ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

رشّو کی نانی – بتول جون ۲۰۲۲

رشّو کو آج نانی اماں کی باتیں بہت بری لگی تھیں۔ شاید اس لیے کہ وہ اب بڑی ہوگئی تھی۔ یہ عمر ہی ایسی ہوتی ہے جب بچوں کو دوسروں کی روک ٹوک بری لگتی ہے۔ وہ اپنے بارے میں کچھ سننا ہی نہیں چاہتے۔ اس لیے لوگوں کی نظروںسے اوجھل رہ کر راستے بدلتے رہتے ہیں۔
یہی حال رشّو کا تھا۔وہ اپنے اوپر زیادہ توجہ دینے لگی تھی۔ بال کیسے بنائے جائیں،کپڑوں کا فیشن، جوتوں اور چوڑیوں کی میچنگ،آنکھوں میںکاجل،ہلکی سی لپ سٹک بھی،اٹھنے بیٹھنے اورچلنے کے انداز۔ بس نانی اماں کو رشّو کی یہی ادائیں ناپسند تھیں۔ بلکہ انہوں نے کچھ زیادہ ہی روک ٹوک شروع کردی تھی۔
آج آپا کی شادی تھی۔ رشو نے بیوٹی پارلر سے بال بنوائے۔ اچھے اچھے کپڑے، لمبے لمبے بندے پہنے۔ ابھی وہ اپنے سراپا کو آئینے میں دیکھ ہی رہی تھی کہ نانی اماں کی نظرپڑی۔
’’رشو ادھر تو آئو۔ میں بھی تودیکھوں۔‘‘
یہ سنتے ہی رشو نے نانی اماں کو سلام کیا اوران کے گلے لگ گئی، بڑی خوش ہوکر بولی’’ نانی اماں میں کیسی لگ رہی ہوں؟‘‘
’’بھئی تم تو ہو ہی اچھی لیکن سرپر یہ گھونسلا نہ ہوتا تو اوراچھی لگتی۔‘‘
’’ارے نانی اماں! اس پر میں نے500روپے خرچ کیے ہیںآپ اسے گھونسلا کہہ رہی ہیں۔ کیا آپ کو نہیں پتہ کہ آج آپی کی شادی ہے۔ ‘‘ یہ کہہ کر اس نے جوڑے پر ہاتھ پھیرا اوربولی۔
’’بھئی ضرور کرو، لیکن یہ فیشن تو شادی شدہ لڑکیوں پر اچھے لگتے ہیں، کنواری لڑکیاں یہ سب نہیں کرتیں۔ رشو بیٹا! سادگی میں جو حسن ہے وہ اس بنائو سنگھار میں نہیں اورہاں ایک بات اورسن لو، نکاح کے وقت تم آپی کے کمرے میں ہرگز نہ جانا۔‘‘
’’کیوں نانی اماں؟‘‘
’’بس میں نے منع جو کردیا ہے۔ہر بات میں بحث نہیں کرتے۔اوریہ بات تمہاری سمجھ میں آئے گی بھی نہیں۔‘‘
’’پھر بھی نانی اماں۔‘‘وہ ضدی بچے کی طرح بولی۔’’اگرآپ نے نہیں بتایا تومیں وہاں ضرور جائوں گی۔‘‘
نانی نے اسے گھورا۔ ’’کنواری لڑکیاں ایسے موقع پر وہاں نہیں جاتی ہیں۔ اب سمجھ آیا؟‘‘
’’اُف اللہ کنواری کنواری۔ہروقت یہی ہوتا رہتاہے۔‘‘نانی اماں سے توکچھ کہنے کی ہمت نہیں پڑی لیکن دل میں بڑبڑاتی رہی۔
’’اب تو ضرور جائوں گی اوردیکھوں گی کہ وہاں پر کونسی ایسی بات ہے۔ نانی اماں توبس ہر بات میںیونہی کہتی رہتی ہیں۔‘‘
پھر ہوا بھی یہی۔ نانی اماں تو اپنے کمرے میں بیٹھی تھیں اور رشو نکاح کے وقت آپی کے کمرے میں ادھر ادھر پھرتی رہی۔ تصویر یں بھی خوب بنوائیں۔ لیکن یہ خلش اسے کریدتی رہی کہ یہاں ایسی کونسی خاص بات ہے جس کے لیے نانی اماں نے یہاں آنے پر منع کیا تھا۔ یہاں کچھ بھی تو نہیں ہے۔ صرف کاغذ کے ایک پرزے پر نکاح ہوا۔ آپی نے سائن کیے اوربس۔ سبھی تو تھے،پھر میرے لیے

ہی ہر طرح کی پابندی کیوں ہے؟اب نانی اماں کو نکاح کی تصویریں بھی دکھائوں گی۔ بڑامزہ آئے گا۔ دیکھو کیا کہتی ہیں۔ کہنا کیا ہے ان کی تو ایک بات ہے،رشو بیٹا جب میں نے منع کیا تھا تو تم وہاں کیوں گئیں؟
یہ سب سوچ کر وہ خوب ہنسی۔ اگرمیں نانی اماں کا کہنا مان لیتی تو مجھے کیسے پتہ چلتا کہ نکاح کیسے ہوتاہے۔ اب کم سے کم پتہ تو چل گیا۔ پھر اس نے اپنے خیالات کو جھٹکا ،کیا بے کار باتیں ہیں،کل ولیمہ ہے۔
یہ سوچ کر اس نے الماری کھولی، ولیمے کا جوڑا جواس نے فیشن کے مطابق بڑے ارمانوں سے بنوایا تھا، نکالا، اپنے اوپر لگایا اور کمرے میں گول گول گھومنے لگی۔’’کتنے اچھے کپڑے ہیں۔ بس کل میں یہی پہنوں گی۔‘‘
ابھی وہ اپنے خیالوں میں ہی تھی کہ نانی اماں کی آواز آئی۔ ’’رشو، اے رشو!‘‘ یہ کہتی ہوئی وہ کمرے میں آگئیں۔’’آئیے نانی اماں میرا ولیمے کا جوڑا دیکھیں، کل میں یہ پہنوں گی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ نانی کی طرف بڑھی۔
’’بیٹا! میں تو اتنا لمبا سفرنہیں کرسکتی۔بس تم بھی میرے پاس رہنا۔‘‘
’’ارے نہیں نانی اماں!اسلام آباد کونسا دورہے۔ گاڑی میں جائیں گے، میں آپ کو تکلیف نہیں ہونے دوں گی۔‘‘ رشو نے بے تابی سے جلدی جلدی بولنا شروع کیا۔ اور گھوم کر دیکھا تو نانی اماں حکم صادر کرکے جاچکی تھیں۔
پھر ہوا بھی یہی۔ نانی اماں اوررشو گھر پررہیں اورامی اور ابو ولیمے پر اسلام آبادچلے گئے۔ اس دن وہ خوب روئی۔ ولیمے کا جوڑا کتنے ارمانوں سے بنوایا تھا۔ پتہ ہوتا کہ یہ سب ہوگا تو کیوں اتنے پیسے خرچ کرتی۔ آپی کی شادی ہے اورنانی اماں چاہتی ہیں کہ میرا کوئی ارمان ہی نہ نکلے۔ اگریہ چلی جاتیں تو کیا تھا۔ یہ تو چاہتی ہیں میں گھر میں ہی قید رہوں۔ ہربات میں پابندی۔ یہاں کیوں گئی ،وہاں کیوں گئی، سہیلیوں کے گھر جانے کی کیا ضرورت ہے۔ اورپھرمیرے رسالے اورکتابیں تک پڑھنے پرپابندی ہے۔
’’رشو مجھے دو پہلے میں پڑھوں گی۔‘‘اس نے نانی کی نقل اتاری۔ قمیض تنگ کیوں ہے، دوپٹہ کہاں جارہاہے ، بال کیوں کھولے،پھول کیوں پہنے، خوشبو کیوں لگائی، جوڑا کیوں بنایا اورآج تو حد ہی ہوگئی۔آپی کی شادی اورآج ولیمہ اورمجھے ولیمے پر نہیں جانے دیا۔ مجھے اب پتہ چلا کہ یہ صرف میری وجہ سے نہیں گئیں۔
اس کے دل میں نانی کے خلاف بغاوت کا لاو ااُبلنے لگا۔ بس کسی دن ایساجواب دوں گی کہ پھرپتہ چلے گا۔ یہ پابندیاں آج کل کون برداشت کرتاہے۔میری ساری سہیلیاں بھی ان کو اسی لیے سخت کہتی ہیں، لیکن اب کیا کروں؟ کیا جواب دے دوں…؟ دماغ نے اکسایا۔ نہیں نہیں دل نے سرگوشی کی۔ آخر کو وہ میری نانی ہیں۔ تو یہ پابندیاں کہاں تک برداشت کروں۔ میں بھی توانسان ہوں میرا بھی آخر دل ہے۔کیانانی اماں اپنی جوانی میں فیشن نہیں کرتی ہوں گی۔ ایک دن پوچھوں گی ضرور۔
دل ودماغ کی کشمکش نے اسے پریشان کردیا۔ وہ کمرے سے باہر نکلی۔ دیکھا تو نانی اماں بڑے مزے سے بستر میں بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ انہوں نے رشوکو دیکھا تو آواز دی’’رشو بیٹا!کیا تمہیں نیند نہیں آرہی؟ میرے پاس آجائو۔ مجھے بھی نیند نہیں آرہی۔‘‘
’’ہوں!‘‘ اس نے غصے سے سرہلایا۔ اس وقت تو بڑی محبت

آرہی ہے پھر وہ کود کر ان کے لحاف میں دبک گئی۔
باہر بڑی ٹھنڈ تھی۔ سرسراتی ہوائیں شائیں شائیں کرنے لگیں۔ کبھی بادلوں کے گرجنے اوربجلی کے چمکنے کا احساس بھی ہوتا۔ جیسے ہی بجلی کڑکتی وہ نانی اماں سے لپٹ جاتی اورنانی کا مخمل جیسا وجود اسے سب کچھ بھلا دیتا وہ پیار سے کہتی’’نانی اماں آپ کتنی نرم ہیں جیسے روئی کا گالا یا مخمل کا ٹکڑا۔‘‘اورنانی اماں خوش ہوکر پیار سے اسے اورچمٹا لیتیں۔
’’نانی اماں آپ جوانی میں کیسی تھیں۔‘‘رشو نے انہیں ٹٹولا۔
’’اب میں تمہیں کیا بتائوں۔‘‘ نانی اماں نے گہری سانس لی۔
’’اچھا یہ بتائیں آپ فیشن کرتی تھیں؟‘‘
’’ہاں کیوں نہیںلیکن گھرمیں رہ کر پردے میں۔‘‘
رشو کو موقع ملا۔’’وہ کیسے؟گھر میںفیشن کرنے کا کیا فائدہ؟ اسکول کالج توآپ گئیں نہیں اوررشتے دار سب اکٹھے ہی رہتے تھے پھر فیشن کون دیکھتا ہوگا؟‘‘
’’بھئی ہم اپنے لیے کرتے تھے سب کچھ۔‘‘
’’لیکن اپنے لیے کرنے کا فائدہ؟اب تو سب کچھ دوسروں کے لیے ہوتاہے نانی اماں۔‘‘وہ ان سے لپٹ کربولی۔
’’نابیٹی نا! یہ شریفوں کے طورطریقے نہیں ہوتے ۔ یوں فلمی ایکٹریس اور شریف زادی میں کیا فرق رہ گیا؟‘‘ وہ زور سے بولیں۔
رشو نے نانی کو غصہ میں دیکھا تو موضوع بدل دیا۔ ’’اچھا یہ بتائیں آپ نے مجھے آپی کے ولیمے میں کیوں نہیں جانے دیا؟میں نے بڑے ارمانوں سے جوڑا بنایا ۔ پھرمیرا دل آپی کو دیکھنے کو بھی چاہ رہاتھا۔ ان کا جوڑا کیسا ہوگا۔ وہ کیسی لگ رہی ہوں گی۔ مجھے وہ یاد بھی آرہی ہیں۔‘‘اس کے گرم گرم آنسو نانی اماں کے ہاتھ پر گرے تو ان کا دل پسیج گیا۔
’’ارے تم تو رورہی ہو۔‘‘
’’اور کیا نانی اماں۔مجھے ولیمہ یادآرہاہے۔‘‘
رشوبیٹا تم بچہ نہیں ہو، جو بچوں والی باتیں کرتی ہو۔اب تم بڑی ہو گئی ہو۔ کنواری لڑکیاں ہرجگہ نہیں جاتیں۔ دیکھو نا آپی کے سسرال والے غیر لوگ ہیں۔ نہ جانے کیسے کیسے لوگ ہوں گے وہاںپر۔‘‘
’’اُف اللہ پھر وہی باتیں۔ نانی اماں میں کونسا پردا کرتی ہوں۔‘‘
’’اگرتم پردہ نہیں کرتیں توضروری نہیں ہے کہ تم ہرجگہ جائو۔ جو جگہ جانے کی ہے بس تم وہیں جائوگی۔‘‘ انہوں نے پیار سے اس کے گال تھپتھپائے۔ آنسو پونچھے۔ ’’رونے سے کیا ہوگا،کل آپی آجائے گی دل بھر کے آپی سے ملنا۔ خوب باتیں کرنا۔ اس سب میں تمہارا ہی بھلا ہے بیٹا۔ جائواب جا کر سوجائو۔ مجھے بھی نیند آرہی ہے۔ورنہ صبح نماز کے لئے آنکھ نہیں کھلے گی۔‘‘
وہ پھر بڑابڑائی۔ ’’آ پ نے مجھے کیوں روکا۔ وہاں اس وقت کتنا مزہ آرہاہوگا۔ ‘‘رشو کا دماغ ولیمے میں گھوم رہاتھا’’ رنگ برنگی روشنیاں ہوں گی۔ لہلہاتے آنچل ہونگے۔ قہقہے اور چہچہے ہوںگے۔ آپی کتنی اچھی لگ رہی ہوگی۔ نہ جانے جوڑا کیساہوگا۔ میک اپ کیسا ہوگا۔‘‘ رشو اپنے ہی خیالات میں کھوئی ہوئی تھی کہ نانی اماں کے خراٹوں نے سارا طلسم توڑ دیا۔ چپکے سے اٹھی اور کمرے میں جاکر شادی کی تصویروں میں کھوگئی۔
پھرنہ جانے کب رات گئی اورصبح ہوئی کہ نانی اماں نے رشو کو نماز کے لئے آواز دی۔ اسے لگا وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے۔آخر

میں نانی اماں نے اس کو ہلانا شروع کردیا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اس نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا’’ ابھی تومیں سوئی تھی۔ اورآپ نے اٹھادیا۔‘‘
’’بیٹا! نماز کو دیر ہوگئی ہے۔‘‘جب تک اس نے بسترنہیں چھوڑا نانی اماںتسبیح لیے وہیں ٹہلتی رہیں۔
نماز پڑھ کر رشونے دوبارہ لیٹنے کی کوشش کی لیکن نانی اماں بولیں’’بیٹا! پودوں کو پانی بھی دے دو۔‘‘
’’نانی اماں مجھے نیند آرہی ہے میں رات بھر جاگی ہوں۔‘‘ ایسا انکار اس نے پہلی دفعہ کیا تھا۔ ضمیر نے اسے جھنجوڑا نانی اماں کو تم نے جواب دیا۔ پھر وہ لیٹ تو گئی لیکن سونہ سکی۔اسے وہ دن یاد آیا جب نانی اماں نے کہا تھا’’ رشو گھر کے کاموں میں ماں کاہاتھ بٹایا کرو۔ تم اب بچہ نہیں ہو اپنی ماں پر تمہیں ذرا بھی رحم نہیں آتا۔وہ سارا دن کام کرتی ہیں اورتم دیکھتی رہتی ہو۔‘‘
اس دن رشو نے بڑی حاضر جوابی سے کہا تھا’’نانی اماں رحم آناتو ماں کاکام ہوتاہے۔آپ کو اپنی بیٹی پر رحم آتاہے اورمیری ماںکو میرے اوپر۔وہ مجھ سے کوئی کام کرواتی ہی نہیں ہیں۔‘‘
’’لیکن بیٹا! اس بات کا توتم کو خیال ہونا چاہیے۔‘‘
’’نانی اماں مجھے تو کالج کے کام سے ہی فرصت نہیں ہوتی۔‘‘رشو نانی سے ہار ماننے والی کب تھی۔
گھر کی رونق انہیں دونوں سے دوبالاتھی۔ نانی اماں کی نصیحتیں اورفضیحتیں رشو کی بے باکی اورحاضر جوابی بعض اوقات امی کے لیے مشکلات کھڑی کردیتیں۔ جب وہ دیکھتیں کہ محاذ بننے والا ہے توحالات پراپنی گرفت مضبوط کرلیتیں اوربڑی خوبی سے دونوں کے راستے متعین کردیتیں۔
پھر تعلیم سے فارغ ہو کر رشو کی شادی ہوگئی اور شادی بھی ایک بہت بڑے کنبے میں۔جہاں ساس، سسر ،دیور،جیٹھ،نندیں کچھ شادی شدہ ، کچھ بغیر شادی کے۔غرضیکہ اس کی سسرال میں ہر سائز اور ہرطریقے کے لوگ تھے۔
رشو خالی گھر سے بھرے گھر میں گئی تو اس کو بڑا مزہ آیا۔ طرح طرح کی باتیں، طرح طرح کے کھانے، نہ کوئی وقت نہ پابندی۔ چہل پہل،اپنے اپنے حال میں سب خوش۔
شروع شروع میں رشو خوش رہی لیکن کچھ دن بعد حالات بدلنے لگے سب کابہوئوں پر ہی زور چلتا ہے۔ اس نے سوچا کتنا عجیب ماحول ہے۔ اپنے گھر میں توکوئی ذمہ داری نہیں تھی۔ ایک نانی اماں تھیں جن کی روک ٹوک بھی مجھے بری لگتی تھی اورامی ، انہوں نے تو کبھی کچھ کہا ہی نہیں۔ سب کچھ نانی اماں پر ہی چھوڑ دیا تھا۔ کتنی اچھی تھیں میری نانی۔ ہر بات کتنے پیار سے سمجھاتی تھیں۔ اس وقت تو مجھے ان کی ہر بات بری لگتی تھی۔ لیکن کم سے کم نانی اماں کی روک ٹوک سے اب اچھی بری بات کی سمجھ تو ہے مجھے۔ کتنا اچھا کیاانہوں نے جو مجھے ہر بات کی اونچ نیچ سمجھا دی۔ اس لیے ساس کے طعنے اوران کے اصول اور طورطریقے اسے زیادہ برے نہیں لگے۔
ایک دن رشو اپنے گھر جانے کے لیے اچھی طرح تیار ہوکرساس کو خداحافظ کہنے آئی تووہ بولیں’’رشو بیٹا! آج بدھ کا دن ہے اورہمارے ہاں نئی دلہن کا بدھ کے دن سفرکرنا اچھا شگون نہیں ہوتا۔‘‘
’’کیوں امی جان؟‘‘
’’یہ منحوس سمجھا جاتاہے۔‘‘اوراس دن سے منسلک پچاس سال پرانے حادثات بیان کرنے شروع کردئیے۔

’’لیکن امی جان!آج تومیری بہت عزیز دوست کی سالگرہ ہے اس میں میرا جانا بہت ضروری ہے۔‘‘
’’بس بیٹا! بس میں نے کہہ دیا نا کہ آج تم نہیں جائوگی۔مجھے وہم آتاہے۔‘‘
’’لیکن امی…!‘‘
ابھی وہ کچھ کہنا چاہتی تھی کہ امی اٹھ کر باہر چلی گئیں اوروہ انہیں دیکھتی رہ گئی۔ اتنی وہمی تو میری نانی بھی نہیں تھیں۔ کمرے میں جاکر وہ خوب روئی۔ لیکن اس کی لال اورسوجی ہوئی آنکھوں کاکسی نے نہ پوچھا۔
پھر ایک دن خالہ ساس نے ٹوکا۔’’دلہن! ہاتھ ننگے نہ رکھاکرو، برا شگون ہوتاہے۔ اورنہ کبھی لٹھے کی شلوار پہننا۔یہ غربت کو ظاہر کرتی ہے۔‘‘
’’اُف اللہ! ‘‘رشونے کانوں کو ہاتھ لگائے۔ توبہ توبہ۔ ایسی باتیں تومیں نے پہلی دفعہ سنی ہیں۔
’’اور ہاں ایک بات اورسن لو۔ ہمارے ہاں عشرہ کے دن یعنی دس محر م کوچولھا نہیں جلتا۔‘‘
’’پھر کیا کھاتے ہیں؟‘‘
’’اس دن روزہ رکھتے ہیں۔‘‘
’’لیکن چولھا نہ جلنا اور روزہ رکھنا ان دونوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔‘‘
’’بس تم بحث نہ کیا کروجو ہمارے دستور ہیں تمہیں بھی انہی پر چلنا ہے۔ یہ سب شروع سے ہوتا آرہاہے۔‘‘
پھر وہ بولتی رہیں اور رشو نانی اماں کے تصور میں کھوئی رہی۔ کتنی اچھی تھیں نانی اماں۔ کتنے پیار سے سمجھاتی تھیں۔لیکن یہاں بس کان کھولے رہو اور زبان بند۔ شکرہے نانی اماں کے بعد سے میرے اندر کچھ برداشت توآگئی ہے۔ اگرمیں منہ پھٹ ہوتی اور ہرایک کو جواب دیتی رہتی توکتنی لڑائی ہوتی اورمیں کتنی بدنام ہوجاتی۔ ہر شخص مجھے برا کہتا۔
اسے آپی کا ولیمہ یادآیا۔ نانی اماں نے کتنی عقلمندی سے روکا تھا۔میں اس دن کتنا روئی تھی۔ لیکن شکر ہے نانی اماں کی روک ٹوک نے میرے اندر صبر اور برداشت پیداکردیا۔ انہوں نے ہی مجھے زندگی کا طریقہ دیا، سلیقہ دیا، جس سے میرے اندر ٹھہرائو آیا اورشاید حوصلہ بھی ۔ ورنہ اتنے بھرے گھر میں کیسے گزارہ کرتی۔ کیا لڑلڑ کر رو رو کر یا پھر کسی اورمنزل کی متلاشی بن کر۔
اوروہ آنسو پونچھ کر مسکرا دی۔
٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x