ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

مٹی کا گُلّک – بتول جون ۲۰۲۲

وہ والہانہ انداز میں بیت اللہ کے گرد چکر لگا رہی تھی ۔ ہر چکر کے اختتام پر وہ حجراَسود کو استیلام کرتی اور پھر اللہ یار کا ہاتھ پکڑ کر تیزی سے حجراَسود کی کتھئی پٹی سے آگے بڑھ جاتی۔
مطاف اس وقت زائرین سے بھرا ہؤا تھا ۔ بیت اللہ اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ موجود تھا ۔ طواف میں بے پناہ رش ہونے کے باوجود خیراں نے کوشش یہی کی تھی کہ ہر چکر میں وہ بیت اللہ کی دیوار کو چھو کر محسوس کر سکے ۔ اللہ کے گھر کو ہاتھ لگا کر اس کے روئیں روئیں میں کرنٹ سا دوڑ جاتا تھا ۔ پھر ایک عجیب قسم کی ٹھنڈک روح میں اُتر جاتی ۔ اس احساس کے ساتھ کہ اس نے اپنے اللہ کو چھُو لیا ہے ۔ وہ اینٹوں کے بنے ہوئے اس چوکور گھر میں اللہ کو موجود پاتی تھی ۔ اسی لیے طواف کرتے ہوئے اللہ سے قریب ہونے اور اس بھوری دیوار کو چھونے کی کوشش میں وہ کئی مرتبہ کُچلی گئی ۔ اس کے پیر کے تلوے زخم زخم تھے ۔ سانسیں رُک رُک گئیں ۔ اللہ یار اُسے پیچھے سے کھینچتا مگر وہ جذباتی ہو کر پھر آگے بڑھ جاتی۔دیوار سے قریب ہونے اور اسے چھونے کے لیے ۔ حجراَسود کو بوسہ دینے کی اس نے کوشش نہیں کی ۔ پہلی بار طواف کرتے ہوئے اسے موقع ملا تو حجراَسود کو اس نے چوم لیا ۔ مگر اس کے بعد صرف اللہ کے گھر کی دیوار کو چھو کر لپٹنے اور دعا کرتے رہنے کو ہی اپنی تمنا بنا لیا۔
طواف کرتے ہوئے اس کی نظر ایسے لوگوں پر پڑتی جو جسمانی طور پر معذور ہوتے تو ’’ اللہ تیرا شکر ہے ‘‘ کہہ کہہ کر اس کی زبان خشک ہو جاتی ۔ طواف کی دعائیں تو اسے یاد نہیں تھیں لیکن بچپن سے جو بھی قرآنی سورتیں اس کی ماں نے اسے یاد کرائی تھیں وہ اسے ابھی تک ازبر تھیں ۔ سورۃ یٰسین اس کی پسندیدہ سورت تھی جسے وہ روزانہ صبح بڑی خوش الحانی سے تلاوت کرتی تھی ۔ رات سوتے وقت تبارک الذی اور سورۃ واقعہ سورۃ مزمل پڑھنا کبھی نہیں بھولتی تھی۔ اکثر تو اسے لیٹنے میں دیر ہو جاتی تو وہ پڑھتے پڑھتے سو جاتی اور رات بھر خواب میں اللہ کے گھر کا طواف کیا کرتی۔ یہ اس کی دلی تمنا تھی۔
خیراں نے کبھی کسی زیور، بنگلے ، ریشمی ملبوسات کی تمنا نہیں کی ۔ وہ بچپن سے بڑی نیک روح تھی ۔ ماں اس کی مسکینی پر ترس کھاتی کیونکہ وہ ماں سے کبھی کسی چیز کی فرائش نہ کرتی تھی ۔ بڑی بہنوں کی اترن پہن کر خوش ہو جاتی ۔ سب کا بچا کھچا کھا کر اللہ کا شکر کرتی ۔ یہاں تک اس کی شادی بھی ایسے آدمی سے ہوئی جو اس کی سب سے بڑی بہن کا شوہر تھا ۔ بہن کے مرنے کے بعد اللہ یار نے اس کی ماں سے خیراں کا ہاتھ مانگااور ماں نے یہ سوچ کر ہاتھ پکڑا دیا کہ دیکھا بھالا ہے پندرہ سال عمر کا فرق کوئی فرق ہوتا ہے بھلا ۔ مرد کی عمر کیا دیکھنی ۔ وہ منہ بند کیے لب سیئے اللہ یار کی دلہن بن گئی۔
اللہ یار کی ماں گھروں میں کام کرتی تھی ۔ کیونکہ اللہ یار خود اپنی ماں کا بڑا چہیتا تھا اس لیے ماں نے کبھی اس کو کمانے کے لیے باہر نہیں نکلنے دیا ۔ وہ خود قریب کے بنگلوں میں کام کرتی تھی ماں کے جانے کے بعد اللہ یار جھگی سے باہر پڑے ہوئے پلنگ پر لیٹ کر آتی جاتی عورتوں کو

تاڑتا رہتا ۔ حقہ پیتا اور سوتا ۔ ماں کے مرنے کے بعد جب اللہ یار اکیلا ہو گیا تو اس کو کھانے کی فکر ہوئی ۔ کھانے کی فکر سے زیادہ اُسے گھر کے کام کاج کے لیے ایک کام والی کی ضرورت تھی ۔ پہلی بیوی کُڑھ کُڑھ کر ختم ہو چکی تھی ۔ چھوٹی سالی ابھی چودہ پندرہ سال کی تھی باقی سالیاں بیاہی جا چکی تھیں ۔ ماں کی جمع پونجی جب ختم ہو گئی تو اللہ یار ساس کے در پر پڑ گیا اور ان کے پیر پکڑ لیے۔
’’ ماسی تم ہی میری ماں ہو تم ہی کچھ سوچو میرے لیے ‘‘۔
جوان بیٹی کی ماں کو سوچنا کیا تھا اس نے قاضی کو بلا کر خیراں کا نکاح اس سے پڑھا دیا اور خیراں کو اللہ یار کے ساتھ بھیج دیا ۔ جن گھروں میں اللہ یار کی ماں کام کرتی تھی ان گھروں میں شادی کے دوسرے ہی دن سے خیراں جانے لگی ۔ بنگلے والوں کو یہ معصوم سی ہرنی جیسی آنکھوں والی خیراں بہت پسند آئی ۔ وہ خاموشی سے سارے کام کرتی اور رات کا بچا کھچا کھانا لے کر گھر آجاتی ۔دونوں مل کر کھا پی لیتے ۔ زندگی بڑی سکون سے گزر رہی تھی ۔
وہ جن بنگلوں میں کام کرتی تھی وہ سب صاحب حیثیت لوگ تھے ۔ نمودو نمائش حرص و ہوس دکھاوا ان لوگروں کی شان تھی ۔ کھاتے کم تھے پھینکتے زیادہ تھے ۔ خیراں جب کام کر کے گھر لوٹتی تو اس کے دونوں ہاتھوں میں مختلف کھانوں کے تھیلے ہوتے ۔ اسے کم ہی پکانے کی ضرورت ہوتی تھی ۔ صبح جب کام کے لیے گھر سے نکلتی تو اللہ یار کے لیے دو پراٹھے پکا کر رکھ جاتی اپنی ماہانہ آمدنی میں سے وہ اللہ یار کے حقہ کی تمباکو ، کوئلے ، بیڑی کے پیسے نکال کر باقی پیسے مٹی کے ایک گلک میں چھپا کر جہیز کے صندوق میں کپڑوں کی تہہ میں رکھ دیتی یہ گلک اس نے اللہ یار سے چھپا کر رکھا ہؤا تھا ۔ مقررہ کام کے علاوہ اگر بنگلے والیاں کچھ کام کراتیں تو اسے پانچ دس روپے اور فالتو مل جاتے تھے ۔
ان بنگلوں میں کام کرتے کرتے اس کی عمر گزر گئی تھی ۔ اب تو وہ بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑی تھی ۔ محلے میں اگر کسی بنگلے میں ذکر کی محفل ہوتی تو وہ کسی نہ کسی بہانے سننے کے لیے پہنچ جاتی ۔ استانی جی کی باتیں سن کر اس کا دل اور آنکھیں دونوں ہی جل تھل ہو جاتیں۔ اللہ کا گھر دیکھنے کی تمنا اس کو بچپن سے تھی ۔ اللہ یار کے نظریات اس سے بہت مختلف تھے پھر بھی زندگی کی گاڑی اس کے ساتھ گھسٹ رہی تھی۔ و ہ اللہ یار سے اختلاف کرکے کہاں جاتی ؟ میکے میں ماں کے مرنے سے میکہ اجڑ گیا تھا ۔ سب بہنیں مر کھپ گئی تھیں ۔ جو بھی برا بھلا تھا اس کے سر کا سائبان تو تھا ۔ رات کو سونے سے پہلے دل ہی دل میں اپنے اور اللہ یار کے لیے بہت دعائیں کرتی ۔ آخری دعا ہمیشہ اللہ کا گھر دیکھنے کی ہوتی ۔ بنگلوں میں صفائی کا کام کرتے ہوئے کاغذ یا اخبار کا پرزہ زمین میں پڑا دیکھتی تو آنکھوں سے لگا کر چوم لیتی ۔ جانے کس پر اللہ کا نام لکھا ہو وہ تھی تو نری اَن پڑھ ۔ پر بیت اللہ اور گنبد خضرا کو خوب پہچانتی تھی ۔ یہ تصویریں اسے بہت اچھی لگتی تھیں ۔اس کے ٹین کے صندوقچے میں خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ؐ کی بے شمار اخباری تصاویر موجود تھیں ۔ جن کو وہ اللہ یار سے چھپ کر نکال کر دیکھتی اور چوم کر واپس رکھ دیتی ۔ اسے معلوم تھا کہ اللہ یار اس کا مذاق اڑائے گا ۔
حج کا موسم آنے والا تھا ۔ خیراں اپنے مٹی کے گلگ کو ہلا ہلا کر اس کی مالیت کا اندازہ کرتی رہتی تھی۔ ایک دن وہ راشد صاحب کے بنگلے پر کام کرنے گئی تو اسے معلوم ہؤا کہ راشد صاحب اور ان کی بیگم کا ارادہ بیت اللہ کی زیارت کا ہو رہا ہے ۔ وہ بے چینی سے تڑپ گئی ۔ اپنے گلک کو کپڑے میں لپیٹ کر راشد صاحب کے ہاں لے آئی ۔ بیگم صاحبہ اُسے آنسوئوں میں ڈوبا دیکھ کر پریشان ہو گئیں ۔ سوجی ہوئی آنکھیں دیکھ کر

انہوں نے اس کی خیریت دریافت کی ۔ خیراں نے پھٹے پرانے کپڑے میں لپٹا ہوا مٹی کا گلک ان کے سامنے رکھ دیا ۔
’’ یہ کیا ہے ‘‘۔ وہ ابھی تک نہیں سمجھ پائی تھیں کہ خیراں کیا چاہتی ہے ‘‘۔
بیگم صاحبہ یہ میری ساری زندگی کی جمع پونجی ہے ۔ آپ اسے لے کر اپنے حج کے پیسوں میں ملا لیں ‘‘۔
’’ ارے ارے کیوں بھئی ‘‘ وہ بوکھلا گئیں ۔
’’ بیگم صاحبہ میں تو شروع ہی سے حج کے لیے پیسے جمع کرتی رہی ہوں مگر مجھے معلوم ہے کہ میرے پاس کبھی اتنی رقم نہیں ہو پائے گی ۔ یہ جتنے بھی پیسے ہیں آپ اپنے پیسوں میں شامل کر لیں مجھے بھی کم از کم تھوڑا سا ثواب مل جائے گا ‘‘۔ وہ بھیگے لہجے میں اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔
بیگم صاحبہ نے اس کی ڈبڈبائی آنکھوں میں محرومی کی عجیب سی کیفیت دیکھی ۔ وہ تڑپ گئیں ۔ ’ خیراں اگر تمہیں خواہش ہے تو اللہ تمہیں ضرور اپنے در پر حاضری کا موقع دے گا ۔ تم مایوس کیوں ہوتی ہو‘‘۔
تسلی کے دو بول خیراں کے دکھ کو اور بڑھا گئے اس نے تڑپ کر رونا شروع کر دیا ۔ ’ ’ بیگم صاحبہ میرے نصیب میں اس کے پاک گھر کی زیارت کہاں ہے ۔ میں جانتی ہوں ہمیشہ سے جنم جلی ہوں ۔ بس آپ میری خوشی کی خاطر یہ گلگ لے لیں ۔ اس میں جتنے بھی پیسے جمع ہوئے ہیں وہ آپ اپنے حج کے پیسوں میں ملا لیں ۔ میں سمجھوں گی کہ میں نے اپنے سوہنے رب کا گھر دیکھ لیا ‘‘۔ وہ ہاتھ جوڑے فریاد کر رہی تھی۔
بیگم صاحبہ کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ خیراں کو اس کے ارادے سے کیسے باز رکھیں اور کن الفاظ میں اسے سمجھائیں کہ ان کے پاس حج کے لیے پوری رقم ہے ۔ بلکہ اتنی زیادہ ہے کہ چاہیں تو دو چار کو اور بھی حج پر اپنے ساتھ لے جا سکتی ہیں ۔ لمحہ بھر کو کچھ سوچ کر انہوں نے ایک سفید میز پوش بچھا کر خیراں کی تسلی کے لیے اس کا گلک توڑ دیا ۔ ہزار ہزار اور پانچ سو کے نوٹ گلک سے نکل کر بکھرگئے ۔ و ہ حیران تھیں ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اب کیا کریں ۔’’ بھئی تم تو بہت مالدار ہو خیراں ‘‘ انہوں نے مسکراتے ہوئے اُسے چھیڑا ۔ خیراں گلک ٹوٹنے کے بعد کھڑی ہو گئی ۔
’’ بس بیگم صاحبہ یہ آپ کے ہوئے ، میں اب چلی میرا کام ختم ہو گیا ‘‘۔ وہ مطمئن ہو گئی ۔
’’ارے بیٹھو تو ذرا میں بھی تو گنوں کہ تمہارے حج اکائونٹ میں کتنا مال ہے ‘‘۔انہوں نے خیراں کا ہاتھ پکڑ کر اپنے قریب بٹھا لیا۔
ان کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں جب ان کی گنتی دو لاکھ بیس ہزار پر ختم ہوئی ۔’’ خیراں بہت بہت مبارک ہو تمہاری رقم تو ماشاء اللہ حج کے اخراجات سے بھی زیادہے‘‘۔ انہوں نے اُسے گلے لگا کر مبارک باد دی ۔
خیراں سکتے کی حالت میں خاموش کھڑی تھی ۔ پہلے تو اسے یقین ہی نہ آیا ۔ پھر جیسے ایک دم ہوش آگیا ۔ وہیں زمین پر سجدے میں گر گئی ۔ اس کی زبان سے ’’ لبیک اللھم‘‘ کا نعرہ جاری ہو گیا ۔
بیگم صاحبہ خیراں کے جذبے سے بے حد متاثر ہوئیں۔ اپنی پرنم آنکھوں کو دوپٹے سے صاف کرتے ہوئے انہوں نے اپنی سوچ پر ملامت کی ’’ یا اللہ ہم جنہیں بے حیثیت ، فقیر اور کمتر سمجھتے ہیں وہ تیرے نزدیک کتنے پسندیدہ ہیں ۔ کوئی نہیں سوچ سکتا کہ ان کا کون سا عمل تجھے بھا جا ئے ۔ ہماری سوچ اور عمل دونوں میں کتنی ریا کاری اور بناوٹ ہے ۔ ہم دنیا کے لیے جیتے مرتے ہیں ‘‘۔ انہوں نے اپنا احتساب کرتے ہوئے سوچا۔
پھر انہیں یاد آیا کہ خیراں تو ہمیشہ سے اللہ کی پیاری ہے وہ ان سے بیت اللہ اور گنبد خضرا کی تصویریں مانگ کر لے جایا کرتی تھی۔ ان کے لیے تو یہ اخبار پڑھنے کے بعد دو کوڑی کے ہو جاتے تھے مگر خیراں ان میں سے یہ تصاویر چھانٹ چھانٹ کر الگ کر لیتی تھی اور کام سے فارغ ہو کر جھجکتی ہوئی ان کے پاس آتی ، بیگم صاحبہ آپ کی ا جازت ہو تو یہ تصویریں میں لے لوں؟ وہ لا پروائی سے کہتیں ، ہاں ہاں لے جائو ۔ ہم کیا کریں گے ان کا ۔ مگر خیراں کے لیے یہ تصاویر زندگی کا محور تھیں وہ انہیں چھپا کر صندوق میں رکھتی روز سوتے وقت ان کو دیکھتی آنکھوں سے لگاتی اور سو جاتی۔
بیگم صاحبہ نے خیراں کے گلک کی ساری رقم ایک صاف رومال

میں باندھ کر اس کو دینا چاہی ۔ وہ معصومیت سے بولی ۔
’’ بیگم صاحبہ میں کہاں اسے جھونپڑی میں لے کر جائوں گی آپ اپنے پاس رکھ لیں ۔ جب حج پر جائیں تو مجھے اور اللہ یار کر بھی لے جائیے گا اپنے ساتھ ۔ حج کا کرایہ تو اب نکل آیا ہے ‘‘۔
بیگم صاحبہ نے مسکرا کر کہا ’’ ٹھیک ہے میں کل ہی چار فارم منگوا لوں گی تمہارے صاحب سے ‘‘۔
انہوں نے دوسرے ہی دن چاروں فارمز کے ساتھ بینک ڈرافٹ بنوا کر جمع کرادیا ۔ فارم بھرے جانے کے بعد خیراں کی یہ کیفیت تھی جیسے تلوار کی دھار پر چل رہی ہو ۔ ہر لمحہ اندیشہ ہوتا اگر قرعہ اندازی میں نام نہ نکلا تو کیا ہوگا ۔ رات کو کئی بار اٹھ کر گڑ گڑا کر دعا مانگتی بیگم صاحبہ کو کوئی بے چینی نہ تھی ۔ ان کی نظر میں حج صرف زندگی میں ایک بار فرض ہے ۔ اس سال نام نہ نکلا تو اگلے سال سہی ۔ مگر خیراں کے لیے یہ تصور ہی محال تھا کہ وہ اس سال حج پر نہ جا پائے تو وہ زندہ کیسے رہے گی ۔ وہ کام پر جاتی روزانہ بیگم صاحبہ سے پوچھتی ۔
کب نام نکلے گا حج والوں کا ؟
ایک دن اسے خبر ملی کہ کل قرعہ اندازی ہونے والی ہے ۔ خیراں نے وہ پوری رات نفل پڑھنے میں گزار دی ۔ پوری رات سجدے میں پڑی اللہ سے اس کی رضا مانگتی رہی ۔ رات بھر کی مشقت نے اس کا جسم اتنا تھکا دیا کہ ہلنے جلنے سے انکاری ہو گیا ۔ اتنا تیز بخار چڑھا کہ ہوش نہ رہا ۔ اللہ یار سارا دن اس کے سر پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھتا رہا ۔ اس پر بخار کی شدت سے غفلت طاری تھی۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ چونک کر اللہ یار سے پوچھتی ۔
’’ اللہ یار کیا سوہنے رب کا بلاوا آگیا ۔
وہ تڑپ جاتا ’’ جھلی پڑی رہ چپ کر کے ‘‘۔
سارا دن وہ بیمار بیوی کے سرہانے بیٹھا رہا ۔ رات کو اچانک بیگم صاحبہ اس کی جھگی ڈھونڈتی ہوئی آگئیں ۔’’خیراں کہاں ہے میں سارا دن اس کا انتظار کرتی رہی ۔ آج کام پر کیوں نہیں آئی ؟‘‘
’’ بیگم صاحبہ پوری رات سجدے میں پڑی جانے کیا کیا دعائیں مانگتی رہی ۔ صبح سے تیز بخار میں پڑی ہے‘‘۔
بیگم صاحبہ نے خیراں کے ماتھے کو چھوا ۔ وہ تیز بخار میں بھن رہی تھی ۔ انہوں نے خیراں کی خواہشات کے بارے میں اللہ یار کو بتاتے ہوئے خیراں کی جلتی ہوئی پیشانی کو چوم لیا ۔
’’اللہ یار تم بڑے خوش نصیب ہو کہ تمہیں خیراں جیسی بیوی ملی ۔ میں تو تم دونوں کو بہت بہت مبارک دینے آئی تھی ۔ تمہارا نام حج کی قرعہ اندازی میں سب سے اوپر ہے ‘‘۔
اللہ یار نے حیران ہو کر انہیں دیکھا ۔’’ میرے مولا میں نے تو تیرے لیے ایک سجدہ بھی نہیں کیا ۔ تو نے مجھ پر کیسے اپنی رحمتوں کی بارش کردی ؟‘‘ اب وہ باقاعدہ ہچکیوں سے رو رہا تھا ۔ خیراں کا ہاتھ پکڑے وہ بے قابو ہؤا جا رہا تھا۔
’’ رات رات بھر سجدے یہ کرتی ہے اور مجھے اللہ کے قریب ہونے کی دعائیں دیتی ہے ‘‘۔
وہ عقیدت سے بستر پر پڑی ہوئی خیراں کو دیکھ رہا تھا ۔ جس میں عورتوں والی کوئی چٹک مٹک ہی نہیں تھی ۔ سیدھی سادی ۔ ململ کے دوپٹے میں لپٹی، پینتیس سال پہلے جب دلہن بن کر آئی تھی تب بھی ایسی ہی معصوم تھی ۔ نہ دلہنوں والے چونچلے دکھائے ۔نہ کبھی کوئی فرمائش کی ۔ زندگی کے اتنے بہت سارے سال اس نے اعتبار ، سادگی ، خلوص اور فرمانبرداری میں گزار دیے ۔ اس نے کبھی دنیا کی کوئی خواہش نہیں کی ۔ ہمیشہ اللہ سائیں ہی رہی ،موٹا جھوٹا لوگوں کا اُترن پہن کر شکر ادا کرنے والی ۔ اس میں زمین کی سی عاجزی اور انکساری اور آسمانوں جیسی بلندی تھی ۔ اللہ یار پشیمان تھا کہ آج سے پہلے اسے خیراں کی یہ ساری خوبیاں کیوں نظر نہیں آئیں ۔ شادی کے بعد کئی سال تک اولاد نہ ہونے کا طعنہ بھی اسے ہی دیتا رہا ۔ بے ثمر اور بانجھ کہہ کہہ کر اس کو جلاتا رہا ۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر کے کہنے پر اپنا ٹیسٹ کرائے جانے پر اپنی کمزوری کا پتہ چلا تو اس کی زبان بند ہوئی۔ اس پر بھی خیراں نے اس سے کوئی گلہ کوئی شکوہ نہ کیا۔ اس کی کسی کمزوری کا احساس نہیں ہونے دیا۔ حج فارم بھرنے کے بعد اس نے ڈرتے ڈرتے اسے بتایا تھا کہ حج کے لیے فارم بھرے جا رہے ہیں اور

ہم دونوں اپنے خرچ پر حج جائیں گے ۔ اس پر اللہ یار نے اس کا کتنا مذاق اڑایا تھا کہ یہ سب پیسے والوں کے چونچلے ہیں ۔ ہم غریبوں کو ان چونچلے بازیوں کی کوئی ضرورت نہیں ۔ خیراں نے خاموشی اختیار کرلی تھی ۔ وہ کسی بات میں بھی اس سے اختلاف نہیں کرتی تھی ۔ وہ اسے مجازی خدا کا ہی درجہ دیتی تھی ۔
بیگم صاحبہ نے اللہ یار سے دو ا منگوا کر اسے پلائی اور گھر چلی گئیں۔ کئی دن کے بعد اس کی طبیعت سنبھلی تو اس نے کام پر جانا شروع کر دیا ۔ راشد صاحب کے ہاں کام کرنے گئی تو اس کو ماحول میں گھمبیر خاموشی کا احساس ہؤا۔ بیگم صاحبہ بھی چپ چپ تھیں ۔ خیراں کام سے فارغ ہو کر جانے لگی تو بیگم صاحبہ نے اسے آواز دی ۔
’’ خیراں تمہیں پتہ ہے کہ قرعہ اندازی میں ہم دونوں میاں بیوی کا نام نہیں نکلا ‘‘۔
’’ کیا ؟‘‘ وہ دھک سے رہ گئی ۔
’’ ہاں خیراں اب تم دونوں ہی حج پر جائو گے‘‘۔ انہوں نے دھیمے لہجے میں افسردگی سے کہا ‘‘۔
’’ نہیں بیگم صاحبہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔ آپ کے بغیر ہم کیسے جائیں گے ۔ نہیں یہ تو نہیں ہو سکتا ‘‘۔
بیگم صاحبہ نے بڑی ملائمت سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔ ’’خیراں تم ہمارے لیے دعا کرو ۔ اللہ تمہاری دعا قبول کرتا ہے ۔ ابھی پانچ دن کے بعد ایک قرعہ اندازی اور ہو گی ۔ دعا کرو اس میں ہمارا نام آجائے‘‘۔
خیراں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا ۔’’ میرے مولا … میرے سوہنے رب ۔ ان کی بھی مراد پوری کردے۔ تو تو سب کا دامن بھرنے والاہے ۔ بن مانگے دینے والاہے ۔ تو سب کی لاج رکھتا ہے ۔ سب کا بھرم رکھتا ہے۔ سب کے خلوص کو جانتا ہے ۔ ان کو بھی اپنے در پر آنے کی اجازت دیدے ‘‘۔ وہ دوپٹے کا دامن پھیلائے آنکھیں بند کئے اپنے رب سے مانگ رہی تھی ۔’’ میرے لجپال ، میری لاج رکھ لے ‘‘۔
خیراں کی دعا پر بیگم صاحبہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی ۔ پانچویں دن جب خیراں ان کے گھر کام کرنے گئی تو دروازے کی گھنٹی بجانے پر کسی نے دروازہ نہیں کھولا۔ وہ پریشان ہو گئی ۔ دروازے پر بیٹھ کر تھوڑی تھوڑی دیر بعد گھنٹی بجاتی رہی ۔ کیونکہ دروازہ اندر سے بند تھا ۔ اس کا دل نا معلوم خدشوں سے گھرا ہؤا تھا ۔ اللہ کرے سب خیریت سے ہوں ۔ وہ ان لوگوں کے لیے دعا کر رہی تھی ۔
تیسری دفعہ جب وہ گھنٹی بجا کر جانے والی تھی کہ اچانک دروازہ کھلا ۔ بیگم صاحبہ دروازہ کھولتے ہی اس سے لپٹ گئی ۔ وہ زارو قطار رو رہی تھیں۔ خیراں گھبرا گئی ۔ ان کی سوجی ہوئی آنکھیں اترا ہؤا چہرہ… ’’ بیگم صاحبہ خیریت تو ہے ؟‘‘
’’ہاں خیراں سب خیریت ہے ہم دونوں کا نام بھی حج کے لیے نکل آیا ۔ یہ سب تمہاری دعائوں کے طفیل ہؤا ہے ۔ تم جس یقین اور بھروسے سے اللہ سے مانگتی ہو اللہ تمہاری لاج رکھ لیتا ہے ۔ میں شکرانے کے نفل پڑھ رہی تھی ۔ اسی لیے دروازہ کھولنے میں دیر ہوئی‘‘۔
خیراں نے پورے خلوص دل کے ساتھ ان کو مبارکباد دی ۔ حج فلائٹ شروع ہوئی تو ان چاروں کو دوسری ہی فلائٹ مل گئی اور اب وہ چاروں اللہ کے گھر کا طواف کر رہے تھے ۔ خیراں کعبۃ اللہ کے گرد جس طرح چکر لگا رہی تھی اسے اپنا ہوش نہیں تھا۔ اللہ یار اس کو بچوں کی طرح تھامے ہوئے تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر خیراں کا ہاتھ چھوٹ گیا تو وہ خود کہیں کا نہیں رہے گا ۔ کیونکہ اس کے پاس نہ تو جذبہ تھا اور نہ نیت۔ وہ تو بس بیوی

کے طفیل یہاں تک آگیا تھا ۔ اب خیراں کی حفاظت اس طرح کر رہا تھا جیسے ششے کا کوئی نازک سا قیمتی برتن ہو۔ نایاب اور نادر۔ برتن ٹوٹ گیا تو وہ بالکل خالی اور اکیلا رہ جائے گا ۔ خیراں نے طواف کے چکر پورے کیے زم زم خود بھی پیا اور گلاس بھر کے اللہ یار کو پکڑا دیا ۔ اللہ یار ایک ہی سانس میں پی گیا۔ زم زم پی کر اللہ یار کو یوں محسوس ہؤا جیسے ابھی وہ چکرا کر گر جائے گا ۔ آنکھوں کے سامنے سیاہ باریک پردے تھے جو یکے بعد دیگرے ہٹتے چلے جارہے تھے ۔ اس کے چاروں طرف نور کا ہالا تھا جہاں وہ کھڑا تھا۔نور کی شعاعیں اس میں سے چھن چھن کر اس کی آنکھوں کے راستے دماغ میں اُتر رہی تھیں ۔ اس نے رگڑ رگڑ کر اپنی آنکھوں کو ملا ۔ ایسا لگتا تھا جیسے دماغ پر میل کی تہیں ہیں جوآنکھوں کے راستے نکل رہی ہیں ۔
وہ حیران تھا اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔ میلے اور چیکٹ سیاہی مائل آنسو ۔ گناہوں اور بے خبری سے آلودہ آنسو ۔ وہ مقام ابراہیم کے سامنے سجدے میں گر گیا۔
٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x