ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

بتول میگزین – بتول دسمبر۲۰۲۲

بے چارے!
فریحہ مبارک۔کراچی
اشرف صاحب کے ساتھ گاڑی کا سفر ہو تو سفر کے آغاز میں ہی میرے میاں موٹر سائیکل والوں کے اچانک کٹ مارنے…مخالف سمت سے نمودار ہونے ….کبھی پہلی لین میں موٹر سائیکل چلانے اور ہارن کے باوجود ٹس سے مس نہ ہونے والوں کے پیچھے ہارن ضرور بجاتے ہیں ۔اور ساتھ ٹریفک قوانین بھی زور وشور سے بیان کرتے ہیں مثلاً ’’اس کی جگہ تیسری لین ہے…. یہ اپنی جان خطرے میں ڈالے تیز رفتاری والی لین میں چلا رہا ہے‘‘۔
ایسے موقع پر کچھ دیر تو میں ان کی بات کی مکمل تائید کرتی رہتی ہوں لیکن پھر خواتین کی مخصوص حس بیدار ہو جاتی ہے یعنی ’’بے چارے‘‘ والی سوچ کے تحت خیال آتا ہے۔
ہائے…. یہ بے چارہ نہ جانے کس مشکل میں بھاگا چلا جارہا ہے۔
بے چارے کا پیپر نہ نکل رہا ہو۔
یہ تیار شیار بے چارہ جاب کے لیے انٹرویو دینے جارہا ہو گا….اس کا پورا حق ہے جلدی پہنچنا۔
ہو سکتا ہے اس بے چارے کی فلائیٹ ، ٹرین یا بس نکل رہی ہو ۔
ہو سکتا ہے اچانک گھر میں مہمان آگئے ہوں اور امی نے کہا ہو ، بیٹا دوڑ کر گرما گرم سموسے جلیبی لے آنا ،ٹھنڈی نہ کر دینا۔
ابا نے کہا ہو میری دوا لے آنا۔ناشتے سے پہلے کھانی ہے .
بچے نے قلفی کی فرمائش کے ساتھ کہا ہو کہ بابا قلفی پگھلنے سے پہلے گھر پہنچ جائیں۔
بے چارہ نیا دولہا پہلی عید پرسسرال آئسکریم کیک لے کر جارہا ہو۔نئی نویلی بیگم مسلسل کان کھائے جا رہی ہو کہ جلدی چلیں ….گرمی میں کیک پگھل جائے گا !
یا کبھی ….اس بے چارے کا دل بھی تو چاہتا ہو گا موٹر سائیکل کو گھوڑے کی طرح ہوا سے باتیں کروائے !
اور اگر….خدانخواستہ….کہیں موٹر سائیکل کا ایکسیڈنٹ دیکھ لیا ،تو بھی ساری ہمدردیاں اسی کے ساتھ ہوتی ہیں۔
ہائے بے چارے کا کیا قصور؟سب ان موٹر سائیکل والوں ہی کے پیچھے پڑے ہیں!
اور کہیں لکھا ہؤا بھی تو نہیں ہے کہ کب کیا کرنا ہے؟ یہ بے چارہ اپنی الجھنوں میں بھول چوک سے غلطی کر بیٹھا ۔اس میں اس کا کیا قصور؟ٹریفک پولیس کو چاہیے جگہ جگہ سڑکوں کے اطراف ٹریفک قوانین لکھ کر لگائے تا کہ یاد رہیں….آخر موٹر وے پر بھی تو لکھے ہیں ۔
میرے میاں آؤ دیکھا نہ تاؤ فرماتے ہیں ….ارے یہ بھی تو موٹر وے پر ہی لکھا ہے کہ’’دیر سے پہنچنا کبھی نہ پہنچنے سے بہتر ہے‘‘اور میں اس دعا کو دہرا کر کان لپیٹ کر خاموش ہو جاتی ہوں کہ اللہ اپنا خاص کرم فرمائے ہر سواری چلانے والے پر، آمین۔
٭٭٭
ایک ہندوستانی نومسلم خاتون
مریم فاروقی
اس بار درس میں ایک نئی خاتون آکر بیٹھیں ۔ بوٹاساقد اور سفیدی مائل رنگ ، سیاہ پھولدار گائون اور سیاہ دھاری دار دوپٹہ ۔ اس وقت بحث جاری تھی کہ زکوٰۃ کے مصارف کیا ہیں وہ بھی بحث میں شریک ہو گئی کہ زکوٰۃ اہل کتاب یا ہر مذہب کے لوگوں کو دے سکتے ہیں ، اللہ کے ضرورت مند بندوں کی مدد کی جا سکتی ہے پھر کہنے لگیں کہ میں بھی ہندو سے مسلمان ہوئی ہوں میری بھی کسی نے مدد کی تھی ۔ ان کی بات سن کر سب خواتین پوری طرح ان کی طرف متوجہ ہو گئیں ۔
انہوں نے بتایا کہ میں بمبئی سے تعلق رکھتی ہوں ۔ میرے شوہر کی وفات کے بعد تین بیٹوں اور ساس کو سنبھالنا میرے لیے مشکل ہوگیا محنت مزدوری کے باوجود بھی میں نے بی اے کیا ہؤا ہے ۔ میری ایک مسلمان ساتھی نے مجھے مشورہ دیا کہ میں بیرون ملک جاکر زیادہ اچھے طریقے سے روز گار کما سکتی ہوں ۔ اس نے مجھے تین عرب ممالک میں سے کسی کے ویزے کا مشورہ دیا ، کویت ، مسقط اور دبئی اور مجھے کہا کہ جو پرچی چاہے اٹھا لو جو نام قرعہ میں نکلے وہیں آپ نے جانا ہے ۔ میں نے جو پرچی اٹھائی وہ کویت کی تھی ۔
آج سے تیس چالیس سال پہلے کویت کا جہاز کا ٹکٹ پانچ ہزار ، آج ڈیڑھ لاکھ کا ہے میں جہاز کے ذریعے گئی ۔ وہاں میں نے ایک ماہ میں عربی سیکھ لی کویتی ٹی وی دیکھ دیکھ کر ۔ ٹائپنگ کے ذریعے میںنے روز گار کا بندو بست کیا ۔ کما کر میں نے بہت پیسہ اور زیور بنایا جسے انڈیا میں اپنے اکائونٹ میں جمع کراتی رہی۔
وہاں ایک پاکستانی مسلمان سے شادی کی ۔ مسلمان ہو کر ان کے اخلاق سے متاثر ہوئی ۔پچیس سال کویت رہی اب بیس سال پاکستان آئے ہو گئے ہیں۔
کہنے لگیں کہ آپ کو کیا پتہ کہ عورت کے لیے سب سے بڑی قربانی کیا ہے ،وہ ہے وطن کی قربانی بیٹے بھی میں نے تو چھوڑے روزگار کی خاطر ۔ یہاں اللہ نے مجھے چھ بیٹے دیے ۔
پاکستان آنے سے پہلے میں انڈیا گئی جو رقم اکاونٹ میں جمع کراتی رہی تھی سب نکلوا کر تینوں بیٹوں میں برابر تقسیم کردی ۔ آج ایک وکیل ایک ڈاکٹر اورایک انجینئر ہے لیکن ہندو ہیں ، ان سے کوئی رابطہ نہیں ۔ یہ شوہر بھی کچھ خاص خیال نہیں رکھتے لیکن مجھے جو اسلام کی دولت ملی ہے وہ ہی اصل سرمایہ ہے ۔
باتوںمیں بتایا کہ میں ضرورت مندوں کی ضرورت فوری پوری کر دیتی ہوں کسی کو فریج یکمشت لے دیتی ہوں یا سلائی مشین اور ضرورت کی چیزیں ، بعد میں قسطوں پر رقم وصول کر لیتی ہوں ۔اچانک کہنے لگیں میری یہ نیکیاں ضائع ہوگئیں کیونکہ میں نے ذکر کردیا سب کے آگے ،بہنیں کہنے لگیں کہ آپ نے تو ترغیب دلانے کے لیے ذکر کیا ہے نمود کے لیے نہیں۔
انڈین مسلمان بہن نے اور بھی اچھی باتیں بتائیں مثلاً یہ کہ مال توخرچ کرنے کے لیے ہوتا ہے کہ انسان خیر کے کاموں میں لگاتاجائے حساب کے ذکر پر کہنے لگیں میں اللہ سے کہہ سکوں گی کہ یا اللہ میں نے دنیا میں سے کچھ اپنے لیے جمع نہیں کیا ، جو کمایا تیرے بندوں پر لگایا ۔ یہ سوٹ میرے بیٹے نے دیا ہے یہ گائون گفٹ ملا ہے گھر کی ضرورت کے سامان کے علاوہ کچھ بھی میرا نہیں گھر بھی بیٹے کا ہے ۔ جتنا کم سامان اتنا حساب میں آسانی!
سب حاضرین محفل ان کی ایمان افروز باتیں سن کر دنگ تھے ۔ سچ ہے اللہ ایمان کی دولت سے جسے اور جب چاہے نواز دے ۔
٭…٭…٭
ایک اچھا قدم!
بنت زاہدہ
ایک انتہائی قریبی عزیز کے داماد فوت ہوگئے ۔ شادی کو صرف 10سال کا عرصہ گزرا تھا ۔ تین بیٹے تھے ، بڑا نو سال کااس سے چھوٹاکوئی سات آٹھ سال اور سب سے چھوٹا چار سال کا۔ شروع کے دنوں میں ان کی بیٹی یہی کہتی رہی کہ سب سسرال والے بہت خیال رکھنے والے ہیں میں نے شوہر کا گھر چھوڑ کر کہیں نہیں جانا ، امی آپ مجھے اصرار نہ کرنا میں آپ کے پاس آکر رہوں ۔ پھر دو تین مہینے میں سسرال کے رویوں میں تبدیلی واضح محسوس ہوئی۔اخراجات اورمہنگائی نے انسانوں کو مجبور کر دیا اورپھر لڑکی کے ماں باپ جو پہلے ہی خاموش تعاون کرنے میں لگے رہتے تھے انہیں بھی بیٹی کو اپنی رائے کی تبدیلی سے آگاہ کرنا پڑا کہ مجھے اپنے بچوں کے لیے کچھ معاش کاخود سوچنا پڑے گا ۔ بیٹی کی عمر چھبیس ستائیس سال ہوگی۔
عزیزہ نے مجھے اس لائق سمجھا کہ میں ان کو مشورہ دوں۔پہلے کی صورتحال میں تووہ خوش اپنے گھر رہ کر ہی تھی ۔ بعد میں عزیزہ کی بہن اپنے تنہا رہ جانے والے بیٹے کے لیے سوال لے کر آئیں زندگی کے مسائل نے اسے شادی شدہ زندگی کے بعد تنہا کر دیا تھا ۔
عزیزہ کہنے لگیں کہ بھانجا تواچھا ہے لیکن میری بیٹی نکاح ثانی پر آمادہ نہ ہو گی ۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر کچھ عرصہ چھ ماہ تک بھی اس کا غم کچھ کم ہو تو آپ اسے پیار سے قائل کریں کیونکہ نیک اور گھر سنبھالنے والا ، ایسا اچھا ساتھ نصیب سے ہی ملتا ہے ۔میں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ نکاح ثانی کے بغیر ہی بچوں کے ساتھ رہنا چاہے تو بھی ٹھیک ہے ۔
لیکن جب میں گھر آئی تو سورۃ البقرہ کی آیت مبارکہ ذہن میں آئی ۔ اللہ کہتے ہیں کہ جن کے شوہر فوت ہو جائیں وہ اپنے آپ کو چار ماہ دس دن روکے رکھیں ، اس کے بعد وہ اپنی بھلائی کے لیے جو بھی قدم اٹھائیں ان کے لیے درست ہے ۔ پھر نکاح کی پیشکش کا ذکرہے ۔پھر امہات المومنین کا خیال آیا کہ شوہر کی شہادت یا وفات کے بعد نکاح ثانی کیے ۔ حضرت ام سلمیٰؓ ، حضرت سودہؓ، حضرت ام حبیبہؓ۔
پھر حضرت عمر ؓ کا واقعہ خیال میں آیا کہ جب وہ گشت کر رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک عورت جدائی کے اشعار پڑھ رہی تھی تو آپ نے پوچھا کہ اس کا خاوند کہاں ہے ؟ بتایا گیا کہ وہ جہاد میں گیا ہؤا ہے ۔ پھر آپ نے کسی صاحب علم خاتون یا مرد سے پوچھا کہ عورت اپنے خاوند کے بغیر کتنا عرصہ گزارسکتی ہے بتایا گیا کہ چارماہ اس کے بعد اسے اپنے شوہر کی شکل بھولنے لگتی ہے ۔ پہلے زمانے میں تو فوٹو گرافی کا سلسلہ بھی نہ تھا کہ بار باردیکھ کر یاد تازہ کی جائے ۔ اس واقعے کے بعد انہوںنے قانون بنایا کہ جیسی بھی فوجی مہم ہو ، فوجی چار ماہ بعد اپنے گھر چھٹی منانے آئیں ۔ یہ انہی کا بنایا قانون ہے جو فوج کے قوانین میں شامل ہے ۔
یہ تمام باتیں ذہن میں تازہ ہوئیں تو یہ رائے بنی کہ نکاح میں خیر ہے اور جس قدر جلدی عدت کے بعد یہ عمل میں آ جائے اتنی ہی بہتر ہے ۔ اس فیصلے میں بڑوں کے باہمی مشورہ اورتعاون سے اللہ نے خیر ڈالی اور عدت پوری ہونے نے کے ایک ماہ بعد ہی بیٹی کی رضا مندی سے نکاح ہوگیا اور با برکت ہو گیا ، وہ ایسے کہ بارات میں بس دلہا اور اس کے ماں باپ ہی جا کر رخصتی کرا لائے ۔ اس سے ایک ہفتہ پہلے نکاح پڑھانے کی تقریب میں دلہا کے قریب بہن بھائی اور مختصر عزیز و اقارب شریک ہوگئے ۔ ولیمہ بھی بعد میں سادگی سے ادا کرلیا گیا ۔ غیر ضروری اخراجات بھی نہ ہوئے اور زیادہ تبصرے بھی اس نیک تقریب کے حق میں ہی تھے ۔ نیکی اور خدا خوفی کے جذبے سے یہ قدم اٹھایا گیا ۔ اللہ تا حیات یہ نیک جذبے قائم دائم رکھے آمین۔
٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x