ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

وطن کا گیت – بتول اگست۲۰۲۲

دعا یہ ہے وطن میرے !
اجالا امن و راحت کا تری ساری شبوں میں ہو
محبت کی ضیا بکھری ہوئی سب راستوں میں ہو
دعا یہ ہے وطن میرے!
خدا رکھے گا خود تجھ کو مگر میری تمنا ہے
وسیلہ میرے جسم و جاں بنیں تیری حفاظت کے
مرے دستِ ہنر سے تیرے سب گیسو سنور جائیں
مرا ذہنِ رسا تیرا مقام آفاق پر ڈھونڈے
ان آنکھوں میں جو ساون ہے ترے صحرائوں پر برسے
بدن میں جولہو ہے منتقل تیری رگوں میں ہو
دعا یہ ہے وطن میرے!
کوئی ضرب ِعدو میں دست و بازو پر ترے دیکھوں
تو میری آنکھ جل تھل روح بوجھل ہونے لگتی ہے
بگولے نفرتوںکے بستیوں میں گھومتے پائوں
تو سچ مانو کہ طاقت سوچ کی شل ہونے لگتی ہے
اندھیرے چھانٹ کر گلیوں میں تیری روشنی بھر دوں
تمنا ہے سکت اتنی تو میرے بازئووں میں ہو
دعا یہ ہے وطن میرے!
کبھی ہوتا ہے یوں بھی مصلحت پیشِ نظر آئے
کئی چاہت کے دعویدار دامن چھوڑ جاتے ہیں
مرے جیسے وفا کے گیت لکھتے ہیں کئی شاعر
مگر خود ہی بھرم اپنی وفا کا توڑ جاتے ہیں
دعا یہ ہے مرے مولا! مرے دعوے کی سچائی
مرے اس دیس سے ہر حال میں ساری رتوں میں ہو
دعا یہ ہے وطن میرے

میرے کشمیر!

میرے کشمیر مرے پاک وطن کی شہ رگ
کون کہتا ہے فضائیں تری آزاد نہیں
چار اطراف شہادت کی ضیا بکھری ہے
کیسے کہہ دوں کہ تری بستیاں آباد نہیں

ان جھلستے ہوئے شہروں کے گلی کوچوں میں
صد ہزار آرزوئیں اور امنگیں جاگیں
زندگی کا جو کہیں ایک چراغ اور بجھا
جذبہ و شوق کی لاکھوں وہاں کرنیں جاگیں

غاصبو ، فتنہ گرو،ولولے جاں بازوں کے
کتنے سو سال تلک اور دبا پائو گے
روشنی خون میں شامل ہے جو آزادی کی
تم بجھانا بھی جو چاہو، نہ بجھا پائو گے !

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x