۲۰۲۲ بتول نومبرنادرہ خان کی کہانی – بتول نومبر ۲۰۲۲

نادرہ خان کی کہانی – بتول نومبر ۲۰۲۲

بھاگتی دوڑتی زندگی میں کبھی کبھار کسی خواجہ سرا سے سامنا ہؤا اوردو چار جملوں کا تبادلہ ہؤا تو جی چاہا ان سے روک کر ان کی زندگی کے بارے میں جانا جائے مگر ہر دفعہ یہ خیال آیا اور گزر گیا ۔اب جبکہ چہار طرف خواجہ سرا کا عنوان گردش کر رہا ہے تو اس خیال نےاب بہت مضبوطی سے سر اٹھایا اور ’’بتول‘‘کے خاص نمبر کے لیے مختلف خواجہ سراؤں سے رابطہ کی کوشش کی۔ بالآخر کینیڈا میں مقیم اپنی ایک دوست کے ذریعے سے ہمارا ایک ایسی ہی ہستی سے رابطہ ہؤا اور ان سے تفصیلی بات چیت ہوئی تو ایک شدید پچھتاوا ساتھ دل و دماغ کو کچوکے دینے لگا کہ کاش پہلے ہی ایسا کیا ہوتا! اب تک بہت سے مظلوم طبقوں کے لیے کام کیا ہے۔ پہلے کچھ سوچا ہوتا تو شاید بہت پہلے یہ بات سمجھ میں آ جاتی کہ یہ معاشرے کے بہت بلکہ شاید سب سے مظلوم لوگ ہیں اور نادرہ خان بھی انہی میں سے ایک نمایاں نام ہے۔ ان کو ٹی وی ڈراموں میں ایکٹر کے طور پہ کام کرتے دیکھنے کا اتفاق بھی ہؤا تھا۔
نادر ہ خان کہتی ہیں کہ ہم اپنے گھر میں ہی اجنبی اور غیر سے ہو جاتے ہیں ۔زمانے کی ایک انوکھی مخلوق کے طور پر پر جب سب کی نظریں برداشت کرنی پڑتی ہیں تو ہمیں اپنے پیارے اور اپنا گھر بار چھوڑنا پڑتا ہے ۔ہم اپنے گھر والوں کے لیے کلنک کا ٹیکا سا بن جاتے ہیں اور ان کی اس مشکل کو آسان کرنے کے لیے ہم اپنا گھر چھوڑ دیتے ہیں مگر ہمارے اس دکھ کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔
نادرہ خان کا تعلق صوبہ کے پی کے ایک متمول اور عزت دار گھرانے سے ہے ۔وہ آٹھ بہن بھائی ہیں، نادرہ ان میں سے سب سے بڑی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ تین بہن بھائیوں کے پیدائش کے وقت فوت ہو جانے کے باعث میں میرے گھر والوں کے لیے بہت اہم تھی۔ نادرا نے ابتدائی زندگی حیدرآباد میں گزاری جہاں ان کے والد ملازمت کرتے تھے۔
یہ حیدرآباد کے اسکول میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ لڑکے کے طور پر ہی سکول میں جاتی تھیں اور کہتی تھی کہ لڑکے کے طور پر رہنے کے باوجود میری عادات کچھ لڑکیوں جیسی تھیں ،کچھ پسند نا پسند بھی۔ میرے ایک استاد مجھ سے بہت پیار کرتے تھے وجہ یہ بھی تھی کہ میں پڑھنے میں بہت اچھی تھی مجھے سیکھنے اور آگے بڑھنے کا بھی بہت شوق تھا ۔ وہ مذاق سے مجھے’’ کُڑی‘‘ کے نام سے پکارتے تھےکیونکہ پنجابی میں کڑی لڑکی کو کہتے ہیں۔
اسکول میں میں نے چھٹی جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ پھر آخر ایک سال اسکول میں بہت مشکل تھا۔ بس کے انتظار میں اسکول کے بعد یا کسی بھی موقع پر لڑکے مجھے بہت تنگ کرتے تھے بعض غلط حرکتیں بھی کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ آخرکار میں نے پریشان ہو کر سکول چھوڑ دیا تعلیم جاری نہ رکھ سکی ،والدین نے بھی اس بات کو قبول کر لیا۔
اگرچہ گھر والے مجھ سے بہت محبت کرتے تھے مگر جب میں لڑکیوں کے ساتھ کھیلتی یا لڑکیوں والے کام کرتی مثلاً بہنوں کے کپڑے پہن لیتی میک اپ کرتی لڑکیوں کی طرح کے کھیل کود کرتی تھی تومیرے والد بہت ناراض ہوتے اور اکثر اوقات میری پٹائی بھی ہوتی تھی، اس بات پر میرے دادا نے بھی اکثر مجھے بہت مارا۔
نادرہ خان کہتی ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ میری پوزیشن Odd one out جیسی ہوتی چلی گئی ۔بہن بھائی اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے شرمندگی سی محسوس کرتے تھے۔ گھر میں مہمان آتے یا بہنوں کے رشتے

کے لئے کوئی آتا تو مجھے ہٹا دیا جاتا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید میں کلنک کا ٹیکا ہوں اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ میں نے گھر چھوڑ دیا ۔ایسا نہیں تھا کہ گھر والوں نےمیری پروا نہیں کی خاص طور پر میری امی محبت کرتی تھی۔ میرے گھر چھوڑنے کے بعد میرے گھر والوں نے مجھے کافی تلاش کیا۔ آخر کار میرے والد اور بہنوئی نے مجھے ڈھونڈ لیا پھر ہم نے ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر بات کی۔ میں نے ان کو اس بات پر قائل کر لیا کہ میں جہاں ہوں وہاں خوش ہوں۔ پھر انہوں نے میرے ساتھ میری رہائش گاہ پر جا کر دیکھا اور مطمئن ہو کر واپس چلے گئے۔
اب یہاں سے نادرہ کی گرو کےاڈےوالی زندگی کا آغاز ہوگیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہاں میں بہت خوش تھی سب لوگ مل جل کر رہتے تھے، ایک دوسرے کو اجنبیت اور غیر فطری مخلوق کا احساس نہیں تھا۔ ایک دوسرے سے محبت کرتے خیال کرتے تھے۔
گرو کے کے نظام کے بارے میں میرا تجسس بڑھ گیا۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگوں کا ذریعہ آمدنی کیا ہے۔گرو کا رویہ کیسا ہوتا تھا۔انہوں نے کہا کہ گرو ہمارے لیے ماں باپ کی جگہ پر تھا ۔وہ ہمارا خیال رکھتا تھا، ہماری ضروریات پوری کرتا تھا ،میرے اس سوال پر کہ کیا سارے گروایسے ہی ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ نہیں، بس یہ نصیب کی بات ہے جیسے کہ کسی کو والدین اچھے ملتے ہیں اور کسی کو نہیں تو ہم لوگوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہم لوگ پیسہ کمانے کے لیے شوز کرتے ہیں سر کس کرتے ہیں اس کے علاوہ جہاں بچے پیدا ہوتے ہیں وہاں جاتے ہیں وہاں سے و دھائی لے کر آتے ہیں۔ میں نے بہت ہمت کرکے یہ سوال بھی کر ہی ڈالا کہ کیا آپ لوگوں کو سیکس ورکر کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے یا مجبور کیا جاتا ہے تو انہوں نے بتایا کہ نہیں ہر جگہ ایسا نہیں ہے اور اگر میں اندازے سے بتاؤں تو ستر فیصد گرو اس بات کو پسند نہیں کرتے لیکن ہاں 30 فیصد ایسا بھی ہے۔ یہ گرو لوگوں کو ورغلا کر غلط راستے پر لے جاتے ہیں ۔کچھ مجرمانہ ذہنیت کے لوگ انفرادی طور پر بھی خواجہ سراؤں کو پکڑ لیتےہیں ان کو مجبور کرتے ہیں اور انہیں نشانہ بناتے ہیں یا شاید کچھ خواجہ سرا پیسوں کی لالج میں بھی ایسا کرتے ہیں لیکن سب نہیں ،مگر جو نہیں کرنا چاہتے بسا اوقات وہ مزاحمت نہیں کر پاتے کیونکہ ہمارے پیچھے کوئی مضبوط طاقت یا سہارا نہیں ہوتا۔ یہ ایک پورا مافیا ہے اور کہیں کہیں گرو بھی اس میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے گرو اپنے نظام کو بہت منظم طریقے سے چلاتے ہیں جیسے کہ ہمارے ہاں رات کو جلد واپس آنے کا سسٹم تھا۔ پھر اس کے بعد ہمارا دروازہ بند ہو جاتا تھا ہم مردوں کے پروگرام نہیں کرتے تھےجہاں شراب و کباب چلتی ہو اورہراس کیا جاتا ہو بلکہ ہم صاف ستھرے فنکشن کرتے تھے۔
میں نے پوچھا آپ کا معاشی نظام کیسے چلتا تھاتو کہنے لگیں، سب گرو کے ماتحت ہوتا ہے اورکبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم جب کوئی شو کر کے آتے ہیں تو جو پیسے ملتے ہیں وہ آپس میں برابر تقسیم کر لیتے ہیں۔
نادرہ بتارہی تھیں کہ ہماری پہچان خاندان اور قبیلے کے بجائے گرو کے نام سے ہوتی ہے۔ کسی بھی شہر اور کسی بھی جگہ کوئی ملتا ہے تو ہماری پہچان کے لیے گرو کا نام پوچھتا ہے اور پھر اس کو سب پتا چل جاتا ہے ہمارے بارے میں۔ یہ گرو سائبان تو دیتے ہیں لیکن اپنے ماتحت لوگوں کے ذہنی ارتقا کی کوشش نہیں کرتے کیوں کہ ایسا کرنے سے ان کا دھندہ جو بند ہو جائے گا۔ حتیٰ کہ وہ فری ٹریننگ کی پیشکش کو بھی قبول نہیں کرتے۔
انہوں نے کہاہم جب انڈیپنڈنٹ ہونے لگتے ہیں تو ایک گھونسلہ الگ بھی بنا لیتے ہیں۔ جیسے کہ میں اپنے گروپ کے ساتھ اپنے گاؤں کے پاس آ گئی کیونکہ یہ گروپ دراصل اب میری ٹیم ہے۔میرے شاگرد میرے ساتھ ہیں ۔میرے گھر والے بھی میرے والد کی ملازمت کے بعد گا ؤں واپس منتقل ہو گئے تھے ۔
وہ کہنے لگیں مجھے بہت افسوس ہے کہ ہمارے طاقتور لوگ ہمارے لیے کچھ نہیں کرتے۔ جیسا کہ سیاست دان جب الیکشن جیتتے ہیں تو نچانے کے لیے ہمیں بلاتے ہیں۔ ہم پر پیسے خرچ کرتے ہیں مگر اس بات کے لیے کچھ نہیں کرتے کہ ہم ایک باعزت زندگی گزاریں۔ معاشرہ بھی ہمیں عزت دے۔ نادرہ کہتی ہیں کہ میں نے کئی اداروں میں جاب بھی کی ہے۔ ایک بڑی کمپنی میں ٹیلیفون آپریٹر رہی۔ پھولوں کی دوکان

پر بھی کام کیا ہے۔ گاڑیاں دھونے کا کام بھی کیا۔ مگر ہر جگہ ہمیں bullyکیا جاتا ہے۔ ہر جگہ ہمیں اپنی بقا کی جنگ لڑنی پڑتی ہے۔زیادہ تر پولیس والے خواجہ سرا کا ریپ کرتے ہیں۔ چلتی بس سے اتروا لیتے ہیں، کیوں کہ وہ تو پولیس والے ہیں۔ ان کے ہی ہاتھوں سب سے زیادہ جنسی ہراسانی ہوتی ہے۔
میں نے پوچھا کہ آپ ماشاء اللہ سوشل ایشوز پر بہت ایکٹو ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ہاں میں سمجھتی ہوں کہ یہاں عورتیں بھی مظلوم ہیں تبھی میں خواجہ سراؤں کے حق کے علاوہ خواتین کے حق کے لئے بھی کام کرتی ہوں۔ میرے اس کام کی وجہ سے ہی یوتھ پارلیمنٹ نے میری بہت عزت افزائی کی اور اعزازی طور پر اپنا سینیٹر بنایا۔ یہ اللہ کی دی ہوئی عزت ہے۔
میں نے حیرانی سے پوچھا، آپ یہ سب گرو کے ساتھ رہتے ہوئے کرتی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں اب میں اکیلی رہتی ہوں اور میری ٹیم میرے ساتھ ہے۔میں ان کی ترقی کی اور ان کی تعلیم کی بہت کوشش کرتی ہوں کہ وہ باعزت زندگی گزاریں۔مگر اس بات پہ افسوس بھی ہے کہ ان لوگوں میں سیکھنے اور آگے بڑھنے کا جذبہ بہت کم پایا جاتا ہے۔ شاید اس کی وجہ وہ ماحول ہےجہاں یہ پلے بڑھے ہوتے ہیں ۔
میں نے پوچھا، آپ کا آپ کے گھر والوں کے ساتھ رابطہ ہے یا نہیں؟
نادرہ نے بتایا کہ بالکل میں اپنے گھر والوں سے ملتی ہوں۔ میرے سب بہن بھائی قریب ہی گاؤں میں رہتے ہیں ۔ میں ان سے ملنے جاتی ہوں مگر رات کو جاتی ہوں دن میں نہیں۔ ویسے گاؤں والے مجھے جانتے ہیں مگر مجھے شکل سے نہیں پہچانتے ۔ میرے والدین کا جب انتقال ہؤا تو میں ساتھ کھڑی تھی۔ ان کی تمام رسومات میں شریک ہوئی ہوں۔ بہن بھائیوں کا بھی خیال کرتی ہوں۔ ان کی مدد بھی کرتی ہوں۔ شاید اسی لیے اب وہ مجھ سے اچھی طرح سے ملتے ہیں۔
ایک سوال جو کافی دیر سے میرے ذہن میں کلبلا رہا تھا میں نے پوچھ ہی ڈالا، آپ خواجہ سراؤں کے لیے کام کرتی ہیں تو یہ جو خواجہ سراؤں کے قتل کی خبریں آتی ہیں ان کی کیا حقیقت ہے؟ اس پر نادرہ نے بتایا کہ 2015 سے اب تک 97 قتل ہوئے ہیں۔ جو اکثر وہ لوگ کرتے ہیں جنہوں نے ان پر پیسے کافی خرچ کیے ہوتے ہیں اور پھر وہ ان کی مرضی کے خلاف کچھ کر دیں اور ان کے ہاتھوں کٹھ پتلی نہ بنیں تو وہ غصے اورجنون میں آ کر جان سے ہی مار دیتے ہیں۔
بسا اوقات خواجہ سرا کے اپنےگھر والے بھی انہیں مار دیتے ہیں۔ میری تو حیرت سے آنکھیں پھٹ گئیں۔ کیا مطلب گھر والے کیوں؟ جبکہ وہ گھر چھوڑ چکے ہوتے ہیں؟
مختلف وجوہات ہوتی ہیں۔ مثلا ًیہ کہ شناختی کارڈ کیوں بنوا لیا، ہماری بدنامی ہو گی۔ وہ کہنے لگیں میڈم آپ کو پتہ ہے ، بعض گھر والے تو جنازے لینے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔ ہم تو وہ لوگ ہیں جن کو ان کے گھر والے دفنانا بھی پسند نہیں کرتے۔ ہم لوگ کوشش کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد جنازے کم از کم ان کے گھر والے ہی دفنائیں لیکن بعض لوگ وہ بھی پسند نہیں کرتے پھر ان بیچاروں کو ہم خود ہی دفنا دیتے ہیں۔
نادرہ خان کو معاشرے سے بہت سخت شکایات ہیں۔ کہتی ہیں کہ ہم محنت مزدوری کر کے رزق حلال بھی کمائیں تو بھی لوگ ہماری عزت نہیں کرتے۔ ہمارے کچھ لوگوں کی مارکیٹ میں دوکانیں ہیں۔ وہ باعزت روزی کمانا چاہتے ہیں۔ مگر لوگ مضحکہ خیز نظروں سے دیکھتے ہیں، مذاق اڑاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی بہت حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
معاشرے میں بہت سے لوگ ہیں جن کے اندر کوئی ابنارمیلٹی ہو مثلا کوئی نابینا ہوتا ہے، کوئی سماعت سے محروم ہوتا ہے مگر ان کو تو برا یا مضحکہ خیزنہیں سمجھا جاتا۔ تو پھر ہمارا کیا قصور ہے کہ ہمیں عام انسانوں جیسا حق حاصل نہیں ہوتا، حتیٰ کہ ہم اپنے ہی گھر میں اجنبی بن جاتے ہیں اور پھر ہمیں آخر کار گھر چھوڑنا پڑ جاتا ہے۔
ہمارا نام ایک گالی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ کچھ لوگ تبلیغ میں بھی گئے تو ان کو اس لفظ یعنی کھسرے سے نجات نہیں ملتی۔ ہمارے لیے یہ لفظ ایک گالی بن گیا ہے۔ اسی معاشرے میں بانجھ مرد اور بانجھ عورتیں بھی ہیں ان کو کوئی گالی کے طور پر نہیں دیکھتا مگر ہمیں یہ

معاشرہ گالی سمجھتا ہے۔ ہم یہاں سب سے مظلوم طبقہ ہیں۔ ہم اس معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے لوگ ہیں۔
نادرہ نے ایک افسوس ناک واقعہ بتایا کہ ایک علاقے میں خواجہ سراؤں کو کمرے چاہئیں تھے چھوٹے بزنس کے طور پروہاں وہ لوگ کچھ کام کرنا چاہتے تھے۔ مگر اس علاقے میں پولیس کی طرف سے بینر لگا دیے گئے کہ ان لوگوں کو کمرے نہ دیے جائیں اور پھر کچھ ہی عرصے میں میں نے دیکھا کہ وہ لوگ وہاں پر بھیک مانگ رہے تھے۔
جب میں مردان سے مانسہرہ سفر کرتی ہوں اور حالانکہ میں نے چادر بھی اوڑھی ہوتی ہے۔ مگر اکثر اوقات اگر کوئی عورت میرے برابر بیٹھی ہو تو لوگ شور مچا دیتے ہیں۔
جولوگ محنت کر کے حلال روزی کماتے ہیں انہیں اس معاشرے سے حوصلہ افزائی ملنی چاہیے۔ تبلیغی جماعت والے ہمارے دروازے پر آتے ہیں ہم ان کو کولڈ ڈرنک کی بوتل پیش کرتے ہیں تو وہ نہیں پیتے، وہ سمجھتے ہیں کہ ہم حلال نہیں کماتے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ تمہاری قربانی قابل قبول نہیں ہو گی۔ یہ سب چیزیں ہمیں بہت دکھ دیتی ہیں۔ خدا تو سب کا ہے، ہم بھی تو اس خدا کے بنائے ہوئے ہیں۔
میں نے پوچھا، آپ گرو کی زندگی چھوڑ آئی ہیں اور الگ رہ رہی ہیں کیوں ؟ انہوں نے کہا کہ گرو کے ہاں کی زندگی بالکل مختلف ہوتی ہے۔ وہاں پر صرف کمائی اور خوبصورتی کی، میک اپ اور کپڑوں کی باتیں ہوتی تھیں۔ میں زندگی میں اور بہت کچھ کرنا چاہتی تھی۔ میں نے بہت کچھ سیکھا۔ اگرچہ میری تعلیم صرف چھ جماعتوں تک ہے مگر میں نے اس موبائل کے ذریعے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اس موبائل فون نے میری زندگی میں ایک استاد کی طرح کام کیا ہے۔ اوراس کے علاوہ میں نے سول ڈیفنس کی ٹریننگ حاصل کی ہے اور 1122 کی ٹریننگ بھی میں لے چکی ہوں۔ جاپان کا ایک خاص طریقہ علاج ہے،میں نے وہ سیکھا ہے۔ جو گروپ میرے ساتھ ہے میں چاہتی ہوں کہ وہ بھی میری طرح سیکھیں تعلیم حاصل کریں، آگے بڑھیں مگر مجھے بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ میری بے تحاشہ کوشش کے باوجود بھی سیکھنے اور لکھنے پڑھنے پر نہیں آتے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا brought up ہی ایسا ہے کہ سیکھنے کا جذبہ نہیں ہے۔
میں نے موجودہ ایشو جو آج کل ٹرانسجینڈر بل کے نام سے جانا جا رہا ہے، اس کے بارے میں ان کی رائے جاننا چاہی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ جو ایل جی بی ٹی ہے یہ تو وہی بات ہے جو کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ کو چیلنج کیا تھا کہ میں تیرے بندوں کو بہکاؤں گا۔ سو وہ یہ کام کر رہا ہے۔ ٹرانزیکشن کی تو اسلام میں بالکل اجازت نہیں ہے۔ بہت افسوس کے ساتھ کہوں گی کہ ایسے افراد کو کوئی نہیں پکڑتا کیوں کہ ان کے پیچھے مددگار کھڑے ہوتے ہیں، جبکہ پولیس ہمارے پیچھے ہر وقت پڑی رہتی ہے۔ میری خواہش ہے کہ یہاں قرآن کا نظام نافذ ہو تاکہ تمام انسانوں کو ان کا حق اور عزت ملے جو بحیثیت انسان ان کو ملنی چاہیے۔
گفتگو کے دوران مجھے محسوس ہؤا کہ نادرہ کے اندرکوئی بہت بڑا فلاسفر چھپا بیٹھا ہے۔ اس لیے میں نے پوچھ ڈالا کہ آپ اس معاشرے اور اس کے سرد وگرم سے بہت واقف ہیں، آپ معاشرے کے بارے میں کچھ کہنا چاہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تعلیمی نظام کو ٹھیک ہونا چاہیے۔ بچوں کو اسکولوں میں اور ان کے والدین کوگھروں میں اپنے بچوں کی تربیت کرنی چاہیے۔ اور تربیت میں یہ ضرور شامل کریں کہ لوگوں کو جینے کا حق دیں۔ ان کی کسی کمزوری کی وجہ سے ان کا جینا دوبھر نہ کریں ۔ ہمارے اسکولوں اور گھروں کا ماحول ایسا بنانا ضروری ہے۔ ہمارے بارے میں وہ طریقہ اپنایا جائے جو دین نے ہمارے بارے میں کہا ہے۔ اسلام تو بہت آسان دین ہےہم نے اسے مشکل بنا دیا ہے۔

؎۱ چیئر پرسن ورکنگ ویمن ویلفیئر ٹرسٹ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here