمہ امجد

٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x