ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

جب کوئی چلا جاتا ہے – نبیلہ شہزاد

بچپن کا ایک واقعہ اکثر یاد آتا ہے کہ ہمارے ہمسائے میں فوتگی ہو گئی۔ میں اور میرا بھائی اپنے گھر کے بیرونی دروازے کے پاس کھڑے ہو کر ان کے گھر آتے مہمان دیکھنے لگے۔ جوانی کی موت تھی وہ بھی اچانک کرنٹ لگنے سے واقع ہوئی۔ گھر میں کہرام مچا ہؤا تھا۔ لواحقین غم میں مدہوش، بے ہوشی کی کیفیت میں تھے۔ قریبی رشتہ دار روتے کرلاتے بھی آ رہے تھے اور کچھ خاموشی سے لیکن اس فوتگی کا غم سب کے چہروں سے جھلک رہا تھا۔ اس وقت ہماری عمر ہی ایسی تھی کہ رویوں کی گہرائی سمجھ سے بالاتر تھی لیکن اب یہ باتیں یاد آئیں تو عجیب سا محسوس ہوتا ہے کہ ہم لوگ دوسروں کے انتہائی کرب اور مصیبت کے وقت بھی دوغلے پن کی پالیسی نہیں چھوڑتے۔
ہؤا کچھ ایسے کہ مہمانوں میں ایک درمیانی عمر کا جوڑا راستے میں آتے ہوئے ہمارے قریب سے ہی گزر رہا تھا۔ مرد نے آسمان کی طرف منہ کیا، اپنا بازو اپنی آنکھوں پر رکھا، ایک سو اسّی کے زاویے پر منہ کھول کر ابھی باں…. ہی کیا تھا کہ اس کی زوجہ محترمہ نے اسے پیچھے سے ٹہوکا دیا اور کہنے لگی ۔
’’ذرا گھر کے سامنے جا کر رونا شروع کرنا، ادھر کسی کو کیا پتہ کہ تم روئے ہو یا نہیں‘‘۔
اس بیچارے مشو میاں نے اپنے رونے کی ٹون بند کرنے کے لیے اپنی سانس فوراً ہی روک لی اور بیوی کی بات پر عمل در آمد کے لیے آگے بڑھ گیا۔
یہ چیز تو آپ میں بھی اکثر لوگوں کے مشاہدے میں آئی ہوگی کہ تعزیت کے لیے آنے والے کئی لوگ ایسے چیخ و پکار کر رہے ہوتے ہیں جیسے ان کا غم مرنے والوں کے لواحقین کے غم سے بھی کافی زیادہ ہے جو بیچارے رو رو کر پہلے ہی ادھ موئے ہو کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ آنے والے بین کرتے، دہائیاں دیتے، انہیں زوردار جپھی ڈال کر روتے ہوئے غم زدہ دلوں کو جگر چیرنے والے جملے سنانے شروع کر دیتے ہیں۔ رونے والوں کے تو رو رو کر پہلے ہی آنکھوں کے سوتے خشک ہو چکے ہوتے ہیں لیکن یہ انہیں مزید رلا کر ہی دم لیتے ہیں کیونکہ یہ نہیں چاہتے کہ غم زدہ، مصیبت زدہ لواحقین چند ساعتوں کے لیے بھی چپ ہو کر بیٹھیں۔
اچھا! ایک بات ہے کہ جب یہ تماش گیر خواتین اس ساری کارروائی سے فارغ ہوتی ہیں تو اپنے چہرے پہ ڈالا گیا دوپٹے کا پلو جسے انہوں نے جھوٹا رونا چھپانے کے لیے ڈالا ہوتا ہے، ہٹا کر فوراً نظریں ادھر اُدھر گھماتی ہیں کہ اپنی من پسند کوئی عورت نظر آئے اور وہ اس کے پاس جا کر بیٹھیں۔ پھر ایسا ہی ہوتا ہے نہ کوئی مرنے والے کا غم اور نہ کوئی غم زدگان کے غم کا غم ، من پسند خواتین کے پاس بیٹھ کر دنیا جہان کے قصے کہانیاں شروع۔
کچھ لوگوں کے تو مر کر نصیب کھل جاتے ہیں۔ انہیں بھی کچھ قدردان مل جاتے ہیں اور کچھ ایسے مناظر رونما ہو جاتے ہیں جنہیں اگر یہ مرنے والے دیکھ لیں اور اٹھنے پر قادر ہوں تو بلا شبہ یہ لوگ کفن پہنے بھی اٹھ کر خوشی سے ناچنا شروع کر دیں۔ جیسے چاچی بشیراں کی ساس اماں نذیراں جب اپنی بہو سے پانی کا گلاس بھی مانگتی تھی تو بہو بڑبڑاتے اکثر بولا کرتی تھی۔
’’پتہ نہیں قسمت ہم پر کب مہربان ہوگی، یہ مرے گی اور ہماری جان چھوٹے گی۔ یہ بڑھیا نہ مجھے سکھ کا سانس لینے دیتی ہے نہ میرے بچوں کو‘‘۔
اب جب کہ یہ بڑھیا انہیں سکھ کا سانس دے کر اور ان کی جان چھوڑ کر مٹی کے گھر میں جانے کے لیے سفید کفن اوڑھ کر لیٹ گئی تو چاچی بشیراں چیخ چیخ کر بین کر رہی تھی ۔
’’نی ماں! توں ہمیں کیوں چھوڑ گئی، میں تیرے بغیر زندہ کیسے رہوں گی، اٹھ دیکھ! اپنی پوتیوں کو وہ رو رو کر ہلکان ہو گئی ہیں، آ….انہیں چپ کروا، تیرے بغیر تو ہماری روٹی کا نوالہ حلق سے نہیں اترتا تھا، ہائے…. اب ہم کھائیں گے کیسے؟‘‘
یہ اور بات ہے کہ میت کی چارپائی اٹھتے ہی چاچی بشیراں لوگوں کے درمیان سے باتھ روم کے بہانے اٹھی، لوگوں کی نظر سے اوجھل اور پچھلے کمرے میں جا کر بریانی کی سب سے بڑی پلیٹ پر ہاتھ صاف کر آئی۔
ساری زندگی آپس میں گتھم گتھا رہنے والے لوگ بھی جب ان میں سے کوئی چلا جاتا ہے تو مرنے والے کی جھوٹی سچی تعریفوں کے انبار لگاتے ہیں۔ کاش! اگر ان تعریفوں سے چوتھا حصہ بھی کبھی ان کی زندگی میں استعمال کیا ہوتا تو گتھم گتھا ہونے کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی۔ مرنے والے کی زندگی میں اتنا حوصلہ ہمارے اندر کیوں نہیں ہوتا کہ اپنی دو گز لمبی زبان کو تھوڑی سی جنبش دے کر چند خوشگوار بول بول کر یا کچھ امور میں اپنائیت کا احساس دلا کر اسے چند لمحات کے لیے خوشی ہی دے دیں۔ اب مردے کے پاس بیٹھ کر چاہے اس کے پاؤں چومتے رہیں یا منہ کھول کھول کر روتے رہیں بھئی اسے کیا فرق۔ تو اب آپ اپنی بیش بہا توانائیاں اپنے پاس ہی سنبھال کر رکھیں ۔ بیٹا ہو یا داماد، بیٹی ہو یا بہو، پوتے پوتیاں ہوں یا نواسے نواسیاں، اماں بابے کی زندگی میں ان کی دور بین نگاہوں سے بچنے کے لیے چپکے سے دبے پاؤں قریب سے گزر جاتے ہیں کہ کہیں یہ پرانے لوگ آواز دے کر انہیں اپنی خدمت پر نہ لگا لیں، کوئی چیز نہ مانگ لیں یا پھر کسی کام کی طرف نہ بھیج دیں۔ پھر بس ملک الموت عزرائیل کا صرف ایک پھیرا ہی حالات کا پانسہ پلٹ دیتا ہے۔ جس سے جان چھڑائی جاتی ہے اور بوجھ سمجھا جاتا ہے، اس بوجھ سے جان چھڑانے کے بعد اس بوجھ کے ترکے کی تقسیم کے وقت جب سب مل بیٹھتے ہیں تو سب مرنے والے کی تعریف سے زیادہ اس کی محبت اپنے آپ سے ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں اور ساتھ آنکھیں میچ میچ کر زبردستی مگر مچھ کے آنسو بھی نکالنے کی۔
مرنے والے کی قدر، اس کی محبت کا احساس، اس کے ساتھ محبت کا جھوٹا سچا دعویٰ، اس کی ضرورتوں کا خیال، اس کی غیر موجودگی کا دکھ ہمیں اس کے مرنے کے بعد ہی کیوں ہوتا ہے؟ اس وقت تو اس کے ساتھ معاملات کی مہلت عمل ختم ہو چکی ہوتی ہے اور یہ گزرا وقت ایسی ظالم چیز ہے جو ایک بار گزر جانے کے بعد کبھی ہاتھ نہیں آتا۔ اگر دل میں احساس پیدا ہو جائے، ضمیر زندہ ہو تو سوائے پچھتاوے کے دامن میں کچھ باقی نہیں رہتا۔ فرض عبادات کے علاوہ یہ ہمارے سجدے، ذکر و اذکار تو صرف اللہ تعالیٰ کی یاد دل میں بسانے کے لیے ہیں۔ مالک کی رضا تلاش کرنی ہے تو اس کے بندوں کے ساتھ اپنے معاملات درست کر کے، اپنے وجود سے ان کو تکلیف سے بچا کر، ان کی خدمت کر کے، ان کی خوشیوں کا خیال رکھ کر کریں پھر دیکھنا رب اور اس کے بندے دونوں ہی ہمارے بن جائیں گے اور روز قیامت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں ہمیں کامیابی کا ایوارڈ تھمایا جائے گا ان شاءاللہ ۔
٭ ٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x