ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

مدینہ کا تاریخی پس منظر – بتول نومبر ۲۰۲۱

یہ شہر جو آج مدینۃ النبیؐ، طیبہ، مدینہ منورہ، مدینہ طیبہ اور تقریبا ً دیگر سو ناموں سے موسوم ہے کہا جاتا ہے کہ پہلے یثرب کہلاتا تھا کیوں کہ یہ ’’ حضرت نوحؑ کی اولاد میں سے کسی ایک کا نام ہے جب ان کی اولاد متفرق شہروں میںآباد ہوئی تو یثرب نے اس سر زمین میں قیام کیا ‘‘ ؎۱
ویسے اس روایت کو تقویت عمالقہ کے یہاں مقیم ہونے سے بھی ملتی ہے ۔ حضرت نوح ؑ کی کشتی پر سوار وہ لوگ تھے جو کفر و شرک اختیار کرنے کے بعد بابل سے مدینہ کی طرف آ بسے تھے اور انہوں نے زراعت کے پیشے کو اپناتے ہوئے بکثرت کھجوروں کے درخت لگائے یہ مسام بن نوح کی اولاد میں سے تھے ۔ ان کا اقتدار حجاز کے کافی بڑے علاقے پر قائم تھا وہ تکبر میں مبتلا ہوگئے ۔ اس وقت ان کا بادشاہ ارقم تھا جب حضرت موسیٰؑ نے فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر و شام کو فتح کیا او ر دیگر علاقوں کی تسخیر کے لیے بنی اسرائیل کو روانہ کیا تو ایک گروہ نے عمالقہ کے تمام مردوں کو بشمول بادشاہ قتل کر دیا او ریہیں آباد ہوگئے اور اس طرح یہود کی مدینہ میں آباد کاری ہوئی۔
بنی اسرائیل کے یہاں ٹھہرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ توریت میں آنے والے پیغمبر کی ہجرت مدینہ کی پیش گوئی موجود تھی چنانچہ انہوں نے پیغمبر کے استقبال کی خاطر یہاں قیام کو ترجیح دی ۔یہود کے علاوہ حضوراکرمؐ کی آمد سے قبل مدینہ میں موجود دیگر دو قبائل اوس اور خزرج ہیں جن کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ یہ اصلاً یمن کے باشندے تھے ۔ جب مصر اور شام پر رومی افواج کا تسلط قائم ہو گیا اور یمن کے تجارتی راستے مسدود ہوئے تو عمران بن عمر و مزیقاء کے مشورے سے یہ لوگ پہلے یمن میں بھٹکتے رہے پھر بالآخر شمال کا رُخ کر کے حجاز میںداخل ہوئے ۔ جب انہیں کثرت حاصل ہوئی تو :
’’ مدینہ کی طرف کوچ کیا اوراسی کو اپنا وطن بنا لیا اسی کی نسل سے اوس اورخزرج ہیں جو ثعلبہ کے صاحبزادے حارثہ کے بیٹے ہیں ‘‘ ۲؎
ان دونوں خاندانوں کو ترقی نصیب ہوئی تو یہود اور بالخصوص قریظہ اور نضیر نے ان کی عزت و آبرو ، مال و اسباب غصب کرنا شروع کردیا جب ظلم و ستم کی فریاد ابو جلیلہ تک پہنچی تو وہ ان کی مدد کو آیا او ریہود کو شکست دی ۔ جس کے بعد یہود اخوت و مساوات کے تحت اوس و خزرج کے ساتھ رہنے لگے ۔ ازاں بعد اوس و خزرج کے مابین آتشِ جنگ بھڑکی جو ایک صدی سے زائد عرصے تک جاری رہی جس کا خاتمہ سرور کائنات ؐ کی آمد کے بعد ہؤا۔
یمنی حکمراں تبع تسخیر ممالک شرقیہ کے لیے نکلا تو اس کا گزر مدینہ سے ہؤا جہاں وہ اپنے بیٹے کو خلیفہ بنا کر خود شام وعراق کی طرف روانہ ہؤا۔ یہاں کے لوگوں نے اس کے بیٹے کو بد عہدی سے قتل کر دیا جس کی اطلاع پاکر وہ واپس لوٹا اور یہ عہد کیا کہ وہ اس شہر کو تباہ وبرباد کر دے گا ۔ اس موقع پر یہود کے بعض علما اس کے سامنے آئے اور کہا کہ یہ شہر حفاظت الٰہی میں محفوظ ہے اسے کوئی شخص برباد نہیں کر سکتا ۔ ہم نے اپنی کتاب میں اس کے اوصاف پڑھے ہیں اور اس کا نام طیبہ ہے ۔ یہ پیغمبر آخر الزماں ؐ کا دارالحجرت ہے جو حضرت اسمعیلؑ کی اولاد سے ہوں گے آپ اس کی ویرانی کا خیال تک دل میں نہ لائیں اور اپنے ارادہ سے باز رہیں ۔ تبع اس بات کو سن کر اپنے خیال سے باز آیا ‘‘ ۳؎
یہی نہیں وہ علماء کی تعظیم کرنے لگا ان کے رہنے بسنے اور آرام کا انتظام کیا اور خاتم النبیین ؐ کے لیے بھی ایک مکان تعمیر کرایا اور ایک کتاب بھی لکھی جس میں نبی محترمؐ کی رسالت کی گواہی دی اور پھر اس کتاب کو ایک عالم کو دے کر کہا اگر ان کے سامنے بعثت ہو تو یہ کتاب پیش کی جائے۔
’’ آنحضرتؐ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت ابو ایوب

’’ آنحضرتؐ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مکان میںقدم رنجہ فرمایا ۔ یہ ابوایوب انصاریؓ اسی عالم کی اولاد میں سے ہیں اوراہل مدینہ میں سے جن لوگوں نے حضور اکرمؐ کی مدد اور اعانت کی وہ انہی علما کی اولاد میں سے تھے ۔ کہتے ہیں کہ وہ کتاب حضوراکرمؐ کی تشریف آوری کے زمانہ تک حضرت ابو ایوب انصاری ؓ کے پاس موجود تھی اور انہوں نے یہ کتاب حضورؐ کی خدمت میں پیش کی ‘‘ ۴؎
حوالہ جات:
(۱) دہلوی ، حضرت شیخ عبد الحق محدث، تاریخ مدینہ ، ص(۶) شبیر برادرز1998لاہور۔
(۲) مبارکپوری، مولانا صفی الرحمن ، الرحیق المختوم، صفحہ 35مکتبہ سلفیہ1993۔ لاہور
(۳) دہلوی، حضرت شیخ عبد الحق محدث، تاریخ مدینہ ، صفحہ 73، شبیر برداز،1998، لاہور
(۴)دہلوی، حضرت شیخ عبد الحق محدث، تاریخ مدینہ ، صفحہ 73، شبیر برداز،1998، لاہور
٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x