ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

مولا بخش – بتول جون ۲۰۲۲

اب وہ دورگزر چکا ، جو کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا بچے پٹ کر بھی بالآخر کندن بن کر نکلتے تھے

 

گزرے وقتوں میں بچوں کی زندگی کا ایک اہم ترین واقعہ اس وقت ظہور پذیر ہوتا جب چھ سات برس کی عمر میں روتے مچلتے چیختے چلاتے بچوں کو بڑے بھائی یا چچا ڈنڈاڈولی کرتے ہوئے پہلے روز اسکول لے جاتے ،دن بھر گلیوں میں کھیل کود کا عادی بچہ جب اسکول کی قید اور ماسٹر یا مولوی صاحب کی مار دیکھتا تو قدرتی طور پر ابتدا میں مزاحمت کرتا پہلے روز مولوی صاحب کو ’’شروع کرائی‘‘ نذر کی جاتی اور بچوں میں شیرینی تقسیم کی جاتی۔ رفتہ رفتہ بچہ خود ہی بغل میں بستہ مار کر ہاتھ میں کالی سیاہی کی مٹی کی دوات اور تختی لیے اسکول جانے کا عادی ہو جا تا۔نئے ہمجولیوں کے ساتھ ماسٹر جی کی غیر موجودگی میں خوب شور بر پا رہتا۔
بزرگوں کو وہ پہلی پہلی ماسٹر جی کی مار تو ضرور ہی یاد ہوگی ،جب نا تجربہ کار نئے نئے بچوں کی سیاہی سے بھری دوات میں قلم ڈبونے سے اس میں پڑا پھونسٹراقلم کی نوک میں اٹک کر باہر گر پڑتا اور بچھا ہوا ٹاٹ ،فرش، دیواریں اور ہاتھ پیر خوب سیاہ ہو جاتے، یہی وہ وقت تھا جب ان کا پہلا تعارف اس مولا بخش نامی ڈنڈے سے ہؤا جو ماسٹر جی کے ہاتھ میں تنا ہؤا تھا، ادھر غلطی پر کسی کی ہنسی چھوٹی اور ماسٹر جی کا مولا بخش تڑ سے اس کو دادی نانی کی یاد دلا د یتا بچوں کو بڑی دیر کے لیے مرغا بنا دیا جا تا، ایک ٹانگ پر کھڑا کر دیا جا تا اور جہاں ٹانگ ہلائی ایسی قمچی لگی کہ کھال ادھیڑ کر رکھ دی جاتی۔
ماسٹر جی کے خوف کا یہ عالم تھا کہ بڑی جماعتوں کے لڑکے بھی مار کھاتے کھاتے ادھ موئے ہو جاتے لیکن مزاحمت نہ کرتے ، کچھ ماسٹر مارنے کے اتنے عادی ہو جاتے کہ بن بات بچوں کو صحیح کام پر بھی ایک آدھ ضرب لگا دیتے اور صفائی میں کہتے کہ’’ جور استاد بہ زمہر پدر‘‘لیکن بچے بھی اس مار کے اس قدر عادی ہو جاتے کہ ماسٹر جی کے کلاس سے جاتے ہی جماعت میں کچریاں سی بکنے لگتیں آپا دھاپی سے جماعت بھنگڑ خانہ یا کبوتر خانہ بن جاتی، بستے پھینکے جاتے ،ایک دوسرے کی پیٹھ پر سوار ہو جاتے اور خیر سے ماسٹر جی اللہ میاں کی گائے جیسے سیدھے سادے ہیں تو ان کو تنگ کرنے کے لیےسب لڑ کے سر جوڑ کر شرارت سوچتے، چھوٹی جماعتوں میں بچوں کے با آواز بلند سبق یادکرنے کی آوازیں آتیں جووہ خوب ہل ہل کر پڑھتے، تختی اور پہاڑے بھی خوب اونچی آواز میں یاد کرتے ،خوش خطی پر بڑا زور تھا، ہر روز املا لکھوایا جا تا،لکھائی کا معیار بہت اعلی تھا، ماسٹر بھی کمزور

ماسٹر جی کے خوف کا یہ عالم تھا کہ بڑی جماعتوں کے لڑکے بھی مار کھاتے کھاتے ادھ موئے ہو جاتے لیکن مزاحمت نہ کرتے ، کچھ ماسٹر مارنے کے اتنے عادی ہو جاتے کہ بن بات بچوں کو صحیح کام پر بھی ایک آدھ ضرب لگا دیتے اور صفائی میں کہتے کہ’’ جور استاد بہ زمہر پدر‘‘لیکن بچے بھی اس مار کے اس قدر عادی ہو جاتے کہ ماسٹر جی کے کلاس سے جاتے ہی جماعت میں کچریاں سی بکنے لگتیں آپا دھاپی سے جماعت بھنگڑ خانہ یا کبوتر خانہ بن جاتی، بستے پھینکے جاتے ،ایک دوسرے کی پیٹھ پر سوار ہو جاتے اور خیر سے ماسٹر جی اللہ میاں کی گائے جیسے سیدھے سادے ہیں تو ان کو تنگ کرنے کے لیےسب لڑ کے سر جوڑ کر شرارت سوچتے، چھوٹی جماعتوں میں بچوں کے با آواز بلند سبق یادکرنے کی آوازیں آتیں جووہ خوب ہل ہل کر پڑھتے، تختی اور پہاڑے بھی خوب اونچی آواز میں یاد کرتے ،خوش خطی پر بڑا زور تھا، ہر روز املا لکھوایا جا تا،لکھائی کا معیار بہت اعلی تھا، ماسٹر بھی کمزور بچوں پر بڑی توجہ مرکوزرکھتے اوراکثر کہا کرتے مارتے مارتے بھرکس نکال دوں گا۔ الٹی کھوپڑی کا!! ٹانٹ میں کچھ بیٹھتا ہی نہیں، لیکن بالآخر یہ استاداس کے دماغ کا زنگ اتارنے میں کامیاب ہو ہی جاتے ۔
اب وہ دورگزر چکا ، جو کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا بچے پٹ کر بھی بالآخر کندن بن کر نکلتے تھے اور جب تاریخ میں بہت سی با کمال ہستیوں کا نام لیا جا تا ہے تو ان کی زیست میں خاندان اور والدین سے زیادہ استاد کا نام نظر آتا ہے تو کیا یہ اس جلاد صفت مولا بخش کا کمال تھا ؟ کہ جس کو اگر کلاس کا مانیٹر ماسٹر صاحب کے حکم پر لیکن فطری رحم کے جذبے سے بچوں کے ہلکے سے لگاتا تو ماسٹر جی اس مانیٹر کی خبر اسی مولا بخش سے لیتے اور دوچار لگا کر کہتے….. اس طرح مارتے ہیں یہ تو پھول چھوا رہا ہے، خالق باری کا گھوٹا لگانے والے یہ بچے جب کسی مقام پر پہنچتے یا کوئی اعزاز پاتے تو اسی ماسٹر جی کے مولا بخش تھام کر کھال ادھیڑ دینے والے ہاتھوں کو چوم لیتے کہ ان ہی نے آج انہیں اس مقام پر پہنچایا ہےؒ
کیا ایک مولا بخش میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ مارکھانے والا محبت سے ان ہاتھوں کو چوم لے، میں نے بہت غور کیا تو جواب نفی میں ملا۔ نہیں اس مولا بخش کی ہر ضرب کے پیچھے موجودخلوص اور سچائی کا جذبہ ہی اصل طاقت ہے،جو مار کھانے والے کے زخموں پر مرہم بن جاتا ہے یہ مارنے والا اسے کس منزل کی طرف لے جا رہا ہے اس کی سچائی اور راست رو ہونے کا یقین حاصل ہوتا ہے کہ وہ دو راہے پر نہیں چھوڑے گا اور جب درد سوا ہو گا تو ان زخموں پر پھائے بھی ضرور رکھے گا۔
٭٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x