ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

پناہ – بتول اگست ۲۰۲۲

اسما اشرف منہاس کوہم بتول کے صفحات پر خوش آمدید کہتے ہیں ۔ قائداعظم یونیورسٹی سے تاریخ کے مضمون میںایم فل کیا ہے اور خواتین کے مختلف مقبول ڈائجسٹوں میں اسما طاہر کے نام سے لکھتی ہیں۔

’’ ائے ہئے ہندوستانی ہے کیا ؟‘‘ اماں نے ہرے دھنیے اور سبزمرچوں سے سجی کڑھی دیکھتے ہی کہا۔ ’’ اماں اب کڑھی کا کوئی وطن نہیں رہا ۔یہ جتنی ہندوستانی ہے اتنی ہی پاکستانی بھی ہے ‘‘۔ سعدیہ نے فوراً وضاحت کی حالانکہ جانتی تھی اماں کڑھی کا نہیں بلکہ کڑھی بنانے والی یعنی کہ عالیہ باجی کا وطن جاننے کی کوشش کررہی تھیں جنہوں نے کچھ دن پہلے ہی ساتھ والا گھرخریدا تھا ۔ ’’ اللہ عالیہ باجی کو خوش رکھے آج کڑھی کھانے کو بہت جی چاہ رہا تھا اور بنانے کو بالکل بھی نہیں اور انہوں نے ڈونگہ بھر کے بھیج دیا ۔رات کے لیے بھی کافی ہے ‘‘۔ سداکی چٹوری مگر سست ہانیہ کو اپنا ہی فائدہ نظر آ رہا تھا ۔ ’’افوہ تمہیں دوسروں کی بنائی چیزیں کھانے کا کتنا شوق ہے کبھی خود بھی کچن کی شکل دیکھ لیا کرو ‘‘۔سعدیہ اس کی سستی سے سخت نالاں تھی۔ ’’ارے اس کچن میں کون جائے ۔ہاں اگر امریکن سٹائل کچن ہو تو پھرہم یہ کوشش کرسکتے ہیں ‘‘۔ وہ شان ِ بے نیازی سے بولی۔ ’’باوا سے کہتی ہوں اس کے لیے کوئی امریکن سٹائل کچن والا ہی گھر دیکھنا ۔ اخبار میں ابھی سے اشتہار دے دو ‘‘۔ اماں کو بھی اس کی بات تپا گئی تھی۔ ’’ امریکن سے یاد آیا… ایبٹ آباد ڈرامے کے سارے ادا کار یعنی کہ امریکی میرینز ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں مارے گئے ‘‘۔تانیہ نہ جانے کب کی سنی خبر اب سنا رہی تھی ۔ ’’ شہید کہو‘‘ سعدیہ نہایت سنجیدگی سے بولی ۔ ’’ کل کلاں کو ہماری حکومت نے انہیں نشانِ حیدر دے ڈالا تو کس منہ سے چودہ اگست اور 23 مارچ کو ان کی عظمت کے گیت گائو گی!‘‘ ’’ صحیح کہا تم نے اللہ مجھے اس گستاخی پر معاف کرے‘‘۔ تانیہ مسکرا کر بولی ۔’’ ہمارے ہاں کب کر گس شاہین قرار دے دیے جائیں کون جانے ، لہٰذا احتیاط لازم ہے ‘‘۔ باہر دروازہ بہت زور سے بجا تھا جیسے کسی نے پیٹ ڈالا ہو ۔ ’’ یہ ضرور مالک مکان ہوگا جانے یکم کا سورج کیسے چڑھنے دیتا ہے ۔ کرایے کے لیے مرا جا رہا ہوتا ہے ‘‘۔ ابا متفکر چہرے کے ساتھ دروازے کی طرف بڑھ گئے تھے ان کے دفتر میں کچھ مسائل تھے جن کی وجہ سے انہیں تنخواہ آج کل دس تاریخ سے پہلے نہیں ملتی تھی اور مالک مکان تھا کہ پہلی کو ہی کلیجہ نوچنے کو آجاتا تھا ۔ کوئی بات تو وہ سنتا ہی نہیں تھا ، اور یہی ہؤا وہ انکار سنتے ہی آپے سے باہر ہو گیا تھا پورے پندرہ منٹ بکنے جھکنے کے بعد وہ واپس گیا تھا اور کل پھر یہی کچھ ہونا تھا ، پچھلی دفعہ تو اس نے حد ہی کر دی تھی گھر کے اندر آکر بیٹھ گیا تھا کہ جب تک کرایہ نہیں ملتا ، میں یہاں سے نہیں نکلوں گا ، یا پھر یہ ہوگا کہ میں آپ لوگوں کو باہر نکالوں گا یا پھر یہ ہوگا کہ میں آپ لوگوںکو باہر نکال کر گھر پر تالا لگا جائوں گا اور سارا سامان کرائے کی مد میں رکھ لوں گا ابا نے نہ جانے کہاں کہاں سے ادھار لے کر اس کا منہ بند کیا تھا جبکہ یہ ماں بیٹیاں اندر سے کمرہ بند کیے خوف کے عالم میں بیٹھی رہی تھیں۔ اماں کو جب سے پتہ چلا تھا کہ عالیہ باجی کے آبائو اجداد انڈیا سے ہجرت کر کے آئے تھے ، وہ اُن سے سخت بیری تھیں ۔ ’’ ائے ہئے دور ہی رہو ان سے … نہ خاندان کا پتہ نہ ذات کا!‘‘ حالانکہ انہوں نے آتے ہی سب کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا ۔ اس قدر میٹھی زبان جی چاہے وہ بولتی رہیں اور انسان سنتا رہے ۔ محلے میں کسی کے مصیبت میں ہونے کی خبر ملنے کی دیر تھی وہ نہ صرف خود بلکہ اپنے پورے خاندان کواس مصیبت زدہ کی مدد پر لگا دیتیں ۔ کسی معاملے میں انکار تو سیکھا ہی نہیں تھا ۔ اگر کبھی کر تیں تو اس میٹھے طریقے سے کہ ان کا انکار اقرار سے زیادہ پیارا لگتا ۔ ہر مسئلے کا حل ان کے پاس موجود تھا ۔ سلائی کڑھائی کھانے پکانے سے لے کر معیشت کے الجھے مسائل تک … جس شعبے میں یونیورسٹی کی ڈگری تھی ان کے پاس … سب کو چٹکیوں میں حل کر لیتیں ۔ عالیہ نام کی نہایت دبلی پتلی نازک خاتون مگر ہمت اور حوصلہ پہاڑوں جیسا ! لڑکیوں کی تو وہ پکی سہیلی بن گئی تھیں ۔ اس سہیلی پن پر اماں ناخوش تھیں اور ابا خوش ۔ جانتے تھے وہ عالیہ سے کچھ اچھا ہی سیکھ رہی تھیں۔ ہانیہ کو کچن سے ذرا دلچسپی نہیں تھی ، مگر عالیہ کی دیکھا دیکھی اس سے پوچھ پوچھ کر اچار چٹنیاں ،جیم تک بنا لیتی تھی سب نے سلائی تھوڑی بہت اماں سے بھی سیکھی تھی ، مگر اس ہنر کو پالش تو عالیہ باجی نے کیا تھا ۔ سعدیہ اب گھر بھر کے اچھے سے اچھے کپڑے سی لیتی حتیٰ کہ اس نے ابا کا کُرتا تک بنایا تھا اور بقول ابا کے درزی سے اچھا بنایا تھا۔ عالیہ باجی کی خوبیوں کی قائل تو اماں بھی تھیں مگر پھر بھی ان کی نظر میں اہمیت انسانوں اور ان کی خوبیوں کی نہیں بلکہ ذات برادری کی تھی ، قوم کی تھی ۔ ’’ بولی!اصل پاکستانی تو یہی ہیں جو اپنا جان مال عزت اس وطن کی خاطر قربان کر کے یہاں پہنچے ‘‘ ابا بڑے آرام سے سمجھاتے ’’ہمیں تو ایک پہلو تک نہیں بدلنا پڑا اور ہم پاکستانی بن گئے ۔ سچ کہو تم یا تمہارے خاندان نے ایک ناخن تک کٹوایا پاکستان کی خاطر ؟ جبکہ ادھر قربانیاں ہی قربانیاں ہیں ‘‘۔ ’’ ارے بھئی ان قربانیوں سے کس کو انکار ہے ‘‘ اماں دھیمے لہجے میں کہتیں ’’ مگر پھر بھی خاندان برادری کا پتا ہونا بھی ضروری ہے ۔ اللہ بخشے میری چار پھوپھیاں صرف اس لیے کنواری مر گئیں کہ خاندان میں رشتہ نہ ملا ‘‘۔ اماں ظلم کی داستان بھی جیسے احساس تفاخر کے ساتھ سنا رہی تھیں ۔ اب اگر سعدیہ یہ کہتی ان کی شادی نہ ہونے کی وجہ ان کی جائیداد تھی نہ کہ رشتے کی عدم دستیابی ، تو اماں ناراض ہو جاتیں ۔ ’’اماں کسی بد فطرت شخص کے خاندانی ہونے کا کیا فائدہ ہے ؟ دوسری طرف ایک ایسا انسان ہے جو ہر وقت اللہ اور اس کی مخلوق کی خاطر کندھے جھکائے کھڑا ہے ایسا شخص تو آپ اپنا تعارف ہے ۔ اس کا خاندان پوچھ کر کیا کرنا !‘‘ہانیہ بھی دور کی کوڑی لائی ’’اب ہمارے مالک مکان کو ہی لیں … ‘‘ہانیہ کی بات ابھی پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ دروازے پر زور سے دستک ہوئی تھی ۔ ’’ لو! شیطان کا نام لیا اور شیطان حاضر‘‘ پتہ نہیں ان میں سے کون بولا تھا ۔ ابا آج پھر خالی ہاتھ دروازے کی طرف بڑھ گئے تھے ۔ آج پھر مالک مکان پورے پندرہ منٹ تک گالیاں اور دھمکیاں دینے کے بعد روانہ ہؤا تھا ۔ یہ تو اب ہر مہینے کا تماشا تھا ۔ انہوں نے کئی دفعہ مکان بدلنے کا سوچا تھا مگر بد ترین حالت میں گھر ہونے کے باوجود ان کا کرایہ پہنچ سے باہر تھا ۔ پھر سامان کی شفٹنگ ایڈوانس سکیورٹی کے نام پر ایک بڑی رقم اٹھ جاتی تھی ۔ سمجھ نہیں آتا تھا کہ کریں کیا اور جائیں کدھر ، بے گھر انسانوں کی بھی کوئی زندگی تھی بھلا ! ابا صبح بڑے فکرمند انداز میں گھر سے نکلے تھے ، کہیں سے پیسوں کا بندو بست نہیں ہو رہا تھا اورمالک مکان تھا کہ کاٹ کھانے کودوڑ رہا تھا سب کے کان دروازے پر لگے تھے کہ کس وقت وہ بے حس شخص آکر دروازہ پیٹنے لگے گا مگر یا حیرت وہ سارا دن نہیں آیا ۔ اللہ کرے مر گیا ہو ! چھوٹی حمنا سب کے منع کرنے کے باوجود یہی دعا مانگتی رہی تھی۔ مگر وہ مرا نہیں تھا ۔ شام کو ابا نے بتایا کہ کل کے ہنگامے کی خبر عالیہ باجی کے شوہر عامر بھائی کو ہو گئی تھی اور چپ چاپ جا کر اسے کرایہ دے آئے تھے ، بقول ابا کے وہ اس بات پر بھی سخت ناراض تھا ، ظاہر ہے اسے زیادہ بکنے جھکنے کا موقع جونہیں ملا تھا ۔ ’’ لو اب یہ ہندوستانی ہمارا گھر چلائیں گے !‘‘ اماں نے سنا تو بلبلا کر بولیں ۔ ’’ ارے وہ کیوں گھر چلائیں گے ہمارا … تنخواہ ملے گی تو واپس کر دوں گا ۔ مگر احسان تو بہت بڑا کیا انہوں نے اور ذکر تک نہیں کیا ‘‘۔ ابا جیسے اپنے آپ سے کہہ رہے تھے۔ سعدیہ تو فوراً عالیہ باجی کی طرف دوڑی تھی شکریہ ادا کرنے ۔ وہ فرش پر مزے سے بیٹھی پالک کاٹ رہی تھیں اور ارد گرد ان کے سارے بچے بیٹھے قرآن شریف پڑھ رہے تھے ، کس قدر عاجزی اور انکسار تھا ان میں ! حالانکہ یہاں آنے سے پہلے وہ ایک پر تعیش زندگی گزار رہی تھیں ، ان کے شوہر کسی بڑے ادارے میں اچھے عہدے پر کام کر رہے تھے لیکن پھر پتہ چلا کہ ان کا ادارہ کسی سودی کا روبار میں ملوث ہے ۔ چاہنے کے باوجود نوکری چھوڑنا آسان نہیں تھا ، دفتر سے انہیں ایک پر آسائش گھر گاڑی اور دوسری بے شمار سہولیات ملی ہوئی تھیں ، وہ ان سب کے بغیر کیا کریں گے۔ مگر پھر عالیہ باجی کی حوصلہ افزائی پر انہوں نے نوکری چھوڑ دی اور اپنا کاروبار کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اپنے والد سے ملنے والی کچھ زمین بیچ کر انہوں نے اپنا کاروبار بھی شروع کیا تھا اور یہ چھوٹا سا گھر بھی خریدا تھا ۔ کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا تھا مگر اس کے باوجودوہ سب خاص طور پر عالیہ باجی بہت خوش تھیں۔ ’’ میں نے اپنے لیے یہ زندگی خود منتخب کی ہے ‘‘۔ انہوں نے ایک دفعہ بتایا تھا ۔ ’’ مسکینی کی زندگی … کیونکہ ہمارے پیغمبر ؐ کو بھی یہی زندگی پسند تھی ‘‘۔ وہ اپنے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتی تھیں دوسروں کو اہمیت دیتی تھیں۔ عام سے انسان کو خاص الخاص بنا دیتیں یہ انہی کا دیا ہؤا اعتماد تھا کہ ان چاروں بہنوں نے اپنی صلاحیتوں کو پہچانا تھا اور انہیں استعمال میں لا رہی تھیں ورنہ اس سے پہلے ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے ماں باپ پر بوجھ ہیں ، ان کی کمزوری ہیں ۔ وہ سخت احساس کمتری کا شکار تھیں کہ اپنے ماں باپ کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتیں ۔ اماں ابا کا تعلق ایک بڑے زمیندار گھرانے سے تھا مگر اُن کی زمین پر اُن کے بھائی قابض تھے سو وہ کرائے کے گھروں میں غریب الوطن زندگی گزاررہے تھے ۔ ایسے میں چار بیٹیاں ایک بھاری بوجھ کے سوا کیا تھیں ، وہ سب یہی سمجھتی رہیں ۔ مگر پھر عالیہ باجی آگئیں ۔ اُن کی حوصلہ افزائی پر دونوں نے گھر میں ایک چھوٹا سا سلائی سکول کھول لیا تھا ۔ عالیہ باجی اپنی امیر سہیلیوں کو گھیر گھار کر لاتیں اور اُن سے کپڑے بنواتیں ۔ بقول ان کے دونوں بہنوں کے ہاتھ میں صفائی اور ذہن میں نت نئے خیالات تھے ،بعید نہیں تھا کہ اُن کا یہ چھوٹا سا سلائی کا کام ایک دن بڑے بوتیک میں تبدیل ہو جائے اور اُن دونوں بہنوں کو بھی جیسے چانک ہی احساس ہؤاتھا کہ ہاں وہ یہ کام کر سکتی ہیں ۔ ذرے کو آفتاب بنانا کوئی عالیہ باجی سے سیکھتا ! پہلی ایک بار پھر آچکی تھی اور مالک مکان کی بد معاشی بھی ساتھ لائی تھی ۔ اُس نے حسب معمول آکر دروازہ پیٹا تھا اور پھر بکتا جھکتا چلا گیا تھا ۔ اس دفعہ عالیہ باجی بھی گھر پر نہیں تھیں ۔ مالک مکان مسلسل آتا رہا اور شور ہنگامہ مچا کر چلا جاتا ۔ پھر چھ تاریخ کو غنڈے لیے آ پہنچا تھا اور اُن کا سامان اٹھا کر باہر پھینکنا شروع کردیا تھا۔ وہ سب سہمے ہوئے باہر کھڑے تھے ۔ ابا کمزور آواز میں انہیں روکنے سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے مگر ان میں احساس نہیں تھا تو سمجھ کہاں سے آتی ۔ محلے والوں کے لیے ایک مزیدار تماشا لگ گیا تھا ۔ کسی میں اتنی اخلاقی جرأت نہیں تھی کہ انہیں روکتا ۔ وہ اُن کا سارا سامان باہر پھینک رہے تھے ۔ یہ اماں کا جہیز کا پلنگ باہر پٹخا تھا ، یہ اُن کا سنگھار میز اوندھا پڑا تھا ، یہ ٹرنک گرا پڑا تھا ۔ شفٹ ہو ہو کر اُن کا سامان ویسے ہی بڑی مخدوش حالت میں تھا آج تو جیسے بالکل ہی کاٹھ کباڑ ہو گیا تھا ۔ مالک مکان سامان پھینکنے کے ساتھ ساتھ نہایت بے ہودہ بکواس بھی کر رہا تھا۔ اسی تماشے اور تباہی کے بیچ اچانک ایک گاڑی آکر رُکی تھی ۔ پھر انہوںنے عالیہ باجی کی آواز سنی ۔ ’’ یہ کیا کر رہے ہو تم لوگ ؟‘‘ سعدیہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس قدر نازک خاتون کے حلق سے ایسی زور دار آواز بھی نکل سکتی ہے ۔ وہ سخت غصے میں تھیں ۔ عامر بھائی مالک مکان سے بات کر رہے تھے مگر وہ سننے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا تھا ۔ ’’ تم لوگوں نے بتایا کیوں نہیں ؟‘‘ عالیہ باجی سعدیہ پر ناراض ہو رہی تھیں ۔ اور پھر شام تک ان کا سامان عالیہ باجی کے گھر میں رکھا جا چکا تھا ، انہوں نے اپنا گھر خود ہی تقسیم کر دیا تھا ۔ ایک ایک کمرہ دونوں خاندانوں کے حصے میں آیا تھا ۔ درمیان والے کمرے میں سب کا فالتو سامان رکھ دیا گیا تھا ۔ ’’ صحن کے بیچ میں ہم پردہ لگا لیں گے کچن آپ کی طرف ہے اگر آپ کو تکلیف محسوس نہ ہوئی تو باری باری کھانا بنا لیا کریں گے ورنہ میں برآمدے میں چولہا رکھ لوں گی ‘‘ وہ کہہ رہی تھیں ۔ ’’ آپ یہ سب کیوں کر رہی ہیں ؟‘‘ سعدیہ روتے ہوئے اُن کے گلے جا لگی تھی ۔ ’’ بھئی آپ کا حق ہے مجھ پر ‘‘ وہ اسی میٹھے لہجے میں کہہ رہی تھیں ’’آپ لوگ ہمسائے ہیں ہمارے … یاد نہیں پیغمبرؐ نے کیا بتایا تھا کہ جبریلؑ نے ہمسائیوں کے حقوق کی اتنی تاکید کی مجھے لگا کہ جائیداد میں بھی ان کا حق رکھا جائے گا ۔ تو کیا میں تمہیں اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتی کوئی دوسرا بندو بست ہونے تک ؟‘‘ ’’ اور ہمارے سلائی سکول کا کیا ہوگا ؟‘‘ ہانیہ کو اپنے نو مولود بزنس کی فکر کھائے جا رہی تھی ۔ ’’ غم نہ کرو کچھ نہ کچھ اس کا بھی کرلیں گے‘‘ عالیہ باجی نے اُسے تسلی دی ۔ اس سارے وقت میں اماں انہیں یک ٹک دیکھے جا رہی تھیں جیسے پہلی بار دیکھا ہو ۔ ’’ آپ فکر نہ کریں ‘‘ وہ اماں سے کہہ رہی تھیں ’’ آپ کو ہجرت کا ثواب ملے گا انشاء اللہ ‘‘۔ وہ ایسی ہی تھیں ہر عام سی بات کو بھی خوشخبری بنا دینے والی ! ’’ تمہارے بڑے انڈیا سے ہجرت کر کے آئے تھے ناں!‘‘ تباہی کے ڈھیر پر بیٹھ کر اماں کو وہی پرانا سوال سوجھا تھا ۔ ’’ ہمارے لیے ناں!‘‘ وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے کہہ رہی تھیں ’’ آج کے اس دن کے لیے ناں !‘‘ وہ بولتی جا رہی تھیں اور اپنے سے کم عمر عالیہ باجی کے سینے سے لگی ایسے رو رہی تھیں جیسے عالیہ باجی ان کی ماں ہوں اور وہ ننھی سی بچی۔ ٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x