ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

محشر خیال – بتول اکتوبر۲۰۲۲

پروفیسر خواجہ مسعود ۔ راولپنڈی
ماہِ اگست 2022ء کا ’’چمن بتول‘‘ کا شمارہ ( تحفظ آزادی نمبر) سامنے ہے ۔ سبز اورسفید رنگوں سے مزین ٹائٹل ہمارے پیارے پرچم کی ترجمانی کر رہا ہے ۔ گنبد خضریٰ کا رنگ بھی سبز ہے ۔ گنبد خضریٰ کے مکیں ؐ کے صدقے اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو خوشحال ، شادمان اورہر لحاظ سے محفوظ رکھے ( آمین)
’’ ابتدا تیرے نام سے ‘‘ مدیرہ محترمہ ڈاکٹر صائمہ اسما صاحبہ کا حسب روایت بصیرت افروز تبصرہ و تجزیہ ۔ آپ نے نہایت دردناک لہجے میں تاسف کا اظہار کیاہے کہ یہ وطن اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا لیکن آج تک یہاں اسلامی روح کا ر فرما نہیں ہوسکی ۔ آپ کے جملے اہم ہیں کہ ’’ اس وقت آزادی کی بقا کا سوال بڑی شدت سے اٹھ کھڑا ہؤا ہے۔ آج کی نسل کو پلیٹ میں ملی ہوئی آزادی کا اپنی آئندہ نسلوں کے لیے تحفظ کرنا ہے‘‘۔
’’ اللہ کا شکر ‘‘ ڈاکٹر میمونہ حمزہ صاحبہ کا ایک روح پرور مضمون ۔ یہ جملے خوبصورت ہیں ’’ جب ہم اللہ تیرا شکر ہے کے کلمات دل کے شعور اور احساسات کے ساتھ ادا کرتے ہیں تو پورا انسانی وجودہی نہیں روح بھی مسکرا اٹھتی ہے … شکر نعمتوں کی حفاظت کرتا ہے اور انہیں دوام عطا کرتا ہے ‘‘۔
’’ اچھے اخلاق‘‘ ندا اسلام صاحبہ کا مضمون فرمان رسول ؐ کے مطابق حسن اخلاق کا مل ترین مومن کی نشانی ہے ۔ حسن اخلاق کا مالک روزے دار اورتہجد گزار کے اجر کا ہم پلہ ہے ۔
’’ تحریک پاکستان سے لے کر قائد اعظم کے پاکستان تک ‘‘ (ڈاکٹر صفدر محمود) تحریک پاکستان کے بارے میں ایک نہایت ہی فکر انگیز اور معلومات افزا مضمون ہے ۔ ڈاکٹر صاحب نے واضح کیا ہے کہ تحریک پاکستان کی بنیاد تو شہاب الدین غوری نے 1192 میں رکھ دی تھی جب اُس نے ہندوستان کے مہاراجہ پرتھوی راج کو خط لکھا تھا کہ سندھ پنجاب اور سرحد کے مسلم اکثریتی علاقے مجھے دے دو ( بلوچستان میں پہلے ہی اسلامی حکومت تھی ) اور پھر اس کے جرنیل قطب الدین ایبک نے ہند میں پہلی اسلامی حکومت قائم کی۔
’’ ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کا قیام ‘‘ (مولوی محمد سعید) تحریک پاکستان پر ایک دلچسپ اور معلوماتی مضمون ۔ قیام پاکستان کا پس منظر مفصل بیان کیا گیا ہے ۔مسلمانوں کو اپنا الگ تشخص برقرار رکھنے کے لیے علیحدہ وطن کا مطالبہ کرنا پڑا ۔ کیونکہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان ہندوئوں کے رحم و کرم پر رہ جاتے ۔
’’شیخ محمد یعقوب(مرحوم) کا تذکرہ‘‘(عبد الرحمن عابد) ایک نیک سیرت شخصیت کا تذکرہ جنہوں نے اپنی جان آزاد وطن کے لیے قربان کردی ۔ واقعی یہ عظیم لوگ تھے ۔ ایسی لاکھوں قربانیوں کے بعد ہمیں یہ آزاد وطن نصیب ہؤا ۔ کاش ہم سب اس کی قدر کریں اور حفاظت کریں۔
نظم و غزل :حبیب الرحمن صاحب کی عمدہ غزل سے دو منتخب اشعار
مجھ تنہا کو چھوڑا ہے تو دنیا میں
کس کس کی پوجا کرتے ہو بولو ناں
آخر شب پھرتاروں میںسیاروں میں
تم کس کو ڈھونڈا کرتے ہو بولو ناں
صائمہ اسما صاحبہ کی بھی دو ملی نظمیں شامل ہیں دونوں نظمیں ہی خوبصورت ہیںپہلی نظم محبت تو دوسری درد میں ڈوبی ہوئی ’’ وطن کا گیت ‘‘ سے دو منتخب اشعار
اجالا امن و راحت کا تری ساری شبوں میں ہو
محبت کی ضیا بکھری ہوئی سب راستوں میں ہو
ان آنکھوں میں جو ساون ہے ترے صحرائوں پر برسے
بدن میں جو لہو ہے منتقل تیری رگوں میں ہو
’’ میرے کشمیر ‘‘ سے منتخب اشعار:
غاصبو، فتنہ گرو ولولے جاں بازوں کے
کتنے سو سال تک اور دبا پائو گے
روشنی خون میں شامل ہے جو آزادی کی
تم بجھانا بھی جو چاہو ، نہ بجھا پائو گے
تہمینہ عثمان کی غزل سے ایک خوبصورت شعر:
یہ ہے اور بات بچھڑ کے تم کسی اور سمت چلے گئے
کبھی ساتھ ساتھ چلے تھے ہم ، یہ خیال دل سے گیا نہیں
ناعمہ ثمر کی نظم ’’ تعمیر وطن ‘‘ سے منتخب سطریں:
جلتے ہوئے شہروں کی فضائیوں سے گزر کر
ہم نور یقیں دل میں بسائے ہوئے آئے
اس آگ سے ہم نے کئی گلزار بنائے
عفت طفیل کی نظم ’’ صبح امید ‘‘ ایک امید کی کرن ہے
اپنے دامن میں لیے تازہ بہاروں کی مہک
صبح کا تارا نئی امید لے کر آئے گا
یاس کے بادل چھٹیں گے
چار سو چھائے گا نور ِ آفتاب
’’ان زخموں سے خون رستا ہے ‘‘ ( شاہدہ اکرام )ان لاکھوں قربانیوں میں سے ایک عظیم قربانی کی داستان ۔ کرماں بی بی تقسیم ہند کے وقت ایک سکھ خاندان کے ہتھے چڑھ گئی لیکن اُس نے اپنے دل میں ایمان کی شمع روشن رکھی اور بالآخر ایک دن پاکستان آنے میں کامیاب ہو گئی ۔
’’ میری مٹی میرا خواب‘‘ ( ڈاکٹر سلیس سلطانہ چغتائی ) کہانی کا انداز رواں اور پر اثر ہے وطن کی محبت سے سر شار ایک خاتون بی اماں کی خوبصورت کہانی۔
’’ بندروں کی توبہ ‘‘ قانتہ رابعہ صاحبہ کی ایک سبق آموزکہانی کہ ہمیں غیروں کی تقلید میں اپنی روایات کو بھلا نہیں دینا چاہیے ۔
’’ پناہ‘‘ ( اسما اشرف منہاس) غیروں کو اپنا بنانے کا فن سکھاتی ہوئی عمدہ کہانی ۔
’’ ایک رات کی کہانی‘‘ ( عالیہ حمید ) آزادی کی خاطر دی گئی قربانی کی ایک لازوال داستان ماں باپ سب راستے میں قتل ہو گئے تو وہ کسی کے سات ماہ کے بچے کو سینے سے لگائے پاکستان آگئی اسے اپنا بیٹا بنا کر پالا ۔
’’ روشن چراغ‘‘ ( شہلا خضر) ثوبیہ کا شوہر اسے امریکہ لے جانا چاہتا تھا لیکن ثوبیہ تو وطن کی محبت سے سر شار تھی ۔
’’ سفر ابھی طے کرنا ہے ‘‘ (زینب جلال) پاکستان ان گنت قربانیاں دے کر بن تو گیا لیکن ابھی اس کو حقیقی پاکستان بنانے کے لیے بہت کچھ کرنا ہے ۔ ابھی ہم منزل سے دور ہیں ۔ یہی اس کہانی کا پیغام ہے۔
’’ جڑیں ‘‘ ( جویریہ شاہ رخ) اس کہانی میں یہ اہم نکتہ مرکزی خیال ہے کہ بہنوں کو اسلامی قانون کے مطابق جائیداد سے حصہ ضرور دینا چاہیے ۔
’’ کچی مٹی ‘‘ ( عینی عرفان) بچوں کی نفسیات پر مبنی ایک اچھی کہانی جب بچے ٹین ایج کی عمر میں پہنچ جائیں تو ان کے ساتھ چھوٹے بچوں والا سلوک نہیں کرنا چاہیے ۔ ان کی رائے کا بھی احترام کرنا چاہیے ۔ ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ نقصان دیتی ہے ۔
’’ ایمان دار ‘‘ ( عصمت اسامہ ) ایک غریب لیکن ایماندار لڑکے کی کہانی ۔’’ اک آگ کا دریا تھا ‘‘( فریحہ مبارک) تقسیم ہند کے وقت ہندوئوں اور سکھوں کے مسلمانوں پر ڈھائے گئے مظالم کی داستان ۔ صدیوں اکٹھے رہنے والے ہندوئوں نے آنکھیں پھیر لیں ۔ بڑی اماں اپنی چھوٹی بہن منیا کی یاد میں روتی رہتی ہیں ۔ یہ المناک داستان جاری ہے ۔
’’ جب قائد اعظم نے ہمیں راستہ لے کر دیا ‘‘ ( ڈاکٹرمقبول احمد شاہد ) آپ بیتی کی شکل میں ایک قافلے کی داستان جواپنا آبائی وطن اور گھر بار چھوڑ کر پاکستان کی طرف رواں دواں ہؤا اور کافی صعوبتیں اٹھانے کے بعد پاکستان پہنچا یہ آپ بیتی یاد دلاتی ہے کہ پاکستان میں آباد ہونا کئی صعوبتیں اٹھانے کے بعد ممکن ہؤا۔
’’ پہلا پاکستانی‘‘ ( ڈاکٹر بشریٰ تسنیم )ڈاکٹر صاحبہ نے اس کہانی میں بڑے خوبصورت انداز میں سمجھایا ہے کہ در اصل پہلے پاکستانی ہمارے پیارے رسول پاکؐ تھے کیونکہ پاکستان تو بنا ہی اسلام کے نام پر تھا ۔
’’ میں اس کرم کے کہاں تھا قابل‘‘ ( روبینہ قریشی) عمرہ کی ادائیگی کا دلچسپ اور روح پرور احوال واقعی خانہ کعبہ کے سامنے پہنچ کے دل کی کیفیت ہی کچھ اور ہو جاتی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے ۔
’’ لڑکی اور لڑکے کی تربیت میں فرق‘‘ ( آسیہ عمران ) آپ نے بجا لکھا ہے کہ گھر بچے کا پہلا تعلیمی ادارہ ہونے کی حیثیت میں ماں کی معاونت کے سب کام بغیر تفریق لڑکے لڑکیوں،دونوں کو سکھانے چاہئیں۔ جب بڑے ہونے لگیں تو لڑکے اور لڑکیوں کی تربیت ان کے مخصوص فرائض کے بارے میں کرنی چاہیے۔
’’ بیوی کے محبوب بنیے‘‘( نبیلہ شہزاد) بیوی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں تو بڑھاپے میں بھی آپ اپنی بیوی کے محبوب رہیں گے ہر وقت بیوی پر رعب نہ جھاڑتے رہیں۔
’’ صرف سوچ بدلنے کی ضرورت ہے ‘‘ (ڈاکٹر اختر احمد) کا مضمون مثبت سوچ اپنانے کی ترغیب دے رہا ہے ۔
’’ بتول میگزین‘‘ حنا سہیل ،جدہ) دردو غم انسانی زندگی کا حصہ ہیں ۔ اپنے آپ کو مضبوط بنائیے اور ان غموں کا مقابلہ صبر اور شکر کے ساتھ کیجیے یہی اس مضمون کا پیغام ہے ۔
’’ اندھیرے اور روشنی ‘‘( مہوش ریحان ) اندھیرا کسے اچھا لگتا ہے ؟ سب روشنی کے متلاشی ہوتے ہیں بعض دل اندھیرے جیسے سیاہ ہوجاتے ہیں قرآن پاک کی تلاوت سے اپنے دل کو روشن کیجیے۔
’’ ڈپرشن سے چھٹکارا کیسے پائیں ؟‘‘( بنت ِ عبد القیوم) اسلامی اصولوں پر عمل کر کے ہم اپنے آپ کو ہر قسم کے ڈپریشن سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
گوشہ ِ تسنیم ’’ جنت کے پھول‘‘ ( ڈاکٹر بشریٰ تسنیم صاحبہ) آپ کے ارد گرد جتنے بھی بچے ہیں ان میں سے ہر بچہ آپ کے لیے جنت میں لازوال چمن کا ضامن ہو سکتا ہے ، اپنی آرزوئیں ان پھولوں سے وابستہ کریں ۔ جنت کی وادیوں کے حسین نظاروں کے تصور میں گم رہنا بہت اچھا ہے مگر وہاں جانے کے لیے ہمیں دنیا میں بکھرے ان جنت کے پھولوں کی حفاظت کرنا ہوگی ۔
آخر میں چمن بتول ادارہ بتول اور قارئین کے لیے دلی نیک خواہشات۔
٭…٭…٭
’’ چمن بتول ‘‘ شمارہ ماہ جولائی2022ء پیش نظر ہے اس کے مندرجات پر تبصرہ حاضر ہے۔
اس بار ٹائٹل نہایت ہی گریس فل ہے ۔ ایسے لگتا ہے کیسی نفیس طبع شخصیت نے اس کا آئیڈیا دیا ہے ۔ سفیداور سر مئی رنگوں کا حسین امتزاج ہے ۔
’’ ابتدا تیرے نام سے ‘‘ حالات پر ڈاکٹر صائمہ اسما صاحبہ کا بے لاگ تبصرہ ہے آپ نے ملک کی نازک معاشی صورت حال اورعوام کی محرومیوں پر قلم اٹھایا ہے ۔ آپ کے یہ جملے بہت قابل غور ہیں ’’ اگر ٹیکس نہ دینے یا معمولی ٹیکس دینے والے بااثر طبقے سے ٹیکس وصول کیا جائے تو نئے ٹیکس لگانے ہی نہ پڑیں ۔ مگر عوام کے لیے کون سوچتاہے ، ایک طرف سودی معیشت کا شکنجہ ہے تو دوسری طرف آئی ایم ایف کی بیساکھیاں ‘‘۔
کم عمر نادان لڑکیوں پر بھی آپ نے صحیح لکھا ہے کہ وہ مکار اور عیار لڑکوں کے جھانسے میں آکر گھروں سے بھاگ کر شادیاں کر لیتی ہیں اور پھر عمر بھر کا پچھتاوا ۔ عدالتیں انگریزی قانون کے تحت انہیں شادی کی اجازت دے دیتی ہیں مگر ایسی شادیوں کے فیصلے شرعی عدالت میں ہونے چاہئیں۔
’’ نماز مومن کی معراج ہے ‘‘ ڈاکٹرمیمونہ حمزہ صاحبہ کا بصیرت افروز مضمون ہے آپ نے بجا لکھا ہے کہ نماز اللہ تعالیٰ کے قرب اور روحانی ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔
’’ نکاح اہمیت واحکامات‘‘(حمیرا علیم ) مسنون نکاح کے بارے میں ایک بہترین مضمون ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نکاح کو بھی عبادت قرار دیا ہے ۔ نکاح زندگی کی بہت سی اہم ترین ضروریات کی تکمیل اور پاکیزہ زندگی گزارنے کا ذریعہ ہے ۔
’’ جب مکہ فتح ہؤا‘‘( ترجمہ ، مشتاق حسین میر) فتح مکہ کے بارے میں ایک نہایت دلچسپ مفصل مضمون ہے ۔ فتح مکہ بلا شبہ تاریخ اسلام میں ایک نہایت اہم موڑ ثابت ہؤا ، اس کے بعد اسلام چار سُو پھیل گیا ۔
حصہ شعر و شاعری میں اسما صدیقہ صاحبہ کی ’’مناجات‘‘ سے منتخب سطریں:
جو تجھ سے ملے تیرا جوبنے
تیرے ہی لیے ہر پل جو جیے
دے اس کا پتہ،
اے میرے خدا تو اُس سے ملا
حبیب الرحمن صاحب کی لکھی ہوئی غزل کاایک منتخب شعر:
کیا جانے خلائوں میں کسے گھور رہا ہوں
گم سم سا یوں رہنا میری عادت ہے نہیں تو
’’ بارش اور ہم تم ‘‘ ساون کے موضوع پر لکھی گئی شاہدہ اکرام سحر کی خوبصورت نظم جس میں گیت کا رنگ ہے ۔
جب سے برس رہی ہے برکھا ، من میں ہے اک آگ لگی
بند دریچوں میں ہے گویا یادوںکی بارات چلی
آنسو اور بارش مل کر پھر مالا ایک بناتے ہیں
آئومل کر بارش کا اب ہم تم لطف اٹھاتے ہیں
آمنہ رمیصا زاہدی کی غزل سے ایک خوبصورت شعر:
ہم چاک گریباں کر نہ سکے پوچھے جو کوئی دکھلائیں کبھی
سب داغ تمہاری چاہت کے سینے پہ سجائے پھرتے ہیں
’’ نیا ذائقہ‘‘( قانتہ رابعہ صاحبہ )ہم اپنے گھروں میں قسم قسم کے پکوان پکاتے اور کھاتے رہتے ہیں لیکن غریب آدمیوں کو گوشت شاید سال میں ایک دفعہ بڑی عید پر ہی نصیب ہوتا ہے ایسے لوگوں کی مدد کرنا ہی اصل عید ہے اطمینان قلب اوراصل لذت ہے ۔ یہی اس کہانی کا پیغام ہے۔
’’ثقافت‘‘ عالیہ حمید کا خوبصورت افسانہ ہے دیہاتوںمیں مسجد کوایک اہم ثقافتی اور معاشرتی مقام حاصل ہوتا ہے ۔
’’ اوت نپوتے‘‘ ( حبیب الرحمن) ایک زبردست دل کوچھو لینے والی کہانی جو ذہنوں پر گہرا اثر چھوڑتی ہے ۔ واقعی اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے پاس ہو خدمت گار ہو اور سعادت مند ہو تو اس سے بڑی نعمت ماں باپ کے لیے اور کیا ہو سکتی ہے ۔
’’ نیت کا پھل‘‘(بنت سلمیٰ) یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ کئی مرد اپنی بیویوںپر نا حق ظلم و ستم ڈھاتے ہیں وہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے رسولؐ پاک نے بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کی بہت تلقین کی ہے ہمارے پیارے رسول ؐ پاک خود ایک مثالی شوہر تھے کاش ہمارے نوجوان نبیؐ پاک کی سیرت کا مطالعہ کریں۔
’’ٹھکانہ‘‘ (شہلاخضر) ایک سبق آموز کہانی جو بتلاتی ہے کہ حسن اخلاق دوسروںکے دل جیت سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ پر کامل ایما ن ایک قیمتی سرمایہ ہے جو انسان کو متزلزل نہیں ہونے دیتا۔
’’ نمی نا پید ہو گئی ‘‘( ہادیہ جنید) بہت پیارے طریقے سے اس کہانی میں سمجھایا گیا ہے کہ جو بزرگوں کا والدین کا ادب کرتے ہیں وہ زندگی میں پھل پاتے ہیں لیکن جو بزرگوںکا ادب و احترام نہیں کرتے وہ خود بھی خوشیوں سے محروم رہتے ہیں۔
’’ قربانی‘‘ ( عینی عرفان) قربانی کے موضوع پر عینی صاحبہ نے نہایت منجھے ہوئے کہانی کاروں کی طرح لکھا ہے ۔ دیورانی ، جٹھانی کے پیارے رشتے کی ایک خوبصورت کہانی ۔
’’ میں اس کرم کے کہاں تھا قابل‘‘( روبینہ قریشی) ار ض مقدس کے مبارک سفر کی دلچسپ داستان ۔ مدینہ منورہ ، مسجد نبوی اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کا دلچسپ احوال ہے ۔ یہ جملے دل پر اثر کرتے ہیں ’’میں مسجد نبوی کی عمارت کے اندر آگئی یوں لگاجیسے کسی بہت شفیق ہستی نے سر پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔ جیسے بچہ ماں کی گود میں آجائے ۔ جیسے مشقت بھرے سفر کے بعد مسافر کو آرام دہ جگہ پر سستانے کا موقع مل جائے ‘‘۔
’’ زندگی کے چکر ‘‘ ( آسیہ عمران ) نعمت کے چھن جانے کے بعد ہی نعمت کی قدر ہوتی ہے ۔ نا شکری ایک ایسی نحوست ہے جو سب کچھ لے جاتی ہے ۔
’’ چپ کی قیمت ‘‘ ( فریحہ مبارک) کوئی غلط یا خلاف قانون ہوتا ہؤا کام دیکھیں تو ہمیں اُس پر آواز ضرور بلند کرنی چاہیے ورنہ چپ رہنے کی بہت بڑی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے ۔
’’ دوران حمل آئرن کی کمی ‘‘ ( نازش ظفر ) خواتین کے لیے ایک بہترین رہنما مضمون اور نہایت مفید مشورے دیے ۔
’’ حریم ادب کے ساتھ ایک خوبصورت شام‘‘( قدسیہ ملک ) حریم ادب کی ایک خوبصورت محفل کا آنکھوںدیکھا احوال۔ ایسی محافل نئی لکھنے والی خواتین کے لیے بہت مفید ثابت ہوتی ہیں ، پھر انہیں نامور لکھاری خواتین سے ملاقات کاموقع بھی مل جاتا ہے ۔
’’ قدرتی اجزاء سے خوبصورتی حاصل کریں ‘‘ ( ڈاکٹر اختر احمد) قدرتی اجزا سے جسم ، چہرے او ربالوں کو خوبصورت بنانے کے لیے ان کے خوائص اور فوائد گنوائے گئے ہیں ۔
’’شریف فیملی کی بڑی آزمائش ‘‘( انصار عباسی کا کالم ) سودی نظام معاشرے کو کھوکھلا اور گدلا کردیتا ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے پاس ایک اچھا موقع ہے کہ سپریم کورٹ اورشرعی عدالت کے فیصلے کے مطابق سودی نظام کو بتدریج ختم کرنے کے اقدامات کریں اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی بھی حاصل کریں گے اورمعاشرے کی ایک عظیم خدمت انجام دیں گے ۔
گوشہِ تسنیم ’’ سر پرائز‘‘ ( ڈاکٹر بشریٰ تسنیم صاحبہ ) ڈاکٹر صاحبہ نے اچھے سے سمجھایا کہ اصل خوشی اور سر پرائز وہ ہوگی جو ہمیں روزِ قیامت ملے گی جب ہمارے لیے ایک چھوٹی سی نیکی بھی سر پرائز اور نجات کا باعث بن جائے گی ۔ مومن اپنے رب کی رحمت پر پورا بھروسہ رکھتا ہے وہ اپنے خالق ومالک کے فیصلوں پر راضی رہتا ہے اور مایوسی کا شکار ہوتا ہے۔
٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x