ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

شکر والی گلی – نوردسمبر ۲۰۲۰

ایک دبلامریض سا شخص تقریر کر کے بیٹھا ہی تھا کہ ایک آدمی بول پڑا ۔
’’ میں سمجھتا ہوں جو بھائی ابھی بیٹھے ہیں ، ان کا مکان گلے شکوئوں والی گلی میں ہے ۔ میں بھی کچھ عرصہ وہاں رہ چکا ہوں اورجتنے عرصہ میں وہاں رہا ، میری صحت کبھی اچھی نہیں رہی۔ ہوا خراب، مکان خراب ،پانی خراب اس گلی میں تو پرندے بھی آکر نہیں چہچہاتے ۔ میں سدا اداس اور غمگین رہتا تھا ۔ لیکن خوش قسمتی سے وہاں سے بھاگ نکلا۔ اب میں نے صبر و شکر والی گلی میں مکان لے لیا ہے۔ میری اور میرے کنبہ کی صحت اچھی ہوگئی ہے۔ ہوا صاف ہے ۔ مکان اچھا ہے ۔ سورج وہاں سارا دن چمکتا رہتا ہے اور پرندے چہچہاتے ہیں ۔ مجھے زندگی کا لطف آنے لگا ہے ۔ میں اپنے بھائی کو بھی مشورہ دیتا ہوں کہ وہ گلے شکوئوں والا مکان چھوڑ دیں ۔ صبر و شکر والی گلی میں بہت سے مکان خالی ہیں ۔مجھے یقین ہے کہ اگر ہمارے یہ بھائی وہاں آجائیں تو اپنے آپ کو تبدیل شدہ پائیں گے ۔ مجھے تو انہیں اپنا پڑوسی دیکھ کر بڑی ہی خوشی ہو گی‘‘۔
ہم میں سے اکثر کا یہی حال ہے ۔ ذرا سی تکلیف پہنچے یا کوئی چیز نہ ملے تو جزع فزع کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ روتے پٹتے ہیں ۔ اللہ سے شکوے کرنے لگتے ہیں ۔ دوسری طرف بڑی سے بڑی نعمت بھی ملے تو اسے اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ کبھی شکر ادا کرنے کی بھی توفیق نہیں ہوتی ۔ بے شمار نعمتیں ایسی ہیں جو اللہ نے ہمیں بن مانگے، بغیر کسی جدوجہد کے دے رکھی ہیں۔ یہ آنکھیں، کان ، ناک، زبان، ہاتھ ، پائوں ، عقل، یہ سب نعمتیں ہم بغیر کسی شعور کے استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں خیال بھی نہیں آتا کہ یہ بھی کوئی نعمت ہے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحت مند ہو ، اس کے دل میں بے خوفی اور اطمینان ہو اور اس کے پاس اس دن کا کھانا بھی موجود ہو تو گویا اس کے لیے ساری دنیا اکٹھی ہو گئی ۔( ابن ماجہ)
ادھر ہمارا یہ حال ہے کہ ہمیں یہی غم کھائے جاتا ہے کہ فلاں کا گھر کتنا شان دار ہے ۔ فلاں کی گاڑی کتنی مہنگی ہے ۔ فلاں تو برینڈ ڈ کپڑے اور جوتے پہنتا ہے امریکہ فلاں تو سیر کرنے امریکہ گیا تھا اور پھر یہ رونا کہ ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں ۔
پیارے نبیؐ نے فرمایا کہ اس شخص کی طرف نگاہ کرو جو تم سے کم ہے اور اس کی طرف نہ دیکھو جو تم سے بڑھ کر ہے ۔ اس سے تم اللہ کی نعمتوں کو ( جو اس نے تمھیں دے رکھی ہیں ) حقیر نہیں سمجھو گے۔ (مسلم)
اللہ تعالیٰ ہمیں شکر کی توفیق دے ۔ آمین

٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x