ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ڑیں – بتول اگست ۲۰۲۲

’’یار یہ پھوپھیاں ہوتی ہی فساد ہیں۔ دماغ کھا گئیں جاوید انکل کا کہ حصہ دو ہمارا… اوپر سے وہ عبداللہ! اپنے ابا کے پیچھے ہے کہ بابا حق دار کو حق دے دیں۔ابھی جاوید انکل سے نیچے ملاقات ہوئی وہ کہہ رہے تھے تم ہی عبداللہ کو سمجھاؤ، کہتا ہے دین یہی ہے مشکل حل کرنے والا اللّٰہ ہے دوکان بیچنے سے رزق کے دروازے بند نہیں ہوں گے۔ اس کو کون سمجھائے کہ میں چار بہنوں کا اکلوتا بھائی ہوں ،کیا ملے گا حصے میں!‘‘
’’عبداللہ کے دادا کے انتقال کو ڈیڑھ سال ہوگیا ناں؟‘‘
میں نے اپنے میاں سے پوچھا جو اپنے پڑوسی جگری دوست کے گھر کے متعلق بات کر رہے تھے اور کافی پریشان تھے ۔
’’ ہاں دو سال ہوگئے ۔ مگر دیکھو مجبوری بھی کوئی چیز ہے یوں بنی بنائی دوکان کا بٹوارہ آسان نہیں‘‘۔
’’ہمم… مگر اپنا ہی حق تو مانگ رہی ہیں‘‘۔
’’ان کا ہی ہے کون منع کرتا ہے مگر تھوڑے صبر سے کام لیں ان لوگوں کو کہیں اور اپنے قدم جمانے دیں پھر دے دیں گے ۔یہ عبداللہ جب سے جماعت میں جانا شروع ہؤا ہے یک طرفہ بات کرنے لگا ہے۔ بھئ دین دنیا دونوں دیکھنے چاہئیں ۔اپنے باپ کی مجبوری کو بھی تو دیکھے ‘‘
’’اچھا کھانا ٹھنڈا ہوجائے گا آپ ہاتھ دھو کر کھانے پر تو آئیں‘‘۔
٭ ٭ ٭
جاوید انکل ہمارے پڑوسی تھے اور عبداللہ ہمارے میاں کا بچپن کا جگری یار ۔ان دنوں ان کے گھر میں بڑی پریشانی چل رہی تھی اور سدباب نظر نہیں آرہا تھا۔
میں نے کوفتے بنائے تو سوچا ایک پیالہ جاوید انکل کے گھر بھی دے آؤں رشیدہ خالہ کو میرے ہاتھ کے کوفتے بہت پسند تھے۔ یوں ملاقات بھی ہو جائے گی، میں نے سوچا اورکوفتوں کا ایک پیالہ بھرکےرشیدہ خالہ کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
’’ارے ماہم تم! بڑے دنوں بعد دیدار کرایا ‘‘۔
ہمیشہ کی طرح نہایت گرم جوشی سے استقبال ہؤا ۔پھر ٹھنڈا شربت منگوایا۔ میں بیٹھی باتیں کر رہی تھی تو انہوں نے کہا ۔
’’ ماہم ہم یہ گھر چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں ‘‘۔
’’کیوں خالہ جان؟‘‘
’’بیٹی تمہارے انکل نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ دکان میں سے جو حصہ چاروں بہنوں کا ہے وہ گھر بیچ کر ادا کر دیں گے تاکہ کاروبار جمارہے۔ ہمارے پاس اتنا تو ہے نہیں کہ چاروں کا حصہ بنا کچھ بیچے دے دیں مگر دل اس محلے سے جانے کو دل نہیں کر رہا … یہ اپنائیت ہے برسوں میں ملی ہے۔ نئی جگہ کہاں دل لگے گا!‘‘
’’ہمم…. گھر بدلنا آسان نہیں مگر یہ بہتر تجویز ہے، اس طرح آپ کا کاروبار صحیح رہے گا تو جمع کرکے پھر اپنا گھر لے لیجئے گا انشاءاللہ‘‘۔
’’بیٹی اپنا گھر تو بہت دور کی بات ہے۔ ابھی گھر کے کرائے کا جوگ ساتھ جڑ جائے گا پھر کہاں اس مہنگائی میں کچھ جمع ہو گا۔ بس میرا دل بیٹھے جا رہا ہے ۔تمہاری ساس اللہ بخشے بڑی نیک عورت تھیں ،میں پریشانی میں ان سے ہی بات کرتی تھی اور وہ دو بول سے میری پریشانی حل کر دیتی تھیں۔ اب وہ نہیں ہیں تو سوچا تم سے کہہ کر دل ہلکا کر لوں‘‘۔
’’ خالہ جان!‘‘ میں نے ان کا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں تھام کر کہا ’’آپ دعائے استخارہ پڑھیں انشاءاللہ اللہ بہترین راہیں کھولے گا‘‘۔
٭ ٭ ٭
دن یونہی گزرتے رہے۔ تقریباً دو مہینے بعد رشیدہ خالہ میرے پاس آئیں ،کہنے لگیں۔
’’گھر کا سودا ہو گیا ہے۔ ان شاءاللہ تین ہفتوں میں ہم گھر خالی کر دیں گے ۔سوچا تم سے مل لوں پھر کاموں میں کہاں وقت ملے گا‘‘۔
’’خالہ جان پیکنگ میں کوئی مدد چاہیے ہو تو بتا دیں کسی دن آکر کروا دوں گی‘‘۔
’’ بیٹی تمہاری مہربانی تم اتنا ساتھ دیتی ہو تو بھول مت جانا … ہمارے نئے گھر بھی آنا، عائشہ منزل پر کرائے پر لیا ہے۔ بس مجھے اپنے پودوں کا غم کھائے جا رہا ہے وہاں ایسی انگنائی نہیں، یہ میرے دل کی دنیا کہاں لگے گی!‘‘
میں ہنس دی پھر گویا ہوئی۔
’’آپ کی نندیں خوش ہیں؟‘‘
’’ ہاں بھئی، سچی عبداللہ کی بات اب دل کو لگتی ہے۔ اس نے کہا تھا یوں جائیداد رکھنے سے سکون نہیں ملے گا جب تک ابو بہنوں کو رضامند نہ رکھیں گے….اور سچی، جب سے حصہ ملنے کی خبر ہوئی ہے ایک خوشگوار فضا خاندان میں ہوگئی ہے اور جاوید میاں کے چہرے پر جو ہر وقت بل رہتے تھے ان شکنوں میں بھی کمی آئی ہے‘‘ انہوں نے انکل کے بارے میں ہنس کر کہا۔
’’ماہم! آپس کی بات ہے مجھے تو زرینہ پر بڑا غصہ تھا کہ اس کو سب سے زیادہ لگی تھی حصے کی، مگر اب پتا چلا وہ خالد ہے ناں زرینہ کا میاں…. اس کی جوب ختم ہوگئی اس لیے وہ حصے کے پیسوں سے کچھ کرنا چاہ رہا تھا۔ اب ان لوگوں نے لیاقت آباد میں کرائے کی دکان لے کر بیعانہ اور مال کا بندوبست حصے کے پیسوں سے ہی کیا ہے۔ سوچتی ہوں اگر ہم حصے کے اوپر ناگ بن کر بیٹھ جاتے تو اللہ کے گھر کیا حساب دیتے!
سچ پوچھو تو عبداللہ نے مجھے آہستہ آہستہ قائل کیاورنہ میرا خود دل نہ تھا۔ اچھا تم کل شام آجانا پیکنگ کے لیے میں نہاری بناؤں گی تم گھر میں کھانے کا کر کے مت آنا‘‘۔
٭ ٭ ٭
’’السلام علیکم خالہ !‘‘
میں ان کے بتائے ہوئے پتے پر پہنچی تو خالہ نے ہی دروازہ کھولا۔
’’ ماہم بیٹی تمہیں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ۔ آؤ بیٹھو ‘‘ واقعی وہ مجھے دیکھ کر خوشی سے نہال تھیں ’’اب آئی ہو تو کھانا کھا کر جانا‘‘۔
’’آپ بتائیں خالہ جان آپ کا دل لگ گیا نئے گھر میں؟‘‘
’’بیٹی اللہ کا کرم ہے اور پتہ ہے ،سامنے والوں کی بیٹی ہے ماہین…. وہ اسے ماہی کہتے ہیں، تو مجھے تم ہر وقت یاد رہتی ہو‘‘۔
کھانے سے فارغ ہو کر میں نے چلتے ہوئے پوچھا ۔
’’خالہ وہ پودے کہاں سیٹ کیے آپ نے ؟‘‘
’’ارے ہاں….آؤ میں دکھاتی ہوں‘‘۔
وہ مجھے اپنے کمرے میں لے گئیں اور کھڑکی کا پردہ ہٹایا جہاں چھوٹی سی بالکونی پر انہوں نے بیرونی لوہے کی جالیوں سے جال بنوا لیا تھا اور وہ اب پودوں کے لیے بہترین جگہ بن گئی تھی۔ کہنے لگیں۔
’’ماہم میں نے جب ان رشتوں کی جڑوں کا خیال رکھا تو اللہ نے میرے پودوں کی جڑوں کی خود حفاظت کر لی‘‘۔
اور میں ان کی خوشی اور اطمینان دیکھ کر مسکرادی۔
٭ ٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x