ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے – بتول جنوری ۲۰۲۳

شادی کا گھر تھا لیکن مجال ہے جو کسی کام کی بھی کوئی ’’ کل ‘‘ سیدھی ہوئی ہو۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا ہر کام جیسے جیسے آگے بڑھ رہا ہے اتنے ہی اپنے مخالف سمت کی طرف سفرکررہا ہو۔شادی میں صرف ایک ماہ رہ گیا تھا دلہن سمیت کسی کے بھی کپڑے تیار نہ تھے ۔ ناصر میاں کے کمرے میں روغن ہوتا تھا ۔ جس کے لیے ابھی تک کسی رنگ ساز سے بات نہیں کی گئی تھی ۔غسل خانے کے نل ٹپ رہے تھے اور پلمبر کے بہانے ختم نہ ہو رہے تھے ۔ ناصر میاں کو اپنے کمرے میں ایک ٹیوب لائٹ بھی لگانا تھا جس کے لیے تا حال بجلی والے کی مدد درکار تھی۔
’’ ارے میں کہتی ہوں ، صراف کے پاس جانا ہے ۔ منہ دکھائی کی انگوٹھی لینی ہے ۔ پھر وہ زرقون کا سیٹ بھی اجلانے کے لیے دینا ہے ۔ تم کبا آئو گی ؟ دن ہوا ہو جا رہے ہیں ۔ دلہن کی جوتی بھی بد لوانی ہے کم بخت نے سائز غلط دے دیا تھا اور تو اور ابھی ابٹن ، مہندی کا سامان بھی لینا ہے ۔ دلہن کے جوڑوں کا بھی معلوم کرنا ہے ۔ بڑا سوٹ کیس بھی تو لینا ہے ، بری بھیجنے کے لیے …‘‘
’’ہائے اماں ، میں کیا کروں، میرا تو خود سارا کام رہتاہے ۔ زلفی کے ابا نے تو اب تک میرے ہاتھ میں رقم ہی نہیں دی کہ میں کچھ تو اپنی شاپنگ کر لیتی ، وہی عادت ہے نا وقت کے وقت کرنے کی ۔ اب مایوں سے دو دن پہلے ہتھیلی پر رقم رکھیں گے اور کہیں گے کہ آج کے آج ساری تیاری کر لو ۔ ہونہہ جیسے شادی کی تیاری اتنی ہی آسان ہے ‘‘۔ نائلہ نے ماں کی بات پوری سنے بغیر اپنا ہی دکھڑا رونا شروع کردیا تھا ۔ جس پرہمیشہ کی طرح اماں نے نا گواری سے ناک چڑھائی تھی۔
’’ تم مجھے یہ بتائوکہ کب آ رہی ہو ؟ یہ کام اکیلے تو ہونے نہیں ‘‘۔
’’تو اماں آپ سلمیٰ کو لے جائیں نا ، وہ کیوں نہیں جاتی ۔ زلفی کو تین دن سے پیلیا ہؤا ہے ۔میں توگھر سے نہیں نکل سکتی ۔ نہ ہی وہ مجھے چھوڑ رہاہے کہ بڑے بہن بھائی کے پاس ہی چھوڑ دوں اور اگر کچھ دیر کے لیے چھوڑ بھی دوں تو ، میری ساس مجھے وہ باتیں سنائیں گی کہ الامان الحفیظ‘‘۔ اُس نے بائیں ہاتھ سے دونوں کلّے پیٹے کہ دائیں میں تو فون کا ریسیور تھاما ہؤا تھا۔
’’ سلمیٰ کے ساتھ جانا ہوتاتو جانہ چکی ہوتی اب تک ، تمھاری کیوں منتیں کر رہی ہوتی ۔ سلمیٰ ، راحیلہ کی اپنی سو مجبوریاں ہیں ۔ اچھا خیر میں سلمیٰ سے ہی بات کرتی ہوں اور زلفی کو گنے کا رس پلائو ، اللہ اسے صحت دے ٹھیک ہے خدا حافظ ‘‘۔ اماں نے چڑ کر ریسیور، کریڈل پررکھا، پھر لائن کاٹ کر دوبارہ چونگا اٹھایا اورنمبر گھمانے لگیں ۔ اب وہ منجھلی سلمیٰ سے بات کر رہی تھیں ۔
٭…٭…٭
خدا خدا کر کے شادی کی تیاریاں اپنے انجام کو پہنچی تھیں ۔ کل مہندی کی تقریب بھی خوش اسلوبی سے کردی گئی تھی ۔ اگرچہ مہمانوں کو اعتراض تھا کہ پہلا بیٹا ہے اور صرف زردہ ، بریانی پر ہی نمٹا دیا گیا تھا ۔ لیکن اماں کو پروانہیں تھی۔
’’ارے آپ کیا ہر آئے گئے کی باتوں پر دھیان دھرتے پھریں ، اوردل پر لیتے گئے تو ہم نے تو کرلی شادی ‘‘۔چھوٹی راحیلہ نے جب اماں کو بتایا کہ رات کھانے کے دوران مہمان کیسی کیسی چہ میگوئیاں کر رہے تھے تومانو اماں کے تو تلووں کو لگی اور سر کو بجھی تھی ۔ انہوں نے جھنجھلا کر زیورات کے ڈبے میں اپنی چوڑیاں پٹخیں اور زور سے ڈبہ کا ڈھکنا گرایا۔
’’ اور اماں ، خالہ رضیہ تو ابھی سے ولیمہ کے کھانے کے اوپر اپنے زریں خیالات سنا رہی تھیں ‘‘۔ راحیلہ بھی اپنے اور بچوں کے کپڑے تہہ

کرکے بیگ میں رکھ رہی تھی کہتے کہتے ہاتھ روک کر بولی ۔’’ ارے راحیلہ بس خاموش ہو جائو خود تو کھا پی کر ڈکار مار کر چلی گئیں لیکن دوسروں کے کلیجے جلا گئیں ۔ ہونہہ تم اپنا کام کرو اور جا کر باورچی خانہ دیکھو، وہاں سلمیٰ اکیلی لگی ہے ‘‘۔
اماں کے چہرے کے تاثرات بگڑے ہوئے تھے ۔ راحیلہ نے ایک نظر ماں کو دیکھا پھر سر ہلا کر جلدی جلدی بیگ میں کپڑے رکھے اور کچن کی طرف چل دی جہاں دوپہر کے لیے کھانے کی تیاری کرنی تھی۔
٭…٭…٭
’’ اے نوج یہ پھول والا کب اپنا کام ختم کرے گا ؟‘‘ دیکھو تو عصر ہوچکی اور یہ ہے سیج ہی نہ تیار کر سکا ‘‘۔ اماں فکر مندی سے کمرے کے باہر ٹہل رہی تھی ۔ وقت تیزی سے نکلا جا رہا تھا اورابھی کمرے کی سیٹنگ باقی تھی ۔’’ میں کہتی ہوں اب بس بھی کر دو ۔ کیا کمرے کی ہر اینٹ پرگلدستہ سجائو گے ؟‘‘ چشمہ کے پیچھے سے ان کی آنکھیں اب غضب ناک ہورہی تھیں۔ ایک تو تینوں لڑکیاں اپنے بچے ان کے پاس چھوڑ کر سامنے والی لبنیٰ کے پاس چلی گئی تھیں جس نے پچھلے دنوں ہی نیا نیا پارلر کا کورس کیا تھا اور اب بڑے کم پیسوں میں تینوں کے بال بنانے پر تیار تھی ۔’د ارے کوئی ایک تو رک جاتی، ہاتھ بٹانے ، تینوں ہی دوڑ گئیں اب میں ان کے بچے دیکھوں یا گھر … ارے ظفر کہاں ہو؟‘‘ اماں نے چھوٹے بیٹے کو آواز دی۔
’’ آیا اماں !‘‘ وہ کسی سے فون پر بات کر رہا تھا ۔ ’’ گاڑی والے سے بات کر رہا تھا ۔ اسے میں نے نوبجے کا ٹائم دے دیا ہے ۔ بس آپ سب تیار رہیے گا ‘‘۔
’’ ارے تیار تو جب ہوں گے جب کام ختم ہوں گے ، اب اسے ہی دیکھ لو ‘‘۔ انہوں نے کمرے کی طرف اشارے کیا ۔’’ آگئے اماں آگئے، یہی کام ہم صحیح نہیں کرتے تو آپ کو ہی شکایت ہونی تھی‘‘۔ دونوں لڑکے کمرے سے باہر آتے ہوئے بولے ۔ تو اماں نے ایک تیز نگاہ ان پرڈالی اورکمرے کے اندر چلی گئیں ۔ سیج خوبصورت سجائی گئی تھی ۔ اماں نے تنقیدی نگاہ ڈالی اور پھر الماری سے پلنگ کی چادر نکال کر بچھانے لگیں۔
٭…٭…٭
فضیلت بیگم جو اس گھر کی سر براہ کی حیثیت رکھتی تھیں اپنے بڑے بیٹے کی شادی خانہ آبادی میں بُری طرح مصروف تھیں ۔ تین بیٹیوں کے فرض سے تو سبکدوش ہو چکیں تھیں نانی تو کب کی بن چکی تھیں اب دادی بننے کی آرزو بھی تو پوری کرنی تھی۔ ویسے بھی پچھلے تین چار سال سے ناصر ایک دفتر میں ملازمت کر رہے تھے ۔ ناصر کے بعد ، صرف ظفر کے ذمہ داری رہ جاتی ۔ فضیلت بیگم کے میاں ، اکبر صاحب چند سال قبل اللہ کوپیارے ہو چکے تھے ۔ جب سے وہ گھر کے خود مختار سر براہ کی حیثیت اختیار کرچکی تھیں ۔ بیٹے ، بیٹیاں ، اپنے فیصلے ماں کی رضا مندی کے بغیر نہ کرتے ۔ ناصر کے لیے اپنے دو ر و قریب کے عزیزوں میں انہوں نے لڑکی دیکھی پھر کسی جاننے والوں کے توسط سے انہیں زینب پسند آگئی تھی اور اب چھ ماہ بعد آج وہ اس کی بارات لے کر جا رہی تھیں۔
کھانے سے فارغ ہو کر رخصتی کا شورو غل اٹھ کھڑا ہؤا حسب دستور دولہے کے ساتھ ، بھائی،بہنوئی ، چاچا، ماموں سب ہی اندر آگئے تھے ۔ دلہن کو چادر اوڑھا دی گئی تھی ۔ اب فرداً فرداً سب ہی دلہن سے گلے مل کر حسب توفیق آنسو بہا رہے تھے ۔ دلہن کی بہن تو کوئی نہ تھی البتہ چھوٹے بڑے تین بھائی تھے ، تینوں ہی بہن کی جدائی سے آنکھیں سرخ کیے ہوئے تھے ۔’’ آپا ، میری اکلوتی بیٹی ہے ۔ ہم سب نے اس کے بڑے ناز اٹھائے ہیں ۔اگر اس سے کوئی غلطی ہو جائے تو نظر انداز کر دیجیے گا ‘‘۔ دلہن کی والدہ ضبط سے کہہ رہی تھیں ۔ الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر ان کے ہونٹوں سے نکلے تھے ۔ بیٹی کی رخصتی پر ان کا دل غم سے ڈوبے جا رہا تھا۔
’’ ہاں بہن ہاں ، آپ حوصلہ رکھیں ‘‘۔ دوسری طرف اماں نے بھی نا گواری کی لہر کو ضبط کرتے ہوئے کہا ۔ ایک ہی بیٹی پر یہ حال کر لیا آخر ہم نے بھی تین تین بیٹیاں بیاہیں ، ہمارے دل سے پوچھو کیسے کیسے نہ کٹا ، لیکن ہم نے نہ حوصلہ چھوڑا ۔ اماں دل ہی دل میں سوچ کر رہ گئیں ۔اب دلہن ، دولہا کے پہلو میں کھڑی تھی ۔ کھٹا کھٹ تصویریں کھینچی جا رہی تھیں

ایک طرف مووی والا بھی ڈھیروں تاروں کے ساتھ دولہا دلہن کو کیمرے میں فوکس کر رہا تھا ۔
’’باجی آپ سائڈ پر ہو جائیں ‘‘۔
’’ آنٹی آپ ادھر دیکھیں ‘‘۔
’’ بچو یہاں سے ہٹ جائو ‘‘۔
مووی والے کی ہدایات جاری تھیں اور دولہا ، دلہن کی طرف کے سارے ہی مہمان ان ہدایات کو بغیر چوں چرا کیے ماننے کے پابند تھے ۔ اسٹیج سے اتر کے آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اب شادی ہال کے دروازے پر سب پہنچ گئے تھے۔ مووی والا اب بھی ہر زاویے سے دلہن کو اپنے کیمرے میں مقید کر رہا تھا۔ راحیلہ ، سلمیٰ دلہن کے ساتھ ہی چپکی تھیں تاکہ ان کی بھی زیادہ سے زیادہ مووی بن جائے ۔’’ بہن بڑے لاڈوں سے پالا ہے میں نے اپنی بیٹی کو ، بچپن سے لاڈلی رہی، تین بھائیوں کی لاڈلی ، چہیتی ‘‘۔دلہن کے والد صاحب اس سے زیادہ نہ بول سکے ۔ شدت جذبات سے وہ بھی اپنا چشمہ اتار کر آنکھیں صاف کرنے لگے تھے ۔ اماں نے ہاتھ اٹھا کر جیسے انہیں بھی تشفی دی اور سر ہلا دیا ۔ نائلہ اور سلمیٰ نے دلہن کو گاڑی میں بٹھایا ۔ ناصر میاں بھی دلہن کے دائیں جانب بیٹھ گئے ۔ ظفر نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی تھی۔ ’’دلہن کے ساتھ گاڑی میں کون بیٹھے گا ؟‘‘ تینوں بہنوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا پھر قرعہ فال چھوٹی راحیلہ کے نام نکلا۔ تینوں کے بچے بھی دلہن مامی کے ساتھ بیٹھنے کے مشتاق تھے ۔ راحیلہ نے اپنی بیٹی کو تو گود میں بٹھایا اور بقیہ تین بھانجیاں آگے کی سیٹ میں گھس گھسا کر بیٹھ گئی تھیں۔ اس سے پہلے کہ کوئی بھانجہ بھی دلہن بھابھی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھنے کو آجائے ۔ ظفر نے گاڑی آگے بڑھا دی تھی اور گاڑی کے ارد گرد کھڑے لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا تھا ۔ مختلف ڈھیر ساری رسموں کے بعد دلہن کو اُس کے کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا ۔تینوں بہنوں اور بچوں نے ناصر سے پہلے نیک لیا پھر کہیں کمرے میں جانے دیا تھا۔
٭…٭…٭
’’ناصر بھائی اور بھابھی کیسے اچھے لگ رہے تھے نا؟‘‘ تینوں بہنیں بچوں کوسلا کر کپڑے وغیرہ تبدیل کر کے اماں کے کمرے میں بیٹھی اب تقریب پر رائے زنی کررہی تھی۔
’’ہاں ، اچھے لگ رہے تھے ، اور سب ہی اچھے لگتے ہیں ، دلہن بن کر تو عام سی لڑکی بھی پری لگتی ہے ‘‘۔ نائلہ اپنا تکیہ اور چادر ، قالین پر رکھتے ہوئے بولی اور منہ پر ہاتھ رکھ کر لمبی جمائی لی ۔ پھر وہیں دراز ہو گئی۔
’’ پھر بھی باجی ، سب ہی تعریف کررہے تھے دلہن کے میک اپ کی ‘‘۔ راحیلہ نے گود کی بچی کو تھپکتے ہوئے کہا ۔’’ کھانا بھی مزے کا تھا ، قورمہ تو بہت ہی مزے کا تھا ‘‘۔
’’ اے اب بس بھی کرو، اتنا بھی مزے کا نہیں تھا ‘‘۔ پلنگ پر لیٹی اماں کے ماتھے پر بل پڑے تھے ۔’’ ہاں تو اور کیا ، اسے تو ہر شادی کا کھانا ہی خوب مزے کا لگتا ہے ‘‘۔ سلمی نے گردن جھٹکی ۔تو راحیلہ کا منہ اتر گیا ۔ اس نے گود سے بچی کو تارا اور وہیں گدا بچھا کر لٹا دیا۔
’’ اور یہ ناصر کے سالے ، گاڑی میں بیٹھنے کے بعد کیا کہہ رہے تھے ؟‘‘ اماں نے پوچھا لیکن جو اب نہ آیا تھا ۔’’ اے راحیلہ میںتم سے پوچھ رہی ہوں ، وہ لڑکے کیا کہہ رہے تھے ‘‘۔
’’اماں مجھے کیا پتا آپ کس سے پوچھ رہی ہیں ، میں سمجھی …‘‘
’’ گاڑی میں تو تم ہی بیٹھی تھیں نا صر کے ساتھ تو تم سے ہی پوچھوں گی ‘‘۔ اماں کے لہجے میں جھلاہٹ عیاں تھی۔
’’ وہ ناصر بھائی سے اپنی بہن کے بارے میں ہی کہہ رہے تھے کہ ہماری پیاری لاڈلی بہن ہے اس کا خیال رکھیے گا ‘‘۔ راحیلہ نے سر سری لہجہ میں اماں کو تفصیل سنائی ۔
’’ اللہ توبہ ،حد کردی ان لوگوںنے ، ابھی اماںاس کان میں اکلوتی لاڈلی کہہ رہی ہیں تو دوسرے کان میںباوا چہیتی لاڈلی کا راگ سنا رہے ہیں ۔ اب چلتے چلتے بھائی قطار باندھے پیاری لاڈلی کی تسبیح پڑھ رہے ہیں ‘‘۔ اماں غصہ سے کہہ رہی تھیں ۔’’ اے ایسی ہی محبت تھی تو رکھتے اپنے گھر …‘‘
’’ ارے چھوڑیں اماں ، سب ہی والدین کہتے ہیں ، آپ کیوں دل جلا رہی ہیں ‘‘۔ راحیلہ نے ماں کا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہا۔

’’ لو بھلا بتائو ،ہم کیا اپنے والدین کے لاڈلے نہ تھے ، دو دن میں ہی سسرال نے وہ لاڈ پیار ، الماری میں بند کر کے ایسا پکا مضبوط تالا لگا یا کہ ان چھ سالوں میں تو اس تالے کو بھی زنگ لگ چکا ‘‘۔ منجھلی سلمیٰ نے اپنے سسرالی حالات کا طنز سے نقشہ کھینچا تھا کہ نائلہ اور راحیلہ دونوں ہی سرد آہ کھینچ کر رہ گئی تھیں۔
’’ہاں بتا دینا اپنی بھاوج کو ، یہ لاڈپنا یہاں نہ دکھائے ، یہ صرف میکہ میں ہی سجتا ہے ‘‘۔ اماں نے کروٹ بدلی ’’ بس اب تم لوگ بھی سو جائو، صبح اٹھنا ہے ۔ بڑے کام ہیں، لاڈلی ، لاڈلی کہہ کر کان پکا دیے ‘‘۔ اماں بڑبڑا رہی تھیں۔
اور دوسری طرف لاڈلی دلہن کے ناصر میاں لاڈ اٹھا رہے تھے ، لاڈلی دلہن خوش تھیں یہ جانے بغیر کہ یہ لاڈ وناز عارضی ہیں۔
اگلے دن میکہ سے ناشتہ لے کر خالہ ، چچا ، پھوپھی کی لڑکیاں آگئیں تھیں ۔ ناشتہ سے فارغ ہو کر ، لڑکیاں زینب سے اس کی منہ دکھائی میں ملنے والا تحفہ دیکھنا چاہ رہی تھیں ۔زینب نے مسکراتے ، شرماتے سیدھے ہاتھ کی تیسری انگلی میںپہنی انگوٹھی دکھائی جس میں فیروزہ کا پتھر جگمگا رہا تھا ۔’’ ماشاء اللہ بہت خوبصورت ہے ‘‘۔
’’ اس پتھر کی جگمگاہٹ کی طرح تمہاری آئندہ زندگی بھی جگمگاتی رہے ‘‘۔ کزنز دعائیں دے رہی تھیں یہ جانے بغیر کہ کبھی پتھر بھی تا دیر تک جگمگاتاہے ؟ پتھر تو پتھر ہوتا ہے ۔ بے جان ، بے وقعت ۔ جیتی جاگتی زندگی میں پتھروں کا کوئی مول نہیں ہوتا ۔ خواہشات ، جذبات ، پتھر دل لوگوں کے ساتھ مل کر رُل جاتے ہیں ۔ زندگی بھی کنکر بن جاتی ہے ۔
٭…٭…٭
ولیمہ کے بعد زینب کو گھر کے ماحول کا اندازہ ہو گیا تھا ۔ اماں ایک عام سی عورت تھیں ۔ مزاج کی تیز ، وہ کم ہی اپنے آگے کسی کی سنتی تھیں۔ دن کے بارہ گھنٹے ان کی تیوری کے بل چڑھے رہتے جس کو زینب گنتی رہتی ، چار بل، تین یا دو ، وہ ان بلوں سے ان کا غصہ درجہ حرارت کا اتار چڑھائو چیک کرتی رہتی۔
٭…٭…٭
’’ میری لاڈو خوش تو ہے نا اپنے گھر ؟‘‘ رضیہ ، زینب سے پوچھ رہی تھیں لیکن دوسری طرف زینب نہ جانے کن خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی۔ رضیہ بیگم کے سبزی بناتے ہاتھ تھم گئے تھے ۔ ’’ زینب !‘‘
’’ جی … جی! امی؟‘‘ وہ جیسے چونکی۔
’’ میں پوچھ رہی ہوں کہ … تمہاری ساس، نندیں ،میاں سب تمہارے ساتھ… ؟‘‘
’’ امی آپ لوگ بیٹیوںکے ساتھ اچھا نہیں کرتے ‘‘۔ زینب یاسیت سے کہہ رہی تھی۔
’’کیا مطلب؟‘‘ امی کی آنکھوں میں ہزار سوال مچلے اور ان مچلتے سوالوں میں وہ محسوس کر سکتی تھیں کہ زینب کا دل بھی بچے کی طرح سسک اور مچل رہا ہے۔
’’ کیا ضروری ہے ہماری ہر خواہش پوری کی جائے ؟‘‘ ہمارے اتنے ناز اٹھائے جائیں ؟ ہمیں اتنی اہمیت دی جائے یہاں تک کہ ہماری عادتیں بگاڑ دی جائیں ‘‘۔ زینب بہت دھیمے بول رہی تھی لہجہ بھرایا ہؤا تھا۔
’’زینب ! ‘‘ امی کے منہ سے سر سراتے ہوئے نکلا تھا ۔ ’ ’ بیٹا تم ہماری اکلوتی بیٹی ہو، تو تمہارے لاڈ اٹھائے گئے ‘‘۔
’’ بس کردیں امی ، لاڈلی ، اکلوتی کہہ کر آپ نے مجھے …‘‘ اس نے ہونٹ بھینچ کراپنے آنسو اندر ہی اندر پیے ’’ کیا آپ کو معلوم نہ تھا کہ ایک دن مجھے بیاہنا بھی ہے ؟‘‘ اس کے ادھورے سوال میں دسیوں سوال چھپے ہوئے تھے جن کے جواب نہ جانے کہاں تھے ؟ تھے بھی یا …!
٭…٭…٭
آج بیس دن کے بعد زینب ماں کے گھر رہنے آئی تھی ۔ اس دوران وہ میاں کے ساتھ دو تین گھنٹوں کے لیے آتی اور ساتھ ہی چلی جاتی۔ امی کو اس سے زیادہ بات کرنے کا موقع ہی نہ ملتا اور ملتا بھی تو وہ مسکرا کر ، ہنس کر ، اثبات میں گردن ہلا کر امی کے سوال کے جواب گول مول کر دیتی۔ کل امی نے ناصر کو فون کر کے خاص طور پر کہا تھا کہ ایک ، دو دن کے لیے وہ زینب کو رہنے بھیج دے، چہیتی بیٹی سے ملنے کا بہت دل کر

رہا ہے ۔ جس کے بعد آج صبح وہ دفتر جاتے ہوئے زینب کو ماں کے گھر چھوڑ گیا تھا لیکن اب زینب نے ان کے سوال کا جوبھید بھرا جواب دیا تھا اس نے ان کے سامنے کئی سوال اٹھا دیے تھے۔
’’ ایسے نہیں کہتے بیٹے ، سسرال میں مطابقت حاصل کرنے میں وقت تو لگتا ہے نا ، سب کو لگتا ہے ، دیکھنا پھر سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ ناصر تو تمہارے ساتھ اچھے ہیں نا ؟‘‘ امی نے امید بھرا دوسرا سوال کیا تھا۔
’’ جی امی …!!‘‘ اب نہ جانے یہ جواب ناصر کے اچھا ہونے کا تھا یا سسرال میں سب ٹھیک ہو نے کا ۔
٭…٭…٭
پتا نہیں سسرال میں سب ٹھیک ہؤا تھا یا ویسا ہی چلتا رہا تھا جیسے شادی کے ابتدائی مہینوں میں تھا ۔ ساس کے مزاج میں برہمی کم نہ ہوئی تھی۔ اعتراض بھی ہر کام میں برقرار ہی رہے ۔ کبھی کبھی ساس بہو میں کھٹ پٹ بھی ہو جاتی ۔ نندیں بھی ہر ہفتہ ، دس میں آکراپنا حصہ بھی بڑی پابندی اور دل جمعی سے ڈا لتیں ۔ اکلوتی لاڈلی ہونے کا طعنہ بھی اسے شادی کے کئی برس بعد تک ملتا ہی رہا ۔ اسے تو اس لفظ ’’ لاڈلی‘‘ سے ہی نفرت ہو گئی تھی ۔ اسی طرح ایک مرتبہ جب ساس نے اس کے کسی کام میں عیب نکالتے ہوئے اسے طنزیہ لاڈلی کہا تو وہ بھی برداشت نہ کر پائی اور آستین چڑھا کر آئندہ انہیں’’ لاڈلی‘‘ کا لفظ منہ سے کبھی نہ نکالنے کی تنبیہہ کردی اور انہیں باور کرا دیا کہ اپنی بیٹیوں کوبھی سمجھا دیں کہ وہ بھی آئندہ اس کی کسی بھی غلطی یا کوتاہی پر اُسے لاڈلی کہہ کر تیر نہ چلائیں گی اور شاید وہ آخری دن تھا اس گھر میں لاڈلی کا لفظ کہنے اور سننے کا۔
دس سالوں میں وہ چار بچوں کی ماں بن گئی تھی ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں ، اس نے بچوں کی تربیت میں کوئی رعایت نہ کری تھی ، بیٹیوںکو بھی ہرکام میں طاق کردیا تھا ۔ پڑھائی کے ساتھ وہ گھریلو امور میں بھی ماہر تھیں ۔ وہ اپنی غلطی نہ دہرانا چاہتی تھی ۔ حد تو یہ کہ امتحانات کے دنوں میں بھی وہ بچیوں کو گھر کے کاموں سے پوری چھٹی نہ دیتی ۔ چھوٹے موٹے کام ضرور کرواتی اور نہ ہی ان کی زیادہ فرمائشیں پوری کرتی۔
’’ ہائے امی ! آپ تو بالکل سوتیلی بن جاتی ہیں ۔ مائیں تو امتحانوں کے دنوں میں بیٹیوں سے تنکا بھی نہیںاٹھواتیں ‘‘۔ چھوٹی رمنا منہ بسورتی لیکن زینب کان بند کر لیتی ۔ دل تو اس کا بھی تڑپتا لیکن وہ بچیوں کو ہر طرح کے حالات میں ڈھلنے کا عادی بنانا چاہتی تھی۔بچیوں کی کتنی ہی خواہشیں وہ ان چاہی رہنے دیتی ۔ ضروری تو نہیں جو چاہا جائے وہ ملے بھی، بہت جگہ دل کو مارنا بھی ضروری ہوتا ہے ۔دادی بھی پوتیوں کی سائیڈ لیتیں لیکن وہ خاموش رہتی۔
’’اماں انہیں کام کرنے دیں ۔ سسرال میں تھوڑی یہ نخرے اٹھائے جاتے ہیں ‘‘۔ وہ ہنس کر کہتی ۔’’ ہاں تو اسی لیے تو کہہ رہی ہوں ، سسرال میں نہ صحیح ، میکے میں ہی نخرے اٹھا لیے جائیں ۔ میری پوتیوں کا اللہ نیک نصیب کرے ۔ اتنا کام نہ لیا کرو نہ ہی ان کا دل توڑا کرو‘‘۔
’’ ارے اماں میں کہاں اتنا کام لیتی ہوں ، بس ان کو ہر طرح کے حالات میں ڈھلنے والا بنا رہی ہوں ‘‘۔ وہ کہتی اورنظروں میں اپنی زندگی گھوم جاتی ۔ اس کی شادی کے تین سال بعد دیور ظفر کی شادی بھی کردی تھی اماں نے اور اُس کے ساتھ سلوک بھی تقریباً اس کے جیسا ہی تھا ۔ بس ظفر کی بیوی کی خوش قسمتی کے شادی کے پانچ سال بعد وہ میاں کے ٹرانسفر کی وجہ سے فیصل آباد شفٹ ہو گئے تھے اور اماں کے لیے وہ پھر اکلوتا ہدف بن گئی تھی۔ شادی کے سترہ سال اُس نے ساس کے ساتھ گزارے تھے۔ اگرچہ اپنی عمر کے آخری چند سالوں میں اماں بڑھاپے کی وجہ سے بہت ڈھل گئی تھیںلیکن ان کی کمان کسی حد تک اب بھی نندوں کے ہاتھ میں تھی جس کووہ گاہے بگاہے استعمال کرتی رہتیں۔
وقت کا کام گزرنا ہے اور وہ گزر ہی جاتا ہے چاہے بھلا یا برا۔ زینب نے بھی شادی کے پچیس سال ناصر کے ساتھ گزار لیے تھے ۔ بچے جوان ہو چکے تھے ۔ ایک بیٹی کی شادی کر چکی تھی اور اب بیٹے کی بات طے کر دی تھی ۔ مختصر گھرانہ تھا ۔ لڑکی اچھی تھی ، انٹر کرلیا تھا ۔ زینب کا ارادہ تھاکہ اگلے دو ماہ میں شادی کرلی جائے ۔ لڑکی کے یونیورسٹی میں ایڈمیشن کی خواہش کو اس نے منع کر دیا تھا۔
’’ زینب بہن دو ماہ میں تو شادی کی تیاری ممکن نہیں آخرجہیز بنانے میں ٹائم تولگتا ہے پھر میری یہ ایک ہی بیٹی ہے لہٰذا اس کے والد

توبہت کچھ دینے کی خواہش رکھتے ہیںمیرے خیال سے آپ ہمیں چھ ماہ تو دیں ‘‘۔
کنزیٰ کی والدہ بڑی آس سے کہہ رہی تھیں ۔ زینب نے کچھ دیر سوچا پھر اثبات میں گردن ہلائی ۔
’’ اچھا ٹھیک ہے آپ چھ ماہ بعد کی تاریخ دے دیں ۔ ہال وغیرہ بھی بک کرانا ہوتا ہے ۔ ہم بھی ولیمہ کی تاریخ آپ کو بتا دیں گے ‘‘ ۔ سادہ سی منگنی کی رسم تو پچھلے ماہ زینب نے بیٹے کی کردی تھی آج وہ شادی کی تاریخ طے کرنے کنزیٰ کے گھر اپنی نند ، بیٹی اور میاں کے ساتھ آئی تھی۔
’’ اصل میں کنزیٰ کو پڑھنے کا بہت شوق ہے ۔ انٹر میں بھی اس نے Aگریڈ لیا تھا ۔ اس کے بابا بھی اس کا یونیورسٹی میں پڑھنے کا شوق پورا کروانا چاہتے ہیں ہم تو ابھی دو سال تک اس کی شادی نہیں چاہتے تھے لیکن اس کی دادی کی خواہش ہے کہ بس اب شادی ہو جانی چاہیے تو …‘‘
کنزیٰ کی امی نے باتوں کے دوران ایک دفعہ کہی پھر بات دہرائی تو زینب پہلو بدل کر رہ گئی۔ہاں تو منع کر دیتے کوئی میںنے گن پوانٹ پر تو ان سے ہاں نہیں کہلوائی ۔ یہ نہیں کہتیں کہ اتنا شاندار لڑکا دیکھ کر اپنے خواہش اور فیصلہ سے تائب ہو گئے ۔ کہاں یہ عام سے لوگ اور کہاں میرا لاکھوں میں ایک لڑکا ، پڑھا لکھا ، نفیس ،خوش شکل ، شریف ، بہترین جاب قد، بت ، ایک آئیڈیل شخصیت ، ملے گا انہیں ایسا لڑکا داماد کی صورت ؟ ہونہہ ۔ زینب دل میں سوچ کر رہ گئی۔
’’ اب ہر خواہش تو پوری نہیں ہوتی نا ، کالج تو پڑھ لیا ، یونیورسٹی کوئی ضروری تو نہیں ‘‘۔ سلمیٰ نے زینب کی مشکل آسانی کی ۔ جس پر زینب نے مسکرا کر اسے دیکھا ۔ کنزیٰ کی امی نے خاموشی میں عافیت جانی ۔ چھ ماہ مل گئے تھے اس وقت یہی بہتر لگ رہا تھا۔
٭…٭…٭
وقت کا پرندہ اپنی اڑان بغیر کسی رکاوٹ کے بھرتا ہے اور بھرتا رہے گا ۔چھ ماہ کس طرح گزرے پتا نہیں چلا ، دونوں طرف تیاریاں عروج پر تھیں ۔ زینب نے بہو کی بَری بہت قیمتی بنائی تھی ۔ ہر چیز اعلیٰ لی تھی بیٹے کی پسند کے مطابق ، وہ خوش تھی۔
٭…٭…٭
آج وہ بغیر اطلاع کے چھوٹی بیٹی کے ساتھ کنزیٰ کے گھر کپڑے اور چوڑی کا ناپ لینے چلی آئی تھی ۔ کنزیٰ کی والدہ انہیں دیکھ کر کچھ گھبرا سی گئیں ۔ انہوں نے ایک بیگ میں کنزیٰ کی چیزیں دیں ، چائے پانی کیا۔
’’ آنٹی کنزیٰ بھابھی کہاں ہیں۔ ہم ان سے بھی مل لیتے ہیں ‘‘۔ تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد چھوٹی رمنا نے چائے کی پیالی رکھتے ہوئے پوچھا۔
’’ وہ در اصل گھر پر نہیں ہے ‘‘۔وہ کچھ ہکلا کر بولیں ۔
’’کہاں گئی ہے ؟‘‘ زینب نے عام سے لہجے میں پوچھا۔
’’ وہ … وہ یونیورسٹی…‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی سچ ان کے منہ سے نکل گیا تھا۔
’’ یونیورسٹی کیا مطلب؟‘‘ چائے کا گھونٹ بھرتے ان کے ہاتھ تھم گئے تھے ۔’’ کیا ایڈمیشن لے لیا تھا ؟لیکن میں نے تو …‘‘
’’ وہ … وہ در اصل زینب بہن ‘‘ انہوںنے ہونٹ کاٹے ’’کنزیٰ کا بڑا ارمان تھا یونیورسٹی پڑھنے کا میں نے آپ کو بتا یا تھا نا ، پھر اس کی … اس کی سہیلیوں نے بھی ایڈمیشن لے لیا تھا تو وہ بہت دل برداشتہ ہو رہی تھی تو ان کے بابا سے رہا نہ گیا انہوں نے جا کر اس کا ایڈمیشن کرادیا، جب تک شادی نہیں ہو جاتی کم از کم تب تک تو وہ جا سکتی ہے نا ، پھر خیر سے شادی کے بعد ،سہولت ہوئی ، آپ کی اور فراز بیٹے کی مرضی ہوئی تو پڑھ لے گی ‘‘۔
’’ لیکن میں نے تو آپ کو واضح طور پر بتا دیا تھا ، پھر یہ ایڈمیشن…!‘‘
’’ دیکھیں پلیزناراض نہ ہوں…‘‘ وہ پھیکی مسکراہٹ چہرے پر لائیں ۔کنزیٰ میری ایک ہی تو بیٹی ہے ، ایک بیٹا ، ایک بیٹی، دو تو بچے ہیں میرے ، اور کنزیٰ تو زیادہ ہی لاڈلی ہے ، میری اپنے بابا اور بھائی کی ۔ اب اکلوتی اولاد کی معصوم خواہش تھی ۔ میں تو پھر بھی رک گئی تھی لیکن ان کے بابا نہ مانے بس لاڈلی بیٹی کی فرمائش تھی تو … بہت نازوں پلی ہے

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x