ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

جنگی قیدی کی آپ بیتی(5) – بتول جون ۲۰۲۱

ابوجان بخیریت واپس ڈھاکہ پہنچ چکے تھے۔ اپنے بڑے بیٹے کے ہاں چند دن قیام کرکے وہ اپنے آبائی گھر چٹاگانگ چلے گئے۔ میرے والد جتنا عرصہ لاہور میں ہمارے ساتھ رہے ہمیں اپناگھر بنانے کی ترغیب دیتے رہے۔ مجھے اور میری اہلیہ کو خاص طور پر نصیحت کرتے رہے کہ زیادہ سے زیادہ بچت کرو اور اپناگھر بنانے کی کوشش کرو۔ آج اُن کی اور ہمارے دیگر بزرگوں کی دعاؤں کانتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے گھر سے نوازا۔ وہ بزرگ اگر آج حیات ہوتے تو ہمارا گھر دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جوار رحمت میں جگہ دے ،آمین۔
زندگی رواں دو اں تھی ۔ والد صاحب کے جانے کے بعد میں اُن سے بہت زیادہ اداس ہوگیا اور والد صاحب سے ملاقات کے بعد وہاں بہن بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں سے ملنے کو دل بے چین ہوگیا۔ اسی بنا پر میں نے بنگلہ دیش جانے کا فیصلہ کیا ۔ لاہور سے ڈھاکہ کے لیے ٹکٹ لیا اور روانہ ہوگیا۔ ڈھاکہ میں بڑے بھائی نے خیر مقدم کیا ۔ دو دن اُن کے پاس رہا ، پھر بھائی کو لے کر چٹاگانگ گیا جہاں میرے باقی سب بھائی اور اکلوتی بہن رہتے تھے۔ دو دن چھوٹے بھائی کے پاس چٹاگانگ شہر میں رہا اور پھر گاؤں میں والد محترم کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔
برسات کاموسم تھا اور اس دن طوفانی بارش تھی۔ گاؤں کے قریب مائیکروبس پر سفر کیا۔ آگے سفر بہت دشوار تھا ۔ کوئی گاڑی گاؤں تک جانے کے لیے تیار نہ تھی۔ پانی گھٹنوں تک تھا۔ سڑک نظر آنا محال تھا۔ میرے پاس وقت نہ تھاکہ میں انتظار کرتا۔ خدا خدا کرکے بارش تھمی، میںنے اور میرے بڑے بھائی نے جوتے اتارے اور پاؤں سے سڑک کو ٹٹولتے ہوئے چلتے رہے اور بالآخر اپنے گھر تک پہنچ گئے۔
گھر کے دروازے پر پہنچ کر میں نے دستک دی ۔ اس وقت تک ابھی گاؤں میں نہ بجلی کی سہولت پہنچی تھی نہ ٹیلی فون کی۔ ذرا زور سے دروازہ کھٹکھٹایا تو ابّو کی آواز آئی ، ابّو نے میرا نام لیا اور کہا کہ ٹیو ب ویل سے جلدی پاؤں دھوکر اندرآجاؤ ۔ ہم دونوں بھائی پاؤں دھو کر گھر میں داخل ہوئے ہی تھے کہ موسلا دھار بارش پھر شروع ہوگئی۔ میں حیران اور دم بخود تھا کہ ابو کو میرے آنے کا کیسے پتہ چلا؟ میرے ابّو نے بتایا جب تم شہر سے گاؤں کے لیے چلے تھے تو مجھے معلوم ہوگیاتھا، میں نے اللہ تعالیٰ سے تمھارے صحیح سلامت پہنچنے کی دعا کی، اللہ نے بارش بھی روک دی اور الحمدللہ تم میرے پاس خیریت سے پہنچ گئے۔ رات کھانے کے دوران ابّو سے باتیں ہو تی رہیں ۔
اگلے دن صبح نماز کے وقت اٹھ کر نماز سے فارغ ہو کر ناشتہ کیا اور ابّو سے باتیں کرنے کا سلسہ پھر جاری ہؤا۔ ابّو امی کے متعلق بتانے لگے۔ امی بہت بیمار تھیں ، علاج وغیرہ کا سلسلہ چلتا رہا۔ امی چل پھر نہیں سکتی تھیں۔ ابّو نے بتایاکہ تمہاری ماں ہمیشہ تمھارا تذکرہ کرتیں۔ کوئی دن ایسا نہ تھا جب وہ تمہیں یاد نہ کرتی ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ امی سے میری آخری ملاقات جنوری ۷۱ء میں ہوئی تھی۔ میں نے انہیں بتادیاتھا کہ میں پاکستان کے حق میں جدوجہد میں شامل ہو رہاہوں کیونکہ اس وقت تک ہنگامے شروع ہوچکے تھے۔ انھوںنے میرے لیے بہت دعائیں کیں ۔ میرے والد بھی موجود تھے، دونوں کو خدا حافظ کہہ کر میںشہر روانہ ہؤاتھا۔ حق اور باطل کی لڑائی شروع ہوچکی تھی۔ پاکستان کو بچانے والے اور پاکستان کو توڑنے والے برسرپیکار تھے۔
کچھ والد صاحب کے بارے میں
خیر والد صاحب نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایاکہ کچھ سال قبل اس علاقے میں بہت بڑا سیلاب آیاتھا۔ طوفانی بارش تھی ، سائیکلون تھا۔ گھروں کی چھتیں اڑگئی تھیں۔ ہر طرف پانی ہی پانی تھا اور مزید بڑے بڑے پانی کے ریلے ہمارے گاؤں کی طرف بڑھ رہے

تھے۔ گاؤں کے لوگ اپنے گھر چھوڑ کر جانیں بچانے کے لیے محفوظ جگہوں کی طرف بھاگ رہے تھے۔ گاؤں تقریباً خالی ہوچکاتھا۔ ایسے حالات میں جانوروں کو بھی کھول دیاجاتا ہے کہ جہاں جہاں پناہ لے سکیں ،چلے جائیں ،اردگرد گاؤں کے گاؤں خالی ہوگئے تھے۔ میرے والدصاحب نے بتایا کہ اس وقت پورے گاؤں میں شاید صرف میں اور تمہاری ماں رہ گئے تھے۔ پانی تھا کہ مزید ہمارے گھر کے قریب آ رہاتھا۔میں نے اس وقت بے بسی میں کہاکہ پانی اگر تم اللہ کو مانتے ہو تو رُک جاؤ۔ میں بیمار بیوی کو لے کر جا نہیں سکتا۔ اللہ کا کرنا ایساہؤاکہ پانی رُک گیا۔ پورے گاؤں میں صرف ہمارا گھر تھا جو صحیح سلامت رہا۔
ابویہ قصے سنا رہے تھے اور میں اُن کی زندگی کے متعلق سوچ رہاتھا کہ ابو کی کون سی ایسی بات ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، جس بنا پر اللہ نے ابو کی فریاد سن لی ۔ اپنے ذہن میں ان کے ماضی کو ٹٹولتا رہا۔ میٹرک تک تو میں اپنے والد کے ساتھ رہا۔ میں نے اُن کے معمولاتِ زندگی پر نظر دوڑائی تو چند باتیں جو میرے ذہن میں آئیںآپ کو بتانا چاہتاہوں۔
ابّو نماز فجر اور نماز مغرب کے بعد قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے اور آخر میں اللہ کے ۹۹ناموں کی تسبیح لازمی کرتے تھے اور اللہ کے ہر صفاتی نام کے ساتھ اللہ کالفظ ضرور لگاتے تھے۔ یعنی یار رحیم یا اللہ ،یا رحمن یااللہ اور پورے ۹۹ نام اسی طرح پڑھتے تھے اور بلند آواز میں پڑھتے تھے۔
گاؤں میں اگر کسی کو بھی مالی مشکلات کا سامنا ہوتا تو ابو خاص طور پر کوشش کرتے کہ اس کی ضرورہی مدد کردیں۔ گاؤں کے لوگوں کی ضروریات بھی بہت تھوڑی ہوتی تھیں اور ابّو اُن کی مدد کرتے رہتے تھے۔علاقے کے لوگوں کو معلوم تھاکہ اُن کاایک بیٹا فوج میں میجر ہے اور ابو کو ہر ماہ پیسے بھیجتا ہے لہٰذا ضرورت مند خود ہمارے گھرکے دوازے پر پہنچ جاتے تھے۔
بہت سادہ طرزِ زندگی تھا۔ اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے میں نے اُن کی زبان پر اللہ تعالیٰ کے شکر کی تسبیح کو سنا۔ میں نے کبھی ان کے منہ سے کسی کی برائی اور غیبت کا ایک لفظ بھی نہیں سناتھا۔ گاؤں میں ہمارا گھر مولویوں کاگھر مشہور تھا۔میری بڑی چچی جو میری خالہ بھی تھیں اور میری والدہ سینکڑوں خواتین ،بچوں اور بچیوں کو روزانہ قرآن پاک پڑھاتی تھیں اور ہمارے والد اس سلسلے میں اُن سے بھرپور تعاون کرتے تھے۔دینی کتابیں پڑھاتیں اور ان کے مسائل پر گفتگو کرتیں ۔ اُن کے دکھ سکھ میں شامل ہوتیں ۔ ابو بھرپور تعاون کرتے تھے۔
وہ بنگلہ غیرت کہاں گئی!
وقت تیزی سے گزرتارہا اور میری پاکستان واپسی کا وقت بھی قریب آگیا۔ میرے والد صاحب نے اپنے بہت سے پرانے دوستوں سے بھی ملوایا۔ ایک دن ابو بہت پریشان دکھائی دے رہے تھے ۔ پوچھنے پر بتایا کہ بنگلہ دیش کے حالات سے فکر مند رہتا ہوں۔ بھارت کا اثر و رسوخ بڑھتا جارہاہے وہ بنگالی جو بنگلہ زبان کے پیچھے اپنی جان دینے کو تیار تھے وہ اب اس کو بھول چکے ہیں ۔ اب اُن کے گھروں میں ہندی ڈرامہ ، فلم اور ہندی ٹی وی چینل دیکھے جاتے ہیں ۔ اُن کی اگلی نسل اب ہندی زبان بولنا اپنے لیے فخر کاباعث سمجھتی ہے۔ بھارت کے ۱۰۰ سے زیادہ چینل ہندی کلچر کو فروغ دینے کے لیے بنائے گئے ہیں جن کے اثرات اب بنگلہ دیش کی نوجوان نسل میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ اُن کے چینلوں میں گاندھی اُن کا ہیرو ہے اور ہندو شاعر ٹھاکر(ٹیگور) کی شاعری کو ( جو اُن کی درسی کتب میں بھی شامل ہے ) ان چینلوں کے ذریعے سے سنوایاجاتا ہے۔ بنگلہ دیش کی درسی کتب میں بھی ٹھاکر کی شاعری کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ بنگلہ دیش کا قومی ترانہ بھی رویندرا ناتھ ٹھاکر کا لکھاہواہے۔ گویا بنگلہ زبان اور قومیت کے پیچھے جو غیرت جاگی تھی وہ اب مٹی میں دفن ہوچکی ہے۔ سرکاری دفاتر میں ،تھانوں ،عدالتوں میں ہندوؤں کا راج ہے ۔
والد صاحب اپنی آنکھوں کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولے کہ مشرقی بنگال کو پاکستان کاحصہ بنانے کے لیے یہاں بنگال کے مسلمانوں نے کون سی قربانی ہے جو نہیں دی۔ نواب سراج الدولہ کی شہادت کے بعد اُن کے لاکھوں فوجیوں کے قتل عام کے بعد عام مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوگیاتھا۔ وہاں کے مسلمانوں کا معاشی قتل کیاگیا ۔ ہر ترقی کے شعبے سے مسلمانوں کو بے دخل کیاگیا تھا۔ انھیں اُن کی

زمینوں سے بے دخل کیاگیا ،اُن کے ہر کاروبار سے یہاں تک کہ دنیا کا مشہور کپڑا متلن جو وہاںکے مسلمان کاریگروں کاعظیم شاہکار تھا، اُسے بھی ختم کردیاگیا۔ اُن کے کاریگروں کے ہاتھ کاٹ دیئے گئے ۔ خوراک کی مصنوعی قلت پیداکرکے لاکھوں مسلمانوں کو مارا گیا ۔ لوگ بازاروں میں مسلمان بچوں اور بچیوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہوئے۔ان سب قربانیوں کے بعد جو پاکستان وجود میں آیاتھا صرف ۲۴ سال بعد ہی دوبارہ ہندوؤں کی سازش کا شکار ہوگیا۔
میرے والد کہاکرتے تھے کہ اگر گاندھی نہ بھی ہوتا تو ہندوستان پھر بھی آزاد ہو ہی جانا تھا(کیونکہ انگریز یہ فیصلہ کرچکے تھے ) لیکن اگر قائداعظم نہ ہوتے تو مشرقی بنگال کبھی پاکستان نہ بنتا۔ یہ بنگال کے مسلمانوں کے ساتھ قائد اعظم کی والہانہ محبت کانتیجہ تھا کہ انھوںنے انگریز سرکار سے اس کامقدمہ لڑا اور اس خطے کو پاکستان کاحصہ بنانے کی جدوجہد کی اور اس میں کامیاب ہوئے۔ یہی وجہ تھی کہ بنگال کے مسلمان راہنما اور سچے مسلمان قائد اعظم سے بہت محبت کرتے تھے۔
مارچ ۱۹۴۰ء میں منٹو پارک ( مینار پاکستان ) لاہور میں پاکستان مسلم لیگ کے اجلاس میں مشرقی بنگال کے اے کے فضل الحق سہروردی ، اصفہانی خواجہ حبیب اللہ ،خواجہ شہاب الدین ،خواجہ نواب الدین ،ابولہیثم اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی جب کہ صوبہ آسام سے مولانا عبدالحمید خاں بھاشانی نے شرکت کی تھی۔
اجلاس کے دوسرے دن یعنی ۲۳مارچ ۱۹۴۰ء کو بنگال کے وزیراعلیٰ شیر بنگال اے کے فضل الحق کو قرار داد پاکستان پیش کرنے کی ذمہ داری دی گئی ۔ انھوںنے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کامطالبہ کیاتھا جسے منظور کرلیاگیا۔ یہ بنگال کے مسلمانوں کے لیے ایک فخر اور ایک اعزاز تھا ۔ دراصل قائداعظم نے بنگال کے مسلمانوں سے رشتہ مضبوط کیاتھا۔
یہ سب کچھ بتاتے ہوئے ابو کی سانس پھولنے لگی ۔ چھوٹے بھائی نے پانی پلایا ۔ ابو کی سانس بحال ہوئی تو انھوںنے مجھ سے سوال کردیاکہ جب تم انڈیا کی قید میں تھے تو انھوںنے تمھارے ساتھ کیسا سلوک کیاتھا؟ کہنے لگے ہماری تو اس وقت نیندیں حرام ہوگئی تھیں کہ مغربی پاکستان سے جو فوج مشرقی پاکستان بچانے آئی تھی اسے انڈیا کی قید میں جانا پڑا۔ میں نے کہاکہ وہ وقت گزر گیا جو ہونا تھا ہوچکا ۔ ذکر سے کیا فائدہ آپ اس سے مزید دکھی ہوں گے۔
ابو نے کہاکہ نہیںیہ جاننا ضروری ہے کہ جو ملک تہذیب اور انسانیت کا علم اٹھائے پھرتا ہے اُن کا جنگی قیدیوں سے کیا سلوک تھا؟ میرے پاس ابو کا حکم ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
اس مرحلے پر میں چاہتا ہوں کہ قارئین کے سامنے بھی اپنی اسیری کے کچھ حالات پیش کروںجن کاکچھ اجمالی تذکرہ میں پہلی قسط میں کر چکا ہوں۔
اسیری کا دور
جیساکہ آپ جانتے ہیںکہ پاکستان آرمی نے جنگ کے بغیر ڈھاکہ شہر کو انڈیا کے حوالے کیاتھا۔ کہاجاتا ہے کہ ایسٹرن کمانڈ کاحکم تھا (دیگر تفصیلات کے لیے میری کتاب ’’سقوط ڈھاکہ کی حقیقت‘‘ ملاحظہ کریں ) اسی طرح مشرقی پاکستان میں موجود تمام فوجیوں کو سرنڈر کرنے کا حکم دیاگیا۔مشرقی کمانڈ نے جو حکمت عملی ترتیب دی فوج نے اسی پر عمل درآمد کیا ہوگا۔ پاکستانی فوج جس میں ہم رضاکارانہ طور پر شامل ہونے والے بھی تھے اپنے ہی شہر میں قید ہوگئے تھے۔ شہروں میں جو بھارتی فوج داخل ہوئی تھی بہت ناکافی تھی۔ یوں لگتاتھاکہ اُن کے لیے پاکستانی فوج کا فیصلہ غیر متوقع تھااور وہ اس کے لیے تیار نہ تھے۔ کھانے پینے سے لے کر سکیورٹی تک کے تمام انتظامات پہلے کی طرح پاک آرمی ہی کررہی تھی ۔ ۵،۶ دن تک سب اسی لا علمی میں رہے ۔ کسی کو پتہ نہ تھاکہ اب ہمیں کہاں جانا ہے؟ لوگ قیاس آرائیوں میں لگے ہوئے تھے کہ کراچی تک کے سفر کے لیے سمندری جہاز کاانتظام کرنے میں وقت لگ رہاہے۔ یہ تاثر تھاکہ پاکستان آرمی کو بحفاظت کراچی بھیج دیاجائے گا۔ سب کا یہ خیال تھاکہ مشرقی پاکستان میں قید کی جانے والی پاکستانی فوج کو انڈیا لے کر جانے کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔
خیر سب اپنے وطن جانے کے لیے سفر کاانتظارکررہے تھے۔ اتنے میں اعلان ہؤاکہ جہاز کا بندوبست ہوگیا ہے اور سفر شروع ہونے والا

ہے۔ ہم سب کو ایک بدبو دار کارگو جہاز میں ٹھونس ٹھونس کر بھر دیاگیا۔ بڑی مشکل سے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ یہ جہاز جنگ میں استعمال ہؤاتھا۔ انتہائی ناقص صفائی کاانتظام تھا۔ مزید یہ کہ فوجیوں کی اپنی حالت کافی خستہ تھی ۔ مہینوں سے محاذ پر لڑائی میں مصروف تھے۔ سب نے سوچاکہ کراچی کا سفر ہے اپنے وطن جانا ہے کسی نہ کسی طرح پہنچ جائیں۔ بھارتیوں کو جہا ز چلانے کی جلدی تھی ۔ جہاز چل پڑا مگر اس کی منزل کراچی کی بجائے کلکتہ تھی۔ بھارتی فوج کی طرف سے کھانے پینے کا بھی کوئی بندوبست نہ تھا۔ اتنے فوجیوں کے لیے جہاز میں بیت الخلا کابھی کوئی انتظام نہ تھا۔ بڑا مشکل سفر تھا۔ جہاز کو کلکتہ بند ر گاہ پہنچنے میں دو دن اور تین راتیں لگیں ۔
جب ہم جہاز سے باہر نکلے تو پہلا حکم جو ہمیں ملایہ تھاکہ نیچے دیکھو۔ وہ ابھی تک پاک آرمی سے خوف زدہ تھے کہ کہیں بھاگ نہ جائیں۔ اس وقت سب کو اندازہ ہؤاکہ ہم انڈیا کے قید ی بن چکے ہیں۔ سب کے ہاتھ رسیوں سے پیچھے کی طرف باندھ دیے گئے ۔ تین دن بھوکے پیاسے ہونے سے سب کمزور ہوچکے تھے۔ بار بار حکم دیاجاتاکہ نیچے دیکھو ،دائیں بائیں مت دیکھو ، پتہ نہیں انہیں کس بات کا ڈر تھا۔
پاکستان آرمی اس صورت حال سے اپنے آپ سے تنگ تھی ،ان کے تو وہم گمان میں بھی نہ تھاکہ انڈیا کی قید میں جارہے ہیں۔ اوپر سے بھوک پیاس ،مزید بھارتی فوج کا ہانکنا اور چیخنا چلانا، اس سے بہتر تو پاکستانی فوج کے لیے موت کو گلے لگانا تھاکہ شہادت نصیب ہوجاتی۔ بہرحال سب کو باری باری ٹرکوں میں بٹھا کر کلکتہ ریلوے اسٹیشن پہنچایا گیا۔ ہر طرف فوج کاپہراتھا ۔ وہاں ایک خار دار تار میں لپٹی ایک ٹرین موجود تھی ۔ سب کو اس ٹرین میں پیک کرکے اس کے دروازے بند کیے گئے اور پھر دروازوں پر بھی خار دار تاریں باندھ دی گئیں۔
سب کو کھانے کے لیے ایک ایک ڈبہ دیاگیا ۔ پانی کے لیے کہاگیا کہ ٹرین کی ٹینکی میں موجود پانی پی لینا ۔ ٹرین چل پڑی ،تین دن سے بھوکے قیدیوں نے بے چینی سے کھانے کاڈبہ کھولا تو اس میں سے بدبو آ رہی تھی۔جنھوںنے چیک کیے بغیر ڈبہ کھولتے ہی کھانا منہ میںڈالا انہیں بھی قے آگئی۔ ٹرین کاپانی بھی پینے کے لائق تو نہ تھا مگر طہارت کے لیے اور ہاتھ منہ دھونے کے لیے استعمال کیاجاسکتا تھا۔
ایک اذیت ناک سفر تھا جو شروع ہوچکاتھا۔ ہم نے تقریباً ۱۵۶۵ کلومیٹر کا سفر طے کرناتھا ۔ کلکتہ سے میرٹھ جاناتھا۔ کلکتہ مغربی بنگال میں ہے تو میرٹھ اتر پردیش میں واقع ہے۔ سفرجاری رہا۔ بھوکے پیاسے تقریباً ادھ مرے فوجی ،پیاس کی شدت سے جن کی سوکھی ہوئی زبانوں سے خون نکلنا شروع ہوچکاتھا۔ میں نے بھی اپنی زبان پر انگلی پھیری تو خون رس رہاتھا۔ ساتھ والوں نے بھی یہی بتایا ۔ میرے ساتھ سارے فوجی تھے ۔ اُن کی اتنی سخت ٹریننگ کے باوجود حالت خراب تھی ۔ میرا حال اُن سب سے زیادہ بُراتھا۔ عمر بھی کم تھی اور کوئی ٹریننگ بھی نہ تھی۔ میرے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک حوالدار کا مجھے دیکھ کر پریشانی اور غصے کی شدت سے بُرا حال ہوگیا ۔سب فوجی انھیں لالہ کہہ کر پکار رہے تھے۔ انھوںنے ٹرین کی زنجیر کھینچ دی مگر ٹرین نہ رکی کیوںکہ شاید وہاں آبادی موجود تھی ۔ کچھ دور جا کر بالکل سنسان جگہ پر ٹرین روکی گئی۔ اُمید ہوئی کہ شاید وہ اب حال پوچھیں گے لیکن وہ اپنے خوف میں تھے ۔ زنجیر کھینچنا اُلٹا پڑ گیا کیوں کہ انڈین آفیسرز کو پتہ تھاکہ پاکستانی فوجیوں سے بہت بڑا دھوکہ ہوگیاہے ۔ انھوںنے ٹرین کومزید خار دار تاروں سے باندھ دیا اور کسی کا حال پوچھے بغیر ٹرین دوبارہ چل پڑی ۔
کلکتہ سے میرٹھ جانے میں ہمیں دو سے تین دن لگے ہوں گے۔ میرٹھ اسٹیشن سے میرٹھ کینٹ کارستہ ۱۵سے۲۰منٹ کاتھا۔ ٹرک کے ذریعے باری باری سب کو میرٹھ کینٹ منتقل کیاگیا۔ لوگ ہلنے جلنے اور بولنے سے قاصر تھے۔ اس کے باوجود انڈین فوجی نعرے لگا رہے تھے ۔ نیچے دیکھو، ہلو نہ، بولو نہ ۔ قیدیوں کی آنکھیں اندر کو دھنس چکی تھیں، اپنے آپ سے بیزار ہوچکے تھے۔ میرٹھ کینٹ پہنچ کر ٹرک سے جس کو جہاں تارا ،وہ وہیں گرگیا ۔ کسی میں ہلنے جلنے کی سکت نہ تھی۔ قیدیوں کے باورچیوں نے چائے کابندوبست کیا اور سب کو ایک ایک کپ چائے پیش کی گئی۔ یہ چائے نہیں آب حیات تھا۔ ایک طاقت تھی۔ سب چائے پی کر جیسے ہشاش بشاش ہوگئے ۔ لوگوں کو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کا خیال آیا۔ سب ایک دوسرے سے تعارف لینے اور دینے لگے، سب ہتھیار ڈالنے پر دکھی تھے۔

(جاری ہے)
٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x