’’ آپ نے اپنے والد مرحوم کی خدمت ،تیمار داری اور بہترین علاج میں بے مثال لگن اور دل جمعی کا ثبوت دیا ہے ‘‘۔
ممتاز احمد بٹ نے افتخار انصاری پولیس کے اسٹیشن ہائوس آفیسر (SHO) کے والد کی رحلت پر تعزیت کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے۔ کیونکہ افتخار انصاری نے اپنے والدکی طویل علالت میں شب و روز ایک کر دیے تھے ۔ اور جاننے والے اسے خوب داد دیتے تھے کیونکہ ان کے والدکو بستر علالت پر دن میں کئی دفعہ ان کی توجہ کی ضرورت پڑتی تھی اور انہیں اپنے لباس اور بستر کی صفائی بلکہ دھلائی کا سانحہ بار بار پیش آتا تھا اور تیمار دار کو ہر لمحہ مستعد رہنا پڑتا تھا اورلباس کے متعدد جوڑے تیار رکھنے ہوتے تھے ۔ والدین کی خدمت میں یہ حکم ہے کہ اولاد ان کی سہولت اور عافیت کی مشقت برداشت کرتے ہوئے کبھی اُف تک نہ کرے ۔ ایک مفسر نے ’’اُف‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے یوں لکھا تھا کہ اولاد خدمتِ والدین کی ایسی حالت میں کبھی منہ نہ سکیڑیں، بلکہ نہایت خوش مزاجی سے ایسا مظاہرہ کریں کہ والدین یا جو بھی مریض ہو کسی ناگواری کے احساس کا مشاہدہ نہ کریں اور افتخار انصاری نے صبر اور سنجیدگی سے والد کی خدمت میں خوش اخلاقی کا ثبوت دیا تھا ۔
افتخار انصاری نے اپنے والد کی رحلت پر آنے والے احباب کو والد کی خدمت کا ایک دوسرا چشم دید واقعہ سنایا ۔
کہنے لگے کہ جس وارڈ میں میرے والد صاحب فراش تھے ، وہیں ساتھ والے بستر پر ایک اور بزرگ مریض لیٹے تھے ۔ان کا بیٹا بھی ان کی خدمت میں مجھ سے بڑھ کر مستعدی رکھتا تھا اور ہر آن ان کی راحت کے لیے بے چین رہتا تھا۔ ایک روز رات کے پہلے حصے میں تھانے میں کوئی ایسی ہنگامی صورت پیدا ہوئی کہ مجھے ڈیوٹی پر طلب کرلیا گیا ۔ اس وقت میرے لیے فوری طور پر اپنے اہلِ خانہ کو یہ فریضہ سونپنے کی فرصت نہ تھی ۔ میںنے اپنے قریب والے شخص سے کہا ’’آپ میرے بعد میرے والد کا خیال رکھیں ۔ میں کوشش کروں گا کہ جلدی لوٹ آئوں‘‘۔
اس نے کہا ’’ آپ بے فکر ہو کر جائیں ۔ یہ بزرگ میرے لیے والد کی طرح ہیں ۔ میں ان کی خدمت میں ہرگز کوتاہی نہ کروں گا ‘‘۔
میں خلاف توقع تھانے میں کچھ اس قدر مصروف ہؤا کہ مجھے اگلی صبح کی اذانیں سنائی دینے لگیں اور تب مجھے یاد آیا کہ میں اپنے والد کو چھوڑ کر آیا ہؤا ہوں ، معلوم نہیں انہوں نے یہ رات کس طرح کاٹی ہو گی ۔ میں جب ہسپتال پہنچا تو میرے والد نہایت آرام اور سکھ سے لیٹے ہوئے تھے ۔ ساتھ والے مریض کے تیمار دار نے رات بھر تین چارمرتبہ ان کے لباس اور بستر کو غلاظت سے پاک کیا تھا ۔ ان کے کپڑے دھو کر ممکن جگہ پر پھیلا رکھے تھے اور تیمار داری میں ذرا بھی سستی نہ کی تھی ۔ میرے والد نے ان کی تعریف کی اور مجھے اطمینان دلایا کہ میرے وہاں نہ ہونے کے باوجود پڑوسی بستر کے تیمار دار نے محبت اور چاہت سے خوش دلی سے ان کی خدمت انجام دی تھی۔
میں پڑوسی بھائی کا شکریہ ادا کرنے لگا اور میں نے پوچھا’’ آپ کیا کام کرتے ہیں ‘‘۔
کہنے لگے میںعدالت میں ملازم ہوں ۔ والد صاحب کو ہسپتال داخل کرانا ضروری تھا ۔ اس لیے رخصت لے کر ان کے پاس ٹھہرا ہؤا ہوں ۔ میں نے اپنی مٹھی میں پانچ سو کا نوٹ تہ کر کے ان کی خدمت کا صلہ دینا چاہا لیکن وہ نہ مانے اور یہ کہہ کرمجھے مطمئن کردیا ۔
’’ میں نے ان کو اپنے والد کی طرح صاحب مدارات سمجھا اور ان کے آرام کاخیال رکھا ۔ میں نے آپ سے ان کو سنبھالنے کا وعدہ کر رکھا تھا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے میں نے آپ سے کیا ہؤا عہد نبھایا ، مجھے یہ پیسے لینے پر مجبور نہ کریں ۔ میں بہتر گزر اوقات کر رہا ہوں ۔ میں نے کسی صلے اور اجر کے لیے یہ خدمت نہیں کی ‘‘۔
خیر…. میں نے ان سے مزید ضد نہ کی اور اپنے رویے سے ان کو احترام اور ملائمت کے لائق سمجھا ۔ ان کے قریب میں مجھے دو دن مزید رہنا پڑا ۔ ان کے والد کی طبیعت بہتر ہوگئی اور میں نے ان کو جاتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنا پتا بتاتے جائیں ۔ انہوں نے نہ چاہتے ہوئے پتا بتایا ،لیکن میں نوٹ نہ کر سکا اور بھول گیا ۔
ان کے پاس ایک دوسرے تعزیت کرنے والے دوست شیخ نثار بیٹھے تھے ۔ انہوں نے کہا ’’ میں جب آپ کو ملنے ہسپتال گیا تھا تو وہیں ان سے میری ملاقات ہوئی تھی لیکن میں متعجب ہؤا کہ ہائیکورٹ کا ایک جج وہاں اپنے والد کی تیمار داری کررہا ہے ۔ میںنے آپ سے ان کا تعارف کراناضروری نہیں سمجھا‘‘۔ ایس ایچ او افتخار انصاری نے شیخ نثار احمد سے ان کا اتا پتا پوچھا تو انہوں نے بتایا۔
’’ وہ صاحب جسٹس شبیر احمد جج ہائیکورٹ تھے ‘‘۔
انصاری صاحب نے تعجب سے کہا ’’ انہیں پرائیویٹ کمرے میں رہنے کا استحقاق حاصل تھا اپنی entitlement کے لحاظ سے مگرانہوں نے جنرل وارڈ میں اپنے والد کو رکھا ؟‘‘
شیخ نثار نے بتایا کہ ’’ جج صاحب بھی یہ جانتے تھے ، لیکن وہ کہتے تھے کہ ’’ ہسپتال کے بڑے ڈاکٹر بالعموم استحقاق والے مریضوں کو دیکھنے شایدہی آتے ہوں ، کیونکہ مریض انہیں Visit feeنقد ادا نہیں کرتے ۔ وہ وہیں بیٹھے بیٹھے ماتحت عملہ سے مریض کی رپورٹ لے کر دوا کے لیے ہدایات دیتے ہیں لیکن جسٹس شبیر احمد جنرل وارڈ میں ڈاکٹر مریض کو دیکھ لینے میں تکلیف محسوس نہیں کرتے ۔ اس لیے انہوں نے علیحدہ کمرے کا مطالبہ نہیں کیا‘‘۔
شیخ نثار نے وہاں بیٹھے لوگوں کو اس جج صاحب کی بات بتائی ۔ کہنے لگے ’’ مسٹر جسٹس شبیر احمد نے اپنا بچپن غربت میں گزارا ۔ ان کے والدین نے انہیں مشکل سے میٹرک تک تعلیم دلوائی ۔ بعدازاں جسٹس صاحب نے چند سال ایک بڑے سٹور پر ملازمت کی جہاں کام کے طویل گھنٹے گزارتے ، لیکن انہوں نے پرائیویٹ تیاری کر کے بی اے پاس کرلیا ، اس کے بعد وہ لا کالج میں داخلہ کے لیے لاہور چلے گئے اور چند گھروں میں بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر ہاسٹل میں قیام اور کالج کی فیس ادا کرتے تھے ۔ قسمت نے یاوری کی اور وہ چند سال لگا کر اچھے وکیل بن گئے ۔ پھر ایک امتحان کا موقع آیا تو وہ کامیاب ہو کر ڈسٹرکٹ عدالت میں جج تعینات ہوئے اور ملازمت کے ساتھ ساتھ انہوں نے محنت کی او ر بالآخر انہیں ہائیکورٹ میں جج تعینات کر دیا گیا ۔ اب وہ عدالت عالیہ میں ایک معزز جج کے طور پر پہچانے جاتے ہیں‘‘۔
انصاری صاحب اور دیگر ان کا والد صاحب کو یوں ہسپتال میں داخل کرانا اور شب و روز خدمت کرنا ، دیکھ کر بہت حیران ہوئے اور رب کریم کا انہیں اپنی محنت اور والد کی اس بے لوث خدمت کے صلے میں ایسا اونچا منصب عطا کرنا بے مثال واقعہ تھا۔
٭٭٭