ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

غذا و صحت – چھوٹے بچے کی غذا – ڈاکٹر ناعمہ شیرازی

ماں کا دودھ بچے کے لیے بہترین غذا ہے ۔ لیکن جب بچہ چار سے پانچ ماہ کا ہو جاتا ہے تو صرف ماں کا دودھ اس کی ضرورتوں کو پورا نہیں کرتا ۔ چنانچہ اس کی غذا میں دوسری چیزوں کا اضافہ کرنا پڑتا ہے ۔
بہت سی مختلف چیزیں بچے کو کھانے کے لیے دی جا سکتی ہے ۔ اچھی صحت کے لیے ضروری ہے کہ بچے ہر قسم کی خوراک کھائیں ۔ اکثر چیزیں موسمی ہوتی ہیں ۔ سال کے کچھ حصوں میں وہ نہ تو خریدی جا سکتی ہیں اور نہ ہی اُگائی جا سکتی ہیں ۔ اس وجہ سے ان کی قیمتوں میں اضافہ یا کمی ہوتی رہتی ہے ۔ اس کے علاوہ خوراک کی قیمتیں موسم اور اس کے ملنے اور اس کی ضرورت کے مطابق اور نیچے ہوتی رہتی ہیں یہ ضروری نہیں کہ بچے کو صرف مہنگی اورخاص خوراک ہی کھلائی جائے ۔ اگر عام اور سستی خوراک بچے کو صحیح طریقے سے کھلائی جائے تو وہ بھی اتنی ہی اچھی ہوتی ہے جتنی کہ مہنگی خوراک اچھی ہوتی ہے ۔
بچے کی ٹھوس غذا کے بارے میں کچھ ضروری باتیں یہ ہیں ۔
(۱) بچے کو چھ ماہ کی عمر میں ٹھوس غذا کھلانی شروع کردینی چاہیے۔
(۲) شروع شروع میں بچے کو تھوڑا کھانا دن میں دو دفعہ دینا چاہیے اس کے بعد آہستہ آہستہ اس میں اضافہ کرنا چاہیے۔
(۳) جب بچے کو ٹھوس غذا دینی شروع کی جاتی ہے یا پھر اس کو کوئی چیز کھلائی جاتی ہے تو صرف دو چائے کے چمچ دینے چاہئیں اور اس کے بعد اس میں آہستہ آہستہ اضافہ کرنا چاہیے۔ بچہ جب ایک سال کا ہو تو اس کو وہی خوراک کھلانی چاہیے جو خاندان کے باقی افراد کھاتے ہوں۔
(۴) چھوٹے بچے کو سب سے پہلے کھانا کھلا دینا چاہیے کیونکہ وہ آہستہ آہستہ کھاتا ہے ۔ اس کے علاوہ لڑکی کو بھی اتنا ہی کھانا دینا چاہیے جتنا کہ لڑکے کو دیا جائے ۔
(۵) بچے کے لیے علیحدہ سے پلیٹ چمچ ، گلاس اور کرسی ہونی چاہیے ۔ بچے کو ٹھوس غذا شروع کرانے کا وقت بچے اور ماں دونوں کے لیے بہت اہم ہوتا ہے ۔
چھوٹے بچوں کو ایسی خوراک دینی چاہیے جو بچوں کے لیے اچھی ہواور آسانی سے مل جائے زیادہ مہنگی نہ ہو ۔عام طور پر بچوں کوخوراک خاندان کے باقی افراد کی خوراک میں سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے ۔ لیکن اس کے علاوہ خاص طور پر بچوں کے لیے بنائی گئی خوراک بھی بازار میں مل جاتی ہے ۔ لیکن گھر میں بنائی گئی بچے کی خوراک اور بازارسے لائی گئی خوراک میں بہت فرق ہوتا ہے ۔
بازار سے ڈبوں میں بند بچوں کے لیے خاص خوراک ملتی ہے لیکن یہ بہت مہنگی ہوتی ہے اور گھر میں بنا لی گئی خوراک سے کم فائدہ مند ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ اگر ماں اتنا خرچہ برداشت نہ کر سکتی ہو تو وہ اس کو دیر تک چلانے کے لیے بچے کو بہت کم کھانے کو دیتی ہے جس سےبچے کی ضرورتیں پوری نہیں ہوتی۔
بہت سی مائیں اپنے بچوں کی خوراک گھر پر ہی بناتی ہیں ۔ یہ ضروری نہیں کہ بچوں کاکھانا جراثیم سے بالکل پاک ہو لیکن پھر بھی ماں کو بچے کا کھانا احتیاط سے بنانا چاہیے ۔ شیر خوار بچے کو صحیح خوراک دینے کے لیے بہت سی چیزیں گھر ہی بنائی جا سکتی ہیں ۔ مثلاً:
انڈے والے چاول
اجزا:
چاول½
انڈا :ایک عدد
گھی یا تیل : ایک چمچ
نمک اور کالی مرچ ذائقے کے مطابق
طریقہ:
(۱) چاولوں کو صاف کر کے بھگو دیں۔
(۲) ایک صاف برتن میں چاول اور پانی ڈال دیں
(۳) ہلکی آنچ پر ڈھک کر پکائیں جب تک کہ چاول نرم ہو جائیں اور پانی سوکھ جائے۔
(۴) پھینٹا ہؤا انڈا گھی نمک اور کالی مرچ ڈال کر اچھی طرح ہلائیں ۔
(۵) تھوڑی دیر کے بعد چولہے سے اتار لیں اور ٹھنڈا کر کے بچے کو دیں ۔
سیب کا مربہ
اجزا:
سیب:½
چینی 2چمچ
پانی
طریقہ :
(۱) سیب کو اچھی طرح دھو کر چھیل کر چھوٹا چھوٹا کاٹ لیں
(۲) یہ کٹے ہوئے سیب اب ایک صاف برتن میں پانی اور چینی کے ساتھ ڈال دیں ۔
(۳) برتن کو ڈھک کر ہلکی آنچ پر پکائیں جب تک کہ سیب نرم نہ ہوجائیں ۔
(۴) سیبوں کو چمچی سے پیس کر پیسٹ بنا لیں اور وہ بچے کو دیں ۔
سوجی کی کھیر
اجزا:
(۱) ایک صاف پین میں سوجی کو بھونیں تاکہ وہ ہلکے بھورے رنگ کی ہو جائے ۔
(۲) ہلکی آنچ پر اس میں دودھ اور چینی ملا کر اچھی طرح ہلائیں ۔
(۳) تھوڑی دیر پکا کر اتار لیں اور ٹھنڈی کر کے کھیر بچے کو دیں ۔٭

کمپوزڈ تحریر بھیجنے سے پہلے

چیک کرلیجیے
1. کمپوزنگ بتول کے فارمیٹ کے مطابق ہے
2. ہر لفظ کے بعد صرف ایک سپیس دی گئی ہے
3. مسودے میں ہجوں کی غلطیاں نہیں ہیں
4. مکالموں کو علیحدہ سطر میں لکھا گیا ہے
5. مکالموں پر درست واوین لگے ہوئے ہیں
6. ہر مکمل جملے کے اختتام پر وقفہ موجود ہے
7. بلاضرورت قومہ استعمال نہیں کیا گیا
8. بلاضرورت ڈاٹس نہیں ڈالے گئے
9. ایموجی یا علامات نہیں شامل کی گئیں
10.تحریر پر عنوان اور لکھنے والے کا نام موجود ہے
11. اگر دینی ،تاریخی ، سائنسی،دیگر معلومات شامل ہیں، یا انتخاب ہے تو حوالہ درج ہے
12.بتایا گیا ہے کہ یہ تحریر کہیں اور شائع نہیں ہوئی، اشاعت کے لیے بھیجی نہیں گئی، سوشل میڈیا پر نہیں لگی
13. اگر پہلی بار تحریر بھیجی ہے تو بطور لکھاری اپنا مختصر تعارف ساتھ درج ہے

ماہنامہ چمن بتول لاہور
فون : 04237424409

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x