ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

مولا دل بدل دے – بتول فروری ۲۰۲۲

’’امی آسیہ آئی ہے بہت پریشان لگ رہی ہے‘‘ ،نازیہ کی بیٹی نے اندر کمرے میں بیٹھی ماں کو اطلاع دی۔
’’کون آسیہ؟ یہاں تو آسیہ نام کی درجن بھر جاننے والیاں ہیں‘‘۔ انہوں نے بیٹی کو جواب دیا ۔
’’اوہو…..امی کیا ہوگیا ہے ‘‘آسیہ ’شمیر کی بہن‘جو دو سال تک ہمارے ہاں کام کرتے رہے ہیں پھر دونوں اچانک کام چھوڑ کر غائب ہو گئے تھے ،نازیہ کی بیٹی سمیرہ نے کہا:
’’آسی آآآ…… وہ کیسے آگئے اچانک جب ہم سب بھول بھلا گئے ‘‘۔انہوں نے پاؤں میں چپل اڑستے ہوے کہا :
’’مجھے نہیں معلوم،خود پوچھ لیں جا کے ہر مرتبہ اس کی رنگ برنگی داستان ہی ہوتی ہے……کبھی ابا مر گیا کبھی اماں کی ٹانگ ٹوٹ گئی کبھی کچھ کبھی کچھ‘‘۔سمیرہ نے بیزاری سے کہا۔
آسیہ دروازے کے باہر رکھے سٹول پر بیٹھی تھی ۔چہرہ بجھا ہؤا ، ہونٹوں پر پپڑیاں جمی ہوئیں، آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے ،کہاں بارہ من کی دھوبن اور کہاں چوسے آم کی گٹھلی جیسا منہ اور سوکھی چمرخ ۔
’’آسیہ؟‘‘نازیہ بیگم پہلی نظر میں تو پہچان ہی نہیں پائیں ۔اگر سمیرہ نے اس کی آمد کی خبر نہ دی ہوتی تو شاید بالکل ہی نہ پہچان سکتیں۔
نازیہ بیگم کو دیکھ کر آسیہ کھڑی ہوگئی۔
’’سلام بی بی جی ‘‘
’’وعلیکم السلام……اب پھر کوئی غرض اور ضرورت ہی کھینچ کر لائی ہوگی ورنہ تمہارے جیسی بے فیض ملازمہ میں نے زندگی بھر نہیں دیکھی‘‘۔(یہ اور بات ہے وہ ہر جانے والی ملازمہ کو یہ فقرہ کہنا نہیں بھولتی تھیں )دل میں آنے والے خیالات کو زبان پر لانے میں انہیں کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوئی ۔
پل بھر کے لیے آسیہ کا چہرہ دھوں دھواں ہوگیا۔بمشکل اپنے اوپر قابو پاتے ہوئے وہ بولی۔’’بیگم صاب جی آپ جو مرضی کہہ لیں……مسئلے مسائل تو ہم غریبوں کے لیے ہی ہوتے ہیں‘‘۔
’’اچھا کہو کیسے آئی ہو؟ ‘‘انہوں نے اس کی بے بسی پر مٹی ڈالتے ہوئے پوچھا ۔
’’بیگم صاب جی کام چاہیے……بچے بھوکے مر رہے ہیں مہنگائی بہت ہے اور بچوں کا ابا تین ماہ پہلے کراچی گیا تھا پہنچ کر اس نے فون کر کے بتایا کہ کراچی کے ٹیشن پر اس کا بٹنوں والا موبیل فون کسی نے چوری کرلیا کام دھندہ ڈھونڈ کر پھر فون کروں گا۔تین ساڑھے تین ماہ گزر گئے کوئی فون آیا نہ خیر خبر کہ کہاں رہتا ہے کیا کرتا ہے۔خدا جانے زندہ بھی ہے یا نہیں ‘‘۔اس کی غاروں جیسی گہری آنکھوں سے آنسو نہیں گرم گرم لاوا نکل رہا تھا۔
چند سیکنڈ کے بعد نازیہ بیگم نے زبان کو حرکت دی۔ ’’رکھنے کو رکھ لوں مگر تین مرتبہ تمہیں رکھا گندم دانے کپڑے لتے جو کچھ دے سکتے تھے تمہیں دیا ……اور تم نے کیا کیا……جب موقع ملا بغیر بتائے کام چھوڑ گئیں‘‘۔
لہجے میں بس حقارت ہی حقارت تھی اور ایک حد تک ان کی بات میں وزن بھی تھا پہلی مرتبہ جب وہ کام کے لیے آئی تو محض پانچ سات سال کی منی سی کاکی تھی ،گندے الجھے بال، پھٹے جوتے پرانے بدرنگ کپڑے بہتی ناک جسے قمیص کے بازو سے ہی صاف کرتی جارہی تھی اسے عام انسانوں والے حلیے میں لانے کے لیے تین چار سال لگے ایک ایک قدم پر اسے کامکرنے کے ساتھ ساتھ بولنا سکھایااور جب وہ بڑی مہارت سے آٹا گوندھ لیتی تھی چھوٹی چھوٹی روٹیاں بھی بنالیتی تھی برتن دھو کر خشک کر دیتی تھی جھاڑ پونچھ کر لیتی تھی بچوں کے سکول میں ٹفن دے آتی تھی

لہجے میں بس حقارت ہی حقارت تھی اور ایک حد تک ان کی بات میں وزن بھی تھا پہلی مرتبہ جب وہ کام کے لیے آئی تو محض پانچ سات سال کی منی سی کاکی تھی ،گندے الجھے بال، پھٹے جوتے پرانے بدرنگ کپڑے بہتی ناک جسے قمیص کے بازو سے ہی صاف کرتی جارہی تھی اسے عام انسانوں والے حلیے میں لانے کے لیے تین چار سال لگے ایک ایک قدم پر اسے کامکرنے کے ساتھ ساتھ بولنا سکھایااور جب وہ بڑی مہارت سے آٹا گوندھ لیتی تھی چھوٹی چھوٹی روٹیاں بھی بنالیتی تھی برتن دھو کر خشک کر دیتی تھی جھاڑ پونچھ کر لیتی تھی بچوں کے سکول میں ٹفن دے آتی تھی بڑی تمیز اور ادب سے اڑوس پڑوس میں بھی کام سے بھیج دیا جاتا تھادادی اماں کی چٹیا بنا دیتی ان کے سر میں تیل کی مالش کرتی ان کے پائوں پر لوشن سے مساج کرتی الغرض تین ملازمین کا کام اکیلی جان ہی کر سکتی تھی رنگ روپ سرے سے بدل چکا تھا۔سیاہ رنگت اب پرکشش ہو گئی تھی جیسے سانپ کینچلی بدلتا ہے اور پہلے سے خوبصورت ہوجاتا ہے ۔قدرت نے اس کی بھی کینچلی بدل دی ۔جسم اب فربہی مائل تھا ہونٹوں کی نزاکت کسی گلاب کے پھول کو بھی پیچھے دھکیل دیتی ہنستی تو جلترنگ بجنے لگتاگفتگو کے طور طریقے ایسے سیکھ لیے کہ انجان بندہ کسی درسگاہ کی معلمہ سمجھ بیٹھےجب گھر میں چہار جانب سے اس کے نام کی تسبیح ہوتی ۔
’’اے……آسیہ کہاں ہو میرے کپڑے استری کردیے ؟ ‘‘
’’اری کم بخت آسیہ ،حمیرہ کی سسرال والوں نے آنا ہے کبابوں کا مصالحہ تیار کر لو ‘‘۔
آسیہ ،میرے سر میں تیل لگاؤبال روکھے اور دو مونہے ہو رہے ہیں ۔الغرض آسیہ اب گھر بھر والوں کی ضرورت تھی۔جب آسیہ گھر کا فرد بن چکی تھی ہر عید بقر عید پر بھی گھر نہیں جاتی تھی کھانے پینے اوڑھنے پہننے تک میں اسے گھر کے باقی افراد کی طرح حقوق میسر تھے نازیہ بیگم اور ان کی ساس نے چپکے چپکے اس کے جہیز کی چیزیں خریدنا شروع کر دیں تو آسیہ تین دن کے لیے گاؤں گئی اور پھر بس نہیں آئی ۔ شروع شروع میں تو سب منتظر رہے کہ خود ہی آجاے گی تین سے پانچ سے سات اور سات سے ستر دن بیت گئےآسیہ نہیں آئی کام والیاں ایک نہیں تین تین رکھیں مگر آسیہ والا سکھ چین کہیں سے نہ ملا جو فون نمبر اس نے دیا تھا وہ بند تھا اور اس کے ٹھکانے کا کسی کو علم ہی نہ تھاجھگیوں میں رہنے والے پکھی واس!
پھر آہستہ آہستہ سب آسیہ کو بھول گئے۔ نازیہ نے بڑی بیٹی کی شادی کردی، ساس کا انتقال ہوگیاخود وہ گھٹنوں کی مریضہ بن گئیں ۔چلنے پھرنے سے گوڈے گٹے جواب دے گئے تو اچانک ہی بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اپنے بارہ تیرہ سالہ بھائی کے ساتھ آسیہ صاحبہ تشریف لے آئیں۔سلام دعا کے بعد بغیر کسی سے پوچھے برتنوں کی دھلائی شروع کر دی،نازیہ بیگم چیل کی طرح جھپٹیں۔’’پہلے یہ بتائو تمہارے تین دن گزر گئے یا ابھی ایک آدھ دن باقی ہے ؟ ‘‘
چپ چاپ کان لپیٹے آسیہ نے جننی کی طرح کام سمیٹ لیےبرتن دھل گئے ،شیلفیں شیشے کی طرح چمکادیں۔فرش رگڑ رگڑ کر دھو دیے آٹا گوندھ کر روٹی بھی بنادی کام والی دن کے بارہ بجے تشریف لائی تو سب کام مکمل ہو چکے تھے ۔
نازیہ بیگم نے کام والی کو فارغ نہیں کیاکیا معلوم یہ پھرچھلاوے کی طرح چل دے ۔نہ بابا نہ اس کا کیا بھروسہ ؟’’بیگم صاحب جی ،گھر تو تین دن کے لیے گئی ۔مگر ابا کو تاپ چڑھا وہ سردی سے کانپا کہ اچھل اچھل کر چھت سے جا لگتا ۔آپ بتائیں باپ کو اس حال میں کیسے چھوڑ کر آتی ۔ دس گیارہ دن کے بعد ابا تو اللہ کو پیارا ہوگیا بے بے نے کہا اسے اپنے گوٹھ میں دفناناہے عمر کوٹ کے قریب ہے ہمارا گوٹھ۔دو دن میں وہاں پہنچے ابے کو دفنایا تو چاچے نے کہا اب تم سب واپس رحیم یار خان نہیں جاو گے گوٹھ میں ہی رہو گے……اور چاچا محمد صادق تو ہے بھی اتھرا ۔ابا بیچارہ بھی ساری زندگی اس سے ڈرتا رہا ۔تو آپ ہی بتائیے ہم کیسے آتے ؟ اب چاچا خود پنجاب آگیا ہے جیا جنت سمیت تو ہم سب بھی آگئے ۔پھر بھلا میں کیسے نہ آتی میرا تو دل ہی نہیں لگتا تھا گوٹھ میں آپ کے بغیر‘‘۔وہ رسان سے بولی ۔
بات اس کی معقول تھی غیر حاضری کی وجہ بھی جاندار تھی بس پھر آسیہ گھر کی ضرورت بن گئی ۔اب کےوہ پہلے سے کہیں تیز طرار ہو کر آئی تھی پٹر پٹر باتیں بھی کرتی اور کام بھی۔
نازیہ بیگم نے بھی پچھلی غلطی پر مٹی ڈالتے ہوئے اس کو گلے سے لگا لیاپچھلی ملازمہ کو شادی شدہ بیٹی کے کہنے پر ان کے ہاں بھیج دیا اور راوی چین ہی چین لکھتا رہا آسیہ تو پھرتیلی اور ہوشیار تھی ہی بھائی اس سے بھی چار ہاتھ آگے تھا \۔غیر معمولی حد تک چالاک اور ذہین۔ محنت بھی گھٹی میں پڑی تھی جلد ہی وہ گھر کی خواتین کے علاوہ مردوں کا بھی منظور نظر بن گیامحلہ والے بھی چھوٹے موٹے کاموں کے لیے اسے کہتے ہر کام کے بدلے میں اس کو کچھ نہ کچھ معاوضہ بھی ملتا اور گڈ بک میں اضافی نمبر بھی! اس عرصے میں انہوں نے سب گھر والوں کے دل جیت لیے۔اگلےچھ سات ماہ میں وہ ایک مرتبہ بھی گھر نہ گئے۔ایک آدھ مرتبہ چاچا ہی اپنے ساتھ ان کی ماں اور چھوٹی بہنوں کو ملوانے لے آیا۔اللہ اللہ خیر صلااس کے بعد پھر ان کی آسیہ کو نظر کھاگئی ۔سال بھی مکمل نہ ہؤا تھا آئے ہوئے کہ انجانے نمبر سے کال آئی آسیہ اور اس کے بھائی کو گھنٹے کے اندر اندر ریلوے اسٹیشن بھیج دیں ۔

کیوں بھیج دیں کا جواب تو فون کرنے والے کے پاس بھی نہیں تھا کہ وہ بھی دس روپے لے کر ہی کال کر رہا تھاابا ان دونوں کو لے کر سٹیشن پہنچے تو ٹرین پلیٹ فارم پر پہنچنے والی تھی افراتفری اور ہبڑا تبڑی میں بس آسیہ اور بھائی کو ان کے سپرد کیااور ٹاٹا بائی بائی کر کے واپس آگئےگھر میں منہ لٹکائے داخل ہوئے تو سات لوگوں کے مونہوں میں ستر سوال تھے ۔
کہاں گئے؟ کس کے ساتھ گئے ؟ کیوں گئے؟
وہ بس چپ ہی رہے اس مرتبہ جو جھٹکا لگا تھا تو شدت کا لگا اور گھر کے مردوں کو بھی لگا نازیہ بیگم کو رہ رہ کر افسوس ہو رہا تھا آسیہ کے بھائی شمیر (شاہ میر ) کو تین دن پہلے گھڑی خرید کر دی تھی۔ہائے پتہ ہوتا تو نہ لے کر دیتی ،ابھی پچھلے دنوں آسیہ کو نیا جوتا نئی جرسی دی اور پتہ نہیں کیا کیا کچھ پھر وہی انتظار۔ وہی امید و آس اور وہی حاصل حصول صفر ہاتھ جھاڑ کر نئی ملازمہ رکھ لی ۔چپے چپے پر ،ہر سانس پر ہر قدم پر دونوں کی کمی محسوس ہوتی مگر پھر قانون فطرت ہے ہر بندہ بشر جانے کے لیے آیا ہے تو سب اسے بھول گئے ۔قسمت سے کبھی دونوں کا ذکر ہوتا تو فراڈیے،دھوکہ باز،احسان فراموش،جیسے تمغے تو معمولی محسوس ہوتے۔
کرتے کراتے بڑے بیٹے کی بھی نازیہ نے شادی کردی ۔اوپر تلے کے دو نواسے نواسیاں اور پوتا بھی گھر بھر کو تگنی کا ناچ نچاتے ۔کاموں کی نوعیت بدل گئی ترجیحات بدل گئیں مسائل کا دھارا دوسرے رخ پر بہتا اب سیاہ و سفید کی مالکہ ان کی بہو سدرہ تھی نازیہ بیگم کا کام سبزی پیاز لہسن ادرک کاٹنے چھیلنے تک رہ گیا یا دھلے کپڑوں کی تہہ لگانے تک ایک مرتبہ پھر صدق دل سے آسیہ کو یاد کیا اور بوتل کے جن کی طرح آسیہ حاضرپوٹھوہاری لہجہ اور چہرہ پر بھی پہاڑوں کی سی سختی ! جب آہی گئی تو قبول کرنے میں ممانعت نازیہ بیگم ہی تھیں۔
’’نہ نہ ۔ستر ہزار بار نہیں ……جب اس نے کل چھوڑ کر ہی جانا ہے تو اپنے آپ کو اس کے دیے آرام کا عادی کیوں بنائوں؟‘‘
’’او ۔بھلی مانس یہ عجیب منطق ہے تمہاری ۔بھئی جب تک سکھ آ رام ملتا ہے لے لو ‘‘۔میاں نے کہا ۔’’اور ایک مرتبہ اس سے وجہ تو معلوم کرو ،خدا جانے کیا بیتی ہوگی اس پر‘‘۔انہوں نے نرم گوشہ اختیار کیا۔
’’چاچا جی ،میرے چاچے کا بیٹا ایک لڑکی کو بھگا لایا لڑکی والوں نے پرچہ کردیا تو پولیس کو میرے چاچے کے پتر نے میرے بڑے بھائی ادریس کا نام لکھوا دیا تو پولیس چھاپہ مارنے آرہی تھی میرے بھائی کا سالا پولیس میں ہے اس نے مخبری کردی تو اس لیے اچانک بھاگ کر ہمیں تلہ گنگ سے آگے ٹھکانہ بنانا پڑا ۔ اب اس لڑکی کا باپ مرگیا ہے انہوں نے پرچہ واپس لے لیا تو ہم کل واپس آئے ہیں ‘‘۔
اس مرتبہ بھی جواز ٹھوس تھا سارا ٹبر فرار ہورہا تھا تو یہ پولیس کی حرام خوری کا لقمہ بننے کے لیے یہیں رہ جاتے؟
نئے سرے سے معافی تلافی ہوگئی اور آسیہ گھر کا فرد بن گئی۔ رشتہ اس کا طے ہو چکا تھا اور یہ بھی طے ہو چکا تھا کہ اس کا گھر والا بھی ادھر ہی رہے گا ڈرائیور نہ سہی اور سو طرح کے کام ہوتے ہیں اندر باہر کے ہاں آسیہ کا بھا ئی شمیر اس مرتبہ اس کے ساتھ نہیں تھا اس کو مقامی سینما میں ہی کام مل گیا تھا سینما ہال کی صفائی اور تماش بینوں کی فرمائشیں پوری کرنے کا ! اور پیسوں کے ساتھ بچے کھچے چپس ،بسکٹوں کے ساتھ ساتھ فلم مفت میںایک ٹکٹ میں کئی مزے!
خیر ،آسیہ نے خوب جی لگا کے کام کیا اگلی پچھلی ساری کسریں نکال دیں اب کے وہ گندم بوریوں سے نکال کر بھڑولے میں ڈالنے ، چاول اور دالیں بیننے کے ساتھ ساتھ آٹا پسوانے کے لیے گندم صاف کرتی سردیوں کے بستروں کو دھوپ لگواتی لحافوں میں ڈورے ڈالنے جیسا کام بھی اکیلے ہی کر لیتی ۔ گھر کے ہر فرد کو آسیہ کی آمد سے سکون مل گیا تھا ۔ نازیہ کی بہو نے نورانی قاعدہ اور بغدادی قاعدہ کیا پڑھایا مانو اخبار رسالے بھی فرفر پڑھنے لگی ،دو جمع دو چار کرنے میں پہلے ہی خداداد صلاحیت رکھتی تھی، اوڑھنے پہننے کے سلیقہ نے اسے عجیب سی تمکنت اور

خیر ،آسیہ نے خوب جی لگا کے کام کیا اگلی پچھلی ساری کسریں نکال دیں اب کے وہ گندم بوریوں سے نکال کر بھڑولے میں ڈالنے ، چاول اور دالیں بیننے کے ساتھ ساتھ آٹا پسوانے کے لیے گندم صاف کرتی سردیوں کے بستروں کو دھوپ لگواتی لحافوں میں ڈورے ڈالنے جیسا کام بھی اکیلے ہی کر لیتی ۔ گھر کے ہر فرد کو آسیہ کی آمد سے سکون مل گیا تھا ۔ نازیہ کی بہو نے نورانی قاعدہ اور بغدادی قاعدہ کیا پڑھایا مانو اخبار رسالے بھی فرفر پڑھنے لگی ،دو جمع دو چار کرنے میں پہلے ہی خداداد صلاحیت رکھتی تھی، اوڑھنے پہننے کے سلیقہ نے اسے عجیب سی تمکنت اور وقار بخشا تھا ۔نازیہ بیگم اس کے جہیز کی تیاری میں مصروف تھیں ۔تنخواہ اس نے کبھی نہیں مانگی تھی تو سال بھر کی جمع تنخواہیں اور آسیہ کو سنار کے ہاں لے گئیں جہاں اس کی پسند سے اسے نازک سی بالیاں اور ہلکی سی انگوٹھی بھی لے دی
گھر میں پہنچتے ہی اس نے بالیاں کانوں میں اور انگوٹھی بائیں ہاتھ کی دوسری انگلی میں پہن لی۔ سارادن بار بار کانوں کو چھو کر دیکھتی رہی کام کے دوران بار بار ہاتھ آنکھوں کے سامنے لا کر انگوٹھی کی زیارت کرتی رہی نرم نرم سی مسکراہٹ بھی کانوں تک پہنچ جاتی ۔نازیہ بیگم اٹھتے بیٹھتے ایک ہی سوال کرتیں ۔
’’آسیہ اب تو اچانک نہیں چھوڑ کر جاو ٔگی ناں! ‘‘ہر بار آسیہ دو ٹوک انداز میں بیان جاری فرماتی۔’’ آنٹی جی یہ کیسے ہوسکتا ہے جب بھی گئی قدرت کے ہاتھوں بے بس ہو کر ہی گئی ۔ اب تو میرا جینا مرنا بھی آپ کے ساتھ ہی ہے ۔جب بھی نکالا آپ ہی نکالیں گی میں نہیں نکلنے کی ‘‘۔
نازیہ بیگم بھی بی بی جی سے بیگم صاب اور پھر آنٹی جی کے نئے رشتے پر فائیز ہوکر بے حد خوش تھیں ۔جہیز میں دینے کے لیے جستی پانچ فٹی پیٹی میں آسیہ کے بستر ، برتن بھانڈے رکھنے کا کام شروع ہو چکا تھا۔ آسیہ بھی خوش تھی گھر والوں کو بھی سکھ چین مل گیا تھا کہ آسیہ کے ایک خواب نے بیڑہ غرق کردیا ۔
اچھی بھلی لوبیا کی پھلیاں اور قیمہ کا سالن دو روٹیوں کے ساتھ کھایا ۔نازیہ بیگم دس ایک منٹ واک کرنے جاتی تھیں ان کے ساتھ گئی واپسی میں باورچی خانے کے کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اور سو گئی مگر صرف بیس پچیس منٹ سوئی ہوگی کہ چیخ مار کر اٹھی گھر والے اپنے اپنے کمروں میں خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے اس نے پہلے گلاس بھر کے غٹ غٹ کر کے پانی پیا پھر ایک دو ضروری اشیاء بیگ میں ڈال کر سرہانے رکھا،کچھ نئے سلے ان سلے جوڑے بھی بیگ میں ٹھونسے اور باقی رات آیت الکرسی کا ورد کرتے آنکھوں میں گزاردی ۔
دن چڑھے جب سب کے سامنے اس نے ناشتہ بنا کر رکھا اور بیگ گھسیٹتی ہوئی کمرے سے باہر لائی تو سب نے حیرت سے اسے دیکھا ، سب کی سوالیہ نظروں کا اس نے بس ایک ہی فقرے میں جواب دیا ۔ ’’آج شام میں نہیں تو کل صبح ضرور آجائوں گی ۔خواب میں بے بے کو تڑپتے مرتے دیکھا ہے بین ڈالتےاب جانے کے لیے ہی آرہی ہوں ، نہ آئی تو وہاں جاکر پوری برادری کے سامنے سو جوتے مار کر ایک گنیں‘‘۔
آسیہ چلی گئی اور ایسی گئی کہ بس گئی ہی گئی ۔ایک شام تین سال کی ایک ہزار پچھتر شاموں پر پھیل گئی ۔ سارے گھر میں ہا ہا کار مچی تھی دیکھا بے فیض ،بے اصل ،بے نسل !
ادھر ادھر سے پتہ کروایا مگر جھگی والوں کا جوگیوں کیا ٹھکانہ!
سب نے انا للہ پڑھ لی، سب بچے شادی شدہ ہوگئے، بس سمیرہ باقی تھی۔اب تو بھولے بسرے سے آسیہ کی یاد آبھی جاتی تو سب کا بلڈ پریشر ہائی ہوجاتا نازیہ بیگم دانت کچکچاتیں ،منہ پر غصے سے زاویے بدل جاتے۔
اور پھر آسیہ آگئی۔
بارہ من کی دھوبن مریل سی چوہییا کے روپ میں ،بد شکل اور کالی بھجنگ رنگت لے کر ۔ نازیہ بیگم اس کا کہاں تو نام سننے کی روادارنہ تھیں اور اب یہ کہ سینے سے لگائے رو رہی تھیں۔
’’آنٹی جی مجھے سچا خواب آیا تھا ۔ میری امی کلپ رہی تھی میرے بھائی شمیر نے شریکوں کی لڑکی کے ساتھ برا کیا ۔پنچائیت نے اس کی برائی کے بدلہ میں مجھے بیچ دیا۔ چار بچوں کے باپ کے ساتھ ٹی بی کا مریض دنیا جہان کا روگی ……مجھے اس نے جہاں رکھا پرندہ پر نہیں مار سکتا تھا ۔میرا بچہ پیدا ہؤاتو ظالموں نے دیکھنے تک نہ دیا میری نند لے گئی۔ دوسرا بچہ مرا ہؤا پیدا ہؤا مجھے دکھائے بغیر ہی قبر کے گڑھے میں ڈال آئے ۔اب میرے پاس خاوند کی مری ہوئی زنانی کے تین بچے ہیں جو خود کراچی کا کہہ کر گیا مڑ کے پلٹ کر نہیں دیکھا …… آپ کام کے لیے رکھیں گی تو وہ بچے جن کی ماں بھی مر مرا گئی اور باپ بھی دفعان ہوگیا کیسے پلیں گے؟‘‘
وہ بلک بلک کر رو رہی تھی ۔ایسے لگتا تھا تین سالوں کے جمع شدہ دکھ درد کا لاوا بس آج ہی بہہ کر رہے گا ۔نازیہ بیگم بھی رو رہی تھیں اسے گرم سالن کے ساتھ سمیرہ نے تازہ پھلکا ڈال کر دیا ۔چائے کے ساتھ دوادی۔ فوری حل یہی نکالا گیا کہ بھوکے بچوں کے لیے راشن لے جائے چھوٹے دونوں بچوں کو ساتھ لے آئے بڑا بیٹا پھر دادی اور چاچی کے ساتھ رہنے کا عادی ہے اسے نہ لے کر آئے ۔

چلتے ہوئے اسے گھی ،آٹا چینی چاول دالیں ،صابنیں سو ضرورت کی چیزیں ہمراہ دیں ۔وہ بار بار تشکر آمیز نگاہوں سے دیکھتی آنسو اس کی داستان سنا رہے تھے۔ اس کو جاتے ہوئے سب نے حسب توفیق کچھ پیسے بھی دیے کہ کل بے شک نہ آنا دوچار دن وہیں رہ کر بچوں کی ضرورتیں پوری کرنا پھر آرام سے آجانا ۔
’’نہیں جی میں صبح ہی آجائوں گی وہاں تو ساس اور درانیاں جٹھانیاں ہی میرا کلیجہ چبانے کو تیار رہتی ہیں……‘‘
’’ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی ‘‘نازیہ بیگم نے اسے رخصت کرتے ہوئے کہا۔ آسیہ چلی گئی ۔ جاتے ہوئے اپنا ٹھکانہ بھی بتا دیا سب کے دل اس کی دردناک کہانی سے اداس تھے ۔
نازیہ بیگم نے اوپر چھت پر خالی کمرہ میں گدا ڈلوایا ،بچوں کے لیے کچھ ضروری اشیاء منگوائیں کچھ الگ سے برتن کپڑے نکلوائےاور نازیہ کا انتظار کرنے لگیں ۔
تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا۔نازیہ کا وعدہ ہمیشہ کی طرح وفا نہ ہؤا۔ دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں بدلتے گئےسال مکمل ہؤا ۔ دوسرا سال بھی آدھا گزر گیا جب نازیہ کی یاد آتی سینے سے اک ہوکاسااٹھتا اور نازیہ بیگم اپنی جلن ہونٹوں کے ذریعے باہر منتقل کرتیں ۔
’’وہ حرام خور آسیہ…..بے نسل ،گندہ بے فیض خون……مجھے کیا سب گھر والوں کو چکمہ دے گئی‘‘۔
کبھی سمدھنوں کے آنے پر اپنی بیماری کا رونا روتے روتے وہ کم بخت آسیہ یاد آجاتی ۔
’’کیا بتاؤں بھابھی دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک چکر لگالیں اس جیسی چلتر اور چالباز نہیں مل سکتی۔ جب پیسے کی ضرورت ہوتی تھی تو پھاپھے کٹنی ٹسوے بہاتی آجاتی تھی بے غیرت کہیں کی……خواب بہت برا آیا ہے کا کہہ کر گئی اور ڈیڑھ سال سے غائب ہے ۔پھر جب ضرورت ہوگی ماہ مکار آجائےگی روتی کرلاتی داستان غم سنانے……ہونہہ‘‘۔بس میں نہیں تھا کہ وہ سامنے نظر آئے تو کچا ہی چبا جائیں۔
’’چھوڑیں امی اب آئے گی تو مت رکھیے ناں اسے‘‘۔بیٹی نے ساس کے سامنے سبکی محسوس کی ماں کی زبان سے اگلتے شعلے سب کو بھسم کر رہے تھے ۔
’’ہونہہ۔رکھتی ہے میری جوتی …… ٹانگیں نہ توڑ دوں اس کی اب سامنے تو آئے کیسے رو رو کر اگلی صبح آنے کے وعدے کر گئی تھی ،بے غیرت منحوس ‘‘۔
ان کا بلڈ پریشر ہائی ہو رہا تھا اور چکر شدید آرہے تھے ۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ ہوش و حواس کی دنیا سے نکل گئیں ۔فوری طبی امداد اور بروقت علاج سے اللہ نے انہیں پائوں پر کھڑا تو کردیا لیکن گھر میں سب پر پابندی عاید کر دی گئی آئندہ کوئی بھولے سے بھی اس گھر میں آسیہ کا نام نہیں لے گا ۔ اگر کوئی ذکر کرتا بھی تو نام نہیں لیتا تھا بے فیض،دھوکے باز ،خودغرض جیسے لفظوں سے کام چلایا جاتا۔
جب کرونا کی وبا پھیلی تو نازیہ کی چھوٹی بیٹی کی شادی کی تیاریاں شروع تھیں ۔نازیہ بیگم اس منحوس کو دل ہی دل میں یاد کر کے ہوکے بھرتی اور پھر لعنت ملامت کرنے لگتیںصفائیو ں ستھرائیوں کے کام میں آسیہ کا بہت دل لگتا تھا لہٰذا یاد آنا قدرتی بات تھی ۔ایسے ہی سٹور کی الماریاں درازیں سب خالی کی گئیں ۔پیٹیاں باہر نکالی گئیں۔ پینٹ کا کام کرنا کوئی آسان تھوڑی ہوتا ہے ۔سمیرہ کام والی کے ساتھ مسلسل مغز کھپائی میں مصروف تھی اچانک ایک بیکار سے کارٹن میں نظر پڑی سال بھر سے اپنا جو پرانالیپ ٹاپ گم شدہ سمجھ رہی تھی وہ اس میں پڑا تھا ۔جانے کیسے اور کب یہاں تک پہنچا۔
لیپ ٹاپ کے ساتھ ہی ایک نیچے بچھا اخبار بھی گھسٹتا آیا جسےکوڑے میں ڈالتے ہوئےایک دم ایک خبر پر نظر پڑی کسی فلمسٹار کی شادی کی خبر تھی جسےپڑھتے ہوئے نیچے والی خبر بھی نظروں سے گزری ۔ بس اور ٹرالر کا ایکسیڈنٹ تھا۔بس میں آگ بھڑک اٹھی تھی پانچ مسافر زندہ

جل کر کوئلہ بنے کچھ زخمی حالت میں ہسپتال بھی نہ پہنچ پائے۔
ان میں ایک تصویر آسیہ کی تھی ۔سو فیصد آسیہ !
اس کے سامان سے ملنے والےشناختی کارڈ پر موجود تصویراور نام آسیہ زوجہ مراد علی، عمر کوٹ سے تعلق جلے ہوئے جسم کی تصویر کے کونے میں اصل تصویر لگی تھی۔
اس نے جلدی سے اخبار کی تاریخ دیکھی ۔بھتیجے کی سالگرہ والے دن آسیہ آئی تھی اور اس روز بھی یہی تاریخ تھی ۔
’’ اوہ میرے خدا !وہ تو واپس گھر ہی نہیں پہنچی تھی راستے میں ہی مر گئی !‘‘
مسکراتے چہرے اور جلے وجود کے ساتھ اس کی تصویر ہاتھ میں لیے گھر والوں کو خبر دینے وہ سیڑھیوں سے نیچے اترتے ہوئے بس یہی سوچ رہی تھی کہ کیا پتہ اب بھی وہ قبر میں ایسے ہی مسکرا رہی ہو جب سب گھر والے اس کا تذکرہ غلاظت سے لتھڑی زبانوں سے کرتے ہیں تو اس کے کتنے کردہ ناکردہ گناہوں کے جھڑنے کا باعث بنتے ہوں گے۔آئے دن جب اس کے لتے لیتے ہیں، اسے حرام خور ،وعدہ خلاف، جھوٹی اور ماہ مکار جیسے القابات سے نوازتے رہے تو قبر میں اسے بتایا جاتا ہو یا نہیں، سب کے نامہ اعمال میں تو سیاہی پھر جاتی ہوگی!
اس نے توبہ کے انداز میں ہاتھ جوڑے ۔ آنسو چہرہ بھگو رہے تھے ،وہ آنسو پونچھتی تو اور نکل آتے ۔یہ نہیں فیصلہ کر سکی کہ آسیہ کی موت کی خبر سے یا اپنے دل کی سیاہی اور غلاظت پر۔
٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
2 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
میمونہ حمزہ
میمونہ حمزہ
3 months ago

بہت دلگداز۔
کام والیوں کے بارے میں تاثرات اور مکالمے بڑے مبنی بر حقیقت ہیں۔

میمونہ حمزہ
میمونہ حمزہ
3 months ago

بہت اچھا افسانہ۔
کھلے ہاتھ کی تنگ دل مالکن اور حالات کی ماری مخلص ملازمہ کی کہانی۔۔۔ جب ہر بار وعدہ پورا کرنے میں تقدیر درمیان میں آ گئی تھی۔
بہت پر اثر اور فطری انداز میں لکھی کہانی ۔

2
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x