ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ویہڑا – ثانیہ رحمن – ترجمہ:ام معبد نتکانی

دھم دھما دھم دھم…. دھم دھما دھم دھم
ملک ڈتو کے گھر سے رات گئے سے ڈھول کی اواز آنا بند نہیں ہوئی تھی۔
اور بند بھی کیوں ہوتی ،خوشی ہی اتنی بڑی تھی! ملک’’ڈتو‘‘ کے گھر پوتا جو پیدا ہؤا تھا ۔پچھلے کافی سالوں سے ملک کا گھر بچوں کی شرارتوں اور رونقوں سے محروم تھا ۔اس کے بیٹے’’بالو‘‘ کے بعد کسی کی بچے کی پیدائش نہ ہوئی تو اس کے صحن نے کسی بچے کی کلکاریاں اور رونقیں نہ دیکھی تھیں….آج جیوے لکھ تھیوے ’’بالو‘‘ کو اللہ تعالیٰ نے چاند مکھڑے اور روشن پیشانی والا بیٹا دیا تھا تو ملک ڈتو ڈھول بجوا کے بیٹے کی پیدائش کی خوشی منا رہا تھا۔ڈتو کی اس خوشی میں گردونواح کے سارے علاقے والے اور دوست قرابت دار شامل ہوئے تھے۔
لالہ مبارک باد اللہ ہمارے بھتیجے کو ہنستا بستا رکھے۔
او جی خیر مبارک میرے بھائی ہماری اس خوشی کے موقع پہ شریک ہوئے۔
ملک ڈتو کے بچپن کے یار وسائے نمبردار نے اس کے پوتے کی پیدائش کی مبارک اس کے گھر پہ آ کے دی تو ملک ڈتو کا سینہ خوشی سے چوڑا ہو گیا۔
نمبردار پہلا یا آخری بندہ نہ تھا جو مبارکباد کے لیے آیا ہو۔ لوگ تو رات سے آنا شروع ہو گئے تھے ۔ملک کا گھر بستی کے لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔نوجوان جھمر ڈال کے خوشی کے ماحول میں رنگ بھر رہے تھے اور ’’بالو‘‘ آنے والے مہمانوں کی خاطر مدارات میں مصروف تھا۔ اتنی مصروفیت کے باوجود اس کا چہرا کھلا ہؤا اور موڈ خوشگوار ہی تھا۔
اندر خواتین میں بھی یہی صورتحال تھی۔بالو ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا اور آج اللہ نے اس کے نصیب جگائے تو سارے رشتہ دار اور حلقہ احباب اس کی خوشی میں شریک خوش اور نہال تھے۔کام والی مائیاں مٹھائی کی چُوری کوٹ رہی تھیں تو کہیں برآمدے کے بیچوں بیچ تین چار چارپائیاں ملائے میراثنین خوشی کے گیت گا رہی تھیں۔گھر میں ہر جانب خوشی نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔
صبح ہوئی سورج نے اپنا دیدار کرایا اور جب دھوپ تیز ہونے لگی تو ملکانی کریمن پانی گرم کیے پوتے کو دھوپ میں نہلانے آ بیٹھی۔بالو کی بیوی شیمو جو کہ زچہ تھی بستی کی نوجوان لڑکیوں بالیوں نے اسے گھیر لیا، اس کے گرد جمگھٹا لگا کے بیٹھ گئیں چٹکلے سنانے اور ہنسی مذاق کرنے لگیں۔
اری شیمو بتا تو سہی ہمارا بھانجا تمہاری شکل کا ہے یا بالو بھائی کے نین نقش چرائے ہیں؟
ایک نے مذاق کیا تو سب کھلکھلانے لگیں….ان کے قہقہوں میں شیمو کا جواب منہ میں ہی رہ گیا اور وہ مسکرا پڑی۔
سکھی سہیلیوں کے بیچ شیمو آج گائو تکیے سے ٹیک لگائے مہا رانیوں کی سی شان سے بیٹھی تھی۔خوشی سے چہرہ چمک رہا تھا، خوشی باچھوں سے کھلی پڑتی تھی۔
ارے شیمو یہ تو بتا ذرا لالے بالو نے تمہیں چندن ہار پہنایا ہے؟
نہیں تو!مجھے بھلا کیوں پہناتا مجھے پہلے کمی تھوڑا ہی ہے…. سوال پوچھتی فیضاں کو شیمو نے جواب دیا۔
اری ہاااااااااا ہائے!یہ تو سادہ کی سادہ ہی رہی’’مجھے بھلا کیوں پہناتا‘‘اس نے نقل اتاری۔ دیکھ میری بہن ویسے تو یہ تمہارے گھر کا معاملہ ہے تم میاں بیوی جیسے چاہو نبھاؤ مگر بہن یہ بات تو ہے پورے وسیب میں جو عورت بھی بیٹا پیدا کرتی ہے اسے سونے کے کنگن پہناتے ہیں یا چندن ہار پہناتے ہیں چندن ہار….
مگر تمہیں تمہارے سسرال والوں نے نہیں پہنایا تو ہم بھلا کیا کہہ سکتی ہیں!
فیضاں نے اپنی بات مکمل کی اور تصدیق کے لیے جھرمٹ ڈالے لڑکیوں کی طرف دیکھا تو انہوں نے بھی اثبات میں سر ہلا دیے۔
ہائے نی سچی….؟مجھے تو پتا بھی نہیں تھا اور مجھے کسی نے پوچھا بھی نہیں۔
فیضاں کی بات سن کے شیمو تاسف سے کھسیانی سی ہو گئی۔اس کے چہرے کی مسکراہٹ اڑ گئی اور شرمندگی سے چہرہ لال گلال ہو گیا۔
ہاااااائے نی بی بی دیکھو تو کیسے ناقدرے لوگ ہیں ….بیٹا جو پیدا ہو&ٔا تو ماں سے کسی نے ہار جھمکا تک نہیں پوچھا….بی بی بات تو حیرت کی ہے….عورت کی قدر تو اس کے گھر میں ایسے پتا چلتی ہے کہ اس کی گھر میں کتنی عزت ہے، باقی منہ بولے کی مٹھیاری باتوں سے عورت بھلا کب راضی ہوتی ہے۔ بالو بھرا کو چاہیے تھا کہ اس کی بیوی نے اسے بیٹے کی نعمت دی ہے تو وہ بھی کوئی زیور گہنا بیوی کو ضرور پہناتا۔
اری اماں یہی تو بات ہے سر چڑھے کی قدر ہوتی ہے ۔بے چاری عورت نے اتنی تکلیف سے گزر کے بیٹا پیدا کیا ہے اس بے چاری کو کیا ملا…. وہ تو خالی ہاتھ سر نیہواڑے سکھی سہیلیوں میں اداس شرمندہ سی خاموش بیٹھی ہے۔ساری خوش باش خوشحال بیٹھی ہیں اور دیکھو ذرا شیمو اداس بت بنی بیٹھی ہے۔
’’لڑکیو ہٹو دور دور ہو کے بیٹھو ذرا جگہ بناؤمیرے شیر پوتے کے دودھ پینے کا وقت ہو گیا ہے‘‘۔
کریمن نے بچے کو نہلا دھلا کے بندھنا باندھ کے سرمے کی دھاریں ڈالے آ کے شیمو کی گود میں دیا تو شیمو اسے دودھ پلانے کے لیے سیدھی ہو بیٹھی ۔مگر دودھ پلاتی شیمو کے دل دماغ میں ایک ہی راگ چل رہا تھا کہ وہ بے قدری ہے اس کی گھر میں کوئی عزت ہی نہیں ہے ۔ سہیلیوں اور بستی کی عورتوں کے جملے اس کے دل میں کانٹے کی طرح پیوست تھے۔ دل و دماغ کی اس کشمکس میں خیالات کی اس جنگ میں کب اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اسے احساس تک نہ ہؤا۔
شیمو شیمو کیا ہؤا ایسے اداس کیوں ہوئی بیٹھی ہو؟ارے ارے رونے کیوں لگی؟ کیا ہؤا ہے؟
بالو گھر آیا تو اداس اور مایوس بیٹھی بیوی کی آنکھوں میں آنسو بھرے دیکھ کے بے چین ہو گیا۔ماہی بے آب کی طرح بے چین ہو اٹھا ، بیوی کے پاس آ بیٹھا ، اس کے چہرے سے آنسو پونچھنے لگا اور محبت سے اس کا ہاتھ سہلانے لگا مگر شیمو نے غصے میں اپنا ہاتھ مروڑ کے بالو کے ہاتھ سےچھین نکالا۔
ادھر سے اٹھ جا ؤمیری نظروں سے دور ہو….شیمو نے بالو کو دھکا دے ڈالا تو بے چارہ حیران پریشان ہکا بکا بیٹھا رہ گیا۔
شیمو کے اس رویے کی وجہ سے ارد گرد بیٹھی خواتین ان کی طرف متوجہ ہونے لگیں۔ بالو کو غصہ تو بہت آیا مگر وہ غصے کا ایک بڑا گھونٹ پی کے اطمینان سے شیمو سے اس کے غصے کی وجہ پوچھنے لگا۔شیمو وجہ بتانے کی بجائے دو ٹوک لہجے میں پھٹ پڑی کہ اب میں اس گھر میں نہیں رہوں گی میری یہاں کوئی قدر ہی نہیں ہے۔
کیسی ناقدری بھلا میری پیاری بیٹی….؟میری بیٹی کا تو یہ اپنا گھر ہے بلکہ تم تو ملکہ ہو اس گھر کی….
اس سے پہلے کہ بالو شیمو کا جواب دیتا کریمن نے آگے بڑھ کر شیمو کو اپنے بازوں میں سمیٹ سینے سے لگائے جواب دیا۔کریمن کا شفقت بھرا انداز بھی کام نہ آیا۔ شیمو کی وہی مرغے کی ایک ٹانگ والی ضدی طبیعت کہ مجھے تم لوگوں نے بے قدرا کیا ہے میری تو کوئی عزت ہی نہیں کی گئی۔
شیمو معاملہ بڑھاتی گئی، نوبت یہاں تک آ گئی کہ خاموش تماشائی بنے مجمعے کے سامنے شیمو نے بالو سے طلاق مانگ لی ،ساتھ یہ طعنہ بھی دے ڈالا کہ تم لوگوں نے کیا مجھے لاوارث سمجھا ہؤا ہے میرا خیال رکھنے والے بھائی سلامت ہیں….میں ادھر نہیں رہ سکتی جہاں میری قدر نہ ہو، ایسی جگہ جہاں قدر اور عزت نہ ملے وہاں رہنے کا کیا فائدہ۔
دودھ پیتے بچے کا دودھ چھڑا کے شیمو نے ایک طرف ڈالا اور اپنا سامان باندھنے لگی۔وہاں موجود بندے بندے نے اسے سمجھایا کہ بیٹی یوں گھر چھوڑ کے نہیں جاتے مگر اس نے کسی کی ایک نا سنی اور اپنے بھائی کو بلوا بھجوایا۔
بالو اپنے خوشیوں بھرے آنگن کی یہ بدامنی اور ایک جانب لیٹے معصوم بچے کی بے سکونی دیکھتا بے بس و لاچار کھڑا تھا۔کریمن نے روتے بلکتے معصوم کو سینے سے لگایا اتنے میں ملک ڈتو بھی مردان خانے سے اندر گھر میں آیا تو پوچھنے لگا کہ کیا ماجرا ہے؟کریمن نے روتے ہوئے سارا معاملہ بتایا کہ آرام تھرام سے بیٹھی بہو کو نجانے کیا ہؤا ہے کہ یوں اکھڑ گئی ہے۔ملک ڈتو سامان باندھتی بہو کے پاس گیا اور سمجھانے لگا کہ بیٹی عورت اپنے گھر پہ ہنستی بستی اچھی لگتی ہے، تم ادھر بیٹھو کہیں نا جاؤ اورذرا مجھے بتاؤ کس نے تمہاری نا قدری کی ہے۔میں اپنی بیٹی کی ہر بات مانوں گا اور ان سے بھی پوچھوں گا کہ میری بیٹی کو کچھ کہنے کی جرأت کس نے کی ہے۔شیمو نے خود کو بہرا کر لیا تھا اور ملک ڈتو کی بات کو ان سنا کر کے جواب میں کوئی بات تو دور سننے کا تاثر تک نہ دیا۔
اتنے میں شیمو کا بھائی نعیم بھی غصے سے بھرا تیوریاں چڑھائے منہ سجائے پہنچ گیا۔ملک ڈتو نے اسے بٹھایا اور سارا احوال کہہ سنایا مگر وہ جوانی کا جوشیلا خون تھا بغیر کچھ سنے سمجھے اپنی بہن کو لے کر چلا گیا۔
شیمو کے یوں چلے جانے کے بعد ملک ڈتو سر پکڑے بیٹھا رہ گیا۔ شام ہوئی تو بستی کے کچھ معزز سرکردہ لوگوں کو اکٹھا کر کے شیمو کے باپ کے پاس جا پہنچا۔شیمو کا باپ سمجھدار اور دنیا دیکھا بھالا وضع دار انسان تھا ۔اس نے ملک ڈتو کی بات بھی سنی اور بیٹی سے بھی احوال پوچھے اور آخر میں بیٹی کو سمجھانے لگا مگر شیمو نے بھری پنچایت میں باپ کی بات ماننے سے انکار کر دیا حالانکہ بعد میں باپ نے ہزار ہا بار اسے سمجھایا مگر اس نے نہ ماننا تھا نہ مانی۔ کسی کو کچھ بتاتی بھی نہ تھی بس ایک ضد باندھے بیٹھی تھی کہ میری اس گھر میں کوئی عزت نہیں ہے تو میں اس گھر واپس نہیں جاتی مجھے بس طلاق چاہیے۔
بات پنچائیت اور ثالثی سے نکلی تو شیمو نے تنسیخ نکاح کا کیس کر ڈالا ۔بالو کو عدالت سے سمن جاری ہو گیا۔ بالو پیشی پہ عدالت گیا تو وہاں مدعی کے وکیل کے تابڑ توڑ سوالات نے اسے چکرا کے رکھ دیا اسے سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ کیا جواب دے۔
دن گزرے مہینے گزرے، ملک ڈتو اور بالو نے شیمو کو واپس لانے کے ہزار جتن کر ڈالے۔موسم بدلا جاڑا آیا تو بالو کو سردی لگ گئی اور وہ بیمار ہوگیا تو بچے کی تمام تر ذمہ داری کریمن پہ آ گئی ۔بوڑھی کریمن نے سالوں پہلے بچہ پالا تھا، اس سے یہ نازک جان سنبھل نہ پائی تو بیمار پڑگیا ۔ بالو تو آخر ٹھیک ہو ہی گیا مگر بچہ یہ زور نہ سہہ سکا اور بالو کا اتنی منتوں مرادوں سے پایا بچہ مر گیا۔
بچہ کیا مرا بالو پہ غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ۔کچھ ہمدردوں نے شیمو کو اس کے بچے کی موت کا جا بتایا۔مگر اس کا خون سفید ہو چکا تھا وہ اس سانحہ کے موقع پہ بھی نہ آئی، روتے پچھتاتے بالو اور اس کے ماں باپ نے غم کے یہ دن گزارے اور پھر سے اکیلے کے اکیلے ہو گئے۔ ملک ڈتو کا گھر دوبارہ بچے کی کلکاریوں سے محروم خالی سنسان ہو گیا۔
دوسری طرف پیشی پہ پیشی لگ رہی تھی۔ وکیل بالو کو مشورہ دے رہا تھا کہ تم بھی بدلے میں شیمو اور اس کے باپ بھائیوں پہ کیس کردو مگر بالو سادہ لوح امن پسند انسان تھا اس کا موقف صلح صفائی کی کوشش کرنا تھا ۔یہ تنسیخ نکاح کا کیس تھا کتنا ہی لمبا چلتا آخر شیمو نے عدالت سے طلاق لے ہی لی۔شیمو کی طلاق کے بعد راضی نامے کی تمام امیدیں دم توڑ گئیں۔بالو کے ہنستے بستے گھر کی رونق اجڑ گئی۔گھر سنسان اجاڑ ہو گیا جہاں خاموشی ہوکے مارتی تھی۔اتنی خاموشی کہ اچھے بھلے بندے کا دل چیر دے۔
بالو گھر کے برآمدے میں دیوار سے ٹیک لگائے حقے کے کش لیتا صحن کو دیکھ کے سوچ رہا تھا کہ یہ تو وہ صحن تھا جہاں ہماری خوشیاں کھیلتی تھیں، نجانے کس کی نظر کھا گئی کہ ایسے ویران ہو گیا۔اس کے سامنے اس کے گھر کا اجاڑ سنسان مٹی کی طرح مٹی ہؤا صحن تھا جس کی ویرانی اس کو کھانے آتی تھی۔
٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x