ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

سیاہی – بتول دسمبر۲۰۲۲

رات کی کالی چادر تن چکی تھی ۔ خاموشی کے سائے گہرے ہوتے چلے جا رہے تھے ۔ جھینگروں کی آوازیں رات کی خاموشی میں عجب شور پیدا کرتیں ۔ اس نے کھڑکی کی طرف نظر ڈال کر باریک جالیوں سے جھانکتے گہری سیاہ رات کو دیکھا پھر بیڈ کے سرہانے سے سر ٹکا کر بیٹھ گئی۔
’’ رات کی سیاہی تو مٹ جائے گی لیکن آخر میرے نصیب کی سیاہی کب ختم ہو گی ‘‘۔ اس نے گہری آہ بھرتے ہوئے سوچا۔
سامنے سپید ٹیوب لائٹ کی روشنی میں آئینہ میں اس کا سراپا ابھر رہا تھا ۔ گہری سانولی سیاہی مائل رنگت، مناسب نقوش، آسمانی جوڑے سے جھانکتے ہاتھ اور پیر جو چہرے سے بھی زیادہ کمہلائے ہوئے تھے ۔ اس کی سفید چمکتی آنکھوں میں آنسو اُمڈ آئے ۔ وہ اپنے والدین کی دوسری بیٹی تھی ، نہ ان چاہی ، نہ من چاہی ۔ اس کی ماں کو تو خبر ہی نہ ہوئی جانے کب پھول سی سرخ و سفید حمنہ کو پالتے پالتے کالی کلوٹی آمنہ ان کی گود میں آگئی۔ فرخندہ بیگ نے نہ صبر کیا نہ شکر ،بس دل پر جبر کر کے ایک فرض کی مانند اس کو پالنے لگیں ۔ اسکول کالج کا دور تو گزر ہی گیا ، محنتی ہونے کی بنا پر تعلیمی مدارج کامیابی سے طے کیے ۔ اس کی سیاہ رنگت اس کی کامرانیوں کے پیچھے چھپ گئی لیکن اصل مسئلہ جب کھڑا ہؤا جب فرخندہ بیگم نے اس کے لیے رشتہ کی تلاش شروع کردی۔ خوبصورت طرح دار حمنہ کے لیے انہیں کوئی کوشش ہی نہ کرنی پڑی ۔ ایک سے بڑھ کر ایک اچھا رشتہ موجود تھا۔ آخر کار بڑی خالہ کے ڈاکٹر بیٹے کو ہاں کردی گئی۔بڑی خالہ بڑی چاہت او ارمانوں سے حمنہ کو بیاہ کر لے گئیں ۔ حمنہ کی شادی کے دوران بھی لوگوں کی تعجب خیز اور تضحیک بھری نگاہیں آمنہ کے اعتماد کو ڈانوا ڈول کر گئیں۔
حمنہ کی شادی کے بعد فرخندہ بیگم نے آمنہ کے لیے رشتہ کی تلاش مزید تیز کردی ۔ آج بھی معمول کی طرح چند خواتین آمنہ کو دیکھنے آرہی تھیں ۔ فرخندہ بیگم نے گھر کی خوب صفائیاں کرائیں ۔ پورا گھر آئینہ کی مانند چمک رہا تھا ۔ شام ٹھیک پانچ بجے مہمان خواتین ان کے ڈرائنگ روم میں موجود تھیں ۔
آمنہ لرزتے ہاتھوں سے ٹرے لیے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔
’’ السلام علیکم …‘‘ اس نے دھیمی آواز میں سلام کیا ۔
ان خواتین میں بڑی نخوت تھی ۔ انہوں نے جواب دینے کی بجائے سر کو خفیف حرکت دینے پر اکتفا کیا ۔
وہ خاموشی سے صوفہ پر بیٹھ گئی ۔
’’ تو یہ ہے آپ کی بیٹی …‘‘بڑی عمر کی ایک خاتون نے چبھتی نظروں سے دیکھا۔
پھر وہ آپس میں کھسر پھسر میں مصروف ہو گئیں ۔’’ اچھا بہن ! اب اجازت دیں ‘‘ وہ اپنی چادریں سنبھالے جانے کے لیے پر تولنے لگیں۔
’’ارے! یہ چائے تو لیں …‘‘ فرخندہ بیگم نے گھبراتے ہوئے لوازمات سے سجی ٹرے کی جانب اشارہ کیا ۔
’’ نہیں بہن ! بس ہمیں ذرا جلدی ہے ‘‘۔ یہ کہتے ہوئے وہ ڈرائنگ روم کا دروازہ پار کر گئیں۔
فرخندہ بیگم وہیں صوفے پر ڈھے سی گئیں ۔ آمنہ ان سے نظریں چراتے ہوئے باہر نکل آئی۔
یہ کوئی پہلی بار کی کہانی تو نہ تھی لیکن آج جانے کیوں آمنہ کا دل بری طرح ٹوٹا تھا ۔ رات کی سیاہی بڑھتی جا رہی تھی اور وہ ٹوٹتی جا رہی تھی۔
یہ ایک اداس شام تھی۔ درختوں سے گرتے پتے پیروں تلے چرمرا کر عجب شور پیدا کر تے ۔خنک ہوائیں سردیوں کی آمد کا پیام دے رہی تھیں ۔ فرخندہ بیگم حسب معمول ٹیرس میں بیٹھی چائے پی رہی تھیں ۔ آمنہ کچن میں رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی کہ شمع بوا کی آمد ہوئی ۔ ان کے ساتھ ایک شفیق چہرے والی مہر بان عورت بھی تھیں ۔ فرخندہ بیگم نے اسے حلیہ درست کر کے ڈرائنگ روم میں آنے کو کہا ۔
وہ کپڑے تبدیل کر کے چائے کی ٹرے تھامے بوجھل قدموں سے ڈرائنگ روم کی جانب بڑھ گئی ۔ اس کی توقع کے برعکس خاتون کا رویہ کافی حوصلہ مند تھا ۔ وہ تھوڑی دیر بیٹھ کر باہر آگئی کچھ دیر میں وہ خاتون بھی رخصت ہو گئیں ۔
فرخندہ بیگم نے بتایا کہ وہ اس کا رشتہ دے کر گئی ہیں ۔ آج بہت دنوں بعد آمنہ نے ان کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی تھی ۔خوش تو وہ بھی تھی لیکن خوشی پر حیرانی غالب تھی ۔ آمنہ کے والد شاہد صاحب نے رشتہ کے بارے میں خوب چھان پھٹک کی۔ پھر جانے ان کی فرخندہ بیگم سے کیا بات ہوئی کہ ایک دن انہوں نے آمنہ کو بلا کر کہا :
’’بیٹا! میں اور تمہارے ابو اس رشتہ سے مطمئن ہیں … بس…‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے رُک گئیں۔
’’ مجھے امید ہے بیٹا تم ہمارے فیصلہ کو قبول کرو گی …‘‘ وہ سر جھکا کر رہ گئی۔
بہار کی ایک خوبصورت شام اس کا نام اسید کے نام سے جڑ گیا ۔ نکاح کے ایک ماہ بعد رخصتی کی تاریخ طے کردی گئی ۔
آج گھر میں اس کے نکاح کی خوشی میں ایک چھوٹی سی تقریب منعقد کی گئی جس میں اُسید اور اس کے گھر والے بھی مدعو تھے ۔ دیدہ زیب خوبصورت سفید غرارے میں اسے اسید کے پہلو میں بٹھایا گیا ۔ اس کی نگاہیں شرم و حیا کے بوجھ سے جھکی ہوئی تھیں ۔ جانے کس احساس کے تحت اس نے ایک نظر اٹھا کراپنے پہلو میں دیکھا اور ساکت رہ گئی ۔
اسید چہرے پر سیاہ چشمہ ہاتھ میں لاٹھی تھامے پر سکون بیٹھا تھا ۔
اگر آج اس کے چہرے پر سیاہ چشمہ نہ ہوتا تو وہ میری سیاہ رنگت کو دیکھ کر یونہی ساکت ہو جاتا جیسے میں اسے دیکھ کر ہو رہی ہوں ، آمنہ نے سوچا پھر دو موتی ٹوٹ کر اس کے دیدہ زیب غرارے میں جذب ہو گئے ۔
٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x