ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

غزل-بتول جنوری ۲۰۲۱

کالی رات اکیلا چاند
پھرتا ہے آوارہ چاند

چمکیلا بھڑکیلا چاند
پاگل من کا سودا چاند

دل داروں پر ہنستا چاند
سوکھی شاخ سا پتلا چاند

آنکھیںدیکھیں اک سپنا
بھیگی رت اور پورا چاند

سارا گاؤں نکل آیا
جب ندی میں اترا چاند

دل کی بات سنے کوئی
دیواروں سے کہتا چاند

جوبن پہ جب آئی رات
تم نے بھی تھا دیکھا چاند

اس نے بال بکھیرے جب
شرمایا گھبرایا چاند

ہم نے بھی دیکھے تھے خواب
ہم نے بھی مانگا تھا چاند

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x