یقین جانیے وقت کم ہے اور کام زیادہ ، سو ابھی اور اسی وقت سے اپنے معاملات کو درست کرلیجیے….یہ ماہ ِمبارک صرف بھوکا پیاسارہنے کا نام نہیں ، بلکہ اس کا مقصدانسانی کردار میں بہتری لانا ہے
الحمدُ للہ ! ماہ رمضان المبارک ہم پرسایہ فگن ہو چُکا ہے جسے ’’ماہِ تربیت‘‘ کہنا اس کا حق ادا کرنا ہے ۔ یاد رکھیے!روزہ صرف بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں ، بلکہ اس کے ذریعے اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں خود احتسابی کاایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ نیز، ہمارے سامنے یہ حقیقت بھی عیاں ہوتی ہے کہ عام دنوں میں جن گناہوں، برائیوں اورغلط کاموں کا ذمّے دار ہم شیطان کو ٹھہراتے ہیں ،در اصل ذمّے دار ہم خود ہوتے ہیں۔ اسی لیے شیطان کے شر سے پناہ مانگنے سے پہلے اپنے نفس کے شر سے پناہ مانگنے کی تاکید کی گئی ہے ۔ یہ اپنا نفس ہی ہے جو شیطان کی چالوں میں پھنس جاتا ہے ۔
روزہ ہمیں صبر و برداشت، تحمّل اور تزکیہ نفس کا درس دیتا ہے۔ لیکن ہم روزے ہی کے نام پربھوک پیاس کا پرچار کرکے یا اُسے بہانہ بنا کر دوسروں پر لعن طعن،ڈانٹ ڈپٹ اور غصّےکاکوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔خلقِ خدا کے لیے آسانیاں، راحتیں بانٹنے کا خیال اپنے نفس کی کمزوری کی بناپرنہیں آتا ۔ ہر ذی شعور جانتا ہے کہ روزہ فقط بھوک ،پیاس پر ضبط کا نام نہیں،بلکہ اس کا اطلاق تو زبان، اخلاق اور عمومی رویّوں پر بھی ہوتا ہے، لیکن یہاں تو حال یہ ہے کہ صرف کھانے پینے سے ہاتھ کھینچ کر گمان رکھا جاتا ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی خاطر روزہ رکھا ہے۔
روزے کی حالت میں بگڑےرویّے، چڑچڑاہٹ، غصّے اور بد کلامی کے حوالے سےنبی کریم ؐ کی تعلیمات سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ روزے دار کو اپنے اعمال، اقوال و افعال کی عام دنوں سے زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔ جیسے چغلی، غیبت، جھوٹ ، لڑائی جھگڑے، کسی کو بُرا بھلا کہنےسے اجتناب برتنا چاہیے۔ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ اگر کوئی روزے کی حالت میں تم سے لڑائی کرے، تو بس اتنا کہہ دو کہ ’’مَیں روزے سے ہوں‘‘۔ ایک اور جگہ فرمایا کہ ’’اللہ کو تمہارے بھوکا پیاسا رہنے کی ضرورت نہیں‘‘۔
احادیث کی رُوسے پتا چلتا ہے کہ چاہے کوئی کتنا ہی بُرا برتاؤکیوں نہ کرے روزے دار کو اپنے غصّے پر ضبط رکھنا چاہیے ۔ در حقیقت روزہ تو باطنی بیماریوں جیسے غیبت، بد اخلاقی، بد کلامی وغیرہ کا خاتمہ کرتا اور نفس کو پاک کرتاہے۔ نبی محترمؐ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ’’بہت سے لوگ ہیں، جن کو روزے سے محض بھوک و پیاس ملتی ہے‘‘یعنی انہیں روزے کی اصل روح، صبر و برداشت، تحمّل، سکون اور اللہ کا قرب حاصل نہیں ہوتا۔ ماہِ رمضان ایک تحفہ ، ایک انعام ہےاور بہ طور مسلمان ہماری نیّت نیکیاں کمانا اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ روزہ تو جسم کی زکوٰۃ ہے، اس کے لیے نیّت کا صاف ہونا ضروری ہے۔ رمضان میں اگر عبادت کی بجائے وزن کم کرنے کی نیت کی تو روزے کی کوالٹی اور مقصد متاثر ہوگا۔یہ یقین رہے کہ روزہ رکھنا جسمانی صحت اور تندرستی، بیماریوں سے بچاؤ اور چستی کا خزانہ ہے۔بسیار خوری سے پرہیز کیا جائے تو یہ فوائد لازماً حاصل ہو کر رہیں گے۔ماہِ صیام کو خلوص نیت کے ساتھ عبادات، برکات ، تزکیہ نفس اور گناہوں کی بخشش کے طور پر لینا چاہیے تاکہ دنیا و آخرت سنور جائے۔
روزے کی حالت میں سب سے زیادہ غصّے اور عدم برداشت کا مظاہرہ عموماً سڑکوں پرٹریفک جام کی صُورت دیکھنے میں آتا ہے۔صدقِ دل سے بتائیے کہ ہمارے کسی عمل یا زندگی کے کسی شعبے سے بھی یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ماہِ رمضان شروع ہوچکا ہے؟ہم میں سے کتنے لوگ اس کے احترام میں بدزبانی، غصّے، چیخ وپُکاراورگالم گلوچ وغیرہ سے اجتناب کرتے ہیں؟ فقط ایک لمحے کے لیے سوچیے کہ روزہ ہمیں کیا سبق دیتا ہے؟ وہ تو ہم پر اللہ کا احسان ہے، جو ہمیں رمضان کے ذریعےضبط، صبرو برداشت ، تحمّل، در گزر ، خوش اخلاقی، صلہ رحمی اور نیکی کی ترغیب دی۔یہ ماہ ِمبارک صرف بھوکا پیاسارہنے کا نام نہیں ، بلکہ اس کا مقصدانسانی کردار میں بہتری لانا ہے ۔ اُس ذاتِ باری تعالیٰ کی عبادت، حمد و ثناء، تعظیم و تکریم کے لیے تو فرشتے ہی کافی ہیں، لیکن یہ اُس کا ہم گناہ گاروں پر احسان ہے کہ ہمیں اپنے گناہوں میں لتھڑے دل بدلنے کا موقع عطا کیا۔
اگر رمضان المبارک میں اپنائے گئے اچھے اعمال کا اثر سارا سال ہماری روز مرّہ زندگیوں پر نہیں پڑ رہا، تو یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ ہمیں رمضان کریم کی اصل روح کو پہچاننا ہو گا۔اپنا محاسبہ کرناہو گا کہ اس جیسا پاکیزہ مہینہ بھی اگر ہماری زندگیوں میں مستقل تبدیلی نہیں لا پا رہا تو کمی کیا اور کہاں ہے ۔ رمضان تو اپنی بہاریں ویسے ہی لیے ہوئے آتاہے، مسئلہ تو ہماری سمجھ اور ہماری ایمانی استقامت میں ہے۔
ہمیں رمضان اس لیے دیا گیا تھا تاکہ اس میں مسلمانوں کی شمع ایمان وعمل کی لو تیز ہو سکے اور ان کی زندگی قرآنی تعلیمات کے سانچے میں اس طرح ڈھل جائے کہ ان کو دیکھ کر لوگ اسلام کو سمجھ سکیں ۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کے روزوں کو فرض کرنے کی حکمت تقویٰ کے ساتھ متصف ہونا بیان کیا ہے یعنی انسان کا دل،سوچ ، سمجھ‘انداز اور اخلاق وکردار سب کچھ اس طرح بدل جائیں کہ رمضان کے بعد ایک نئی اور صالح زندگی کا حامل بن جائے اور زندگی میں ایک طرح کا انقلاب برپا ہوجائے کہ اگر وہ رمضان سے قبل سودی معاملات کا کاروبار کرتا تھا تو اب وہ توبہ کرلے اور اس کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھے۔خدا نخواستہ اگر وہ شراب نوشی میں ملوث تھا تو اب اس سے نفرت پیدا ہو جائے۔رزقِ حلال میں حرام کی ملاوٹ کرتا تھا تو اس سے باز آجائے۔دھوکہ دہی ‘کذب بیانی ‘ظلم وزیادتی ،حسد،غیبت اور دوسرے منکرات سے توبہ و استغفار کے ذریعے اپنے آپ کو پاک صاف کرلے اور دوبارہ ایسی معصیت کا ارتکاب ہرگز نہ کرے ۔فرائض و نوافل کا ایسا خوگربن جائے کہ ان کے بغیر رات میں نیند آئے اور نہ دن میں چین و سکون کا احساس ہو ۔بندوں کے حقوق میں کوتاہی کرتا تھا تو خود کو سدھار لے۔
اگر یہ کیفیات دل میں پیدا ہو گئیں اور زندگی میں ایسا تغیر رونما ہو گیا تو سمجھنا چاہیے کہ رمضان کا مقصد حاصل ہؤا اور ہم نے اللہ تعالیٰ کی رضا کو پالیا،ورنہ بظاہر رمضان کا مہینہ ہم نے پایا اور کچھ اس سے حاصل کیے بغیر وہ ہم سے رخصت ہوگیا جو اہل ایمان کے لیے سب سے بڑی مایوسی کا ذریعہ اور محرومی کا سبب ہے ۔
رمضان المبارک میں ایک روزہ دار کو اللہ تعالیٰ کے وجود کا احساس پختہ ہوجاتا ہے۔رمضان المبارک کا یہ پیغام ہے کہ جس طرح اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کے وجود کا احساس تھا اور چلتے پھرتے اُس کا ڈر دل میں بسا ہؤاتھا اسی طرح رمضان کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کے وجود کا احساس اور اس کی گرفت کا ڈر دل میں موجود ہوکہ روزہ درحقیقت اسی کیفیت کو پختہ کرنے کا ایک نصاب ہے ۔اگر یہ کیفیت دل میں پیدا ہوجائے تو حرام وحلال کی تمیز دل میں پیدا ہوگی ،کسی پر ظلم کرنے کا جذبہ پیدا نہیں ہوگا۔ کسی ایسے کام کی طرف انسان کا ذہن نہیں جائے گا جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے ۔ ہر وقت اس کے دل ودماغ میں اللہ تعالیٰ کے ناظر ہونے کا احساس ہوگا جس سے وہ تمام منکرات سے محفوظ رہے گا جیسا کہ صحابہ کرامؓ میں یہ احساس جاگزیں تھا ،اس کے سبب ان کا مقام اتنا بلند ہؤا کہ پوری امت ان کی بلندیوں پر رشک کرتی ہے ۔رسول اکرمؐ کی تمام محنتوں کا خلاصہ بھی یہی تھا کہ ہر انسان کو یہ احساس ہو جائے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے ،وہ عرش کا مالک ہے اس کا کوئی ثانی اور نظیر نہیں،اس کی گرفت سے کوئی بچ نہیں سکتا ،اس کی بندگی میں ہی دنیا وآخرت کی بھلائی پوشیدہ ہے ۔رمضان المبارک کا بھی یہی مقصد قرآن نے سورہ البقرہ ، آیت 183میں بیان کیا ہے ( لعلکم تتقون) ،روزہ دار نے اگر اس مقصد کو پالیا تو گویا شریعت کے اصل مقصد کو اس نے پالیا اور اب وہ گمراہی سے محفوظ ہوگیا۔گویا کہ اس نے اپنی روحانی بیماریوں کا علاج کر لیا ،اب وہ صحت مند قلب و روح کے ساتھ تقویٰ کے مدارج طے کرتا چلا جائے گا یہاں تک کہ اسے دوسرا رمضان المبارک نصیب ہوجائے ۔
ہم سب کتنے ہی رمضان المبارک گزار چکے ہیں، لازم ہے کہ اس مرتبہ کچھ اپنی اصلاح آپ ‘کے تحت گزرتے رمضان المبارک میں اپنی زندگی کا جائزہ لیتے رہیں کہ اب تک ہم نے تقویٰ کی کتنی منازل طے کر لی ہیں۔یقین جانیے وقت کم ہے اور اصلاح احوال کا کام زیادہ ، سو ابھی اور اسی وقت سے اپنے معاملات کو درست کر لیجیے ۔ واللہ المستعان ٭
٭٭