وہ لوگ تو ایسا زیور تھے
جسے مٹی تلے چھپاتے ہیں
زندگی کے اس سفر میں جب بھی کوئی ہم سے جدا ہوتا ہے تو دل میں شدید ٹیس اٹھتی ہے،درد بھری آہ نکلتی ہے ، زبان پہ صرف اورصرف اِنَّاللہ وَاِنَّا الیہ راجعونْ ہوتا ہے کہ حکم یہی ہے ۔ کل خالہ جان کی وفات کی خبرملی دل سے ان کے لیے مغفرت کی دعائیں کیں بے اختیار زبان پر یہ جملے تھے کتنی عظیم تھیں وہ ! جب بھی ملاقات ہوئی کچھ نہ کچھ سیکھا ہی۔
جب بھی لاہور ارکان کے اجتماع میں جایا کرتے ملاقات ہوتی یا پھر آل پاکستان اجتماع عام میںملتے، لیکن حقیقت یہ ہے یہ بڑی ادھوری ملاقاتیں ہوتیں ، ہربارایک طویل ملاقات کی خواہش لے کرواپس آجا تے ۔ سال تو مجھے یاد نہیںاتنا یاد ہے بچے میرے چھوٹےہی تھے ، لاہور دورہ قرآن کے لیے جانا ہؤا ،وہاںجن دو بزرگ خواتین سے عملاً بہت کچھ سیکھا و ہ تھیں خالہ جان،بلقیس صوفی صاحبہ(مرحومہ ) جو کراچی سے آئی تھیں اوردوسری بزرگ نگران خالہ جان زہرہ وحید صاحبہ مرحومہ ، تب مجھے سمجھ آئی تھی ان تھک محنت کیاہوتی ہے جہد مسلسل کسے کہتے ہیں ۔
ان کی باتیں ، ان کی نصیحتیں ، ان کی بھاگ دوڑ ، ان کی قربانیاںدیکھ کردامے ، درمے ، سخنے کا معنی مجھے سمجھ میںآیا ایک رکن جماعت کوکیسا ہونا چاہیے ، عملاً دیکھا واقعی کچھ لوگ خوشبو کی طرح ہوتے ہیں،ساتھ نہیںہوتے پاس نہیں رہتے، کم کم نظر آتے ہیںمگر ان کی چا ہت ہمیشہ ذہن میں مہکتی رہتی ہے ۔ سچی بات تو یہ ہے پھولوں کی مہک کچھ دن بعد ختم ہو جاتی ہے مگراچھے سلوک اوراچھے اخلاق کی مہک انسان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی قائم رہتی ہے ۔
خالہ جان زہرہ وحید خلوص و محبت کا پیکر ، اللہ تعالیٰ اوراس کی مخلوق سے بے پناہ محبت کرنے والی، منکسر المزاج، قانع اورانتہا درجہ کی سادہ تھیں ۔ وہ دنیا میںرہتے ہوئے نظر ہر لمحہ آخرت پہ رکھتیں ۔ روزانہ سخت گرمی میںدوپہر کے وقت بھی طالبات و خواتین جودورۂ قرآن کے لیے دور دراز سے آئی ہوئی تھیںان کوملنے ان کے مسائل جاننے روز روز چلی آتیںاور کبھی رات گئے بھی آجاتیں تو ایک دن میں نے کہا خالہ جان ! کبھی تھوڑا آرام بھی کر لیا کریںتو مسکراکر کہنے لگیںبیٹا جی ! اب آرام قبر میںہی جا کر ملے گا ۔ بیک زبان ہم دونوں نے انشاء اللہ کہا۔ اب میں بھی جب کبھی بہت تھک جائوں توان کے الفاظ حوصلہ دیتےہیں۔
آج مجھے یاد آ رہی ہے ان کی گفتار کی نرمی، وہ محبت کی گرمی وہ عزم و ہمت کی کہانی ، وہ گہری بصیرت وہ شجر سایہ دار اپنے دکھ چھپانے والی اور دوسروںکے دکھوںپر آنسو بہانے والی جودعائیں دیتے نہ تھکتی تھیں۔
ان کے ساتھ منسلک تو کئی واقعات ہیں جیسے ایک گھر میںسورۃ یٰسن کاختم تھا ، لاہور رخسانہ طارق ( مرحومہ) جو میری بڑی ہی پیاری دوست تھیںمجھے ساتھ لے گئیں کہ وہاں آپ کی ملاقات خالہ جان زہرہ وحید سے بھی ہو جائے گی ساتھ چلو ، میںدل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ ’’ختم ‘‘ کے پروگرام میںخالہ جان کیوں؟
وہاں پہنچ کر ایک خوشی تو خالہ جان کو مل کرہوئی دوسرا موثر طبقے میں حکیمانہ انداز میںان کا درس قرآن ، جو سورۃ یٰسیں ہی پر تھا ، سن کر معاملے کو سمجھا کہ کس طرح حکمت کے ساتھ سامعین کو سمجھا دیا کہ سورۃ یٰسیںتو زندگی گزارنے کا طریقہ سکھانے کے لیے رب نے اتاری ہے۔ پھرخالہ جان کی سادگی نے مجھے بہت متاثر کیا جبکہ حاضرین پرتکلف لباسوں میںتھیںمگرآپ ان سے ذرا بھی مرعوب نہیں تھیں۔
دوسرا واقعہ جو مجھے خالہ جان نے نہیں کسی دوسری رکن نے بتایا جو اس میٹنگ میںموجود تھیں ۔ایک سفر برطانیہ میں مجھے مختلف طبقہ فکر کے لوگوں کے ساتھ کام کاموقع ملا اورخوب ملا ۔تحریکی حلقوں میںبھی کام کیا۔ مرکز میںبات پہنچی کہ رشیدہ صدف نے جماعت چھوڑ دی ہے ۔
خالہ جان نے زہرہ وحید نے فوراً اور اسی وقت گواہی دی کہ یہ بات میں مان ہی نہیں سکتی کہ رشیدہ صدف جماعت چھوڑے میںاس کو اس کے خاندان کوجانتی ہوں، وہ جماعت اور اس مشن کے ساتھ کتنی مخلص ہے اسے بھی جانتی ہوں۔ساتھ ہی اس بہن سےبھی بہت احسن انداز سے فرمایا، بہن آپ کوشاید غلط فہمی ہوئی ہے تحقیق ضرور کرلیں ۔ یہ سب جان کر مجھے بہت خوشی ہوئی، معتبر اورمحترم تو میری نظر میں پہلے ہی بہت تھیںاور اب ان کا قد اوربڑاہو گیا ۔ ایسے ہوتے ہیںعظیم لوگ ، یہ ہوتے ہیںروشنی کے مینار جن کاجینا مرنا، سونا جاگنا ،لینا دینا سب کچھ اللہ کی خاطر ہوتاہے ۔ بے شک خالہ جان زہرہ وحید مرحومہ ایک عہد کانام تھا جوہمیںسمجھا گئیں ۔
تو اے مسافر شب! خود چراغ بن اپنا
کر اپنی رات کو داغِ جگر سے نورانی
ان کی یہ عارضی جدائی اب ہمارا مقدر ہے :
طویل راہوں سے آنے والو
پتہ یہ تم کس کا پوچھتے ہو
وہ کون ہے جس کو ڈھونڈتے ہو
وہ شخص اب یاں نہیں ملے گا
٭٭٭