اسما صدیقہمداوا - بتول فروری ۲۰۲۱

مداوا – بتول فروری ۲۰۲۱

یہ کون گیا ہے گھر سے مرے
ہر چیز کی رونق ساتھ گئی
ہوں اپنے آپ سے بیگانہ
بے چین ہے پل پل قلبِ حزیں
اک سایہ ٹھنڈا میٹھا تھا
اک رم جھم سی برسات گئی
کیا تپتا جیون سامنے ہے
ہر لطف وکرم کی بات گئی
لیکن یہ جس کے اذن سے ہے
وہ اوّل وآخر ظاہر ہے
وہ باطن و حاضر ناظر ہے
خود دل کو تسلی دل نے ہی دی
جب حرفِ دعا میں رات ڈھلی
یوں اس کو پکارابات کُھلی
محرومی ہے ہر چند بڑی
اس کربِ نہاں میں دیکھوتو
اک یاددہانی ہےمخفی
ہر شے کو فنا باقی ہے وہی
جو قائم ودائم زندہ ہے
اور عمر ِرواں کا ہر لمحہ
جو گزرا جو آئندہ ہے
سب اس کے قوی تر ہاتھ میں ہے
اس کے ہی مبارک ساتھ میں ہے
ہے ہجر میں پنہاں قربِ خفی
ہر محرومی ہے بھید کوئی
وہ جس کی کھوج میں شمس وقمر
یوں ڈوبے ابھرے جاتے ہیں
یہ ارض و سما یہ حجر وشجر
اک بوجھ اٹھائے جاتے ہیں
تدبیر کے گُر تقدیر کے دَر
کیا مشکل ہے جو کھول بھی دے
ہے دور پرے پر اتنا قریں
سرگوشی اس سے بات کرے
فریاد سنے رحمت کردے
تہ کتنی ہو گہری ظلمت کی
اور اپنی خطا وغفلت کی
یا اندھی وحشت، دہشت کی
ہوتا ہے عیاں ہے اس پر سب ہی
جو شافی ،کافی، باقی ہے
وہ عفو و کرم کی کنجی سے
جب سارے مقفل در کھولے
اک آس کا پنچھی پَر کھولے
ہاتھ آئے میرے کیا کیا کچھ
جب کردے رحمت کے سائے
ہر داغ جدائی مٹ جائے
بادل یہ غم کا چھٹ جائے

اسما صدیقہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here