ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

غزل – بتول فروری ۲۰۲۱

غزل
پھر سے اچھے بن جاتے ہیں
ہم بچہ سے بن جاتے ہیں
کیا محفل وہ جس محفل میں
جھوٹے سچے بن جاتے ہیں
سیدھے سادے مجنوں پاگل
ہم سے تم سے بن جاتے ہیں
خود کو دیکھیں تو دیکھا ہے
دشمن اپنے بن جاتے ہیں
کیا ہے اْس کی ہٹ کی خاطر
ہم ہی چھوٹے بن جاتے ہیں
دریا کا رستہ روکیں تو
دریا رستے بن جاتے ہیں
بستی والو اب گھر جاؤ
ہم بھی اپنے بن جاتے ہیں
سوچا ہے کیوں چہرے والو
بندے بن کے بن جاتے ہیں
بن جاتے ہیں اپنے دشمن
لیکن کیسے بن جاتے ہیں
سوچا تو تھا جیسا ہے وہ
ہم بھی ویسے بن جاتے ہیں
وہ جو بن کا بن بیٹھا ہے
ہم بھی اس کے بن جاتے ہیں

حبیب الرحمن

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x