ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ماسی جنتے – بتول فروری ۲۰۲۲

ہوش سنبھالا تو بڑے سے کچے صحن میں لگے نیم کے گھنے درخت کے نیچے دادی کا کھاٹ دیکھا۔سفید براق چادر سے سجے کھاٹ پرروئی کے گالے سی دادی یوں تمکنت سے بیٹھی ہوتیں مانو کسی سلطنت کی شہزادی ہوں۔گرمیوں کی شامیں وہیں چھڑکائو ہوئی زمین سے اٹھتی مٹی کی خوشبو سونگھتے اور بہن بھائیوں کے ساتھ کھیلتے گزرتیںاور سردیوں میں کھاٹ دھوپ کے ساتھ ساتھ پورےصحن میں گھومتا۔پرندوں کی بولیاں،ٹھنڈی ہوا کے جھونکے،اور شام کی چائے کے ساتھ کبھی رس تو کبھی بسکٹ اس سارے منظر کومزید حسین بنا دیتے۔
ہاں ایک چیز اور بھی لازم و ملزوم تھی اور وہ تھی ماسی جنتے۔ان کی صحیح عمر تو کسی کو معلوم نا تھی لیکن لگ بھگ دادی جتنی تو ضرور ہوں گی۔کون تھیں ؟کہاں سے آئی تھیں ؟گزر بسرکیسے ہوتی تھی ؟ان تمام سوالوں کے جواب کوئی نا جانتا تھا۔اور نا کسی کے پاس اتنی فرصت تھی کہ ٹوہ لیتا۔سارے محلے میںماسی جنتے کے نام سے ہی مشہور تھیں۔بڑی پھپھو نے تو ان کا نام بی بی سی رکھا ہؤا تھا۔محلے کیا پورے گائوں کی خبریں ماسی جنتے کی زنبیل سے ایسے مرچ مصالحے کے ساتھ نکلتیں کہ سن کر مزا آجاتا۔ہم بچہ پارٹی تو خوب چسکے لیتی لیکن دادی ناگواری سے پہلو بدلتی رہتیں اور بسا اوقات ماسی جنتے کو ٹوک بھی دیتیں۔
’’اے ہئے…..جنتے کسی کو تو بخش دیا کرو۔ہر وقت کسی نا کسی کو لے کر بیٹھ جاتی ہو‘‘۔
ماسی جنتے جوابًا ماتھے کی تیوریاں بڑھاتے اور سر کھجاتے ہوئے ہاتھ نچا کر کہتیں:
’’گُلو کی اماں ہم تو سچ بات کرے ہیں۔ہم نا ہوں تو تم تو یہیں کھاٹ پہ پڑے پڑے ہی بے خبری میں دم دے دو‘‘۔
دادی جزبز ہو کر فقط گھورنے پہ اکتفا کرتیں اور ہم سب ہنسی چھپانے کو دائیں بائیں ہو جاتے۔
گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ روزوشب بھی بھاگے جا رہے تھے۔ہم سکول سے کالج اور پھر یونیورسٹی میں ایسے پھنسے کہ اب شام کےازلی منظر کا حصہ شاذ ہی بن پاتے۔دادی بھی اب خاصی بوڑھی ہو چکی تھیں۔ماسی جنتے ہنوز گائوں کی خبریں بارہ مصالحے کی چاٹ بنا کر پیش کرتی تھیں۔تینوں پھوپھیاں اپنے گھر کی ہو چکی تھیں۔میں ،منی اور ککو مزید تعلیم کے حصول کےلیے شہر جا بسےتھےاور مختلف ہاسٹلوں میں رہائش پذیر تھے۔ابا کیونکہ اکلوتے سپوت تھے تو اب اتنے بڑے کھلے سے گھر میں خالی پن سے تنگ آ کراماں نے گائوں کی بچیوں کو دینی تعلیم دینا شروع کر دی تھی۔یوں گھر میں چہل پہل سی لگی رہتی۔
میرا سیمسٹر ختم ہؤا تو یونیورسٹی نے ایک ماہ کی چھٹیاں دے دیں۔گردوغبار اور آلودگی سے اٹی شہری فضا کہ جہاں آسمان بھی سیاہی مائل ہو جاتا ہے،اسے چھوڑ کر گائوں کی تازہ ،خالص اور سبزے کی بھینی خوشبو سے لبریز ہوا کے خیال نے ہی مجھے معطر کردیا تھا۔
آج مجھے آئے دوسرا دن تھا۔شام کے مخصوص منظر کا حصہ بنے میں بچپن کے سہانے دن یاد کر کے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ماسی جنتے دو دن سے نہیں آ رہی تھی۔امی نے بتایا کہ بیمار ہیں۔غالبًا پانچواں یا چھٹا دن تھا اور ماسی جنتے کی کوئی خبر ناتھی۔مجھے بے چینی نے آن گھیرا آخر بچپن کا ساتھ تھا۔دھوپ کے چاننن کی جگہ جب شام کے لمبے سائے نے لی تو میں نے ماسی جنتے کے گھر جانے کی ٹھانی۔عین اسی لمحے اطلاعی گھنٹی بجی دروازہ کھولا تو سامنے ماسی جنتے تھی۔میں بے ساختہ خوشدلی سے مسکرایا۔ماسی کو اندر جانے کا راستہ دیتے ہوئے میں نے دروازہ بھیڑ دیا۔ماسی خراماں خراماں دادی کے تخت کی جانبرواں دواں تھی۔میں بھی پیچھے چلا آیا۔دادی نے چشمہ ٹٹولتے ہوئے آنکھوں پہ جمایا اور گویا ہوئیں۔

’’لمبی ہی بیمار ہو گئیں تم،کوئی خیر خبر نہیں تھی۔اب کیسی ہو؟چہرہ بھی اترا ہؤا ہے‘‘۔
دادی کے استفسار پہ ماسی جنتے نے مضحمل چہرہ لیے نظریں اٹھائیں۔اور دادی کے پہلو میں کسی تھکے ماندے مسافر کی طرح ڈھہ گئیں۔کچھ دیر عجیب وحشت زدہ سی خاموشی ماحول پہ چھائی رہی۔میں بھی کھاٹ کے سامنے دھرے موڑھے پہ خاموش بیٹھاجائزہ لے رہا تھا۔ماحول پہ چھائے سکوت کو ماسی جنتے کی آواز نے توڑا تھا۔
’’گُلو کی اماں میری گلزار رُل گئی….اس کے میاں کی چلتی آٹے کی چکی بند ہو گئی۔تیل نکالنے کا کولہو،روئی دھننے کا کام سب ٹھپ ہو گیا ہے۔اوپر تلے کے چھوٹے چھوٹے آٹھ بچے لے کر وہ میکے نہیں آئی بلکہ میرے سینے پہ سِل دھر گئی ہے۔یونہی تو بستر نہیں پکڑامیں نے اس کی کسمپرسی پہ شریکوں کی باتیں کھا گئی ہیں مجھے…..‘‘
رندھی آواز میں جو بولنا شروع ہوئی تو بس سانس لینے کو رکی۔دادی کے اشارے پہ میں نے پانی کا گلاس ماسی کی طرف بڑھایا۔پانی پی کر دوپٹّے کے پلو سے آنکھیں پونچھ کر سلسلہ کلام وہیں سے جوڑا جہاں ٹوٹا تھا۔ہم سب سحر زدہ سے ماسی کی رام کہانی سن رہے تھے۔پہلی بار کسی نے ماسی کو یوں سسکتے دیکھا تھا۔
’’آٹھویں سے ہٹایا تھا اسے،غفورا مر مٹا تھا کچی کلی سی میری گلزار پہ،اس کے باوا سمیت سب نے بھرپور مخالفت کی اس رشتےکی کہ غفورے کی برادری ہم سے الگ تھی۔لیکن مجھے اس کے چلتے کام اور روپے کی ریل پیل نظر آ رہی تھی۔میں اَڑ گئی۔رشتہ ہوگیا۔گلزار نے خوب عیاشی کی،میکے بھی جب جب آتی یہ بڑے بڑے بیگ بھر کر لاتی بہن بھائیوں کے لیے ،ہمارے لیے،تب فخر اور غرورسے میں ساری براداری کو دیکھتی تو ان کی شرمندہ نیچی نگاہیں مجھے مزید پُھلا دیتیں۔لیکن میں نے کبھی گلزار کو عقل نا دی کہ سب کچھ نا اڑائے بلکہ کچھ بچاکر بھی رکھے۔اے گُلو کی اماں بُرے وقت کا کیا پتہ کب آ جائے…..لیکن مجھ جنم جلی نے یہ بات اپنی گلزار کو نا سمجھائی۔اور دیکھو کرنا خدا کا ایک ایک کر کے سب کام بند ہوتے گئےاور وہ موا غفورا نشے پہ لگ گیا ہے۔عشق کا نشہ جانے کب ختم ہؤااور کب اس کی جگہ مار پیٹ نے لی….. سیانے سچ کہہ گئے محبت بھی بھرے پیٹ کا چونچلا ہے‘‘۔
بولتے بولتے ماسی جنتے ہانپنے لگی تھی۔دادی نے اس کے زانو پہ ہاتھ رکھ کر دبایا تھا۔میں تاسف سے سب سن کر اپنی سوچوں میںگم تھا کہ دادی کی آواز گونجی۔
’’جنتے تمہیں کتنا روکتی تھی کہ گھر گھر کی باتیں بڑھا چڑھا کر مت بیان کیا کرو اپنے گھر پہ توجہ دو۔سارا وقت جو تم لوگوں کی ٹوہ میں گزارتی تھی وہی بچی کو گھر گرہستن سکھانے میں بتاتی تو آج یہ دن نا دیکھنا پڑتا‘‘۔
ماسی نے تڑپ کر دادی کو دیکھا تھا اور گھٹنوں پہ دباو ڈال کر اٹھتے ہوئے بولی تھی۔
’’گُلو کی اماں ہم نا ہوں تو تم تو یہیں کھاٹ پہ پڑے پڑے بے خبری میں دم دے دو‘‘ اور پاؤں گھسیٹتی باہر کو لپکی تھی۔
٭ ٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x