ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

روشنی اور سایا – بتول جون ۲۰۲۳

نہ جانے کس مخصوص غذائی جز کی کمی تھی کہ ’ روشنی‘ نام ہونے کےباوجود بھی وہ سیاہ رنگت کی تھی۔ بنگلہ نمبر بی تینتیس میں روشنی کی ماں جب اپنی گیارہ برس کی بچی کو کام کے لیے چھوڑ کر گئی تو چھ ماہ کے پیشگی معاوضہ کے طور پر اس کی پوٹلی میں ستر ہزار سکہ رائج الوقت بھی بندھا تھا ، اس ستر سے اس کے کنبے کی سات ضروریات کچھ عرصہ ہی پوری ہوتیں، جس میں غذا کی فراہمی سے لے کر موبائل کارڈ کی خریداری بھی تھی۔ اب بھی دس ہزار کم ملے تھے۔ پچھلی گلی کے سفید بنگلہ والی اماں جی نے سال بھر کا ایڈوانس اور پیسے بھی بہو کی ناپسندیدگی کے باوجود زیادہ دیے لیکن روشنی دو ماہ میں ہی بھاگ گئی ، وہ تو شکر ہے بھاگ کر کالونی باغ ہی گئی جہاں اس کا ماموں مالی تھا۔
ماموں گیٹ کے ساتھ لگی باڑھ کی کاٹ چھانٹ میں مصروف تھا جب روشنی کی منمناتی آواز اس کے کانوں میں آئی تو وہ اسے دیکھ کر پہلے حیرت اور پھر طیش میں آگیا اور اسے گھسیٹتا وہیں پہنچا جہاں سے وہ آئی تھی لیکن انہوں نے کسی بڑی آفت میں گھرنے سے پہلے ہی روشنی کو دوبارہ رکھنے سے انکار کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کو گھر سے باہر گئے دو گھنٹے گزر چکے ہیں، اتنی دیر میں وہ ہر جگہ اس کو تلاش کر چکے تھے۔ چوکیدار بھی خوب ہلکان ہؤا لیکن روشنی نہ جانے کونسی سلیمانی ٹوپی پہن چکی تھی کہ کسی کو بھی نہ دکھی، ایسے جلےپیر والی لڑکی ان کے لیے کوئی بھی مصیبت کھڑی کرسکتی ہے۔ اماں جی نے اپنی رقم پر بھی مٹی ڈالی لیکن اس کو نہ رکھا کہ ’’جن کے پیروں کو باہر کی ہوا لگ جائے وہ ٹکنا نہیں جانتے‘‘۔
یہ وہی اماں جی تھیں جوپہلے روشنی کے غائب ہونے پر رہ رہ کر ڈرائیورکو یاد کرتی رہیں جسے بیٹے نے کاموں کی ایک لمبی فہرست دے کر پرانے شہر بھیج رکھا تھا۔
’’ساگر تلاش کر ہی لاتا‘‘۔
ہر کچھ دیر بعد ان کو ہول اٹھتے اور وہ رندھی آواز میں کہتیں تو گھر والے کلفت زدہ ہوکر کہتے’’اماں کہاں جائے گی، آہی جائے گی‘‘۔
’’ارے بیٹا لڑکی ذات ہے، عزت، حفاظت ہمارے ہی ذمہ ‘‘۔
بانو باورچن اماں جی کے فقرے پر منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتی سر کو جھٹکتی۔
مگر اب ان اماں جی نے بھی اس کو رکھنے کی حامی نہ بھری. انہوں نے بھی بیٹے بہو کے تیور پڑھ لیےتھے۔
ماموں نے ان کا انکار سنتے ہی اسی وقت گیٹ سے نکلنے سے پہلے روشنی کی ماں کو فون پر پہلی گاڑی سے شہر پہنچنے کو کہا۔
’’وہ تو یہ واپس آگئی ورنہ انہوں نے گمشدگی کا پرچہ تھانے میں جمع کرانا تھا‘‘۔
چوکیدار نے کھوجتی نظروں سےماموں کی آڑ میں کھڑے روشنی کے باریک سے وجود کو دیکھتے خاصے ترش لہجے میں کہا، تو ماموں نے اس کے کندھے پر اپنے بھاری ہاتھ کا دباؤ ڈالتے’’بکواس بند کر ‘‘کا اشارہ دیا. اس نے ہاتھ جھٹک کر ماموں کو دھکا دیتے گیٹ بند کر دیا۔
روشنی ماموں کے ساتھ ہی گھسٹتی نکلی تو سڑک پر گر گئی۔ اس کے گھٹنے چھل گئے تھے لیکن ماموں سب سے بےنیاز چل رہا تھا۔
اس وقت سہ پہر کے ساڑھے تین ہو رہے تھے، باغ کا گیٹ کھلنے میں گھنٹہ بھر تھا، ماموں روشنی کو لے کر کوارٹر واپس پہنچ گیا اس گھنٹہ بھر میں اس نے کوئی تین بار تو ضرور روشنی پر ہاتھ اٹھایا ، وہ سسکیاں لیتی ماموں کے پلنگ سے چمٹ کر بیٹھ گئی۔ بہن کو دوبارہ کال لگاتے اس کے ماتھے کی رگ پھڑ پھڑانے لگی۔ بات کے دوران اس نے دانت پیستے بھانجی کو دیکھا جس کی باغ میں بنے کوارٹر میں با آواز بلند رونے کے ساتھ موجودگی کوئی مصیبت بن سکتی تھی۔کوئی بھی اس پر اغوا، اٹھائی گیری وغیرہ کا الزام لگاتے ویڈیو بنالیتا تو وہ کیا کرلیتا۔
’’ہؤا کیا تھا جو تو بھاگ آئی؟ ‘‘
دس بار پوچھنے پر بھی روشنی نے کوئی وجہ نہ پھوٹی، بس روتی رہی۔ اس کے بھیں بھیں کرکے رونے سے ماموں بجائے نرم پڑنے کے مزید آگ بگولہ ہوتا گیا۔ رو بھی ایسے رہی تھی جیسے اسے کوڑے مارے جا رہے ہوں۔ ہر بار اس کی لے بلند ہوتی اور ’’ چپ کرجا کمبخت!‘‘
ماموں پھنکارتا مگر وہ گلے کا زور لگا کر آواز بلند کرتی رہی۔
’’چپ نہ ہوئی تو گلا دبا کر زمین میں گاڑ دوں گا‘‘ بالآخر وہ دھاڑا۔ دھمکی کام کر گئ اور وہ ایسے چپ ہوئی جیسے کھلونے کی بیٹری ختم ہوجا ئے اور وہ دھیمے دھیمے بند ہو جائے۔
بھوک اور پٹائی سے اس کا جسم دکھ رہا تھا، لیکن آنسو ایک بھی نہ تھا۔
بالکل سوکھی آنکھیں اور آواز میں دنیا جہاں کی تکلیف! وہ انتظار میں تھی کہ ماموں باہر نکلے تو وہ بھی یہاں سے نکل جائے۔ دو گھنٹے تک کالونی کے پارلر کے احاطے میں ایسے موجود رہی جیسے اسے باہر بٹھا کر باجی اندر مصروف ہوں ، نہ جانے کیوں اماں جی کے گھر والوں کو نہ ملی۔
پچھلے دو ماہ میں اماں جی کے ہاں رہتے ہوئے اماں جی کے رشتہ دار کا گھربی تینتس اس نے پچھلی گلی میں کئی بار دیکھ لیا تھا۔ ان کے بچے اسے اچھے لگے تھے، اس کے ساتھ باتیں کرلیتے اور سفید بورڈ پر تصویر یں بھی بنالیتے۔جبکہ اماں جی کا پوتا چار سالہ شازی تو روشنی کو اپنے قریب بھی نہ دیکھنا چاہتا۔ اماں جی اپنے گھر والوں کے انداز دیکھتے اسے اپنے ہی ساتھ رکھتیں، وہ تھی ہی ان کی مددگار۔ بقیہ گھر والوں کو اس سے کچھ زیادہ سروکار نہیں تھا۔
اماں جی کے ان رشتہ دار کے ہاں ہر پندرہ دن میں پنجاب کے کسی علاقے سے حکیم صاحب آتے، دم درود بھی کرتے اور پڑیا بھی دیتے، اماں جی گاڑی میں روشنی کو بٹھا کر ڈرائیور کے ساتھ اپنے دردِ شقیقہ کے علاج کے لیے پہنچ جاتیں۔ کتنا بھی مریضوں کا رش ہوتا، اماں جی کو دیکھتے ہی ان کو دم اور دوا دے کر فارغ کردیا جاتا۔ بدلے میں حکیم جی بھی رقم سے نہال کردیے جاتے۔
حکیم جی روشنی کو سرسری دیکھتے اماں جی سے یہ ضرور کہتے ’’آپا بچی پر بری نگاہ ہے، آپ کہیں تو اس کا علاج بھی کردوں‘‘۔
’’حکیم صاحب اس پر کوئی نگاہ ڈال لے تو یہ خوش ہوجائے بری نگاہ کیا ہوگی ‘‘۔
ان کے اس جملے پر وہ اپنی اچکن کو کالر سے کھینچتے مختصر سی ہوں کا ہنکارا بھرتے۔
’’آپ کی مرضی!‘‘
اماں جی کا جملہ ایسا کچھ غلط بھی نہ ہوتا، روشنی سیاہ فام جیسے نین نقش نہ رکھنے کے باوجود ایسی ہی لگتی جس سے بچے شاذو نادر ہی بات کرنا چاہتے۔
یہ ناپسندیدگی متکبرانہ نہ تھی بلکہ قدرتی طور پر روشنی ایک مختلف سا وجود تھی۔اچھے کھانے پینے اور لباس نے بھی اس پر کوئی خاص فرق نہ ڈالا تھا۔ محنت بھی اس پر کچھ زیادہ نہ تھی، اماں جی کے بیٹے بہو کا رویہ لباس، کام اور آرام تینوں کے لحاظ سے اچھا تھا۔
روشنی کی گھر کے بقیہ ملازمین سے نوک جھونک ہوتی تو اس کو نظر انداز ہی کردیا جاتا۔
’’بچہ ہے، جانے دو! ‘‘
’’روشنی اماں جی کے پاس جاؤ یہاں کیا کر رہی ہو؟‘‘
گھر کے مالکان کا ہولا ہاتھ ملازمین کو غصہ دلاتا لیکن وہ چپ رہتے۔بانو باورچن کی جب وہ نقل اتارتی تو وہ اس کو کبھی کبھار جھانپڑ جڑ دیتی، پھر جو اس کا رونا شروع ہوتا تو اماں جی کو اس کو چپ کرانے کے لیے عاجز ہوکر ایک اور ہاتھ لگانا پڑتا۔
ستم یہ تھا کہ سر کی صفائی رکھنے کے لیےاماں جی اس کے بال لڑکے نما ترشوا دیے. نہ جانے شرم یا الم میں وہ سیاہ اسکارف سر پر منڈھے رہتی جس سے وہ مزید ناپسندیدہ منظر بن گئی۔
مگر حکیم صاحب کے روشنی کی طرف بنا نظر اٹھائے کہے جملے میں ایسا کیا تھا کہ روشنی کو لگتا وہ روشنی کے اندر کا سب بھید جانتے ہیں۔ان کی موجودگی اسے حوصلہ دیتی تھی، جیسے وہ بلاؤں سے محفوظ ہوگئی ہو۔اور پچھلے ہفتہ حکیم صاحب نے ہنکارا بھرنے کے بعد ایک پڑیا میں پانچ چھ باریک سے میٹھی دانے نما دوا پر پڑھ کر پھونک کر اماں جی کے ساتھ بیٹھی روشنی کی جانب بڑھاتے کہا۔
’’کھا لے اسے‘‘۔
روشنی نے حیران نظروں سے دیکھتےگردن گھما کر اماں جی کو دیکھا جنہوں نے بادل نخواستہ آنکھ کا اشارہ کیا اور روشنی نے پڑیا پھانک لی۔
یہ سارا کچھ تھا لیکن روشنی کو کسی نے گیٹ سے باہر جھانکتے تاکتے نہ دیکھا، ایسے میں اس کا گھر سے غائب ہوکر ماموں کے پاس پہنچ جانا معمہ تھا۔
’’تو بھاگ کر کیوں آئی جنم جلی؟‘‘
سورج ڈھلنے تک ماں اپنا سوکھا کانگڑی سا وجود لے کر ہانپتی آچکی تھی اور لکڑی نما ہاتھ سے پٹائی شروع کرتے ہی پہلا سوال وہی کیا جس کا جواب اس نے ماموں کو بھی نہ دیا تھا۔
اس وقت اس کا سر کھلا تھا اور ایک جوں سر سراتی بالوں کے نیچے غائب ہونے سے پہلے ماں نے نوچ کر نکالتے ناخنوں کے درمیان دبادی۔
’’اتنے اچھے لوگ تھے، بانو بتارہی تھی پچھلے ماہ تو نے ان کے بچوں کی سائیکل توڑ دی، کھانا قالین پر گرایا، تیل کی بوتل اوندھا دی اور کتنے ہی نقصان کیے پر انہوں نے تیری پٹائی بھی نہ کی، میں ہوتی تو قیمہ بناتی تیرا اتنے نقصانات پر‘‘ اس کی ماں دانت پیستی بول رہی تھی لیکن وہ بس بہری بنی سنتی رہی۔ مجال ہے کچھ بولی ہو کہ دوماہ بعد ہی کیوں آگئی واپس۔
ہاں ایک جملہ بار بار کہتی رہی’’ اماں جی کے رشتہ دار کے گھر جانا ہے‘‘۔
’’کیوں وہاں تیرا کون ہے؟‘‘
’’ وہاں حکیم ہے!‘‘اتنے وقت بعد وہ ریں ریں کرتے بولی ۔
’’تو کیا لگتا ہے حکیم تیرا؟ ‘‘
’’پتہ نہیں….مگر دوا دیتا ہے‘‘۔
یہ جملہ کہتے ہی وہ یکدم چپ ہوگئی، کچھ اندیشے ماں کے دل میں پھن پھیلا گئے۔
’’ اماں جی کے گھر کیا ہؤا؟‘‘
وہ چپ کی چپ رہی۔
’’بولتی کیوں نہیں اماں جی کے گھر کیا ہوا؟ ادھر آ!‘‘
ماں نے اس کو اچھی طرح سے ٹٹولنا شروع کیا تو وہ پھر چیخنے لگی، لیکن دو چار ہتھڑ کھا کر ایسے ساکت ہوگئی جیسے مر چکی ہو، کچھ دیر اچھی طرح معائنہ کرکے ماں نے اطمینان کی سانس لیتے آنکھیں بند کرلیں۔ اب اس کی بند آنکھوں سے گرم پانی بہہ رہا تھا۔
روشنی مار کھا کر بے حس پڑی تھی۔ رات کی سیاہی چھا چکی تھی جب اماں جی کے ڈرائیور نے سفید بنگلے کے جانب گاڑی لاتے مٹھائی کے ٹوکرے کو سنبھالتے رفتار ہلکی کی۔
’’بڑے لوگوں کے چونچلے‘‘وہ بڑ بڑایا ۔ شہر کے دوسرے سرےسے من پسند مٹھا ئی شازی کی بسم اللہ کی خوشی میں منگوائی گئی تھی، جسے لانے میں وہ گھنٹوں شہر کے ٹریفک میں پھنسا رہا اور اب نظر آتا منظر اس کو مزید بدمزہ کرچکا تھا۔لڑکھڑاتی روشنی کو لے کر اس کی ماں بی تینتیس کی جانب جا رہی تھی ۔
’’یہ اس کی ماں کیوں آگئی؟ ‘‘
کل ہی تو پہلی بار روشنی کھانا دینے کوارٹر تک آئی تھی تو جیسے کوارٹر میں اجالا پھیل گیا تھا۔ اس سے پہلے کئی بار وہ اجنبیت توڑنے کے جتن کر چکا تھا لیکن باورچن تیز غصہ کے ساتھ تیز نگاہ کی بھی تھی۔ چوزوں کو دھار والی چونچ اور نوکیلے پنجوں سے پروں میں چھپانے والی۔
کھانے میں لوکی بھرتہ تھا، بے انتہا نرم اور میٹھا۔ لیکن جو مٹھاس روشنی میں تھی وہ لوکی میں کہاں۔ وہ روشنی کا سایہ بنا ہی ڈالتا کہ آہٹ ہوئی تھی۔بانو باورچن اس کو ڈھونڈتی آن پہنچی تھی اور روشنی کو بازو سے گھسیٹتے خون ہوتی آنکھوں کے ساتھ باہر جانے کا اشارہ کیاتھا جس کی آنکھیں سہمی ہوئی چڑیا کی سی مچ رہی تھیں۔
’’قابو میں رہ! باجی سے شکایت کردی نا تو چھٹی پکی تیری ‘‘۔
پانچ انگلیاں بانو کے منہ پر کھولتے وہ روٹی کا نوالہ چبانے لگا تھااور بانو کوارٹر کے فرش پر تھوکتی باہر نکل گئی تھی۔
باہر سے بانو کی روشنی کو ڈانٹنے کی آواز دیر تک آتی رہی، وہ کھانا کھا کر اپنے کوارٹر میں لیٹا اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتا رہا، ’’دنیا کا سب سے بڑا ذائقہ تو زنانی میں ہے چاہے کالی ہو یا سفید‘‘۔
لیکن ابھی تو جال گرا بھی نہیں اور چڑیا ہی اڑگئی۔ بانو کو موٹی سی گالی بک کر اس نے بی تینتیس کی طرف گاڑی کا رخ کردیا۔ نہ جانے وہ کیا چاہتا تھا لیکن وہاں کا گیٹ بند تھا۔نہ روشنی تھی اور نہ سایہ۔
٭ ٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x