ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

زمیں پر فرشتے – بتول اکتوبر۲۰۲۲

گرج چمک اور برستے بادل
پہاڑ پانی اگل رہے تھے
وہ تندر پلے جو بہتے بہتے
مبر ایک بستی نکل رہے تھے
بہت سے آنگن، پیسے ہوئے گھر
پلک جھپکتے اجڑ رہے تھے
وہ آزمائش میں پڑچکے تھے
تلاطموں سے جھگڑ رہے تھے
مگر بہا در جوان کیسے
بھر تے دریا سے لڑ رہے تھے
تباہ منظر ڈرا رہے تھے
مگر وہ موجوں سے بھڑ رہے تھے
ندا پنی جانوں کی فکر ان کو
دلوں میں جذ بے امڈ رہے تھے
بس ایک دھن تھی سواران پر
بچالیں ان کو جو مر رہے تھے
بنا کے ڈوری کے عارضی پل
غضب کی تدبیر کر رہے تھے
وہ خدمتوں کے عظیم جذ بے
دلوں کو تسخیر کر رہے تھے
مصیبتوں میں مدد کی خاطر
وہاں فرشتے اتر رہے تھے
مگر فرائض تھے جن کے وہ سب
ہوائی ہمدردیاں دکھا کر
ذرا سا راشن فقط گرا کر
لٹے پٹے اور تم رسیدہ
مصیبتوں میں گھرے ہوؤں کی
مزید تحقیر کر رہے تھے

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x