ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ذرا سوچیے – بتول جون ۲۰۲۲

اس شام جب وہ اپنی ماں سے لڑ جھگڑ کر چودھری صاحب کے ڈیرے پر پہنچا تو اس نے دیکھا بڑے چودھری صاحب دلدار حسین اپنے بیٹے کو سمجھا رہے تھے ۔ بیٹے اب تم شہر میں اپنی آمدو رفت کم کردو اور دوسرے گل چھرے بھی ختم کر دو کیونکہ اگلے سال وہ اسے الیکشن میں کھڑا کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے بیٹے سے کہا تمہاری ذرا سی غلطی اخباروں کومل گئی تو وہ ایسی ہوا دیں گے کہ الیکشن لڑنا مشکل ہو جائے گا ۔ چوہدری صاحب تھوڑی دیر رک کر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولے ۔ فیکا کہاں ہے ؟ ادھر سرکار…یہاں ادھر ہوں۔ فیکا اپنی جگہ کھڑا ہوگیا ۔چودھری صاحب نے فیکے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔ خیال رکھا کر چھوٹے سر کار کا ۔ اگر کچھ ایسا ویسا ہو گیا تو تیری چمڑی ادھیڑدوں گا ۔ فیکا گھبرا گیا ۔ اس سے پہلے چودھری صاحب نے ایسی بات کبھی نہیں کہی تھی ۔ وہ حیرت سے نظریں جھکائے خاموش کھڑا تھا ۔ بڑے چودھری سمجھدار اور گھا گھ بندے تھے ۔ اسے خاموش دیکھ کر بولے اوئے ! تو تو ساتویں جماعت پاس ہے ، اپنے یار کا خیال رکھا کر، سمجھ گیا نا ! فیکے کی جان میں جان آئی ۔ جی چوہدری سرکار ایسا ہی ہوگا ، آپ فکر نہ کریں ، فیکے نے جواب دیا ۔ تھوڑی دیر یہ بیٹھک اور رہی جیسے ہی نذیرے نے نئی چلم حقہ پر لا کر رکھی چودھری صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے سب کو جانے کے لیے کہا۔
اس کے ذہن میں ایک دریچہ اور کھل گیا ۔ باہر نکلتے ہی چودھری نادر حسین نے فیکے سے کہا۔ نازلی کے دو تین پیغام آ چکے ہیں اور اس کے پاس جانا بہت ضروری ہے۔ نازلی ایک طوائف کی بیٹی تھی جس کو چھوٹے چودھری نے رکھیل بنایا ہؤا تھا ۔ وہ مہینے میں ایک دو دفعہ اس سے ملنے شہر ضرور جاتا تھا ۔ آج فیکے نے اسے سمجھانا چاہا کہ وہ نہ جائے ۔ چودھری صاحب نے اتنا لمبا چوڑا لیکچر دیا ہے ، کل چلیں گے ۔ نادر بضد رہا ۔ اس نے جیپ نکالی اور وہ دونوں شہر کی طرف روانہ ہوگئے ۔
بنی سنوری نازلی شاید ان کا ہی انتظار کر رہی تھی ۔ جیسے ہی خدمت گار دروازہ کھول کر اندر گیا ۔ نازلی ، نادر حسین کے گلے آن لگی ۔ فیکا ذرا دور کھڑا تھا ۔ فیکے نے سنا نازلی کہہ رہی تھی ، میں تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہوں ،اب جلدی سے مجھ سے شادی کر لو اور زیادہ انتظار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کیا بکواس کر رہی ہے تو! نادر حسین اس سے الگ ہوتے ہوئے چلایا، سالی دوسرے کا گناہ مجھ پر ڈال رہی ہے ، کہتے ہوئے نادر حسین نے چشم زون نیفے میں اُڑسی پستول نکال کر دو تین گولیاں نازلی کے سینے میں پیوست کردیں اور پستول فیکے کی طرف اچھال دیا جو اس کے ہاتھوں میں آگرا۔ وہ حیران ہکا بکا اپنی جگہ سن کھڑا کا کھڑا رہ گیا ۔ اس نے جیپ کی آواز سنی اور ساتھ ہی اسے محسوس ہؤا کہ وہ دو تین آدمیوں کی گرفت میں ہے ۔ گولیوں کی آواز سن کر نازلی کے نوکروں نے آکر فیکے کو قابو کرلیا تھا۔
پولیس آگئی ۔ قاتل موجود، آلہ قتل موجود، مقتول زمین پر موجوداور گواہان موجود … باقی کیا رہا … سزا ، جو عدالت نے اسے سنا دی ۔ ماں باپ کوکوئی اطلاع دینے والا نہ تھا…نہ ان کو پتہ چلا ، نہ کوئی آیا ، نہ گیا ، ہاں بچوں کی جیل میں ، جہاں وہ شروع میں ڈالا گیا ، مہینوں ماں کے یہ الفاظ اس کے کانوں میں گونجتے رہے تھے ۔ اوئے فیکے ہم کمی کمہار ہیں ، ہمارا بڑے لوگوں سے میل نہیں ہو سکتا ۔ یہ بڑے لوگ اپنے فائدے کے لیے ہم چھوٹے لوگوںکودائو پر لگا دیتے ہیں ۔ تو بھی ایک دن پچھتائے گا … مر جانے چودھری دا کھیڑا چھڈ دے۔ اور وہ واقعی اب پچھتا رہا تھا ۔ دن رات یہ الفاظ اس کے ذہن میں گونجتے رہتے تھے ۔ اُس پرعجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ۔ وہ انتقام کی آگ میں جلنے لگتا ۔ وہ چاہتا اس کے پر لگ جائیں اورجیل سے نکل کر نادر حسین کو قتل کر دے۔

جیل کی زندگی نے اس پر کئی راز آشکار کیے ۔ جیل کے اندر بھی جرائم پیشہ لوگوںکے مراسم ہوتے ہیں ۔ جو جتنا بڑا مجرم ہے اس کا درجہ جیل میں بھی اتنا ہی اونچا ہے ، اسے ہر قسم کی سہولت میسر ہے ۔ وردی والے صرف پیسے کے پچاری ہیں ۔ ان کو ان کی قیمت ادا کرو اور ٹھاٹ سے زندگی گزار و۔ بچوں کی جیل میں حکم چھوٹے استاد کا چلتا تھا اورعمل درآمدوردی والے کرتے تھے ۔ کیا بانکا جوان تھا ۔ عمر سولہ سال، کسرتی بدن ، مزاج کا ٹھنڈا ، ہر وقت مسکراتا چہرا۔ وہ کہتا تھا ہمارے کام میں جلد بازی ٹھیک نہیں … ہمیں سامنے والے کی چال سمجھ کر چال بنانی پڑتی ہے اور تحمل مزاجی اس کی پہلی شرط ہے ۔ وقت پر فیصلہ اور وقت پر عمل کامیابی کا راز ہے۔
انتقام کی آگ اسے چھوٹے استاد کے قریب تر کرتی چلی گئی اور چھوٹو استاد کو فیکا پسند آگیا۔ چھوٹو استاد سے اس نے چاقو زنی، رائفل چلانا ،پستول چلانا،ہینڈ گرینڈ چلانا ، لوہے کا مکا پہن کر لڑنا، سب سیکھ لیا تھا۔اور وہ آرٹ جو چھوٹو استاد کا خود ایجاد کردہ تھا کہ کیسے خود نہتے ہوتے ہوئے دوسرے کے ہاتھ سے اسلحہ چھین لیتے ہیں ، فیکے نے بہت جلدی سیکھ لیا تھا ۔ ریوڑی شاہ جس کا اصلی نام گل خان تھا ، وہ چھوٹو استاد کا شاگرد نمبر ون تھا جس کو چھوٹو استاد کو ششوں کے باوجود یہ آرٹ نہ سکھا سکا تھا ۔ ویسے ریوڑی شاہ میں سارے گن موجود تھے ۔ وہ کافی پھرتیلا اور خالی ہاتھ لڑائی کا ماہرتھا۔
اس نے اپنی زندگی کے سارے نشیب و فراز تو جیل کی دنیا ہی میں سیکھے تھے ۔ ان کا مشاہدہ کیا تھا اورخود بھی کتنے کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا تھا ۔ وقت کے ساتھ ساتھ جیلیں بدلتی چلی گئیں ۔ ایسے ایسے جرائم پیشہ لوگوں کے ساتھ گزرا جو عام حالات میں نا ممکن تھا ۔ اسے محسوس ہوتا وہ سارے جرائم اس کے جسم میں سرایت کرتے چلے جا رہے ہیںاورروہ لاشعوری طور پر ان کامرتکب ہوتا چلا جا رہاہے ۔ تب وہ پریشان ہو جاتا ۔ جیلیں تو اصلاح کرنے کے بجائے جرائم سکھانے کی یونیورسٹیاں ہیں ۔ چھوٹے سے جرم میں قید مجرم جب رہا ہوتا ہے تو جرائم کی دنیا کی کسی اعلیٰ ڈگری یا سرٹیفکیٹ کے ساتھ باہر نکلتا ہے ۔ ہر مجرم اپنی ہمت اور بساط کے مطابق ان منازل کو طے کرتا ہے اورعلم اور تجربہ حاصل کرتا ہے ۔ جیل میں ہر دن ایک نئی کہانی جنم لیتی ہے اور رات ایک اور کہانی سنا کر رلاتی ہے ۔
ایسے ایسے دل سوز واقعات نظروں کے سامنے ہوتے ہیں کہ زندگی سے نفرت ہونے لگتی ہے ۔ اندر کی دنیا وہ کچھ لیے بیٹھی ہے جس کا باہر بیٹھے لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ اگر کوئی لیکھک ان واقعات کو لکھنا چاہے تو کتابوں پر کتابیں لکھ سکتا ہے ۔ شروع شروع میں کئی سال و ہ اس ذہنی کشمکش میں رہا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اور جیلوں کی ادل بدل نے اُس میں ایک ایسی تبدیلی پیدا کی جس پر وہ حیرت زدہ تھا ۔ اسے برائی اور اچھائی کا فرق سمجھ میں آنے لگا ۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہؤا کہ اس کی انتقام لینے کی آگ ٹھنڈی ہو گئی تھی ، اس کی طبیعت میں ایک ٹھہرائو آگیا تھا اور دوسرا جیل کی زندگی نے یہ احساس دلا دیا تھا کہ یہ جیل خانے صرف غریبوں کے لیے بنائے گئے ہیںجہاںبے گناہ لوگ ہی لائے جاتے ہیںیا انہیںکسی اور کے گناہ کی پاداش میں جیل میں ڈالا جاتا ہے ۔ اصل مجرم تو باہر رہتے ہیں۔ وہ چودھری ہوں ،وڈیرے ہوں، سرکاری افسر ہوں ، سیاستدان ہوں ، پیسے والا کوئی مجرم نہیں ، مجرم صرف غریب آدمی ہے اور وہ سزا کا حق دار ہے ۔ وہ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی اس لیے سزا کا مستحق ہے کیونکہ وہ غریب ہے ۔ بس غریب ہونا سب سے بڑا جرم ہے ۔ یہ اس کا تجربہ تھا جو اس نے حاصل کیا تھا۔
اور اب تو وہ پچھلے دس بارہ سال سے کوٹھری نمبر 3بارک نمبر 7 کوٹ لکھپت جیل کا مقیم تھا جہاں شام کو تھک کر آکر لیٹتا تواسے ایسا لگتا تھا جیسے وہ ماں کی گود میں چلا گیا ہو ۔ اسے سکون مل جاتا تھا لیکن آج اسے جیل سے آزاد کیا جا رہا تھا ۔ وہ اپنی سزا کے 25سال پورے کر چکا تھا ۔ آزاد ، آزاد ، وہ آج آزاد ہو رہا تھا ۔ اسے آج رہائی مل رہی تھی ۔ اسے یوںمحسوس ہو ٔا آج وہ پھر ایک ماںسے بچھڑ رہا ہے ۔ اسے گھر سے بے گھر

کیا جا رہا ہے ۔ قرآن شریف اور میٹرک تک تعلیم تو اس نے اسی چار دیواری میں حاصل کی تھی جس کے لیے اس نے جیل حکام سے بڑی منت سماجت کی تھی ۔ وہ تو بھلا ہو اس نوجوان جیل سپرنٹنڈنٹ روداد خان کا جو میرٹ پرسلیکٹ ہو کر آیا تھا اور اس نے جیل مینوئل کے مطابق جیل میں اصلاحی اور تعمیراتی پروگرام شروع کروائے جس میں قیدیوں کو ابتدائی تعلیم کی طرف راغب کرنا اور روزی کمانے کے مختلف شعبہ جات جیسے کار پینٹری ، الیکٹریشن کا کورس ، قالین بننا ، دری بننا وغیرہ شامل تھا ۔ اس پر عمل درآمد شروع کروایا تھا لیکن حکومت وقت کو یہ باتیں اچھی نہیں لگیں اور وہ زیادہ دیر تک یہاںٹھہر نہ سکے ۔ ان کو پروموشن کے نام پر یہاں سے نکال لیا گیا تھا لیکن وہ اپنی ہمت اور کوششوں سے فیکے کے لیے میٹرک کے امتحان کے پراائیویٹ کینڈیڈیٹ کے داخلے کے تمام انتظام کر گئے تھے ۔ یوں فیکے نے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا تھا اور قرآنی تعلیم ایک قیدی سے حاصل کرلی تھی ۔ بعد میں پتہ چلا رو داد خان حکومت کے رویے سے بد دل ہو کر مستعفی ہو کر انگلینڈ چلے گئے ۔
جیل کی زندگی میں وہ اتنا رچ بس گیا تھا کہ باہر کی دنیا اس کے لیے بے معنی تھی ۔ مسجد میں پانچ وقت کی امامت اس پر ایک عجیب سی کیفیت طاری کر دیتی تھی ۔ وہ اپنی اس جیل کی زندگی سے بہت خوش اور مطمئن تھا لیکن اب اس سے کہا جا رہا تھا رہا کر دیں گے ۔ وہ سوچنے لگا ، رہاہو کروہ کہاں جائے گا ۔ باہر تو اس کا کوئی بھی نہیں ۔ ماں باپ تو کب کے مر کھپ گئے ۔ جس گائوں کا وہ رہائشی تھا وہاںاب اس کا کیا رکھا ہے جو وہ وہاں جائے گا ۔ اس کی دنیا، گھر بار ، دوست ، احباب ، ہمدرد ، غم گسار تو سب اس جیل کی چار دیواری میںموجود ہیں ۔ ان سب سے اسے رہائی کے نام پر الگ کیا جا رہا ہے ۔ باہر کی دنیا تو اس کے لیے اجنبی ہے ۔ باہر تو اس کے لیے قید ہی قید ہے ۔ نہ گھر نہ بار … کیا ہوگا ؟ … ایک سوال اس کے سامنے تھا ۔ آج وہ اپنے آپ کو پچیس سال پہلے سے بھی زیادہ بے بس اور لا چار سمجھ رہا تھا ۔ اس کا ذہن مائوف ہوتا جا رہا تھا ۔ جب وہ جیل کے گیٹ سے نکل رہا تھا تو اس کی بڑی عجیب کیفیت تھی ۔ وہ یوں محسوس کر رہا تھا کہ آج اسے پھر ایک ماں سے الگ کیا جا رہا ہے ۔ پچھلی دفعہ سزا اور قید کے نام پر اور آج رہائی کے نام پر ۔ یہ رہائی اسے موت سے بھی زیادہ بھیانک نظر آرہی تھی ۔ وہ سر جھکائے چل رہا تھا۔
پچیس سال کا دن رات کا ساتھ گیٹ کے پیچھے رہ گیا تھا ۔ اس کے ہاتھ میں ایک نیلا پولیتھین کا لفافہ تھا جس میں اخبار میں لپٹی ہوئی اس کی میٹرک کی سند ساتھ جیل سے رہائی کا پروانہ اور دس ہزار کی وہ رقم تھی جس میں جیل کی کمائی کے علاوہ ساتھی قیدیوں کے دیے ہوئے پیسے بھی شامل تھے ۔ ایک پرانا کمبل جو پتہ نہیںکتنے عرصہ کا ہمراز اورغمگسار تھا ۔ وہ اس کے کاندھے پر جھول رہا تھا ۔ تن پر واجبی سا لباس اور پیروں میں جوتے جو اپنی تمام تر کمزوریوںاور بے بسی کے اس کا ساتھ دے رہے تھے ، یہ کل اس کی پونجی تھی ۔
آج سے پچیس برس پہلے جب اُسے ان دیواروں کے پیچھے دھکیلا گیا تھا تو وہ نو عمر تھا ۔ اس وقت تو اس نے سزا، قید جیل ان لفظوں کو سنا تھا اورنہ ہی معنی اور حقیقت کا علم تھا ،اب وہ … اس نے پیچھے مڑ کر دیکھتے ہوئے سوچا ان چار دیواریوں کے پیچھے ہونے والی کہانیوں اور وارداتوں کا جاننے والا تھا ۔ اسے قید و بند کی زندگانی کا بہت کچھ معلوم ہو چکا تھا یہ آزادی اسے بے معنی دکھائی دے رہی تھی ۔ اس آزاد زندگی میںتو میرا کوئی جاننے والانہیں ۔ اس نے سڑک پر چلتے پھرتے لوگوں کی طرف دیکھا ۔ یہ سب لوگ تو اس کے اجنبی ہیں ۔ یہ راستہ جس پر چل رہا ہے ۔ نہ جانے اسے کہاں لے جائے گا ۔ وہ تو اپنے گائوں کے راستوں کو بھی بھول چکا تھا جن پر اس نے عمر کے سولہ سترہ سال گزارے تھے ۔وہ کچے راستے ،پگڈنڈیاں ، وہ کھیت کھلیان ، سب ایک خواب تھے جس کا ایک دھندلا سا خاکہ جیل کی شروع شروع کی زندگی میں نظروں میں گھوما کرتا تھا لیکن اس نے سالوں پہلے اس خاکہ کو ذہن سے نکال دیا تھا ۔ اس کے لیے تو جیل کی زندگی ہی زندگی تھی جس میں وہ ہر روز مرتا اور ہر روز زندہ ہوتا

آج سے پچیس برس پہلے جب اُسے ان دیواروں کے پیچھے دھکیلا گیا تھا تو وہ نو عمر تھا ۔ اس وقت تو اس نے سزا، قید جیل ان لفظوں کو سنا تھا اورنہ ہی معنی اور حقیقت کا علم تھا ،اب وہ … اس نے پیچھے مڑ کر دیکھتے ہوئے سوچا ان چار دیواریوں کے پیچھے ہونے والی کہانیوں اور وارداتوں کا جاننے والا تھا ۔ اسے قید و بند کی زندگانی کا بہت کچھ معلوم ہو چکا تھا یہ آزادی اسے بے معنی دکھائی دے رہی تھی ۔ اس آزاد زندگی میںتو میرا کوئی جاننے والانہیں ۔ اس نے سڑک پر چلتے پھرتے لوگوں کی طرف دیکھا ۔ یہ سب لوگ تو اس کے اجنبی ہیں ۔ یہ راستہ جس پر چل رہا ہے ۔ نہ جانے اسے کہاں لے جائے گا ۔ وہ تو اپنے گائوں کے راستوں کو بھی بھول چکا تھا جن پر اس نے عمر کے سولہ سترہ سال گزارے تھے ۔وہ کچے راستے ،پگڈنڈیاں ، وہ کھیت کھلیان ، سب ایک خواب تھے جس کا ایک دھندلا سا خاکہ جیل کی شروع شروع کی زندگی میں نظروں میں گھوما کرتا تھا لیکن اس نے سالوں پہلے اس خاکہ کو ذہن سے نکال دیا تھا ۔ اس کے لیے تو جیل کی زندگی ہی زندگی تھی جس میں وہ ہر روز مرتا اور ہر روز زندہ ہوتا تھا۔
اس کے قریب سے گزرتی ہوئی ایک بڑی سی کار کے ہارن نے اسے احساس دلایا کہ وہ سڑک کے درمیان چل رہا ہے ۔ وہ گرتے گرتے بچا ۔ اپنا توازن درست کیا اورسڑک کے کنارے پر آگیا ۔ چاروں طرف کا جائزہ لیا ۔ تو اسے محسوس ہؤا وہ جیل کی چار دیواری بہت پیچھے چھوڑ آیا ہے ۔ جیل کی طرف جاتی ہوئی سڑک نظروں سے اوجھل ہو گئی تھی ۔ دوسری طرف سڑک کے موڑ سے آگے کہیں ہجوم اکٹھا تھا ۔ نعرے لگ رہے تھے ۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرہ ہو رہا تھا۔
لوگوں کا ایک جم غفیر تھا جس نے بجلی کے محکمہ کا گھیرائو کیا ہؤا تھا ۔ حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے ۔ سڑک کے درمیان ٹائروں کو آگ لگا کر راستہ بند کیا ہؤا تھا ایک طرف بھاری تعداد میں پولیس کھڑی تھی اور چند پولیس کے جوان عمارت اور ہجوم کے درمیان صف آراء تھے ۔ اتنے میں ساتھ والی گلی سے ایک اور بڑا ہجوم اس مظاہرے میں شامل ہو گیا ۔ آنے والے تازہ دم تھے ۔ اب نعرے بازی میںاور شدت آگئی تھی ۔ مظاہرین نے اب عمارت کی طرف پیش قدمی شروع کردی تھی ۔ پولیس کی طرف سے اعلان کیا گیا اگر عمارت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو لاٹھی چارج کردیا جائے گا ۔چار پانچ دنوں کی لوڈ شیڈنگ نے علاقے میں پانی کی بھی قلت پیدا کردی تھی ۔ بوڑھے ، جوان ، عورتیں، بچے سب کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا ۔ مظاہرین نے پولیس والوں سے درخواست کی کہ وہ عوام کے خادم ہیں، عوام کا ساتھ دیں ، آگے سے ہٹ جائیں اورانہیں عمارت میں جانے دیں ۔ دونوں طرف سے تکرار کاسلسلہ جاری تھا ۔ حکومت کے خلاف نعرے بازی زوروںپرتھی ۔ اس نے سوچا یہاںسے نکل لینا چاہیے ۔ منزل کا پتہ نہیں ۔ راستے انجانے ، وہ ساتھ والی ایک چھوٹی سڑک پر چل پڑا دیکھا دوسری طرف سے ایک ہجوم دوڑتا چلا آ رہا ہے ۔ اس کے پیچھے پولیس کے سپاہی لاٹھیاںبرسا رہے تھے چشم زون میں وہ ہجوم میںپھنس چکا تھا۔ وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا ۔ اس کے ہاتھ سے پولیتھین کا لفافہ گر گیا ۔ وہ اٹھانے کے لیے جیسے ہی جھکا ، پیچھے سے دوڑتے ہوئے چند آدمی اس سے ٹکرائے اور وہ قلا بازی کھاتا دور جا گرا ۔ ہوش آیا تو پتہ چلاوہ تھانہ میں پولیس کسٹڈی میں ہے۔
تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے بیان کوسچ ما ن لوں۔ حوالدار نے بال پین میز پر رکھتے ہوئے غورسے فیکے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
حضور! فیکے نے پھر اپنے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے حوالدار سے کہا ۔ یہ سچ ہے ، میں آج ہی کوٹ لکھپت جیل سے رہا ہؤا ہوں۔پچیس سال میںمیںنے ایک ناکردہ گناہ کی وجہ سے جیل کاٹی ہے ۔ کوٹھری نمبر 3بارک نمبر 7کوٹ لکھپت جیل میں پچھلے بارہ سال سے مقیم تھا ۔ میں نے آپ کو بتایا صاحب جی میں نے میٹرک کا امتحان بھی جیل ہی سے دیا تھا اور قرآن شریف بھی جیل ہی میںپڑھا ۔ میٹرک کی سند اور جیل کی رہائی کا لیٹر اور دس ہزار روپے اس نیلے پولیتھین لفافے میں تھی جو میرے ہاتھ سے گر گیا ۔ آپ ابھی جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ راجہ نواز اختر صاحب کو فون کر کے میرے بارے میں معلوم کر سکتے ہیں۔ بس ایک … حوالدار نے اس کی بات کاٹ لی ۔ بس اور زیادہ بکواس مت کرو ، تم جیسے لوگوںکے ڈرامے ہم جانتے ہیں ۔ ایس ایچ او صاحب کے آنے پرتمہارا فیصلہ ہوگا ، وہی بتائیں گے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ۔
ایس ایچ او کی آمد پر پولیس چوکی میں ایک بھونچال سے آگیا تھا ۔ سب لوگ اپنی اپنی جگہ کھڑے دھڑا دھڑ سلیوٹ مار رہے تھے ۔ ایس ایچ او صاحب کے ہاتھ میں بوتل تھی جس کی وہ بار بار ہونٹوںسے لگا کرمزہ لوٹ رہے تھے گریبان ان کا کھلا تھا ۔ جیسے ہی فیکے پر ان کی نظر پڑی ، انہوں نے بڑی نفیس قسم کی ننگی گلیاںدیتے ہوئے حوالدار سے پوچھا یہ یہاں کس لیے بیٹھا ہے ۔ تم سے کتنی بار کہا ہے میرے تھانے میں روزنامچے میں کوئی اندراج نہیں چاہیے ۔ حوالات میں کوئی مجرم نہیں چاہیے ۔ کوئی تفتیش ، کوئی لکھت پڑھت نہیں۔ کسی مجسٹریٹ کے سامنے پیشی نہیں ۔ بس سیدھا سیدھا این کا ئونٹر … ایس ایچ او بوتل سے چسکی بھرنے لگا تو حوالدار فوراً بولا سر جی آپ اپنے کمرے میںآئیں میںآپ کو سب سمجھا دیتا ہوں ۔ پھر آپ فیصلہ کر لینا ۔

اوئے کمال کر دیا رحمت خان تم نے ۔ ایس ایچ او نے فائل دیکھنے کے بعد کہا، شکل بالکل ملتی جلتی ہے ۔ بس صاحب جی میں نے کسی سے ذکر نہیںکیا ۔ رحمت خان نے فائل بند کرتے ہوئے کہا ۔ پانچ لاکھ کا انعام ہے ، زندہ یا مردہ ۔ ملا عنصر اللہ قادری عرف شاہین دہشت گرد تنظیم کا اہم رکن آپ کے قبضے میں ہے ۔ فیصلہ آپ نے کرنا ہے ۔ بس فیصلہ ہو گیا ، تھانیدار نے دو انگلیوں اور انگوٹھے سے پستول کی شکل بناتے ہوئے اپنا عندیہ دیتے ہوئے کہا ۔ یہ کام بی آر بی نہر کے نزدیک کسی گائوں کے قریب کریں گے ۔ لاش سے برآمدگی والے سامان کے لیے تم مال خانے سے ایک کلاشنکوف تین چار میگزین ، ایک ٹی ٹی پستول اور دو ہینڈ گرنیڈ ساتھ رکھ لینا اور ہاںنسیم خان کو بولو وہ سردار ے کے ہوٹل سے تکہ کباب، کڑاہی گوشت ، نان اور کولا وغیرہ رات کے کھانے کے لیے لے آئے۔
ہاں ! تھانیدار کو کچھ یاد آگیا ۔ وہ جو باقی لوگ پکڑے تھے ان کو کیسے رخصت کیا ۔
سر جی پانچ ہزار فی بندہ رہائی وصول کر لی ۔ تیس آدمی تھے ، ڈیڑھ لاکھ رقم الماری میں رکھ دی ۔ حوالدار نے جوشیلے انداز میں جواب دیا ۔
تھانے کے ماحول سے فیکے کو یہ احساس ہو چلا تھا کہ حالات اس کے حق میں نہیں، کچھ برا ہونے والا ہے ۔ سپاہی نے کھانا اس کے سامنے لا کر رکھا تو اسے محسوس ہؤا جیسے قربانی سے پہلے بکرے کو پانی پالیا جا رہا ہے ۔ اس نے ایک لمبی سانس لیتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا اور دعا کی ، رب تعالیٰ تو ہی حافظ و ناصر ہے ، میری مدد فرما اور مجھے راستہ دکھا۔
کھانے کا لقمہ منہ میں رکھا ہی تھا کہ اسے پنڈی جیل کا جھارا بدمعاش یاد آگیا ۔ کیا نڈر اور بے باک انسان تھا … ٹینشن لینے کا نہیں ٹینشن دینے کا ، بات کم ، ایکشن فوراً ، جوڈ رگیا وہ مارا گیا ، یہ سب اس کے قول تھے جن کو وہ سب کے سامنے کہتا رہتا تھا اور بات بات پر قہقہے لگاتا رہتا ۔
جھارے بد معاش کے وجود کے احساس نے فیکے کو حوصلہ دیا ۔ اس نے اطمینان سے کھانا کھاتے ہوئے اپنے حواس یکجا کیے ۔ چھوٹو استاد کے دائو پیچ ذہن میں تازہ کیے ۔ وہ اس نتیجہ پر پہنچ گیا تھا کہ اگر اب مرنا ہی ہے تو اکیلے نہیںمرنا ۔ اس کے اندر برسوں سے سویا ہؤا حیوان انگڑائی لے کر جا گ گیا تھا ۔ فیکا ان نام نہاد قانون کے رکھوالوں سے نمٹنے کے لیے بالکل تیار ہو چکا تھا۔
حوالدار رحمت خان ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا ۔ چھوٹے ٹرک کے پچھلے حصے میںنسیم خان کے ساتھ فیکا بیٹھا تھا ۔ ایس ایچ او نے آتے ہی حوالدار سے پوچھا سب سامان رکھ لیا ؟ جی سر کار ۔ حوالدار نے جواب دیا اور سر جی سائلنسر بھی چڑھا لیا ہے ۔ اچھا کیا ، کہتے ہوئے ایس ایچ او اگلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔
رات اندھیری تھی ، لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے اندھیرا اور بھی گہرا ہو گیا تھا ۔ سنسان اور اندھیری سڑک پر گاڑی کوئی آدھے گھنٹے تک دوڑتی رہی ۔ڈیش بورڈ میں لگے سی ڈی پلیئر میں منی بد نام ہوتی رہی ۔ ہلکٹ جوانی ہچکولے کھاتی رہی ۔ جلیبی بائی جیلبیاں تلتی رہی ۔ ایس ایچ او اور حوالدار کے نعرے بلند ہوتے رہے ۔ نسیم خان بھی کبھی کبھی ان کے نعروںمیں شامل ہوتا رہا فیکا سر جھکائے اپنی آئندہ زندگی اور موت کے بارے میں سوچتا رہا ۔ اس پر عجیب سی کیفیت طاری تھی۔
شہر کافی پیچھے رہ گیا تھا ۔ سڑک کے ایک طرف اب کھیت دوڑ رہے تھے ۔ ایک جگہ درختوں کا جھنڈ دیکھ کر ایس ایچ او نے گاڑی روکنے کا اشارہ کیا ۔ گاڑی کے رکتے ہی فیکے کو جھر جھری آئی اور اس کا جسم بینچ پر لڑھک گیا ۔ اسے گرتے دیکھ کر نسیم خان چلایا ، سرجی اس کی تو ہوا ویسے ہی نکل گئی ، بندہ بے ہوش ہو گیا جی ۔ ایس ایچ اونے نسیم خان سے فیکے کو دیکھنے کے لیے کہا ۔ نسیم خان نے ٹی ٹی پستول سائیڈ پر رکھ کر فیکے کے جسم کو

دونوں ہاتھوں سے ہلایا ۔ چشم زدن میں فیکے نے جست بھری ، ٹی ٹی پستول اٹھا ئی اور سامنے بیٹھے حوالدار اور ایس ایچ او کے جسم میں چھ سات گولیاں پیوست کردیں ۔ نسیم خان بوکھلا کر گاڑی سے کودنے لگا تو اس نے باقی کا میگزین اس کے جسم میں خالی کر دیا ۔ پستول اپنا کام کر چکا تھا ۔ اس نے کرتے کے دامن سے پستول کو صاف کیا اور حوالدار کے ہاتھ میں اڑس دیا ۔ گاڑی میں شراب کی بوتلوں سے بھری ایک پیٹی پڑی تھی ، فیکے نے تین چار بوتلیں توڑ کر لاشوں اور گاڑی پر چھڑک دی ۔ نسیم خان کے جیب سے ماچس نکال کر ایک جلتی ہوئی تیلی لاشوں پر پھینکی اور کھیتوں کے درمیان دوڑ لگا دی ۔ وہ یہاں سے دور نکل جانا چاہتا تھا۔
انگلے دن صبح سویرے تمام ٹی وی چینلز پر بریکنگ نیوز چل رہی تھی ، بی آر بی نہر کے اطراف معمول کے مطابق گشت کرتی ایک پولیس وین کو تخریب کاروں نے دھماکے سے اڑا دیا ۔ اس حادثہ کی جگہ سے تین چار کلو میٹر دور ا یک دہشت گرد کو سرحد پار کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا ہے۔پولیس اور سکیورٹی کے ادارے ان دونوں واقعات کی تحقیقات کر رہے ہیں ۔ سارے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور گھر گھر تلاشی ہو رہی ہے ۔
شام کو ایک نجی ٹی وی چینل جو اپنے رفائے عامہ کے کاموں کی وجہ سے عوام میں کافی مقبولیت حاصل کیے ہوئے تھا ، اس پر ایک پٹی چل رہی تھی ۔ ایک میٹرک کی سند اور ایک قید سے رہائی کا لیٹر جوکسی ایک ہی شخص کا ہے ، ہمیں موصول ہؤا ، جن صاحب کا ہے وہ اپنے کوائف دیے ہوئے ٹیلی فون نمبر پر بتا کر دونوںڈاکو منٹ حاصل کر سکتے ہیں ۔
(فنون 142)
٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x