ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

منتخب افسانہ – متبادل راستہ – خالدہ حسین

اب میں واقعی پشیمان ہو رہا تھا۔
اورپشیمانی عجب تجربہ ہے ۔ کہیںاندر ہی اندر آدمی اپنے آپ کو ڈوبتے دیکھتا ہے ، اس وقت بھی مجھے اپنے کان بند ہوتے محسوس ہوئے ، جیسے گہرے پانی میں غوطہ لگا دیا ہو۔ مجھے اپنے آپ پر حیرت کے ساتھ ساتھ بے حد افسوس بھی ہونے لگا کہ آخر میں نے یہ سب کچھ کیوں کیا۔
وہ بڑے مزے سے میرے برابر کی سیٹ پر اپنے جملہ ساز و سامان کے ساتھ براجمان تھی۔ گاڑی کے کھلے شیشے میںسے اس کا مووی کیمرہ معلوم نہیں کیا کچھ فلم بند کرتا چلا جا رہا تھا ۔ اچانک گاڑی ایک کھڈے سے بچتی بچاتی دوسرے میں گر کر اچھلی اور سامنے وہ نابکار پتھر معلوم نہیں کہا سے آگیا ۔
’’ سوری‘‘ میں نے معلوم نہیں کتنویں بار کہا اور وہ پھر اُتنویں ہی بار اپنے پتلے پتلے لکیر نما ہونٹوں میں مسکرا دی ۔ وہ مسکراہٹ بھی نہ تھی ۔ عجب آسیبی جنبش تھی ۔ کیونکہ اس وقت وہ باہر کے دھول مٹی اَٹے مناظر فلمانے میں مصروف تھی ۔ اس لیے میں نے اسے غور سے دیکھنے کی مہلت پا لی ۔ گو سچی بات تو یہ ہے کہ اس کو اپنے اتنے قریب ، غور و خوض سے دیکھنے کی ہلکی سی خواہش بھی میرے اندر موجود نہ تھی ۔ بس ایک افسوسناک سا مرغولہ ہم دونوں کے درمیان تھا اور پھر وہی سوال ۔ انتہائی احمقانہ بار بار میرے ہونٹوں پر آ آ کے رہ جاتا ۔ خیر میں تو …میرا ذکر ہی کیا … مگر تم بھی ! میں نے مووی کیمرے پر ٹکے اس کے دونوں ہاتھوں کو دیکھا جن کی جلد کسی ریشمی کپڑے کی طرح چنٹ دار ہو رہی تھی ۔ نفیس چنٹیں اُبھر آئی تھیں اور پھر کیمرے سے چپکی اُس کی آنکھوںاور چہرے کے پرو فائل ۔ جبڑوں کے گرد کھال ڈھلک کر نیچے آگئی تھی اور ہڈی اُبھرے رخساروں پر طرح طرح کے بھورے کالے تل ( اولڈ ایج پگ مین ٹیشن ) مجھے ہنسی آگئی ۔
وقت کی ہر تباہ کاری کے لیے ہمارے پاس کتنی اصطلاحیں ہیں۔ اس کی ستواں ناک پھیل کر پورے دہانے تک بچھی نظر آ رہی تھی اور بال… بال جن کو بڑی محنت سے رنگا گیا تھا ۔ ان بالوں میں سے جگہ جگہ اس کے سر کی جلد جھانک رہی تھی ۔ کیونکہ میں اس سے اونچا تھا اور میری نظر اس کے بالوں کے اوپر تک پہنچ رہی تھی۔ ورنہ تو اکثر ہمیں لوگ سامنے سامنے ہی سے نظر آتے ہیں ۔ اور وہ بہت خوش ہوتے ہیں کیونکہ انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ سرکی چوٹی اور پشت پر سے وہ فارغ البال ہیں ۔ اس کی ہنسلی کی ہڈٹی ایک کڑے کی صورت نظر آ رہی تھی۔
سامنا نہیں ۔ ہم پر وقت اور سمتوں سے حملہ آور ہوتا ہے ۔ مگر کاش میں اس کو یہ دعوت نہ دیتا ۔
اب میں نے گاڑی گلاب و یاسمین کے باغوں کی طرف گھما لی تھی اور دونوں سمت گھنے پیڑ اور پہاڑی جنگلات اور ان ڈھلوانوں سے لپٹی سفید اور پیلی چنبیلی کے جھاڑ اور کٹورے دار گلابوں کی جھریاں ، گلابی، لہو رنگ ، زرد، سفید ، قرمزی، اور ان کے جلو میں وہ لوک ورثہ کی پھیلتی عمارات اور اس کے عجائب گھر کا اسرار ۔ اور ایک جانب صدیوں پرانے بازیافتہ سیاہ پڑتی لکڑی کے پیتل کاری سے مزین جہازی دروازے ، علیحدہ ، لا تعلق ۔
ہاں … یہ سب… اس کو میں پہچانتی ہوں ‘‘۔ اس نے کیمرہ بند کرتے ہوئے کہا اور مجھے لگا اس کی آواز ویسی ہی تھی ۔ وہی صدیوں پرانی، وقت سے ماورا ، لا تعلق ۔ اس گہری اُداسی کوجگانے والی جو اچھے بھلے آدمی کو بھٹکا دے ۔ دن میں کہانی سننے والوں کی صورت ۔ تو میں پھر ایک غیر مرئی فریکو ئینسی میں جا پہنچا اور میری سمجھ میں نہایت واضح طور پر آگیا کہ میں نے اس کویہ دعوت کیوں دی تھی۔
گواب میں چند قدم بھی بغیر تھکاوٹ کے چل نہ سکتا تھا اور بار بار چھڑی پکڑنے کی ترغیب سے جنگ کرتا رہتا تھا اور میرے اپنے جسم کا لمس پژمردہ اور باسی ہو چکا تھا ۔ مدتوں بعد اس کودیکھنے اس سے بات کرنے ، اسے محسوس کرنے کی ترغیب بہت جاندار نکلی ۔ اس نے بتایا تھا کہ برسوں پہلے منظر سے غائب ہو کر وہ ملکوں ملکوں گھومتی ، فری لانسنگ کرتی رہی تھی اور بالآخر کافی عرصے سے واشنگٹن میں اقوام متحدہ کے کسی ادارے سے منسلک تھی اور اس وقت اس شہرکی دستاویزی فلم بنانا اس کے سپرد تھا ۔ ان بہت سے سالوں میں دُنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور یہ شہر بھی ۔ اس کا اصل امیج باہر جانا چاہیے۔
’’ہاں ، ہمیں اپنے امیج کی کتنی فکر ہے ۔ ہمارے لیے اصل سے امیج زیادہ اہم ہے ۔ کہیں دُنیا یہ نہ سمجھ لے کہ ہم کچے مکانوںاور جھونپڑیوں میں رہتے اور اونٹوں پرسکولوں کالجوں کو جاتے ہیں۔ مگر ہمارا یہ امیج کم بخت ہر وقت کہیں نہ کہیں خراب ہوتا ہی رہتاہے ۔ اور اسی غم میں ہم زندہ رہنا بھول چکے ہیں ۔
میں نہ چاہتے ہوئے بھی ایک بیکار سی بحث میں پڑ گیا تھا۔
بہر حال ، اس نے ماتھے سے خشک بھوسہ بال ہٹاتے ہوئے کہا ،بہرحال، کچی بستیوںاور جوہڑوں پر بچوں اورمویشیوں کے مشترکہ ہجوم اورکچرے کے پہاڑوں سے کاغذ اورخوراک چنتے نوجوان اور بوڑھوں کے علاوہ یہاںکس قدر ترقی ہوئی ہے۔ سڑکوں کی قطاروں کا ہجوم اور ٹریفک جیم ، ترقی کے ثمرات ہر طرف ۔ یہ سب تو باہر کی دنیا تک پہنچنا چاہیے ۔ کیا تم مجھے اس پورے شہر اور مضافات میں لے جا سکتے ہو۔ گویہ شہر میرا بھی ہے ۔ یادر رہے میرے پاس ابھی تک دونوں ملکوں کی شہریت ہے ‘‘۔وہ ہنسی ، ہنسنے میں اس کے دانت خاصے ناہموار تھے ۔ معلوم نہیں ان میں سے کتنے مصنوعی تھے ۔ میں نے اپنے ڈنچر کو نظر انداز کرنا ہی مناسب سمجھا ۔ کیونکہ میرے نزدیک مجھ پہ جو ہؤا سو ہؤا۔ دوسروں پر وقت کو ہرگز اثر انداز نہیں ہونا چاہیے کیونکہ انہی سے ہمارے اندر کے موسم زندہ رہتے ہیں۔
اب ہم گل و یاسمین کی اور وہاں پر بنے چاند تارے اوراونچی پہاڑی پر بنی یاد گار کی حدود سے باہر نکل آئے تھے اور ہموار سطح کارپٹڈ شاہراہ سے ہوتے ہوئے زیرو پوائنٹ کی طرف آ رہے تھے اور اس ’ شہر نگاراں‘ میں خوش آمدید کا مژدہ پڑھتے ہوئے خشک فوارے اور امن کی شکستہ فاختہ پیچھے چھوڑتے بہتے چلے جا رہے اور دونوں ہی اپنی اپنی جگہ اپنی اپنی وجوہ سے نہایت مطمئن تھے ۔پھر دور ویہ چار رویہ سڑکوںکا جال پائوں میں کھلنے لگا۔
وہ جو یہاں پر چار پانچ یا معلوم نہیں کتنے فولادی دائرے ایک دوسرے میں پیوست بلکہ ایک دوسرے میں داخل ہوئے تھے ‘‘۔
ہاں یقیناً گل جی یا امین گل جی کی تخلیق( گل جی ، جنہیں عنقریب قتل ہونا تھا ) اور کبھی آج تک معلوم نہ ہو سکا کہ در اصل وہ کتنے ہیں اور کون کس دائرے کی بنیاد تھا یا اس پر کھڑا تھا یا اس میں گزر رہا تھا۔ تو سنگنل پر رُکتے ہوئے ہم انہیں گننے اور ان کی چھوٹائی بڑائی ماپنے کی کوشش کرتے تھے اور اتنے میں بتی سبز ہو جاتی اورہم ان کا گننا اور سمجھنا ملتوی کر دیتے تھے۔
’’ہاں … تو وہ دائرے کہاں گئے ۔ اب یہاں پر یہ گزوں گہری زمین کھدی ہے اور چاروں طرف دھول اڑ رہی ہے ۔ لگتاہے زمین کھدے مدت ہو گئی‘‘۔
’’ ہاں شاید ایسا ہی ہے اور وہ دائرے میں نے دیکھا تھا ۔ ایک پک اپ پر لدے کہیں لے جائے جا رہے تھے اور وہ انتہائی خاموش اور لا چار اور اُداس تھے ۔اور اس پک اپ وین پر لدے کچھ کے کچھ ہو گئے تھے ۔ معلوم نہیں اب وہ کہاںرکھے جائیں گے یا شاید پگھلا کر پھر سیال کر دیے جائیں گے ۔ کچھ اور صورت پکڑنے کے لیے کیونکہ شے جب ایک بار وجود میں آجاتی ہے تو پھر اُسے موجود رہنا ہی پڑتا ہے، کسی نہ کسی صورت میں ‘‘۔
’’ ہاں … کسی نہ کسی صورت میں‘‘۔ اس نے اپنا جیبی آئینہ نکالا ، لپ سٹک درست کی جس کا کھلتا سلور رنگ اترتی شام میں عجب سا لگ رہا تھا ۔’’ اچھا تو اب تم مجھے وہ مشہور و معروف لال مسجد بھی دکھائو جس کو پیلا رنگ دیا گیا ۔ لیکن وہ بار بار ، خود بخود لال ہوجاتی تھی ‘‘۔
اسی وقت گرد آلود ہوا کا ایک ریلا سر سراتی آواز کے ساتھ ہمارے اوپر سے گزر گیا ۔ میں نے اس نوحہ نما آواز کو نظر انداز کرتے ہوئے مصنوعی شوخی سے کہا۔
’’ نہیں ۔ اب ہم مشہور و معروف بلیوایریا اور جناح ایونیو اورسعودی پاک ٹاور اور کلثوم پلازا کا نظارہ کریں گے ۔ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے مگر اس کے لیے ہمیں دوسری طرف جانا پڑے گا‘‘۔
سامنے سڑک غائب اور زمین گزوں گہری کھدی تھی اور اس گہرے کھڈے کے اطراف مٹی کے تودے کھڑے تھے ۔ اجتماعی قبر نما گہرائی میں بہت سے مزدورمزید مٹی اکھاڑ رہے تھے ۔ میں نے گاڑی دوسری طرف موڑ دی۔
’’ در اصل یہاں بھی ٹریفک کا مسئلہ بن گیا ہے ۔ ٹریفک جیم سے بچنے کے لیے دیکھو انڈر پاس اوراوور ہیڈ برج بن رہے ہیں ‘‘۔
’’ یہ کتنی عجیب بات ہے ۔ انڈر پاس اوراوور ہیڈ لازم ملزوم ہیں۔ایک کے بغیر دوسرا نا ممکن ‘‘۔وہ ہمیشہ سے دور کی کوڑی لانے کی عادی تھی۔
اب گاڑی نا ہموار کھڈوں بھرے راستے پر اچھلتی کودتی چلی جا رہی تھی ۔ بعض اوقات جھٹکا ایسا شدید ہوتا کہ وہ اُچھل کر تقریباً میرے اوپر آن گرتی۔
’’شوٹ‘‘ بے اختیار میرے منہ سے نکل جاتا ۔ اس کے لمس میں موت کی سی آسیبی کیفیت تھی ۔
’’وہ سامنے یہاں کا سب سے بڑا انڈر پاس بن رہا ہے‘‘۔
اچھا وہ … سنا ہے ادھر انڈر پاس کی رواں کشادہ سڑکیں امراء کے بچوں کے لیے ریسنگ ٹریک بن گئے ہیں جہاں وہ رات گئے اپنی ُِّBMWاڑاتے پھرتے ہیں ‘‘۔
تو اس میں حرج ہی کیا ہے ۔ ذرا سوچو تو سہی یہاں کے امراء کے ہر بچے کے پاس جدید ترین گاڑی ہے تو وہ ریسیں لگاتے ہیں ۔ ذرا سوچو!‘‘
’’ ہاں ،مبارکباد قبول کرو۔ میں تو بھول گئی تھی کہ سائیکل کے ساتھ ایلومینیم کے ٹفن کیرئیر ڈبے باندھے ۔ آگے پیچھے بچوں کو بٹھا کر سکول جانے والوں کو ایسی سڑکوں کی ہرگز ضرورت نہیں ۔ کچے پکے راستے ان کے لیے زیادہ محفوظ ہیں ۔ ہاں مگر یہی وہ انڈر پاس ہے جس کی مٹی میں مزدور دب کے مر ے تھے اور ایک عدد خاتون غیر ملکی اپنی گاڑی سمیت گر کے اللہ کو پیاری ہوئی تھی ۔ اس کے لہجے کا تمسخر مجھے بالکل غیر ضروری اورنا وقت محسوس ہو رہا تھا ۔
’’ تو پھر کیا ہؤا۔ یاد کرو شاہراہ ریشم میں معلوم نہیں اپنے اور باہر کے کتنے گمنام سپاہی برادہ بن گئے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی تھی۔
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے ۔
’’ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم ترقی اور بہتری اورخوشخالی کی سخت دمشن ہو ۔ یا شاید یہاں ، اپنے ملک میں برداشت نہیں کر سکتیں ۔ یہ سب کچھ تمہارے دوسرے وطن کے لیے مقدر ہے ۔
’’ جہاں پانچ پانچ منٹ پر لش لش کرتی آٹو میٹک بسیں اور ٹرینیں خلق خدا کے لیے آتی جاتی رہتی ہوں ۔ خیر چھوڑو …دیکھ کے !‘‘ وہ ایک دم چلائی سامنے سڑک ختم ہوچکی تھی اور ایک مہیب کھڈ منہ کھولے ہماری منتظر تھی ۔ میں نے ایمرجنسی بریک لگائی ۔ گاڑی الٹتے الٹتے بچی۔
’’ یہ کہاں سے آگئی ۔ میں تو تمہیں بلیو ایریا لے جا رہا تھا ۔ ٹھہرو ذرادیکھنے دو ‘‘۔
اب میں نے گاڑی گھمائی ۔ تین طرف مٹی کے تودے کھڑے تھے ۔ ایک طرف ایک کچی سی دھول اڑاتی پگڈنڈی تھی جس سے گاڑیاں چرخ چوں کرتی باری باری گزر رہی تھیں ۔ ایک کنارے پر دھول اَٹا زرد رنگ کا بورڈ متبادل راستہ تیر کانشان لگا تھا۔
’’ اچھا تو خیر … وہ تم نے سنا ہےکہ ہر بنائے کہنہ آباداں کند ۔ اول آں بنیاد او یراں کند‘‘۔
صحیح ہے بے چارے مولانا روم بڑے برے برے وقتوں میں کام آتےہیں ۔ اچھا بتائو نا کہاں ہے بلو ایریا کا علاقہ جہاں فوڈ سٹریٹ بن رہی ہے ۔ اس میں وقت لگے گا ، بی بی ۔ فی الحال تو ادھر دھول ہی دھول ہے ۔ آخر تعمیر اسی طرح ہؤا کرتی ہے ۔ میرا خیال ہے تم جناح سپر مارکیٹ اور پھر دامن کوہ اورراستے میں مرغزار وغیرہ کیوں نہیں جاتیں ۔ وہاں تک جاتے جاتے شام تو ہو ہی جائے گی اور پیر سوہاوہ دیکھ کر تو تم یقیناً بے ہوش ہو جائو گی ۔ اور پکار اٹھوگی اگر فردوس برروئے زمیں….
’’بس بس ‘‘۔ اس نے کیمرہ پیک کر کے رکھ دیا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے بال برابر کیے ۔ ہاتھ جوہڈیوں کے پنچ شانے تھے اور بال جن کو اس آرائشی تھپک سے کوئی فرق نہ پڑا تھا ۔ اب ایک دم سے بیزاری اور آلکس کی لہرکہیں میرے پیٹ میں لہرائی اور مجھے اپنے آپ پر حیرت ہونے لگی ۔ میں نے گاڑی ریورس کرلی تھی اور پھر اس اُدھڑی ہچکولے دیتی سڑک پر آگیا تھا ۔ جہاں قدم قدم پر نوکیلے پتھر پڑے تھے اورکچا راستہ حد نظر تک چلتا چلا جا رہا تھا۔
اگر میں غلطی پر نہیں ہوں تومجھے لگتا ہے کہ کلب کی متوازی سڑک پر جا نکلیں گے اور وہاں سے واپسی کے لیے معلوم نہیں کس طرف سے آنا ہوگا۔
مجھے اس کی سمت کی تیز حس پر حسب معمول طیش آگیا ۔ خواتین میں تو عام طور پر راستہ کھولنے اور الٹی سمتوں پر چل نکلنے کی بڑی صلاحیت ہوتی ہے ۔ معلوم نہیں یہ کس قسم کی عورت تھی ۔حسابی فارمولے کی طرح ، کانٹے کا تول، ایک جھر جھری میری کمر میں اٹھی۔
’’ خیر میں تمہیں دامنِ کوہ تک ضرور پہنچائوںگا ۔ وقت تو کوئی مسئلہ نہیں ۔ تمام شام رات اپنے پاس ہے ۔ تمہاری ڈاکومنٹری بڑی زبردست ہو گی ۔ ایک محفوظ مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی یوں جیسے کس یاحمق کی بات پر انسان کہہ دے ، ’’ بے چارہ !‘‘
’’ دیکھونصرت، ڈاکو منٹر ی اب میرا مسئلہ نہیں ۔ تمہیں معلوم ہے میں ہزار تارک وطن سہی ، کبھی پوری طرح اس کی سر زمین سے رخصت نہیں ہوئی۔
مگر کاش تم کچھ عرصہ بعد یہاں آتیں جب سب کچھ بن چکا ہوتا ۔ اب پھر ایک مکار مسکراہٹ اس کے لبوں پر تھی۔
کتنے عرصے بعد ۔ ایک سال، دو سال ، ایک صدی ، آخر میں اس کی آواز ایک سر گوشی رہ گئی تھی ۔ میں نے حواس پر پھیلتی نیند سے مدافعت کرتے ہوئے سامنے دیکھا ۔ کچا راستہ ایک قدرے پختہ سڑک میںداخل ہو رہا تھا ۔ اچھا تو اب ہم کہاں ہیں ۔ میں نے محض اپنی آواز سننے اور ایک نا معلوم خوف سے رہائی کے لیے کہا ۔ کیوں کہ اب شا م ہو رہی تھی ۔ آسمان کا ایک کنارہ سرخ ہو کر سرمئی پٹی میں گھلنے کو تھا اور سیاہ پرندے ٹولیوں میں اڑتے آشیانوں کو واپس جا رہے تھے ۔ شام ڈھلے سبھی گھروں ، آشیانوں کو لوٹتے ہیں ۔ مجھے خیال آیا گھر جہاں شدید سردیوں میں آتش دان روشن ہوتے ہیں اورتپائی پر کافی کی پیالی سے بھاپ اڑ رہی ہوتی ہے اور کوئی تمہارا منتظر ہوتا ہے مگر یہ تو میں نے دوسروں کے گھروں کی بات کی تھی ۔ میں تو تنہا تھا اورایک ہوسٹل میں رہتا چلا آیا تھا اوریہ …؟ میں نے کنکھیوں سے اس کی طرف دیکھا ۔ وہ بھی شاید ۔ اس نے اپنے بارے میں ابھی کچھ نہ بتایا تھا ۔ ایک مدھم سا اندوہ میرے اندر پھیلنے لگا ۔ اس کے غائب ہونے کے کافی عرصے بعد تک میں نے اسے نہیں اس کے ساتھ وابستہ ایک دلکش جذبے کی آنچ محسوس کی تھی ۔ پھر وہ آنچ رفتہ رفتہ اس کے تصور سے بھی علیحدہ ہوگئی اور اس کا متبادل ایک خوبصورت ساملال باقی رہ گیا مگر اب … اب شاید یہ بھی ہو ا ہونے کو تھا ۔ اوراس کے بعد … اس کے بعد … مجھے چکر سا آگیا ۔
’’ارے یہ کیا …‘‘ میں نے سراسیمہ ہو کر دیکھا ۔ پھر تینوں سمت تودے کھڑے تھے ۔ اور سامنے ایک مہیب غار اور آخری سمت سراپا دھول تھی۔
وہ غیر ملکی خاتون کچھ غلط نہ تھی ، جو سیدھے سبھائو غڑاپ سے کھائی میں جا گری اور میں نے ایمرجنسی بریک لگائی تھی۔ اب میرے کاندھے تھکن سے جھک چکے تھے ۔ آخر میں اس صورت حال میں کس طرح گھر گیا تھا ۔ سارے شہر کی سڑکیں کیونکہ اُدھڑ گئی تھیں اور تمام راستے صرف دھول اورمٹی رہ گئے تھے جن میں تاریک غا ر چھپے تھے۔
’’ میرا خیال ہے تم بہت تھک چکے ہو ۔ اٹھو سیٹ بدلو ۔ میں اب بھی بہت اچھی ڈرائیونگ کرتی ہوں ‘‘۔ اس نے ڈرائیونگ ویل اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا ۔ ایسے میں اس کی انگلیاں میرے ہاتھوں سے چھو گئیں اور ایک برف پورے جسم میں اتر گئی ۔ اس نے تیزی سے گاڑی ریورس کی اورہیڈ لائٹیں جلا دیں ۔ دھول کا دبیز بادل سا منے تھا۔
’’ تم نے سوچا نہیں نصرت۔ کب سے ، کتنے عرصے سے یہ راستے ، یہ شہر اُدھڑ رہاہے ۔ ذرا وقت دیکھو ۔ نئے راستوں ، تعمیر شدہ شہر کو ہم کب دیکھیں گے ۔ کیا تمہیں یقین ہے میں صدیوں بعد نہیں آئی ‘‘۔
(ہلکا سا قہقہہ یا شاید سسکی)
میں نے خوفزدہ ہو کر پہلے اسے پھرپیچھے مڑ کر دیکھا ۔ آخری سمت بھی غائب ہو چکی تھی اورمیرے پیچھے بھی مٹی کا سر بفلک تودہ کھڑا تھا ۔ تب اس نے گاڑی بند کردی اور اطمینان سے سیٹ کی پشت کے ساتھ سر ٹکا دیا ۔
’’ یہاں کوئی متبادل راستہ نہیں ‘‘۔اس نے سر گوشی کی ۔ کسی ازلی چپ کا سیسہ میری سماعت میں اتر گیا۔
(مونتاج5،2008)
٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x