۲۰۲۱ بتول نومبررسول اللہ ﷺ قرآن کے آئینے میں- بتول نومبر ۲۰۲۱

رسول اللہ ﷺ قرآن کے آئینے میں- بتول نومبر ۲۰۲۱

اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم نازل فرمایا جو تمام انسانوں کے لیے ابدی ہدایت کا ذریعہ ہے۔ اللہ کا کلام جبریل امینؑ کے ذریعے محمد رسول اللہ ؐ کے قلبِ اطہر پر اتارا گیا۔اس کی ہر سورت اور ہر آیت ہدایت، نور اور روشنی ہے۔ اس کے پہلے مخاطب رسول اللہ ؐ ہیں اور پھر ان کے ذریعے یہ تمام انسانوں کے لیے ہے۔ کلامِ الٰہی کے ہر شذرے کا ایک خاص پس منظر بھی ہے اور موقع و محل بھی۔
رسول اللہ ؐ قرآن کی دعوت لے کر اٹھے تو انہیں دو طرح کے انسانوں سے سابقہ پیش آیا؛ وہ جنہوں نے حق کی پکار پر لبیک کہا اور کاروان ِ حق میں شامل ہو گئے۔ اور وہ جنہوں نے اس کا انکار کیا اور جاہلیت پر جم گئے۔رسول کریم ؐ نے تقریباً ۲۳ برس کی مدت میں قرآن کا پیغام دنیا تک پہنچایا، اور دین ِ اسلام غربت سے نکل کر ریاست اور پھر جزیرہ عرب کے اطراف و اکنار تک پھیل گیا۔
قرآن کریم کی پہلی وحی میں رسول اللہ ؐ کو ’’اقرأ‘‘ (پڑھیے) کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے اور آخری سورۃ (النصر)میں ’’فسبح بحمد ربک واستغفرہ‘‘ (اے نبیؐ، اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرو، اور اس سے مغفرت کی دعا مانگو) کا حکم دیا گیا ہے۔۔نبوت کا مکی اور مدنی دور ایک طویل اور شدید کشمکش کا دور تھا، جس میں رسول ِ رحمت، رحمت ا للعالمین اپنے رب کی ہدایات کی روشنی میں انسانوں کے دلوں کے دروازوں پر دستک دیتے رہے، اور جواباً کبھی آپؐ کی بات کو نظر انداز کیا جاتا تو کبھی تمسخر اور استہزاء میں اڑا دیا جاتا۔ کبھی طنر کے تیر برسا کر آپؐ کا دل فگار کیا جاتا تو کبھی بدکلامی سے اور ترش روی سے آپؐ کی بات کو رد کر دیا جاتا۔ اس راہ میں غیروں کے ستم بھی سہے اور اپنوں کے مظالم بھی! آپؐ حق کے راستے پر گامزن رہے، اور رب کی ہدایات کو اپنا رہنما بنایا۔ دلیل و برہان سے سمجھایا، شبہات کو رفع کیا، اعتراضات کا جواب دیا، الجھنوں کو سلجھایا، اور جاہلیت کا باطل ہونا عقل و خرد سے بھی ثابت کیا۔گزشتہ اقوام کے تباہ شدہ کھنڈرات دکھائے۔اور خود آپ ؐ کی حیاتِ مبارکہ کو ایک دلیل اور مثال بنا کر پیش کیا۔اور رسول اللہ کی حیثیت کو بھی قرآن نے خود ان کے الفاظ میں واضح کیا کہ میں اس کتاب کا مصنف نہیں ہوں، بلکہ یہ ایک وحی ہے جو میرے پاس آئی ہے اور مجھے اس میں ردّو بدل کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔فرمایا: ’’اور کہو: اگر اللہ کی مشیت یہی ہوتی تو میںیہ قرآن تمہیں کبھی نہ سناتا اور اللہ تمہیں اس کی خبر تک نہ دیتا۔ آخر اس سے پہلے میں تمھارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے‘‘۔ (یونس، ۱۶)
قرآن ِ کریم نے رسول اللہ ؐ کی زندگی کی دو شہادتیں دیں، جنھیں مکہ کا ہر شخص جانتا تھا:
۱۔ آپؐ نے نبوت سے پہلے کوئی تعلیم نہ پائی تھی نہ ہی ایسی صحبت اور تربیت میسر آئی تھی، جس سے آپؐ کو وہ معلومات حاصل ہوتیں جن کے چشمے دعوائے نبوت کے ساتھ ہی آپ کی زبان سے پھوٹنے لگے تھے۔یہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ قرآن آپؐ کے اپنے دماغ کی پیداوار نہیں ہے، بلکہ خارج سے آپؐ کے اندر آئی ہوئی چیز ہے۔
۲۔ آپؐ کی سابق زندگی اس بات کی شہادت تھی، کہ جھوٹ، فریب، جعل، مکاری، عیاری اور اس قبیل کے دوسرے اوصاف کا شائبہ تک آپؐ کی زندگی میں نہ پایا جاتا تھا۔ آپؐ معاشرے کے امین اور راست باز انسان تھے۔اس لیے اللہ فرماتا ہے کہ ان سے کہو: ’’میں تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں‘‘۔ (دیکھیے تفہیم القرآن، ج۲، ص۲۷۴)

رسول اللہ ؐ کا مقام
قرآن ِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ؐ کا مقام بیان کرتے ہوئے ان کی سیرت کا نمونہ پیش کیا ہے، فرمایا: ’’اور بے شک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو‘‘۔ (القلم، ۴)
یعنی آپؐ اخلاق کے بہت بلند مرتبے پرفائز ہیں اسی لیے آپؐ ہدایتِ خلق کے کام میں تمام اذیتیں برداشت کر رہے ہیں۔ورنہ ایک کمزور اخلاق کا آدمی یہ کام نہیں کر سکتا۔ اور قرآن کے علاوہ آپؐ کے بلند اخلاق بھی اس بات کاصریح ثبوت ہیں کہ کفار نے آپؐ پر دیوانگی کی جو تہمت لگا رکھی ہے، وہ سراسر جھوٹی ہے، کیونکہ اخلاق کی بلندی اور دیوانگی دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔
رسول اللہؐ کے اخلاق کی بہترین تعریف حضرت عائشہؓ نے اپنے اس قول میں فرمائی ہے: ’’کان خلقہ القرآن‘‘۔ قرآن آپ کا اخلاق تھا۔ (امام احمد، مسلم) یعنی آپؐ قرآن کا مجسم نمونہ تھے۔ جس چیز کا قرآن میں حکم دیا گیا آپؐ نے خود سب سے بڑھ کر اس پر عمل کیا،جس چیز سے اس میں روکا گیا آپؐ نے خود اس سے سب سے زیادہ اجتناب کیا، جن اخلاقی صفات کو اس میں فضیلت قرار دیا گیا، سب سے بڑھ کر آپؐ کی ذات ان سے متصف تھی، اور جن صفات کو اس میں ناپسندیدہ ٹھہرایا گیا سب سے زیادہ آپؐ ان سے پاک تھے۔(تفہیم القرآن، ج۶، ص۵۹)
نبی اکرم ؐپر اس تعریف و ثنا میں پوری کائنات شریک ہو جاتی ہے، اور اس پوری کائنات کی روح میں یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ آپؐ خلقِ عظیم کے مالک تھے۔کسی قلم میں یہ قوت نہیں کہ وہ آپؐ کے مناقب بیان کر سکے، کسی شخص میں یہ قوت نہیں کہ وہ آپؐ کے اخلاق کا تصور کر سکے۔ اور اس عظیم سرٹیفکیٹ کی تشریح کر سکے۔ یہ عظیم کلمات ربِّ عظیم کی جانب سے ہیں۔ یہ خلقِ عظیم وہ ہے جس کا تصور کسی انسان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنی محدود عقل و ادراک سے اس کا تصور کر سکے، لیکن مختلف پہلؤوں سے آپؐ کے اخلاق ’’عظیم‘‘ تھے:
اس کا پہلا پہلو تو یہ ہے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یہ لقب آپؐ کو رب تعالیٰ نے دیا ہے۔ اس میں اللہ کی مخلوق اور اس کی ناپیداکنار کائنات بھی شامل ہے۔ اور ملاء الاعلیٰ کی تمام مخلوقات بھی جو رب تعالیٰ کی کائنات کے کارندے ہیں، سب اس میں شامل ہیں۔
اور رب تعالیٰ کی جانب سے یہ کلمات کہ ’’بے شک تم اخلاق کے بہترین مرتبے پر ہو‘‘، یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ ان کلمات کا ایک عظیم مفہوم ہے۔ ان کی ایک بلند گونج ہے۔اعزاز دینے والی ذاتِ عظیم کی یہ شہادت کس قدر عظیم شہادت ہے۔یہ محمد ؐ ہی کا ظرف تھا جو اس عظیم شہادت کو قبول کرنے کی طاقت رکھتا تھا۔ یہ آپؐ ہی کا حوصلہ تھا کہ یہ شہادت پائی اور سنجیدگی سے اپنی جگہ کھڑے رہے، اور اس عظیم شہادت کے اثر اور دباؤ کو قبول کر سکے۔آپ نےؐ یہ شہادت پا کر بھی انسانوں پر اپنی برتری نہیں جتائی، نہ علو اختیار کیا۔ بڑائی اختیار کیے بغیر آپؐ اس کو ہضم کر گئے۔اور آپؐ کا انکسار ویسا ہی رہا۔
آپؐ ایک عظیم انسان کی طرح مطمئن رہے۔ ایک عظیم شخص ہی اس عظمت کو اٹھا سکتا ہے جو ان الفاظ میں دی گئی ہے۔ اس عظیم ثنا اور تعریف کے بعد قرآن میں بعض اوقات آپؐ پر عتاب بھی آیا ہے، لیکن آپؐ نے اسے بھی نہایت ہی عظمت کے ساتھ سنا ہے۔ نہایت توازن اور اطمینان کے ساتھ۔جس طرح آپؐ کی اس عظمت کا اعلان ہؤا، اسی طرح آپؐ کو تنبیہ کرنے والی آیات کو بھی اس لازوال کتاب میں جگہ دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی بات چھپا کر نہیں رکھی۔ اور دونوں حالات میں نبی آخر الزمان ؐ عظیم رہے۔آپؐ نے دونوں باتوں کو عظمت کے ساتھ لیا۔ (فی ظلال القرآن، تفسیر نفس الآیۃ)
اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے بارے میں خود یہ اعلان فرمایا:
’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو‘‘۔(الاحزاب، ۵۶)
یہ اللہ ہی کی بخشش ہے جو کسی انسان کو عطا کرتا ہے۔

؎ یہ رتبہء بلند ملا جس کو مل گیا
اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی پر صلوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپؐ پر بے حد مہربان ہے، آپؐ کی تعریف فرماتا ہے، آپؐ کو برکت عطا فرماتا ہے، آپؐ کا نام بلند کرتا ہے اور آپؐ پر اپنی رحمتوں کی بارش فرماتا ہے۔ملائکہ کی جانب سے آپؐ پر صلوٰۃ کے یہ معنی ہیں کہ وہ آپؐ سے غایت درجہ محبت رکھتے ہیں اور آپؐ کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ وہ آپؐ کو زیادہ سے زیادہ بلند مرتبے عطا فرمائے، آپؐ کے دین کو سربلند کرے، آپؐ کی شریعت کو فروغ بخشے اور آپؐ کو مقاِْم محمود پر پہنچائے۔
جس وقت دشمنانِ اسلام اس دینِ مبین کے فروغ پر اپنے دل کی جلن نکالنے کے لیے حضورؐ کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کر رہے تھے ان حالات میں اللہ نے بتایا کہ یہ کفار و مشرکین آخرِ کار اپنے منہ کی کھائیں گے،اس لیے کہ میں اس پر مہربان ہوں۔ وہ اپنے اوچھے ہتھیاروں سے اس کا کیا بگاڑ سکتے ہیں، جبکہ میری رحمتیں اور برکتیں اس کے ساتھ ہیں۔(دیکھیے، تفہیم القرآن، ج۴)
پہلا قرآنی خطاب
رسول اللہ ؐ کو غائِ حرا کے دامن میں اللہ تعالیٰ کا پہلا پیغام ملا، جو ’’پڑھو (اے نبیؐ) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا ‘‘۔ (العلق،۱)
یہ قرآن کی پہلی سورت ہے، رسول ِ خدا کو اللہ کا پہلا حکم کیا دیا جاتا ہے؟ پہلی ہدایت کیا دی جاتی ہے؟ ان لمحات میں جب پہلے پہل آپؐ کا رابطہ عالمِ بالا سے قائم ہؤا، سب سے پہلے جب دعوتِ اسلامی کی ذمہ داری انہیں پیش کی گئی، تو حکم ہوا ’’پڑھو‘‘۔اس وحی کے ساتھ ہی انسانوں اور عالمِ بالا کے درمیان ایک شیریں رابطہ قائم ہؤا، جہاں قدم قدم پر دست ِ قدرت نے ان کی دستگیری کی۔ یہ ایک انقلابی سفر تھا جس کی طوالت کو اس دنیا کے معیار سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ ایک مکمل تبدیلی کا انقلاب تھا، جہاں مادی اور زمینی پیمانوں کے مقابلہ میں آسمانی پیمانے آگئے تھے۔ خواہشات سے مدد طلب کرنے کے بجائے اب وحی سے مدد لی جا رہی تھی، اور لوگ جاہلیت سے سفر کر کے اسلام میں داخل ہو گئے تھے، شرک سے چل کر لوگ ربانیت میں داخل ہو گئے تھے۔ یہ طویل سفر تھا، آسمانوں اور زمین کے بعد سے بھی طویل! (فی ظلال القرآن)
اس مبارک سفر کا آغاز ایسا ہی تھا کہ رسول اللہ ؐ پر جبریل ؑ کے رعب اور اس ذمہ داری کے بوجھ سے کپکپی طاری ہو جاتی، اور آپؐ آہستہ آہستہ چل کر اور زمین کی طرف جھکتے اور کانپتے ہوئے اپنے اہل و عیال کے پاس پہنچتے اور فرماتے: ’’مجھے کپڑا اوڑھا دو! مجھ پر لحاف ڈالو‘‘۔ اور آپؐ اس طرح کانپ رہے ہوتے جیسے سخت سردی لگی ہو۔ ایسے میں حضرت جبریلؑ نے پکارا: ’’یا ایھا المدثر‘‘ یا ’’یا ایھا المزمل‘‘، اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے، اب سونے کا وقت چلا گیا۔ اور رسول اللہ ؐ جان گئے کہ اب تو بہت بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے، اب مجھے طویل جدو جہد کرنا پڑے گی، اب جاگنا ہے، یہ پکار اب اطمینان سے سونے نہ دے گی۔جب آپؐ کو کھڑا ہونے کا حکم دیا گیا تو آپؐ اٹھ کھڑے ہوئے، اور کھڑے رہے اور ہمیشہ دعوت دیتے رہے۔ یہ بوجھ آپؐ نے اٹھا لیا، اور یہ تو بہت بھاری بوجھ تھا۔ یہ امانتِ کبری کا بوجھ تھا اور مختلف میدانوں میں جدو جہد کا بوجھ تھا۔یہ بوجھ انسانی ضمیر کی صفائی کا بوجھ تھا۔ انسانی نفس پر زمین کے رجحانات اور میلانات چھائے ہوئے تھے، انسان شہواتِ نفسانیہ کے ہاتھوں میں قید تھا اور اس کے گلے میں دنیا پرستی کے طوق پڑے ہوئے تھے۔پہلا میدان ساتھیوں کی تطہیر کا تھا۔
رسول اللہ ؐ کو جب اللہ نے عالمِ بالا سے ’’قم فانذر ‘‘ کا حکم دیا تو آپؐ کھڑے ہو گئے، اور آپؐ نے جہدِ مسلسل کا مظاہرہ کیا، اور مسلسل جنگ لڑی۔ بیس برس سے زائد عرصہ آپؐ میدان میں جم کر کھڑے رہے، اس دوران کوئی بات آپؐ کو اس معرکے سے غافل نہ کر سکی۔آپؐ نے انسانیت کے لیے وہ بھلائی کی جس کی مثال آپؐ خود ہی ہیں۔ اس پکار میں آپؐ پر ذمہ داری ڈالی گئی تھی کہ اس عظیم ڈیوٹی کی بجاآوری کے لیے

تربیت ضروری ہے۔ قیام اللیل، نماز، ترتیلِ قرآن، ذکر و فکر، اور خشوع و خضوع اور اللہ کے لیے کٹ کر علیحدہ ہو جانا، صرف اسی پر بھروسہ کرنااور اس راہ کی مشکلات پر صبر کرنا۔ اگر کسی سے قطع تعلق کرنا پڑے تو اچھے انداز میں کرنا۔ منکرین کے معاملے کو جبار و قہار کے سپرد کر دینا کیونکہ یہ دعوت اور دین اسی کا تو ہے، وہ جانے اور اس کی دعوت کے معاندین جانیں۔
فترۃ الوحی
پہلی وحی کے بعد رسول اللہؐ پر کوئی وحی نازل نہیں ہوئی، اور اس زمانے میں آپؐ پر اس قدر شدید غمّ کی کیفیت طاری رہی کہ بعض اوقات آپؐ پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ کر اپنے آپؐ کو گرا دینے کے لیے آمادہ ہو جاتے تھے۔ لیکن جب کبھی آپؐ کسی چوٹی کے کنارے پر پہنچتے جبریلؑ نمودار ہو کر آپؐ سے کہتے کہ آپؐ اللہ کے نبی ہیں۔ اس سے آپؐ کے دل کو سکون حاصل ہو جاتا تھا اور وہ اضطراب کی کیفیت دور ہو جاتی ہے‘‘ ۔ (ابنِ جریر)
پھر اس وقفے کے بعد وحی نازل ہوئی تو وہ سورۃ المدثر کی ابتدائی آیات تھیں جن میں اللہ تعالیٰ نے بڑے لطیف انداز میں پکارا۔’’اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے! اٹھو اور خبر دار کرو اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو۔ اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔ اور گندگی سے دور رہو اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لیے اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو‘‘۔ (المدثر، ۵۔۱)
اور عالم ِ بالا نے نبی کریمؐ کے ذمہ وہ بھاری ذمہ داری عائد کی ہے جس نے آپؐ کی نیند حرام کر دی، آپؐ کے آرام اور بے فکری کے دن جاتے رہے۔ اور آپؐ نے اس مسلسل جدو جہد اور جہاد فی سبیل اللہ کا آغاز کر دیا جو آپؐ نے اپنی پوری زندگی میں جاری رکھا۔ (فی ظلال القرآن، نفس الآیۃ)
لطف و محبت کی پھوار
جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر حق کا پیغام پہنچانے کی گراں قدر ذمہ داری ڈالی ، تو اس کٹھن راہ پر آپؐ کے دل کی ٹھنڈک ، اطمینان، اور یقین بڑھانے کا انتظام بھی کیا۔سورۃ والضحیٰ آپؐ کے ساتھ رب کی ہم کلامی ہے، جس میں رحمت کے جھونکے ہیں اور محبت کی شبنم ہے۔ اللہ کے قرب کا لطف ہے، ایک تھکی روح، پریشان دل اور رنجیدہ قلب کے لیے تسلی و تشفی ہے۔’’تیرے رب نے تجھے ہرگز نہیںچھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا‘‘۔ (والضحیٰ، ۳)
اور سورۃ الم نشرح میں بھی تروتازہ محبت کی فضا میں اللہ کے کرم کے مناظر اور اس کی عنایات کے مقام بیان کیے: ’’(اے نبیؐ ) کیا ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لیے کھول نہیں دیا؟ اور تم پر سے وہ بھاری بوجھ اتار دیاجو تمہاری کمر توڑے ڈال رہا تھا۔ اور تمہاری خاطر تمہارے ذکر کا آوازہ بلند کر دیا۔ پس حقیقت میں تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ بے شک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے‘‘۔ (الم نشرح، ۱۔۶)
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ؐ دعوتِ اسلامی کے سلسلے میں کچھ مشکلات محسوس فرما رہے تھے۔ آپؐ پریشان تھے کیونکہ آپؐ کے خلاف سازشیں ہو رہی تھیں اور آپؐ کے دل پر ان کے اثرات پڑ رہے تھے۔چنانچہ اس موقع پر آپؐ کے ساتھ یہ میٹھا مکالمہ ہؤا۔ اندازِ گفتگو ایسا ہے کہ بات محبت بھری ہے۔انشراحِ صدر کی دولت کا مل جانا کس طرح سینے کو کشادہ کر دیتا ہے، ایک خوشی اور چمک سینے میں بھر دیتا ہے۔اے نبی ذرا اپنے سینے کو ٹٹولیے۔کیا آپؐ اس میں کشادگی، فرحت اور روشنی نہیں پاتے۔کیا اللہ کے اس دین کا واضح ذوق نہیں پاتے۔ کیا مشکل اور تھکاوٹ میں ایک خوشی نہیں پاتے۔ کیا ہر مشکل آپؐ کوآسان نہیں لگتی، کیا ہر محرومی پہ آپؐ راضی نہیں ہیں؟اس انشراح صدر نے آپؐ کا بوجھ کتنا کم کر دیا ہے۔ لوگ اس دعوت کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں، اور بذریعہ وحی آپؐ کا کام آسان ہو گیا ہے۔
ورفعنا لک ذکرک، یعنی’’ تمہاری خاطر تمہارے ذکر کا آوازہ بلند کر دیا ہے‘‘۔آپؐ کا ذکر عالمِ بالا میں ہونے لگا ہے، پوری زمین پر

ورفعنا لک ذکرک، یعنی’’ تمہاری خاطر تمہارے ذکر کا آوازہ بلند کر دیا ہے‘‘۔آپؐ کا ذکر عالمِ بالا میں ہونے لگا ہے، پوری زمین پر آپؐ کی دعوت کا غلغلہ بلند ہو گیا ہے۔ پوری کائنات میں آپؐ کا نام بلند ہو گیا ہے کلمہ ، اذان، نمازاور درود میں آپؐ کا نام اللہ کے نام کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔یہ منفرد مقام تمام مخلوقات کے مقابلے میں صرف آپؐ کے لیے مخصوص ہے۔ ہم نے آپؐ کا ذکر لوحِ محفوظ میں کر دیا کہ زمانے گزر جائیں گے، نسلیں جائیں گی اور آئیں گی اور کروڑوں ہونٹ آپؐ کے اسمِ گرامی کو ادا کرتے رہیں گے۔ آپؐ پر درود اور سلام بھیجتے رہیں گے۔گہری محبت اور عظمت و احترام کا اظہار کرتے رہیں گے۔اس دین کے ساتھ آپؐ کا نام ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔ یہ وہ مقام ہے جو کسی اور کو نصیب ہؤا نہ ہو گا۔ لہٰذا اب مشقت کہاں، تھکاوٹ کہاں؟ یہ دین اس قدر عظیم ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے ہر مشقت اور تھکاوٹ کا احساس ہی جاتا رہا۔ لیکن مہربان رب اپنے محبوب ِ مختار کے لیے مزید مہربانیاں فرماتا ہے اور کلفتوں کو دور کرتا ہے اور اطلاع دیتا ہے: کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔تکرار کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا، اور مشکلات میں گھرے ہوئے نبیؐ کو پوری تسلی دے دی، کہ بہتر دور آنے والا ہے۔ (دیکھیے، فی ظلال القرآن)
جب رسول اللہ ؐ کو ہر جانب سے اذیتیں اور تکلیفیں پہنچائی جا رہی تھیں، اور دعوت کے راستے میں روڑے اٹکائے جا رہے تھے، ہر جانب سے سازشیں کی جا رہی تھیں، اس دور میں اللہ اپنے نبیؐ اور مٹھی بھر اہل ِ ایمان کے دستے پر بڑا مہربان تھا۔جب آپؐ کے دشمن آپؐ کو ابتر (جڑ کٹے) کہہ کر اذیت پہنچا رہے تھے، اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو تسلی دی اور ہمت بندھائی، اور سمجھا دیا کہ ابتر تو آپؐ کے دشمن ہیں۔ اسی کی تصویر کشی سورۃ الکوثر میں فرمائی، اور آپؐ کو اطمینان دلایا کہ :
’’(اے نبیؐ) ہم نے تجھے کوثر عطا کردیا۔ پس تم اپنے رب ہی کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ تمہارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے‘‘۔ ( الکو ثر،۱ ۔۳)
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ حضورؐ ہمارے درمیا ن بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں آپؐ پر کچھ اونگھ سی طاری ہوئی، پھر آپؐ نے مسکراتے ہوئے سر مبارک اٹھایا۔ لوگوں نے پوچھا آپؐ کس بات پر تبسم فرما رہے ہیں؟ اور بعض روایات کے مطابق آپؐ نے خود فرمایا:اس وقت میرے اوپر ایک سورت نازل ہوئی ہے، آپؐ نے سورت تلاوت فرمائی ، اور پوچھا جانتے ہو کوثر کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا: وہ ایک نہر ہے جو میرے رب نے مجھے جنت میں عطا کی ہے۔(رواہ مسلم و امام احمد)
کوثر ایک ایسا کلمہ ہے جس کا مکمل مفہوم دنیا کی کسی زبان میں ادا نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے مراد بے انتہا کثرت ہے۔ ایسی کثرت جو افراط اور فراوانی کی حد کو پہنچی ہوئی ہو۔ اور اس سے مراد ایک بھلائی نہیں بلکہ بے شمار بھلائیوں اور نعمتوں کی کثرت ہے۔
باطل دوئی پسند ہے، حق لا شریک ہے
جب باطل پرستوں نے حق اور باطل کے درمیان مصالحت کا راستہ اپنانا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو تاکیدی انداز میں اور دو ٹوک طریقے سے بتا دیا کہ باطل اور حق کے درمیان کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر اتحاد ممکن نہیں۔پس ہر قسم کی سودے بازی کا راستہ بند کر دیا گیا۔اور اعلان کر دیا کہ ’’تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین‘‘۔ (الکافرون، ۶)
اسلام اور جاہلیت کے درمیان مکمل جدائی اور تفریق ضروری ہے۔اور اسلامی دعوت و تحریک کے لیے ضروری ہے، پس یہی طریقِ کار تھا داعیء اوّل کا۔
اذیت دینے والوں کا انجام
اور جب رسولِ کریم کا اپنا سگا چچا ابو لھب اس دین کی دعوت کو رد کر کے آپؐ کے مقابلے میں آیا، اور اس کی بیوی امِّ جمیل آپؐ کی راہوں میں کانٹے بچھانے لگی اور آپؐ کے خلاف ظالمانہ مہم میں شامل ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس برپا کی گئی جنگ میں اپنے نبیؐ کا ساتھ دیا، اور ان کی حمایت کی، اور فرمایا:

’’ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامراد ہو گیا وہ‘‘۔ (المسد،۱)
جب نام لے کر آپؐ کے چچا کی مذمت کی گئی تو لوگوں کی یہ توقع ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی کہ رسول اللہ ؐ دین کے معاملے میں کسی کا لحاظ کر کے کوئی مداہنت برت سکتے ہیں۔ جب علی الاعلان رسولؐ کے اپنے چچا کی خبر لے ڈالی گئی تو لوگ سمجھ گئے کہ یہاں کسی لاگ لپیٹ کی گنجائش نہیں۔
اللہ تعالیٰ اپنے نبیؐ کے لیے بڑا غیور ہے، وہ فرماتا ہے:
’’اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ دیتے ہیں، ان کے لیے دردناک سزا ہے‘‘۔ (التوبۃ،۶۱)
(جاری ہے )
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here