گلابی چہرہ ، شفیق مسکراہٹ سے سجا ہؤا، بلورین آنکھیں مخاطب کے چہرے پر نہایت توجہ سے مرکوز، سمٹے ہوئے سنہری بال، دراز قد، پر وقار…. یہ تھیں سوزین رائلینس جن سے میری ملاقات انسانوں کے اس سمندر میں ہوئی، جہاں وہ کسی ماہر غوطہ خور کی طرح بغیر کسی پریشانی کے گھوم رہی تھیں ۔ اجتماع عام سے پہلے راحیل نے فون پر مجھے کہا تھا…
’’ خواتین کانفرنس کے غیر ملکی مندو بین کی پریس ڈیوٹی تمہارے سپرد ہے ۔ پہنچ جائو گی نا؟‘‘
’’انشاء اللہ !‘‘ میں نے وثوق سے کہا ، پھر کچھ ایسا ہؤا کہ میں ایک رات پہلے اسلام آباد کے اس ہوٹل نہ پہنچ سکی ، جہاں غیر ملکی مہمانوں کو ٹھہرایا گیا تھا اور اگلے دن صبح سے قرطبہ شہر کے عوام کے لیے ’’ انصاف‘‘ کی ڈیوٹی کرتی رہی ۔ سر پیر کا ہوش نہ رہا ۔ دوسرے دن سہ پہر کو جب خواتین کانفرنس کے لیے سٹیج سجا، پنڈال بھرا اور میں نے مائیک سنبھالا تویکا یک کسی نے کہا کہ غیر ملکی مندو بین آگئے ہیں ،ان کی آمد کا اعلان کر دو۔ انہی میں کسی سوزین رائلینس کا نام بھی شامل تھا ، جنہیں خوش آمدید کہنا تھا اور امریکہ سے بطور خاص آمد کا شکریہ ادا کرنا تھا ۔ میں نے گھوم کر ان کو دیکھا ، سفید شفون کا دوپٹہ سلیقے سے سر پر اوڑھے ہوئے سیاہ لمبی اور با پردہ سکرٹ میں ملبوس ،ٹخنوں کو ڈھانپتی ہوئی کالی جرابیں اور سادہ سے کالے جوتے پہنے وہ سامنے کی درمیانی نشستوں پر بٹھائی گئی تھیں ۔ چہرے پر ایسی شناسامسکراہٹ تھی ، جو بعض کئی برسوں کے شناسائوں کو بھی چہرے پر لانی نصیب نہیں ہوتی ۔ میں نے حد نگاہ تک پنڈال میں جمع ہزاروں عورتوں کے مجمع پر نظر ڈالی اور کہنا شروع کیا۔
’’ عزیز بہنو! ہمیں بے حد خوشی ہے کہ آج ہمارے درمیان سوزین رائلینس موجود ہیں ۔ سوزین عیسائیوں کے مورمن فرقے سے تعلق رکھتی ہیں ۔ یہ فرقہ اپنی اقدار و روایات میں اسلامی اصولوں سے بہت مماثلت رکھتا ہے ۔ گزشتہ دنوںنیو یارک میں اقوام متحدہ کے تحت عورت کے موضوع پر ہونے والے خصوصی سیشن میں انہوں نے عورت کے نام نہاد آزادی اور ترقی کی حمایت کرنے والی لابی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور فیملی سسٹم کی مضبوطی کو عورت کے تحفظ کی علامت قرار دینے والوں کا بھرپور ساتھ دیا ۔ ایسے ہی لوگوں کی جدوجہد کے نتیجے میں بہت سے نقصان دہ نکات حتمی مسودے میں شامل نہ کیے جا سکے ۔ آج ہماری خصوصی دعوت پر یہاں تشریف لائی ہیں تاکہ عورت کے وقار اور خاندان کے تحفظ کی جدوجہد میں ہمارے ساتھ شامل ہو سکیں‘‘۔
اور یہ تعارف کرواتے ہوئے میں حیرت سے سوچ رہی تھی کہ کیسی عجیب بات ہے کہ حزب اللہ کے لوگ غیر مسلموں میں بھی موجود ہوتے ہیں اورحزب الشیطان سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کا سا نام رکھے انہی میں چلتے پھرتے ہیں ۔فطرت سلیم کو دبا دینے والوں کی سوچ ہر جگہ ایک جیسی ہے اور اس کو ابھارنے والے خواہ کسی علاقے یا مذہب سے تعلق رکھتے ہوں ، ایک ہی ڈگر پر چلتے ہیں ، یہ خاتون یقیناً نصاریٰ کے ان لوگوں میں سے ہے جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے :
’’ سارے اہل کتاب یکساں نہیں ہیں ۔ ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو راہ راست پر قائم ہیں …. نیکی کا حکم دیتے ہیں برائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں سر گرم رہتے ہیں ۔ یہ صالح لوگ ہیں اور جونیکی بھی یہ کریں گے اس کی ناقدری نہ کی جائے گی ‘‘۔( آل عمران 115-113)
’’ تم ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں قریب تر ان لوگوں کو پائو گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں ۔ یہ اس وجہ سے کہ ان میں عبادت گزار عالم اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور ان میں نمرود نفس نہیں ہے۔ جب وہ رسولؐ پر اترنے والے کلام کو سنتے ہیںتو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے ان کی آنکھیں آنسوئوں سے تر ہو جاتی ہیں ‘‘۔( المائدہ 83-82)
حاضرین کی نگاہوں میں بڑا واضح سوال تھا …
’’ یہ میم کب بولے گی ؟‘‘
مگر منتظمین کی مشکل یہ تھی کہ نماز عصر کی اذان ہو چکی تھی اور کانفرنس کی کارروائی ابھی باقی تھی ۔ ملائیشیا کے صوبہ ترنگا نو کے گورنر کی اہلیہ نے مختصر سا خطاب کیا ۔ سورج لمحہ لمحہ ڈوب رہا تھا ۔ مزید ایک منٹ کی تاخیر کیے بغیر اختتامی خطاب کروایا گیا اورمختصر سی دعا پراختتام کر کے حاضرین کو نماز کی ادائیگی کے لیے وقت دے دیا گیا ۔ ساتھ ہی یہ اعلان بھی ہؤا کہ نماز کے فوراً بعد دوبارہ یہاں جمع ہو جائیں ہماری امریکی مہمان خطاب کریں گی۔
سوزین کو بصد معذرت ساری صورتحال سے آگاہ کیا گیا ، جسے انہوں نے بڑی خوش دلی سے قبول کیا ۔ پھر کچھ دیر بعد انہوں نے مائیک پر آکر شستہ انگریزی اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں مختصر اور نہایت جامع خطاب کیا ۔ چلتی پھرتی خواتین بیٹھ گئیں اور غور سے سننے لگیں ۔ سوزین کہہ رہی تھیں۔
’’ میں آپ کی بہن تو نہیں ، کیونکہ میں مسلمان نہیں ہوں لیکن آپ سب مجھے اپنی بہنوں ہی کی طرح لگ رہی ہیں ۔میں پاکستانی عورتوں سے بہت محبت کرتی ہوں، کیوں کہ یہ بہت اچھی مائیں ہوتی ہیں اور خاندان کو تحفظ دیتی ہیں ۔ میرے دل میں آپ کے لیے بہت قدر اور عزت ہے ‘‘۔
پھر سوزین نے مغربی معاشرے میں عورت کی حالت زار اخلاقی گراوٹ اور خاندان کی تباہی کا تذکرہ بھی کیا ۔ مسلم معاشروں کے لیے انتہائی محبت کے جذبات ظاہر کیے اور انہیں اپنی اقدار پر ڈٹے رہنے کی تلقین کی ۔ بعد ازاں ان کی تقریر کا اردو ترجمہ بھی پڑھ کر سنایا گیا۔
سٹیج سمیٹ کر میں نے انہیں ریفرشمنٹ کی میز پر جا کر پکڑا۔وہ ملنے کے لیے آنے والی خواتین کے بچوں میں بڑی محبت سے ٹافیاں بانٹ رہی تھیں ۔ پاس سے گزرنے والا کوئی بچہ ان کے ہاتھ سے یہ چھوٹا سا تحفہ لیے بغیر نہ جا سکتا تھا ۔ پھر مجھے کہنے لگیں ۔
’’ در اصل 30 اکتوبر کو ہمارے ہاں ’’ہیلو وین ڈے ‘‘ منایا جاتا ہے ۔ اگرچہ میں اس تہوار کو بہت پسند نہیں کرتی کیونکہ اس میں خرافات ہوتی ہیں لیکن بچوں کو ’’ ٹریٹ‘‘ دینے والا حصہ مس نہیں کرتی اس بار چونکہ مجھے تہوار کے موقع پر یہاں ہونا تھا تو میںبچوں کے لیے سویٹس یہیں لیتی آئی‘‘۔
اس پر میں نے انہیں ایک حدیث کا مفہوم سنایا کہ روز قیامت انسان کی قدر و قیمت اس حوالے سے بھی کی جائے گی کہ اسے بچوں سے کتنی انسیت تھی ( یا غالباً بچے اس سے کتنے مانوس تھے ) سن کر اتنی خوش ہوئی کہ ہنستے ہوئے مجھے گلے لگا لیا۔
سوزین سراپا ماں تھیں ، عورت کا وہ مکمل روپ ، جو جتنی گہرائی تک اس کے اندر اترے اتنا ہی اسے بھرپور بناتا ہے ،نارمل رکھتا ہے۔ بسکٹ کا پیکٹ کھول کر ان کی پلیٹ میں ڈالتے ہوئے میں نے پہلا سوال کیا ۔
’’ سوزین ! آپ خواتین کے لیے مثبت سوچ پر مبنی ایک عالمی تنظیم کی رکن ہیں اور اقوام متحدہ میں چلڈرن رائٹس کمیٹی کے تحت سر گرم عمل ہیں ؟‘‘
’’جی ہاں!‘‘
’’ یہ کس قسم کے خیالات ہیں آپ کے ؟ دریا میں رہنا اور مگر مچھ سے بیر رکھنا ۔ آپ جیسی عورتیں تو وہاں آٹے میں نمک کے برابر ہوں گی؟‘‘
’’ بالکل نہیں ‘‘ انہوں نے اعتماد سے کہا ’’ ایسی عورتوں کی تعداد اب یورپ و امریکہ میں بھی بہت ہے جو ماں کے روپ کو اس کی تکمیل سمجھتی ہیں اور خاندان کی تباہی پر فریاد کناں ہیں مگر ان کو میڈیا پر آنے نہیں دیا جاتا ‘‘۔
’’ کتنے بچے ہیں آپ کے ؟‘‘ میں نے سوچا دیکھوں تو سہی ، کہے پر عمل کتنا ہے ۔
’’ 7 بچے اور18 گرینڈ چلڈرن !‘‘ انہوں نے فخر سے بتایا:
’’ اگر آپ خاندان کے تحفظ کی علمبردار ہیں تو یقیناً فری سیکس کی بھی مخالف ہوں گی کیونکہ یہ سب کچھ تو آپس میں مربوط ہے‘‘۔
’’ بالکل …یقیناً… سو فیصد… میں شادی کے علاوہ ہر تعلق کو غلط سمجھتی ہوں اور اس طرف لے جانے والے راستوں کو بھی غلط سمجھتی ہوں ۔ جیسے ٹی وی کے فحش چینل اور انٹر نیٹ‘‘۔
مجھے لگا میں اپنے معاشرے کی کسی نانی دادی سے بات کر رہی ہوں جو نئی نسل کو روک ٹوک کرنے پر ادھار کھائے بیٹھی ہے۔
’’میں نے اپنے گھر میں ٹی وی کیبل پر فلٹر لگوارکھا ہے ۔ اس لیے ہمارے گھر میں غلط قسم کے پروگرام نہیں دیکھے جاتے ۔میں نے ان پر سختی سے پابندی لگائی ہوئی ہے کیونکہ فیملی سسٹم کی پائیداری کے لیے یہ ضروری ہے ‘‘۔
’’ اچھا یہ فیملی پلاننگ تحریک کے بارے میں کیا خیال ہے آپ کا ؟‘‘
’’ یہ بالکل غلط ہے ….ہمارے معاشروںمیں چھوٹے خاندان اور برتھ کنٹرول کے نقصانات اب پوری طرح سامنے آتے ہیں لہٰذا اب وہ شادی کر کے گھر بسانے اور بڑے خاندان رکھنے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیںبلکہ زیادہ بچوں پر انعامات مقرر کر رہے ہیں ۔(ہنستے ہوئے ) مجھے تو یوں لگتا ہے کہ کچھ عرصےبعد دنیا میں صرف مسلمان اور مورمن عیسائی ہی باقی رہ جائیں گے جن کا فیملی سسٹم مضبوط ہے اور بچے زیادہ‘‘۔
’’ یہاں آکر یہ ہر طرف اڑاتی ہوئی گرد یقیناً آپ کو پریشان کر رہی ہو گی …‘‘ میں نے موضوع بدلتے ہوئے قرطبہ کے درو دیوار کو دیکھا جن کی بنیاد بس خاک اور خلوص پر تھی ۔
’’ ہر گز نہیں…. مجھے تو یہ سب اتنا حیرت انگیز لگ رہا ہے ۔ یہ سارا انتظام ، اتنے لوگ ! امریکہ کے لوگوں میں تو اس طرح کے حالات میں جمع ہونے کا تصور بھی نہیں ‘‘ پھر ٹینٹ پرلگے بینر کو چھو کر کہنے لگیں …’’ یہ بھی !‘‘ پھر چھت کو دیکھ کر کہا ۔’’ امیزنگ!‘‘ کتناخوبصورت ڈیزائن ہے ‘‘۔
میں نے بھی سر اٹھا کر دیکھا ، وہ خستہ حال قنات کے نمونے کی تعریف کر رہی تھیں ۔ جس کے رنگ اڑتی ہوئی گرد کے باعث مزید پھیکے پڑ گئے تھے۔
’’ پاکستان کی تو ہر چیز خوبصورت ہے ۔ یہاں کے لوگ ، علاقے ، کلچر ، روایات….‘‘
’’ہمارے مہمان بھی بہت خوبصورت ہوتے ہیں ‘‘۔ ثمرہ (عائشہ منور حسن کی بھتیجی) نے برجستہ کہا ۔ ان کے منہ سے پاکستانی عورتوں اور اقدار و روایات کی بار بار تعریف سن کر بالآخر میں نے کہا۔
’’خیر ، اب یہ ماحول بھی میڈیا اور مغربی تہذیب کے زیر اثر تبدیل ہوتا جا رہا ہے ۔ پاکستانی عورتوں کو بھی کیرئیر اور برابری کے سراب دکھا کر اصلی دائرہ کار سے دور کیا جا رہا ہے ۔ اب وہ بھی زیادہ بچوں کو جھنجھٹ سمجھتی ہیں اگرچہ ہمارا ایمان ہے کہ ہر آنے والا اپنا رزق ساتھ لے کر آتا ہے ، مگر ہم کھلے بندوں کہتے پھرتے ہیں کہ اور بچے آگئے تو کھائیں گے کہاں سے ‘‘۔
’’ اچھا کیا واقعی ایسا ہے ؟‘‘ سوزین حیران ہوئیں ۔ پھرکہنے لگیں ’’مجھے اس بات کا تجربہ سوڈان میں بھی ہؤا تھا ۔ میں اسی طرح وہاں بھی مسلم خواتین کی عالمی کانفرنس میں شرکت کرنے گئی تھی۔ وہ سب نہایت اچھی ، سمجھدار اور مسلمان خواتین تھیں ، مگر ان کی گود میں وہی دو دو ، تین تین بچے … میں نے کم بچوں کا سبب پوچھا تو کہنے لگیں کیا کریں ماحول ہی ایسا بنا دیا ہے کہ زیادہ بچوں کا سن کر دوسرے لوگ حیرت کااظہار کرنے لگتے ہیں ۔جیسے کوئی غلط کام ہو ۔ بین الاقوامی تحریک کے اثرات تو ہر جگہ پڑ رہے ہیں ‘‘۔
’’ اچھا یہ بتائیں …. یہ جو آپ کا امریکہ ہے یہ دنیا کا تھانیدار کیوں بنا پھرتا ہے ؟‘‘
’’ میں امریکہ کے اس کردار سے بالکل اتفاق نہیں کرتی ۔ میں اس بات کی حامی ہوں اور کھل کر کہتی ہوں کہ ہر ملک کو اپنی قومی خود مختاری برقرار رکھنے کا حق ہے ۔ اس کے فیصلے اپنے ہونے چاہئیں ۔ کسی دبائو کے تحت نہیں ،یہ نہیں کہ امریکہ جس چیز کو غلط قرار دے دے اسے لازماً سب غلط کہیں ، ورنہ نتائج بھگتیں ، میں آپ کو بتائوں ، امریکہ کا چونکہ قومی مذہب ، نسل یا عقیدہ کوئی نہیں ہے ، اس لیے وہاں پرکوئی ہر بات کہہ سکتا ہے ۔ ہر قسم کی سوچ رکھ سکتا ہے ۔ یہاں تک کہ امریکہ میں خود امریکہ ہی کے خلاف بولنے اور اس کے عالمی مفادات کے خلاف کام کرنے کی بھی آزادی ہے ۔ اسی لیے بہت سے امریکی اپنی قومی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ‘‘۔
’’ اگر آپ بتانا چاہیں …. صدارتی انتخاب میں کس کو ووٹ دیں گی ؟‘‘
’’ بش جونیئر کو ‘‘ فوری جواب آیا۔
’’ وجہ؟‘‘
’’ مد مقابل امیدوار ایل گورتوموجودہ حکومت کی پالیسیوں کا ہی تسلسل ہے ۔ گور خود بڑا کٹرماحولیت پسند (Environmentalist) ہے اور ’’ کرہ ارض کے بچائو‘‘کے لیے دنیا بھر میں فیملی پلاننگ مہم پر بہت زور دیتا ہے جبکہ میں اس کے سخت خلاف ہوں ‘‘۔
’’ کیا بش کی صورت میں بہتری آئے گی ؟‘‘
’’ امید رکھنے میں کیا ہرج ہے!‘‘ سوزین نے ہلکا سا قہقہہ لگایا۔
’’ اچھا چلیں ، پھر خاندان کے موضوع کی طرف آتے ہیں ۔ کیا آپ کے بچے بھی آپ ہی کی طرح بڑے خاندان اور اس کی مضبوطی پر یقین رکھتے ہیں ؟‘‘
’’ بالکل ، کیوں نہیں رکھیں گے ۔ میری دو بیٹیاں اور پانچ بیٹے ہیں ۔ یقین کریں کہ میری پانچوں بہوئیں گھریلو زندگی گزار رہی ہیں۔یعنی صرف بچوں کی تربیت پر توجہ دے رہی ہیں اور ہم سب کو اس بات پر بے حد فخر ہے ‘‘۔
’’ دنیا بھر میں مسلمانوں پر جو مظالم ہو رہے ہیں کیا آپ ان سے آگا ہ ہیں ؟‘‘
’’ کشمیر کے بارے میں مجھے افسوس ہے کہ میں زیادہ نہیں جانتی لیکن اتنا ضرور سوچتی ہوں کہ انڈیا خود کو سیکولر کہتا ہے اور ہر مذہب کی آزادی کا دعویٰ کرتا ہے۔ پھر کشمیری مسلمانوں کو کس بات کی سزادے رہا ہے ؟ البتہ یورپ کے اندر کسووو کے مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے گئے ہیں ان پر مجھے دلی صدمہ ہے ۔ میں کچھ عرصہ قبل انسانی ہمدردی کی ایک تنظیم کے تحت یتیم اور لا وارث بچوں کی نگہداشت کے سلسلے میں کسوو و گئی تھی ۔ وہاں جا کر میری حیرانی کی انتہا نہ رہی کہ اس قدر تباہی و بربادی اور قتل و غارت کے بعد بھی وہاں کوئی بچہ لاوارث نہیںتھا ۔ ہر یتیم بچے کو اس کے کسی نہ کسی رشتہ دار نے تحویل میں لے لیا ہؤا تھا ۔ یہ یقیناً آپ مسلمانوں کے مضبوط خاندانی نظام کی نشانی ہے ‘‘۔
’’ اپنے مشن کے لیے اور کہاں کہاں گئیں آپ؟‘‘
’’ میں افریقہ بہت پھری ہوں اور میں نے دیکھا کہ وہاں ایڈز بہت ہے جو افریقیوں کو گھن کی طرح کھا رہی ہے ، ایڈز کے اس پھیلائو کاسبب ان کی اخلاقی پستی ہے ۔ صرف مسلمان ممالک اس مرض سے بچے ہوئے ہیں کیونکہ ان میں اخلاقی نظام کی جڑیں بہت گہری ہیں ‘‘۔
ثمرہ ان کو مختلف شعبہ جات کے سٹال دکھانے کے لیے لے جانا چاہ رہی تھیں ۔ میں نے جلدی سے آخری سوال کیا ۔
’’ پاکستانی عورتوں کوکوئی پیغام دینا چاہیں گی آپ ؟ آپ کی زبان سے ان کے لیے پیغام بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ آپ اس معاشرے سے آئی ہیں جس کی ترقی آزادی اور خوشحالی کا خواب یہاں کی عورتوں کو جنت کی طرح دکھایا جاتا ہے ‘‘۔
انہوںنے اس کم معیاری برانڈ کے جوس کو بڑے شوق سے آخری گھونٹ تک ختم کیا ، جو اجتماع عام کی اس مہاجرت میں ہمیں مہمانوں کے لیے میسر ہو سکا تھا ۔ پھرکہنے لگیں۔
’’ ان کے لیے میرا پیغام یہ ہے کہ اول تو اچھی ماں کا یہ کردار اسی طرح ادا کرتی رہیں اور خاص طور پر بیٹیوں کی بہت اچھی تربیت کریں تاکہ وہ مستقبل میں اچھی مائیں بن سکیں ۔ دوسری بات یہ کہ پاکستانی بچوں میں تعلیم کی بہت کمی ہے ۔ اس کی ضرور فکر کریں ۔ تعلیم یافتہ بچے ہی خاندان کو تحفظ دے سکتے ہیں ۔ خواہ آپ کے پاس مادی دولت اور سہولتیں نہ ہوں، مگر اچھی تعلیم و تربیت کی جتنی اہمیت ہے اتنی کسی اور چیز کی نہیں اور ہاں یہ یاد رکھیں کہ کیبل ٹی وی اور انٹر نیٹ بچوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے ‘‘۔
سوزین کا شکریہ ادا کر کے اپنے اوراق سمیٹتے ہوئے میں سوچ رہی تھی کہ کاش بیرونی ایجنڈوں پر آنکھیں بند کر کے اپنی ہی کشتی میں سوراخ کر نے والی ہماری این جی اوز کبھی اس خاتون کو غور سے دیکھیں جو تیز تر مخالف ہوائوں میں باد بان کارخ موڑنے کی جدوجہد میں مصروف ہے کیونکہ اس نے کامیابی کاکنارا دیکھ لیاہے۔٭
بتول دسمبر2000