ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

رسول اللہ ﷺ بطور حاکم – بتول نومبر۲۰۲۰

اللہ تعالیٰ نے شرک و طغیان کے اندھیروں میں انسانوں کو روشنی دکھانے کے لیے انبیاء علیھم السلام کو مبعوث کیا، اور ان کے ساتھ ایک ہدایت نامہ اور الہامی آئین بھی بھیجا جس میں معاشرت، تمدّن اور سیاست کے میدان کی رہنمائی فراہم کی۔ یعنی تعمیرِمعاشرت اور انسانی زندگی کی تعمیر کی بنیاد عطا کی۔ انسانی زندگی کے سلجھاؤ کے لیے ایسے سنگِ راہ قائم کیے جنہیں پیش ِ نظر رکھا جائے تو تعمیر ِ انسانیت کا درست نقشہ تشکیل پاتا ہے۔انہیں ہدایات کے مطابق ہر پیغمبر نے اپنی امت کی رہنمائی کی اور انہیں ہدایات کے مطابق رسول اللہ ؐ نے امتِ مسلمہ کے کردار کی صورت گری کی۔ رسول اللہ ؐ کی بعثت کا مقصد ہی یہی تھا کہ دنیا کو اس انفرادی سیرت و کردار اور اس ریاست کا نمونہ دکھا دیںجو قرآن کے دیے ہوئے نظام کی عملی صورت ہو۔
اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء علیھم السلام کواور ان کے پیرووں کو غلبہ عطا فرماتا ہے، اور غلبے کی کئی صورتیں ہیں جن میں سے ایک سیاسی غلبہ بھی ہے۔
رسول اللہ ؐ کا مشن یہی تھا کہ وہ اللہ کے بیان کردہ حق کو حق کی حیثیت سے پیش کریں، اور عقائد، اخلاق، عبادات، اور معاملات میں لوگوں کو راہِ راست کی تعلیم دیں۔ جو کتاب اللہ نے نازل کی ہے اسی کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کریں، اور جو معیارِ حق اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اسی کو ترازو اور میزان بنا کر افکار، اخلاق اور معاملات کے افراط و تفریط کی انتہاؤں کے درمیان انصاف کو قائم کریں۔ رسول اللہ ؐ نے فرداً فرداً بھی اور اجتماعی طور پر بھی اسی معیار کے تحت حاکمانہ تصرف اختیار کیا۔ قرآن کریم میں آپؐ کی اس حیثیت کی بار بار تصریح کی گئی کہ آپؐ صرف معلم و مزکی اور نمونہء عمل ہی نہیں بلکہ حاکم، قاضی اور امیر مطاع بھی ہیں۔
آپؐ نے ایسی اسلامی ریاست عملاً برپا کی جس میں انسانی زندگی کا نظام فرداً فرداً بھی اور اجتماعی طور پر بھی عدل کی بنیاد پر قائم کیا۔ ایسا ماحول مہیا کیا جس میں ہر شہری اپنے خدا کے حقوق ، اپنے نفس کے حقوق اور ان تمام افرادِ معاشرہ کے حقوق ادا کرے جن سے اسے واسطہ پڑتا ہو، اور ان حقوق کی ادائیگی کی بنیاد انصاف پر قائم ہو۔اجتماعی زندگی کا ایسا نظام وضع کیا ، جو معاشرے سے ظلم کا خاتمہ کر دے اور تہذیب و تمدن کا ہر پہلو افراط و تفریط سے محفوظ ہو، اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں میں صحیح صحیح توازن قائم ہو۔ معاشرے میں عدل ِ انفرادی بھی قائم ہو اور عدلِ اجتماعی بھی! افراد کی ذہن سازی بھی کی اور اور سیرت سازی، ان کے کردار کی تعمیر بھی کی اور ان کے برتاؤ میں توازن پیدا کیا، تاکہ فرد اور جماعت دونوں ایک دوسرے کی روحانی، اخلاقی اور مادی فلاح میں مانع ہونے کے بجائے معاون اور مددگار ہوں۔ (دیکھئے: تفہیم القرآن، ج۵، ص۳۳۲)
حضور اکرم ؐ نے انسانی تاریخ کی قلیل ترین مدت میں ایسی حکومت قائم کی جس کی نظیر تاریخِ عالم میں کہیں موجود نہیں۔ یہ ایسی حکومت تھی جسے قائم کرنے میں نہ خون خرابہ ہؤا نہ فساد فی الارض اور ہلاکتِ انسانی ، ضیاع جان و مال و عزت وآبرو اور نہ انسانی بستیوں کی بربادی۔ یہ ظلم کے نظام کو ہٹا کر امن کا نظام قائم کرنا تھا۔
مدینہ میں قائم ہونے والی اسلامی ریاست میں ایک نئے انسان اور نئے شہری نے جنم لیا تھا، اور بد اخلاق اور بد کردار انسان یکسر ایک نئے انسان میں ڈھل گیا تھا، با اخلاق اور با کردار انسان! قدیم رسموں اور عصبیتوں اور اخلاقی خرابیوں کا مارا ہؤا معاشرہ سارے بوجھ اتار کر سیدھا سادا شریف اور پابندِ اخلاق معاشرہ بن گیا تھا، جس میں خدا ترسی، ہمدردی، اخوت و مساوات، ذمہ داری کا احساس اور آخرت کی جوابدہی، نیکی اور خیرخواہی کی قدریں جاگزیں ہو گئیں۔جابر مسلط سرداروں کے بجائے نیک اور وحی الٰہی کی رہنمائی میں چلنے والا خدا ترس حکمران میسر آیا۔
رسول اللہ ؐ کی اسلامی مملکت دنیا داری، مکّاری، چالبازی سے پاک تھی، اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی کامل اطاعت کی تاکید کی ہے:
’’درحقیقت تم لوگوں کے لیے رسول اللہ ؐ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے’’۔ (الاحزاب، ۲۱)
ایک حاکم کی حیثیت سے آپ نے ریاست کو ان بنیادوں پر قائم کیا:
۱۔ ریاست کا نظام علاقائی عصبیت کے بجائے اصولی اور نظریاتی بنیادوں پر قائم کیا گیا۔
۲۔ اس میں رنگ نسل اور زبان کے بجائے اخلاق و کردار کو وجہِ امتیاز قرار دیا اور تمام انسانوں کو ایک انسانی کنبے کے افراد قرار دیا۔
۳۔ سارے انسانی نظام کی بنیاد وحدت ِ الٰہ (ایک اللہ)، وحدتِ قیادت (ایک رسول) اور وحدتِ ہدایت (ایک کتاب ) پر رکھی۔
۴۔ تمام انسانوں کو اللہ وحدہ لا شریک کے سامنے جواب دہ قرار دیا گیا، اور خارجی پابندیوں سے بڑھ کر انسانی ضمیر کو اصلاح کردار و اعمال کا ذریعہ بنایا گیا۔
۵۔ دولت و غربت کے درمیان توازن قائم کیا، اور دونوں کو ایک انسانی برادری کے مرکز پر اکٹھا کیا اور امیر کی امارت پر غربت کے بے شمار حقوق عائد کر کے دونوں کے درمیان تعلق کو مضبوط بنایا۔
۶۔ پوری مملکت کے نظام ِ فکر کی روح کو ایک کلمہ کے پیغام میں سمیٹ دیا، اور اسی ایک کلمے کے عظیم اور مضبوط قول کے ذریعے مملکت کے نظریے کا اظہار ہؤا۔ (دیکھئے: رسول اللہ ؐ کی حکمتِ انقلاب، سید اسعد گیلانی، ص۵۴۷۔۵۴۸)
مدینہ منورہ کی جانب ہجرت کے ساتھ ہی رسول ِ کریم ؐ کو ایک ایسا خطہء زمین میسر آگیاجہاں ایک چھوٹی سی سلطنت ایک بیج سے درخت بننے تک کے مراحل سے گزری، اس کے تین نمایاں مرحلے تھے:
۱۔ اس مملکت کو صفحہء ہستی سے مٹانے کے لیے فتنے اور اضطرابات پیدا کیے گئے، مسلح جنگیں بھی ہوئیں، یہ مرحلہ ہجرت سے صلح حدیبیہ ذی قعدہ ۶ ھ تک کا ہے۔
۲۔ اس میں بت پرست قیادت سے صلح ہوئی اور ۸ھ فتح مکہ پر منتج ہوئی۔ اس میں دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کو دعوتِ دین پیش کی گئی۔
۳۔ جس میں خلقت اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئی، مختلف قوموں اور قبیلوں کے وفود نے مدینہ آکر خود کو اس حاکم کی حکمرانی کو تسلیم کر لیا۔اور یہ مرحلہ رسول ِ کریم ؐ کی حیات ِ مبارکہ کے اخیر یعنی ربیع الاول ۱۱ھ تک محیط ہے۔ (دیکھئے: الرحیق المختوم، صفی الرحمن مبارکپوری، ص۲۴۳)
مدینہ کی اسلامی ریاست
مدینہ کی اسلامی ریاست قائم کرنے کے لیے رسول ِ کریمؐ کو آسمانی حکومت کی طرف سے پروانہء ہجرت ملا۔اور مکہ کے مسلمانوں کی کثیر تعداد نے بصد شوق اپنے گھر اور اموال چھوڑ کر مدینہ کی جانب ہجرت کی، اور مدینہ کے ہونے والے بہادر اور جری حکمران نے سب کے ہجرت کرنے کے بعد مدینہ کی جانب رختِ سفر باندھا، اور اس حال میں مکہ چھوڑا جب مکہ والے آپؐ کو زندہ دیکھنے کے روا دار نہ تھے اور گھر کے باہر خون کی پیاسی تلواریں میان سے باہر نکل چکیں تھیں، جب آپؐ بے خوفی کی شان سے سورہ یٰس کی ابتدائی آیات پڑھتے ہوئے ان کے درمیان سے نکل گئے۔
تعمیری اقدامات
ہجرت کے سفر کا منصوبہ اور قدم قدم پر اختیار کردہ حکمتیں اس ذہنی افق کی وسعت کی شاہد ہیں، جو آپؐ نے اختیار کیں۔ہجرت کے سفر میں ضروریات زندگی کیسے میسر آئیں گی؟، دشمنوں کے منصوبے کی خبر کیسے ملے گی؟، اور تین دن غار میں چھپے رہنے کے بعد آگے کا سفر کن احتیاطوں کے ساتھ اختیار کیا جائے گا؟، یہ سب حاکم کی دور اندیشی کا گواہ ہے۔
مدینہ کے باسی آپؐ کے انتظار میں ہر روز راستے پر بیٹھ کر انتظار کرتے، یہ اس بات کی علامت تھی کہ آپؐ کسی اجنبی جگہ تشریف نہیں لے جا رہے تھے، بلکہ اللہ کے فضل سے آپؐ کو وہ مقامِ ہجرت ملا تھا، جہاں کے لوگ آپؐ کی راہ میں آنکھیں بچھانے کے لیے بے تاب تھے۔اور جب آپؐ وہاں پہنچے تو آپؐ کی آمد کی خبر سنتے ہی ۵۰۰ آدمی استقبال کے لیے دوڑ پڑے (اس زمانے میں جہاں ذرائع اطلاع میں صرف قاصد ہی میسر تھے)۔
قبا میں دس روزہ قیام کے زمانے میں آپؐ نے مسجدِ قبا کی تعمیر فرمائی، حافظ ابنِ حجر کہتے ہیں کہ یہ پہلی مسجد تھی جو اسلام میں بنائی گئی، اور پہلی مسجد تھی، جس میں رسول اللہ ؐ نے اپنے صحابہ کو علانیہ نماز پڑھائی۔ (سلطنت کے قیام کے ساتھ ہی فرائض کی ادائیگی کا اہتمام، مسجد کی تعمیر میں دنیا کا سب سے بڑا تاریخ ساز ایک معمولی مزدور کی طرح شریک!)
قبا میں ۱۴ دن قیام کے بعد مدینہ کی جانب سفر، جہاں قبا سے مدینہ تک دو رویہ انصار خیر مقدم کے لیے صفیں باندھے کھڑے تھے، عورتیں چھتوں پر جمع تھیں اور خیر مقدمی ترانے گا رہی تھیں۔آپؐ نے ان سے پوچھا۔ کہ کیا تم مجھے چاہتی ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! آپؐ نے فرمایا: میں بھی تم کو چاہتا ہوں۔(سیرت النبَی، ج۱، ص۲۵۵)
قبا سے مدینہ کے سفر میں جمعہ کی ادائیگی بھی کی، اور اسے فرض قرار دیا، اور اس کے آداب سکھائے، یہاں تک کہ اس نماز کی وہ شان مقرر ہوئی جس کی نظیر دنیا کی کسی قوم کی اجتماعی عبادت میں نہیں ملتی۔(سیرت سرور عالم، ج۳، ص۵۲)
مدینہ میں بھی مسجد نبوی کا قیام اور اذان کا طریقہ رائج کیا، عبادت کے لیے ہر مرحلے پر یہود و نصاری کی پیروی سے اجتناب کیا گیا۔
داخلی امور
مدینہ کے باشندوں میں لٹے پٹے مہاجرین بھی تھے اور انصار بھی!رسول اللہ ؐ نے ان کے درمیان مواخات قائم کر کے ان کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا اور الفت و محبت سے دلوں کو جوڑ کر ان کو ایسا مضبوط جتھا بنا دیا، کہ اوس و خزرج کے باہم متنافر اجزاء ایک بنیانِ مرصوص بن گئے۔ یہ تھی مدینہ کی اسلامی ریاست کی عوام! اور اسی اٹھان نے انہیں چند برس میں ایسی مضبوطی عطا کی کہ مدینہ تمام عرب کا دار السلطنت بن گیا، اور اس کے مکین اس سلطنت کے اکابر و اعیان بن گئے، اور ہر طرف سے فتوحات، غنائم اور تجارت کی برکات اس مرکزی شہر پربارش کی طرح برسنے لگی۔(سیرت سرورِ عالم، ج۳، ص۶۰)
رسول کریم ؐ نے اپنے پہلے خطاب میں فرمایا:
’’لوگو! اپنی جانوں کے لیے کچھ کمائی کر لو، خوب جان لو، خدا کی قسم تم میں سے ہر ایک پر موت وارد ہو گی۔ اور وہ اپنے گلّے کو اس حال میں چھوڑ کر رخصت ہو گا کہ کوئی اس کا چرواہا نہیں رہے گا۔پھر اسے اس کے پروردگار کی طرف سے ایسے عالم میں خطاب کیا جائے گا جب کہ بیچ میں کوئی ترجمان نہ ہو گا۔۔۔۔سو جس کو بھی توفیق ہو کہ وہ کھجور کی ایک پھانک کے عوض بھی اپنے چہرے کو دوزخ کی آگ سے بچا سکے تو کرے۔جو اتنا بھی نہ کر سکے وہ کوئی بھلی بات کہہ کر ہی بچاؤ کرے‘‘۔ (سیرت ابن ہشام، ج۲، ص۱۱۸)
آپؐ کے ابتدائی خطابات میں اسلام کی دعوت بھی تھی اور قرآن سیکھنے کی اہمیت بھی، حلال و حرام کی تمیز بھی اور جذبہء اخوت و رفاقت کو بھی ابھارا گیا تھا۔
تعمیری اقدامات
مدینہ کی ریاست کا سب سے بڑا تعمیری اقدام یہ تھا کہ ریاست چلانے کے لیے مدینہ کے یہود و مشرکین اور مسلمانوں کو ایک نظم میں پرو دیا گیا تھا۔ ایک تحریری معاہدہ بھی لکھا گیا تھا جس کی حیثیت ایک باقاعدہ تحریری دستور کی تھی۔اس کو بجا طور پر دنیا کا پہلا تحریری دستور کہا جاتا ہے۔اس کے ذریعے سے جو کچھ حاصل کیا وہ یہ تھا:
مدینہ کے منظم ہونے والے معاشرے میں اللہ کی حاکمیت اور اس کے قانون کو سیاسی اہمیت حاصل ہو گئی۔
سیاسی، قانونی اور عدالتی لحاظ سے آخری اختیار محمدؐ کے ہاتھ آگیا۔
دفاعی لحاظ سے مدینہ اور اس کی نواحی آبادی ایک متحدہ طاقت بن گئی۔اور اس میں فیصلہ کن اختیار آنحضور ؐ کے پاس آگیا۔ (محسنِ انسانیت، نعیم صدیقی، ص۲۴۶)
تربیتی سرگرمیاں
اسلامی ریاست قائم ہوتے ہی ایک آزاد مملکت کے باشندوں کو الہامی پیغام کی روشنی میں تمدن، معاشرت، معیشت، قانون اور سیاست کے متعلق اصولی ہدایات دینی شروع کیں اور یہ بتایا کہ اسلام کی اساس پر یہ نیا نظامِ زندگی کس طرح تعمیر کیا جائے گا۔
اس نئی مملکت کی بیرونی طاقتوں سے کشمکش بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی۔جب حق میدان میں آگیا تو ناگزیر تھا کہ باطل کے میدان میں بھی گرما گرمی پیدا ہو۔مخالفت قریش ِ مکہ نے بھی کی اور یہود نے بھی۔ قریش استکبار کے ساتھ نئی ریاست کا قلع قمع کرنا چاہتے تھے اور یہود پر حسد کا جذبہ چھایا ہؤا تھا۔وہاں احساسِ برتری کی بیماری تھی اور یہاں احساسِ کہتری کا روگ لگا ہؤا تھا۔اور پھر اس رزمِ کفر و دین میں یہود نے اسلام کے مقابلے پرکفر وشرک کی طاقت کے پلڑے میں اپنا پورا وزنِ تعاون ڈال دیا، حالانکہ بڑے سے بڑے اختلاف کے باوجود انہیں خدا پرستانہ اور اخلاق پسندانہ مسلک کے علمبرداروں کے ساتھ زیادہ ہمدردیاں ہونی چاہئیں تھیں۔
اسلامی معاشرہ کے سربراہ کار کے سامنے ایک بڑا وسیع اور متعدد پہلو رکھنے والا تعمیری منصوبہ تھا، جہاں مہاجرین کی بحالی، اور معاشی سہارا بہم پہنانے کے ساتھ بیرونی دشمن سے بچاؤ کا انتظام بھی پیش نظر تھا اور مدینہ کی نوخیز ریاست کو اپنے دائرے میں غداروں اور سازشیوں کی فتنہ انگیزیوں سے بھی محفوظ رکھنا تھا۔
کسی بھی مملکت کے دشمن اس کو کمزور کرنے کے لیے ملک کے اندر غیر مطمئن افراد سے رابطہ کر کے انہیں دشمن کے ارادوں کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور یہی مدینہ کی پہلی اسلامی ریاست میں بھی ہؤا، جب مشرکینِ مکہ کو ہجرت روکنے میں ناکامی ہوئی تو انہوں نے مدینے کے سردار عبد اللہ بن ابی (جسے ہجرت سے پہلے اہلِ مدینہ بادشاہ بنانے کی تیاری کر چکے تھے اور جس کی تمناؤں پر حضورؐ کے مدینہ پہنچ جانے اور اوس و خزرج کی اکثریت کے مسلمان ہو جانے سے پانی پھر چکا تھا) سے رابطہ کیا، اور ابن ابی کچھ آمادہِ شر ہؤا مگر رسول اللہ ؐ نے بر وقت اس شر کی روک تھام کر دی۔
اس سلطنت کے مہاجرین میں کچھ رضا کار بھی تھے، جنہوں نے اپنے آپ کو ہمہ تن وقف کر دیا تھا، جن کی تعداد ۷۰ سے۴۰۰ تک تھی، جو خود فقرو فاقہ میں میں رہ کر بھی حصول ِ علم میں مصروف رہتے اور جزوقتی تجارت بھی کرتے۔وہ ہر وقت آپؐ کی خدمت میں رہتے تھے۔حضورؐ جس مہم پر چاہتے انہیں بھیج دیتے اور بندگانِ خدا کو تعلیم بھی دیتے۔اس اعتبار سے صفہ ایک پناہ گاہ بھی تھی اور اور ایک مدرسہ اور تربیت گاہ بھی۔
حضرت عقبہ بن عامرؒ کہتے ہیں کہ ایک روز جب ہم صفہ میں بیٹھے تھے، رسول اللہ ؐ اپنے حجرہ مبارک سے نکل کر تشریف لائے اور فرمایا:
تم میں سے کون یہ چاہتا ہے کہ وہ ہر روز بطحان یا عقیق جائے اور وہاںسے بڑے کوہان والی دو اونٹنیاں لے آئے، بغیر اس کے کہ اس نے کوئی گناہ یا قطع ِ رحم کا فعل کیا ہو؟ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہؐ ، ہم میں سے تو ہر ایک یہ چاہتا ہے۔ تب آپؐ نے فرمایا: کہ تم میں سے ہر ایک شخص مسجد میں جائے اور لوگوں کو دو آیتیں پڑھ کر سنائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اسے روزانہ دو اونٹنیاں میسر آئیں۔ (مسلم)
جب یہ سوچ اور جذبہ مملکت کے شہریوں میں بیدار ہو جائے تو معاشرے میں کس قدر مثبت تبدیلی رونما ہوتی ہے۔اور یہ ہجرت، طالبِ علم اور اشاعتِ علم اور صبر و ایثار کے راستے کی تربیت ہی تھی جس نے انہیں سلطنتوں کا مالک بنا دیا۔
بیدار مغز قیادت
اہل ِ مکہ نے مسلمانوں پر زیارت ِ بیت اللہ کی راہ کو بند کیا تو اس اعلان کے جواب میں اہلِ مدینہ نے ان کے لیے شامی تجارت کا راستہ پر خطر بنا دیا تاکہ قریش اور دوسرے معاندین قبائل ، جن کا مفاد اس راستے سے وابستہ تھا، اپنی معاندانہ و مزاحمانہ پالیسی پر نظرِ ثانی کرنے کے لیے مجبور ہو جائیں۔ اس سلسلے میں دو اقدامات کیے گئے: ۱۔ مدینہ اور ساحلِ بحرِ احمر کے درمیان اور اس شاہراہ سے متصل آباد قبائل سے حلیفانہ اتحاد یا کم از کم ناطرف داری کا معاہدہ۔ ۲۔ قریش کے قافلوں کو دھمکانے کے لیے چھوٹے چھوٹے دستوں کا گشت۔
ریاستِ مدینہ کے غدار
مدینہ کی اسلامی مملکت کے غدار منافقین تھے، یہ زیادہ تر مال دار اور سن رسیدہ لوگ تھے، ان میں سے صرف ایک جوان تھا اور غریب کوئی بھی نہ تھا۔یہ محض اپنے مفاد کے تحفظ کی خاطر مسلمانیت کا دعویٰ کر کے اس گروہ میں شامل ہو گئے تھے تاکہ اپنی قوم کے درمیان اپنی ظاہری عزت اور اپنی جائیدادوں اور اموال کو برقرار رکھ سکیں، مگر مخلصانہ ایمان اختیار نہ کریں تاکہ ان نقصانات اور خطرات سے دوچار نہ ہوںجو اخلاص کی راہ میں لازماً پیش آتے ہیں۔
ان غداروں نے ہر اہم موقع پر مسلمانوں حتیٰ کہ رسول کریم ؐ کی گھریلو زندگی کو بھی انتشار کا شکار کرنا چاہا اور ہر اہم موقعہ پر ان کی حمایت کا وزن کفر کے پلڑے میں گیا۔
مشاورت کا نظام
رسول کریمؐ ملکی حالات سے باخبر رہتے، اور اہم معاملات میں قابلِ بھروسہ ساتھیوں سے مشورہ بھی لیتے۔ دشمن کی جانب پیش قدمی کا معاملہ ہو یا دشمن سے مقابلے کے لیے شہر سے باہر نکل کر لڑنے کا، یا خندق کھود کر مدافعتی حصار قائم کرنے کا، آپؐ ایک بہترین حاکم کی مانند مشورے اور اعتماد کے ساتھ پیش رفت فرماتے۔یہی اقدامات تھے کہ ایک مغربی محقق نے بدر کی فیصلہ کن فتح پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:
’’بدر سے پہلے اسلام محض ایک مذہب تھا، مگر بدر کے بعد وہ مذہبِ ریاست بلکہ خود ریاست بن گیا‘‘۔ (سیرت سرورِ عالم، ص۱۱۹)
عوامی فلاح اور خدمتِ خلق
رسول کریم ؐ نے اپنی ریاست کے شہریوں کی انسانی بنیاد پر خدمت بھی کی اور رعایا کی بہترین کفالت بھی! اس ریاست میں کوئی گداگر نہ تھا۔ اس کے سربراہ کا اعلان تھا کہ جو مقروض فوت ہو جائے اس کا قرض ریاست کے ذمہ ہے اور جو وراثت وہ چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کی ہے۔ روزگار کی ضمانت اور معاشی کفالت کا اہتمام ریاست کے ذمہ تھا۔ (حکمتِ انقلاب، سید اسعد گیلانی، ص۵۵۵)
مقصدِ ریاست
مدینہ کی ریاست جیسی کوئی ریاست دنیا میں وجود نہیں رکھتی، اس کا تصوّر حاکمیت مختلف تھا۔ یہاں نہ عوام کی حاکمیت تھی نہ کسی خاندان یا ادارے کی، بلکہ اس کا حاکمِ اعلیٰ صرف اللہ تھا، اور رسول نبی ؐ حاکم کی حیثیت میں بھی اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور نگرانی میں اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔
مقصدِ ریاست
یہ دنیا کے نفشے پر ایسی ریاست تھی جس کی اصل دشمنی خدا کے باغیوں سے تھی، نیز کفر بالطاغوت کر کے دنیا کے تمام باغی انسانوں، ریاستوں، اور اداروںاور گروہوں کو اللہ کی بندگی کی طرف لانا اور ایمان باللہ کو زمین کے آخری کناروں تک پہنجانا اس ریاست کے حاکم کا مقصدِ اولین تھا۔
انسانی قدرو قیمت
مدینہ کی اسلامی ریاست ایک ایسا تعلیمی اور تربیتی ادارہ تھی جو اپنے باشندوں کو مخصوص اخلاقی سانچے میں ڈھالنے کا اہتمام کرتی تھی۔ یہاں کے حاکم مادی اشیاء سے بڑھ کر اپنے عوام کو توجہ دیتے، اور ان کے نزدیک ہر شے سے بڑھ کر انسان کی قدر وقیمت تھی۔ ایک انسان کو گالی دینا فسق کہلاتا اور اسے ناحق قتل کرنا ساری مخلوق کے قتل کے برابر تھا۔
صلاحیت و صالحیت
اس ریاست کے حاکم نے اپنے عمال کو مناصب عطا کرتے ہوئے صالحیت کی شرط لازم کر رکھی تھی، باصلاحیت افراد میں سے صالح فرد کا مناصب کے لیے انتخاب ہوتا، اور نیک و صالح افراد ہی اس ریاست کے کل پرزے بن سکتے تھے۔ اس میں مال اور نسب کی اہمیت نہ تھی بلکہ شرافت اور اخلاق کی تھی۔بیت المال کے اونٹوں کے ایک چرواہے کو اس لیے معزول کر دیا گیا کہ وہ جنگل میں برہنہ لیٹا ہؤا تھا۔
یہ کارنامہ انجام دینے کے لیے حاکمِ اسلامی مملکت محمد ؐ نے اللہ تعالیٰ کی ہدایات کی روشنی میں مختلف حکمتوں سے کام لیا۔ ان ساری حکمتوں نے پوری کامیابی اور عمدگی سے کام کیا، تب جا کر وہ عظیم الشان ریاست وجود میں آئی جو در حقیقت حضرت عیسٰیؑ کے الفاظ میں زمین پر آسمانی بادشاہت تھی۔(دیکھیے: حکمتِ انقلاب، ص۵۵۷۔۵۵۸)
حضورؐ کے مشن کی کامیابی دنیا کی کامیابیوں میں سب سے بڑی مثالی کامیابی ہے اور آپؐ کا راستہ ہی دین و سیاست اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا مستند راستہ ہے۔

٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x