افشاں نویدمحشر خیال- بتول اکتوبر ۲۰۲۱

محشر خیال- بتول اکتوبر ۲۰۲۱

افشاں نوید۔ کراچی
ستمبر کے شمارے کی فہرست پر ایک نظر ڈالی اور’’بتول ‘‘ کا مطالعہ شروع کیا جس نے حاضر و موجود سے گویا بےنیاز کردیا ۔اتنے مختلف عنوانات اور ہر قلم کار نے اپنے عنوان کا حق ادا کردیا۔ بتول کی بڑی خوبی یہی ہے کہ معیار پرسمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔یقیناً صائمہ اسما بھی تحریروں کی نوک پلک درست کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتیں۔
اداریے میں افغانستان کی موجودہ صورتحال سے متعلقہ حقائق کو پیش کیا گیا۔نائن الیون کے بعد اس صدی کا بڑا واقعہ ہے طالبان کو اقتدار ملنا۔مگر اس سے جڑی توقعات،خدشات،غیروں کی پیش گوئیاں اور اپنوں کی امیدیں ۔ درست کہا کہ ؎
کشتی بچا تو لائے ہیں عاصمؔ ہواؤں سے
پیوند سو طرح کے سہی بادبان میں
ڈاکٹر میمونہ حمزہ نے اپنے مضمون میں آخرت کی تیاری کے حوالے سے قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت کی۔یہ سچ ہے کہ ؎
اللہ کی رہ اب تک ہے کھلی آثار و نشاں سب قائم ہیں
اللہ کے بندوں نے لیکن اس راہ پہ چلنا چھوڑ دیا
سلیس سلطانہ صاحبہ کی تذکیر قارئین کے لیے نافع ہوگی انشاءاللہ۔اچھی یاد دہانی کرائی۔پاکستان میں یکساں نظام تعلیم کے حوالے سے جو اصلاحات ہورہی ہیں یہ وقت کا اہم ترین موضوع ہے۔ادارہ بتول اس پر کوئی قلمی مذاکرہ وغیرہ بھی کراسکتا ہے کیونکہ یہ ہماری نسلوں کی بقا کا سوال ہے۔شکریہ عبد الرحمٰن عابد صاحب،بہت سے حقائق آشکار ہوئے۔
بنت مجتبٰی مینااور عزیزہ انجم منجھی ہوئی شاعرات ہیں ماشاءاللہ۔
اس مرتبہ کی خاص تحریر شاہدہ اکرام صاحبہ کا افسانہ’’جوگ سہاگن کا‘‘ تھا۔کتنے چہرے نظروں میں گھوم گئے۔ ہمارے پڑوس کی وہ ناخواندہ بھابھی جو ساری زندگی ہمارے دور طالب علمی میں ہم سے خط لکھواتی تھیں اپنے شوہر کو۔اپنی تنہائی کو زبان دینے کے لیے فلمی گانوں کے مصرعے لکھواتیں۔ہم بے وقوفوں کی طرح لکھ دیتے جو وہ کہتیں۔وہ خط اس دن لکھواتیں جس وقت گھر میں کوئی نہ ہوتا۔ اپنے شوہر کا ذکر کرتے ہوئے جو سعودی عرب میں درزی تھے، ایک جھینپی سی نسوانی مسکراہٹ ہمیشہ ان کے چہرے پر ہوتی۔ وہاں تیس برس گزار کر وہ موذی مرض کا شکار ہو کر پلٹے اور پاکستان آتے ہی انتقال کر گئے۔
جب ہم تعزیت کے لیے گئے تو ان کے چہرے پر جمے ہوئے آنسو اور وہ تیس برس پرانے اس دور کو یاد کرتی رہیں جب ہم سے خطوں میں فرقت کے شعر لکھواتی تھیں۔ اور پھر سال بھر بعد وہ بھی ان کے پاس ہی پہنچ گئیں۔
کتنے گھروں کی یہ داستانیں ہیں۔المیہ ہے،نوحہ ہے۔جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے۔
اس مرتبہ کی تحریروں میں قانتہ رابعہ کے افسانے نے واقعی تلخ حقیقت سے پردہ اٹھایا کہ کچھ حقائق ہوتے ہیں جنہیں تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ دنیا بہرحال کسی کے جانے سے نہ رکتی ہے، نہ خالی ہوتی ہے۔
زیبو کی کی گڑیا میں روبینہ اعجاز صاحبہ نے بہت اچھی نشاندہی کی کہ بچیوں کی حفاظت بہت حساسیت سے کرنا چاہیے۔ہماری ماسی جو اپنی بارہ برس کی معذور بچی کو گھر پر چھوڑ کر آتی تھی کہ مالک مکان باپ جیسا ہے۔اس کے ساتھ وہ کچھ ہؤا کہ کئی دنوں تک مجھے اس سے نظریں ملانے کی ہمت نہ ہوئی کہ اس کی آنکھوں میں ٹھہرے نوحے دل چیر کر رکھ دیتے

تھے۔
ڈاکٹر شگفتہ نقوی جس موضوع پر قلم اٹھاتی ہیں اس کا حق ادا کر دیتی ہیں۔ انہوں نے اچھی طرح بتایا کہ رشتوں کی یہ نازک ڈوریں احساس سے بندھی ہوتی ہیں۔ وہ رشتے جو خون کے رشتے بھی ہوتے ہیں اور وطن کی مٹی سے جڑے رشتے بھی۔’’چاروں مل کر باجماعت مسکراتے ہوئے رو رہے تھے‘‘ بہت اچھا لگا یہاں لفظ باجماعت کا استعمال کہ خوشیاں بھی ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں اور ان کے بھی شجرہ ہائے نسب ہوتے ہیں۔
قائد کے آخری لمحات نے سکتہ طاری کردیا۔
جو چپ رہے گی زبانِ خنجر
لہو پکارے گا آستیں کا
گاڑی کا خراب ہونا،چھ گھنٹے بعد ایک حساس مریض جو قوم کا لیڈر ہے ،محسن ہے، ڈاکٹر کمرے سے یہ کہہ کر چلے جاتے ہیں کہ گہری نیند میں ہیں ہم کچھ دیر بعد آتے ہیں۔یہ انہی لمحوں کی خطا ہے جس کی سزا صدیاں بھگت رہی ہیں۔کشمیر پر دمِ مرگ بھی ان کی فکر مندی،بیماری میں بھی قوم سے خطاب کی شدت سے فکر…..صدیاں اس عظیم قائد کی مقروض ہیں ۔
سائبر ہراسانی سے ہم سب کو آگہی ہونی چاہیے کیونکہ فتنوں سے آگہی ایمان کی نشانی ہے۔ حمیرا کنول نے اچھی طرح وضاحت کی۔ڈاکٹر نوید بٹ کی امی کا پڑھ کر لگا کہ مائیں تو سانجھی ہوتی ہیں اور سب ماؤں کا خمیر ایک ہی مٹی سے اٹھایا جاتا ہے۔
آسیہ عمران لکھنے والوں میں اچھا اضافہ ہیں۔مشاہدے کی قوت ان کی تحریر سے عیاں ہوتی ہے۔
اب اگر قانتہ رابعہ اپنے اوپر گزری تحریر نہ کرتیں تو بھلا ہمیں کون بتاتا؟ ہم تو رب العالمین کا شکر ادا کرتے رہے کہ ہماری پیاری قلم کار ہمیں واپس لوٹا دیں۔اللہ ان کو بہترین صحت عطا فرمائے۔اتنے پر مزاح انداز میں لکھی اپنی آپ بیتی کہ قاری کو شگفتہ کردیا۔
لکھنے والوں سے ایک گزارش ہے کہ جہاں اردو کا متبادل آرام سے دستیاب ہو وہ انگریزی سے گریز کیا کریں۔چاول کھاتے ہوئے کنکر درمیان میں آنے والی کیفیت ہوتی ہے انگریزی کے الفاظ کے پیوند سے ۔جہاں ناگزیر ہو وہاں اور بات ہے۔
ماحولیاتی ہدایات بھی اہم ہیں قارئین بتول کے لیے شکریہ طاہر صدیقی صاحب اہم ہدایات کے لیے۔بشریٰ تسنیم بدستور اپنے گوشے میں پورے وقار سے براجمان ۔موضوع بھی جاندار اور اس سے جڑی ہدایات نے واقعی چاروں ہارمونز کے بارے میں وہ معلومات دیں جو ہمیں پہلے نہ تھیں۔
اللہ بتول کی ادارت،قارئین سب کو شاد و آباد رکھےآمین۔
٭ ٭ ٭
پروفیسر خواجہ مسعود ۔ راولپنڈی
’’چمن بتول‘‘ماہ ستمبر 2021ء سامنے ہے ۔ اس کا ٹائٹل تو بالکل وادی سوات کا منظر پیش کررہا ہے جہاں ہم ابھی ہوکے آئے ہیں ۔ سربفلک برف پوش پہاڑ ، خوبصورت نیلگوں شفاف پانی اور قدرتی حسن سے مالا مال وادی سوات ۔ ہمارے ’’ چمن بتول‘‘ کا آرٹسٹ واقعی باذوق ہے ۔
’’ ابتدا تیرے نام سے ‘‘ اب کے مدیرہ محترمہ صائمہ اسما صاحبہ نے سانحہ ، افغانستان پر جو جامع اداریہ لکھاہے وہ دلوں پر چھا گیا ۔ بہت موثر انداز بیان ہے ۔ آپ نے انسانی اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔ یہ جملے زبردست ہیں ’’ امریکہ اور اس کے حواریوں کی ہوس ِ اقتدار انہیں اسفل السافلین کے روپ میں لے آئی ۔ دنیا کو تعلیم اور تہذیب کی روشنی دینے والے……لیکن ان کی تہذیب دیکھ کر انسانیت نے منہ چھپا لیا ۔ ان کی تعلیم انہیں انسانوں کی طرح برتائو کرنا نہ سکھا سکی….. یہ انسانیت کے وہی ہمدرد تھے جو عراقی عوام کو لبریٹ کرنے گئے تھے اور ان کے ملک کو جہنم زاد بنا کر ہاتھ جھاڑتے ہوئے نکل آئے ‘‘۔
’’ بہتر اور باقی رہنے والی آخرت‘‘ ڈاکٹر میمنو حمزہ نے واضح کیا ہےکہ عقید ہ آخرت ہی انسان کی زندگی کو درست رنگ اور سمت عطا کرتا ہے ، ابدی اور سرمدی زندگی تو آخرت کی زندگی ہے ۔ یہ جملے دعوت فکر

دیتے ہیں ’’ حقیقت یہ ہے کہ آخرت کی فکر ہی انسانوں کے ضمیر اور ان کے عمل میں توازن پیدا کرتی ہے ‘‘۔
’’ صدقہ بہترین سرمایہ کاری‘‘ (ڈاکٹر سلیس سلطانہ چغتائی) اس بصیرت افروز مضمون میں ڈاکٹر صاحبہ نے وضاحت سے بتایا ہے کہ جو لوگ صدقات دینے والے ہیں ان کو یقیناً کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا اوران کے لیے بہترین اجر ہے ۔ یہ جملہ بھی خوبصورت ہے ’’ جس کی ذات سے جتنی بھلائی پھیلی ہو گی اس کا نور اتنا ہی تیز ہوگا ‘‘۔
’’ پاکستان میں تعلیمی اصلاحات ۔ چند تجاویز ‘‘( عبد الرحمٰن عابد) فاضل مضمون نگا رنے صحیح لکھا ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد نئی نسل کی کردار سازی ہے ۔ہمارے ملک کو ہر سطح پر ایسے نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کی ضرورت ہے جس کے ذریعہ ہم قیام پاکستان کے مقاصد حاصل کر سکیں ۔ آپ نے تعلیمی اصلاحات کے لیے بھرپور تجاویز پیش کی ہیں کہ طلبا کو اسلامی تعلیمات اور اسلامی اقدار کا خوگربنایا جائے ۔ اساتذہ کی تربیت بھی بہت ضروری ہے ۔ تاکہ وہ قابلیت کے ساتھ ساتھ اعلیٰ کردار کے مالک ہوں۔
’’اس بار بنت مجتبیٰ میناؔ صاحبہ کی خوبصورت نعت شامل ہے ۔ ایک منتخب خوبصورت شعر
ظلمتِ کفر میں وہ نوید سحر
شامِ غم میں سحر کا ستارہ بنا
مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
عزیزہ انجم صاحبہ کی پیاری سی’’ دعا‘‘
مجھے اپنا عکسِ جمال دے ، مجھے حسن حرف و خیال دے
مجھے وہ ہنر و کمال دے کہ زمانہ جس کی مثال دے
افسانہ و کہانی’’ جوگ سہاگن کا ‘‘( شاہدہ اکرام) ہمارے معاشرے کی ایک ٹریجیڈی اس کہانی میں بتائی گئی ہے کہ خاوند یورپ یا امریکہ سدھار جاتے ہیں اور پھر وہیں کے ہو کے رہ جاتے ہیں ۔ بیویا ں بیچاری جدائی کی آگ میں جلتی رہتی ہیں ۔
’’محبت اک فسانہ ہے ‘‘اب کے قانتہ رابعہ صاحبہ نے ایک اداس کردینے اور رلا دینے والی کہانی لکھی ہے ۔ ہنستا بستا گھر، میاں بیوی ایک دوسرے پر جان چھڑکنے والے لیکن اچانک حادثہ ہوتا ہے ، خاوند موت کی وادی میں چلا جاتا ہے اور بیوہ کے لیے جنم جنم کے دکھ رہ جاتے ہیں مگراس حال میں ہی زندگی کورواں دواں رکھنے کے حیلے کرنے پڑتے ہیں ۔ تلخ حقیقت!
’’ اڑان‘‘(سمیرا صادق) خود اعتمادی کاسبق سکھاتی ہوئی ایک کہانی دعائیں لیکن ساتھ بھرپور کوشش ، دونوںیک جا ہو جائیں تو انسان کامیاب و کامران ہوجاتا ہے ۔
’’ زیبو کی گڑیا‘‘ ( روبینہ اعجاز) کہانی بتاتی ہے کہ زمانہ نازک ہے اپنی بچیوں کی خود حفاظت کریں ۔
’’ ادھوری خواہش‘‘(جویریہ بتول) ایک المیہ کہانی ۔غریب آدمی دل میں خواہش پا لیتاہے لیکن خواہش پوری نہیں ہوتی وہ خود جان کی بازی ہار جاتا ہے ۔
’’فرض اورقرض‘‘ (ڈاکٹر شگفتہ نقوی) طلاق لے کر دوسری جگہ شادی کرنے والے مرد خواتین کا المیہ اس کہانی میں بیان کیا گیا ہے ۔ اس طرح اولاد احساس ِ محرومی کا شکار ہو جاتی ہے اور پھر زخم بھرنے مشکل ہو جاتے ہیں۔
’’ قائد کے آخری لمحات‘‘(محترمہ فاطمہ جناح/ محمد جہانگیر عالم) ایک عظیم قائد کی زندگی کے آخری ایام اور آخری لمحات کی کہانی ۔ جسے پڑھ کر بے اختیارآنکھوںسے آنسورواں ہو جاتے ہیں ۔ بانی پاکستان محمد علی جناح کی ساری زندگی ایک جہد مسلسل میں گزری ۔ پا کستا ن کی خاطر انہوں نے اپنی صحت اور اپنی جان بھی قربان کردی ۔ افسوس کہ قریب المرگ قائد کی ایمبولینس خراب ہو کے کراچی کی ایک مشہور سڑک پر ایک گھنٹہ تک پڑی رہی۔
’’ میری امی جی ‘‘(ڈاکٹر نوید بٹ) آپ نے اپنی پیاری مرحومہ امی کا ذکر بڑے پیار اور عقیدت سے کیا ہے ۔ واقعی ایسی نیک ، شفیق اور مہر بان مائیں خوش نصیب لوگوں کوملتی ہیں ۔ اب ایسی مائیں بھی خال خال ہیں اور ایسی فرمانبردار اولاد بھی خال خال ۔ اللہ ہماری پرانی حسین

روایات کو قائم رکھے ( آمین)
’’ سعودی عرب میں رہنے کا تجربہ ‘‘(ڈاکٹر فائقہ اویس )اس بار آپ نےسعودی عرب میں طلاق کے مسائل پر روشنی ڈالی ہے کہ وہاں طلاق یافتہ خاتون کونا پسندیدہ نہیں سمجھا جاتااور وہ آسانی سے دوسری شادی کر لیتی ہیں۔
’’ سائبر ہراسانی کیا ہے ؟‘‘(حمیرا کنول) جب سے کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ، سمارٹ فون آئے ہیں ان کے فوائد کے ساتھ ساتھ ان کے غلط استقبال نےبے شمار قباحتوں کو جنم دیا ہے ۔ بعض نا پسندیدہ عناصر ان کے غلط استعمال سے بہت سی لغویات کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ اس طرح بے شمارمسائل جنم لیتے ہیں ۔ اس معاملےمیں سخت قانون سازی وقت کی ضرورت ہے ۔
’’ تہذیب ہے حجاب‘‘( افشاں نوید )ہمارے ملک میں آئے روزخواتین پر تشدد اور زیادتی کے واقعات بڑھ رہے ہیں ۔ آپ نے صحیح لکھا ہے کہ اسلام نے خواتین کوجو حجاب کا حکم دیا ہے وہ اس طرح کے واقعات کوروکنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ حجاب میں حیا ہے ۔ شرافت ہے ۔
’’ میرے شب و روز ‘‘(قانتہ رابعہ صاحبہ ) آپ کرونا میں مبتلا ہو گئیں آپ نے ان دنوں کا احوال بھی دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے۔ آپ نے اس عمر میں کرونا کا جس طرح مقابلہ کیا آپ کی ہمت اورحوصلے کی داد دینا پڑتی ہے اس دوران آپ کو لوگوں کی ڈھیروں دعائیں بھی ملیں ۔ نواسے ، نواسیوں نے خوب خدمت کی اللہ تعالیٰ سب کو پوتے پوتیوں اورنواسے نواسیوں کی خوشیاں نصیب کرے اورقانتہ رابعہ صاحبہ کو مکمل صحت یاب کرے (آمین)۔
’’ذرہ برابر ‘‘( آسیہ عمران) ایک خوبصورت اصلاحی مضمون جس میں بتایا گیا ہے کہ دوسروں کی مدد کرنا ، یتیموں ، بیوائوں ، غریبوں کا خیال کرنا بہت ثواب کا کام ہے ، اللہ برکت ڈالتا ہے۔
’’ درخت لگائیں مگر کون سا ؟‘‘( طاہر صدیقی) اس مضمون میں آپ نے درخت لگانے کے لیے مفید مشورے دیے ہیں ۔ شجر کاری کے بارے میں بہترین رہنمائی اس مضمون میں موجود ہے ۔
’’ مفت میں پائیدار خوشی‘‘(ڈاکٹر بشریٰ تسنیم) ڈاکٹر صاحبہ نے اس خوبصورت مضمون میں واضح کیا ہے کہ سچی اور پائیدار خوشی حاصل کرنے کے لیے سچے اور پائیدار جذبے درکار ہوتے ہیں ۔ آپ نے طبی اصولوں کے مطابق ایسے چار ہار مونز کا ذکر کیا ہے جو ہمارے اندر خوشی کا احساس جگا تے ہیں ۔ یہ جملے قابل غور ہیں ۔
’’ خوشیاں ہمارے اطراف بکھری ہوئی ہیں ان کو حاصل کرنے کے لیے کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا ……زندگی خوبصورت ہے ، بس انسان بنیے اور دوسروں کو بھی انسان سمجھیے ‘‘۔
’’ آزاد صحافت یا مادر پدر آزاد صحافت‘‘( انصار عباسی)صحافت کے بارے میں ایک اچھا کالم ہے ۔بتایا گیا ہے کہ ذمہ دارانہ صحافت ہی صحیح صحافت ہے ۔ آپ کے یہ جملے قابل غور ہیں ’’ فحاشی و عریانیت کو پھیلانے اور بے ہودہ ڈرامے اوراشتہارات ان سب کو روکنے کی بنیادی ذمہ داری ہم میڈیا والوں کی ہے ۔حکومت کو آزادی صحافت کی ضمانت دینی چاہیے ‘‘۔
’’ چمن بتول ادارہ’’ چمن بتول‘‘ اور قارئین ک ےلیے نیک خواہشات کے ساتھ۔
٭ ٭ ٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here