ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

بتول میگزین – بتول اپریل ۲۰۲۳

جب میں جامعہ میں آئی
بنت اصغر
میں ایک عام سادہ سی لڑکی ہوں ۔ دیہات میں رہتی تھی ۔ بس پرائمری تک تعلیم حاصل کی ۔ گائوں گوٹھوںمیں اس سے زیادہ لڑکیوں کو اسکول بھیجا بھی نہیں جاتا مگر میرے والدین او ر مجھے خود کو بھی پڑھنے کا بہت شوق تھا اور پھر ہمارے ہاں سے دو تین لڑکیاں شہر سے باہر پڑھنے بھی گئی تھیں اور ہاسٹل میں رہتی تھیں ۔ مجھے بھی شوق ہؤا سو تھوڑی سی کوشش کے بعد میں مطلوبہ جگہ پہنچ گئی۔
ایک بہت بڑی عمارت جو بہت خوبصورت تھی اس کے اندر داخل ہوئی تو دل خوف سے کانپ رہا تھا ۔ میں یہاں رہ پائوں گی … اماں بابا سے دور ؟ آ تو گئی ہوں واپس گئی تو بڑی سبکی ہو گی۔
آنکھیں تھیں کہ جل تھل ہوئی جا رہی تھیں ۔ اللہ مجھے ثابت قدم رکھنا آمین ۔ تعلیمی ادارہ تھا یا بھول بھلیاں ۔ اتنے ڈھیر سارے دروازے کہ آدمی جانا کہیں چاہے اور پہنچ کہیں اورجائے۔
خیر پرانی طالبات نے بڑی خوشدلی سے خوش آمدید کہا اور ہم ڈرے سہمے ادھر ادھر دیکھ رہے تھے ۔ہر کام کا وقت مقرر تھا ۔ کالج ٹائم کے علاوہ کھانا ، سونا ، لائبریری ٹائم ، کھیل، ڈرل… سب کے لیے گھنٹی بجتی تھی اور سب طالبات جن کی طرح حاضر ۔ اچھا بھی لگ رہا تھا سارے کام نظم و ضبط کے ساتھ ہو رہے تھے۔
ارے ہاں نظم و ضبط پر یاد آیا کہ ایک طالبہ نظم وضبط سنبھالتی تھی اور تمام افراد اسے ہیڈ گرل کہہ رہے تھے ۔ وہ بھی عجیب ہی تھی اپنا دل چاہے تو ہنستی تھی۔ کبھی سب کو اکٹھا کر کے نصیحتیں کرتی یا ڈانٹ پلاتی ۔ سب ہی اس سے نالاں تھے مگر تھی اچھی سب کا خیال کرتی اور دوڑتی بھاگتی رہتی۔ شام ہوتے ہی سارے دروازوں کوتالے لگا دیتی ۔ سارا جامعہ تالوں سے سج جاتا تھا ۔ دروازوں پر تالے اور ان کے پیچھے سلاخیںاس جگہ کو دیکھ کرجیل کا سا تصور آتا ہے ۔ اندر آنے کے بعد آپ اپنی مرضی سے باہر نہیں نکل سکتے ۔ اگر کوئی ہم سے ملنے آئے تو پہلے حسب نسب پوچھا جاتا ہے پھر چند منٹ کی ملاقات اور پھر ہم سلاخوں اورتالوں کے اندر۔
کیا یہ تالے ان کو مفت ملے ہیںجو پوری عمارت کو تالوں سے سجادیا ہے اور ایک بار تالہ لگنے گے بعد اس کا کھلنا مشکل ۔ کتنا ہی اصرار کریںمگر جو اب یہ کہ پہلے کیوںنہیں اپنے کام نمٹائے ۔ آپ دل مسوس کر رہ جائیں ۔ انسان خطا کا پتلا ہے کبھی کوئی چیز بھول بھی جاتا ہے مگر یہاں ہماری کون سنتاہے اور یہ تالے اور دروازے تو میری سمجھ سے باہر ہیں بھلا کوئی رہائشی جگہوں پر ہر کمرہ میں تالے لگاتا ہے ! اور پھر ان تالوں کی ڈھیروںچابیاں جیسے گھنگرو والے زیور جوبجتے ہی رہتے ہیں ۔
پھر کچھ عرصہ گزرا تھا یہ دروازے اور تالے اور ہیڈ گرل سب ہی ہمیں پیارے لگنے لگے اور ہمیں ان سب اشیا سے محبت ہو گئی اور اتنی محبت کہ اب کوئی اس تالوں اوردروازوں بھری عمارت سے ہمیںجانے کو کہے گا تو شاید ہم مر ہی جائیں ایک ایک تالے اور دروازے سے لپٹ لپٹ کر روئیں گے اور فریاد کریں کہ ہمیں اس مانوس ماحول سے نہ نکالو ۔ اس نے ہی بتایا کہ ہم کیا ہیں اور کیوں ہیں اور ہم اس دنیا میں کیا کرنے آئے ہیں ۔ مشن اور ویژن تو اس تالوں اور دروازوں بھری بلڈنگ نے دیا ہے جہاں محبت وشفقت کرنے والے مربی ، علم والے اساتذہ ، تربیت کرنے والا عملہ ، سب کے سب ہماری آبیاری کے لیے چاق و چوبندرہتے ہیں ۔ ہمارے دُکھ ، بیماری، پریشانی میں ہماری مدد کرتے ہیں ۔ ہمارے اندر کی صلاحیتوں اور مہارتوں کو باہر نکالتے ہیں ۔
کیا ہیں یہ؟ کون سی مخلوق ہیں جو دوسروں کے لیے جیتے ہیں ۔ اپنی زندگی لوگوں کے لیے وقف کر دی کہ اللہ کی زمین خوب صورت باغ بن

جائے کیا کہوں مجھ خاک کے ذرے کو آفتاب بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پھر یہ بھی سمجھ آگئی کہ یہ تالے اور دروازے ہمارے ہی نظم و ضبط کے لیے ہیں ، یہ نہ ہوں تو ہم توجہ اور لگن سے علم حاصل نہ کر سکیں یہ تو ہمارے مدد گار اور محسن ہیں۔
سوچتی ہوں جب ہم سب یہاں سے جائیں گے تو کیا ان سب محبت کرنے والے اساتذہ اور ساتھیوں کے بغیر رہ سکیں گے ؟
ہاں رہ جائیں گے کیونکہ ہمیں تو تیار ہی اس لیے کیا جا رہا ہے کہ ہم اس مشن کو آگے بڑھائیں گے ، نئے ساتھی بنائیں گے ہمیں دیے سے دیا جلانا ہے اللہ کرے ہم حق ادا کرنے والے ہوں اور سرخرو ہو سکیں ۔
ہزار ، لاکھ بلکہ کروڑوں رحمتیں سلامتیاں میرے پیاروں پر ۔ ان درو دیوار پر ان تالوں اور دروازوں پر !
٭…٭…٭
ایک واقعہ
رضوانہ مومن ۔ لاڑکانہ
کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہم بھولنا بھی چاہیں تو نہیںبھول سکتے ۔ ایسا ہی میری زندگی میں آنے والا وہ واقعہ ہے جس نے میری سوچ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور مجھے اپنے عمل پر غور کرنے کا موقع دیا۔
ہوا یوں کہ مجھے بہت تیز کام کرنے کی عادت ہے اور جب کام کرتی ہوں تو پھرکی کی طرح گھومتی رہتی ہوں نا کہ کام جلدی نمٹ جائے۔
کچن میں کام تھا کام والی اماں روٹیاں پکا رہی تھی اور میں دوڑ دوڑ کر کام کر رہی تھی کہ اچانک مجھے کپڑوں میں حدت محسوس ہوئی ۔ دیکھا تو آگ لگی ہوئی تھی اور قمیص پر لگی آگ اوپر اور نیچے کی طرف بڑھ رہی تھی میرے اوسان خطا ہوگئے یوں لگ رہا تھا کہ وقت آخر ہے میںنے صحن کی طرف بھاگنا شروع کردیا ۔ کام والی اماں کی توجہ بھی میری طرف ہوئی تو وہ بھی دوڑی اور یہ پروا کیے بغیر کہ اسے نقصان پہنچے گا اس نے دونوں ہاتھوں سے آگ بجھانا شروع کر دی ۔ کپڑوں کو آپس میں مسلنے سے آگ بجھ گئی اور میں نڈھال ہو کر بیٹھ گئی ۔ اماں مجھے تسلی دے رہی تھی اور پانی پلانے کی کوشش کر رہی تھی۔
کچھ حواس بحال ہوئے تو میں اس کے سینے سے لگ گئی ۔ اللہ آپ کو جزا ئےخیر دے اگر آپ نہ ہوتیں تو میںمر چکی ہوتی ۔ وہ مجھے دلاسہ اورحوصلہ دے رہی تھیں ، اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے سب کیا۔
یہ آگ تو بہت معمولی آگ تھی جس سے مجھے کسی انسان نے بچا لیا اور خود میری غلطی کی وجہ سے لگی تھی کہ بغیر پروا کیے چولہے کے ارد گرد گھوم رہی تھی۔بے پروائی اور غلطی اگر زندگی میں عملاً ہوتی رہی تو جہنم کی آگ سے کون بچائے گا ۔
اللہ نے کہا نا کہ زمین بھر فدیہ بھی دینا چاہو گے تو قبول نہ کیا جائے گا ۔ نہ ولی اور نہ مدد گار دنیا کے سب ہمدرد اورمحبت کرنے والے چھٹ جائیں گے اور انسان سوچے گا کہ یہ عزیز و پیارے مجھے کچھ نیکیاں دے دیں تو میںآگ سے بچ جائوں۔
اس آگ سے بچنے کی تیاری کرنا پڑے گی فکر اور سوچ کو بدلنا ہوگا اور رب کی مرضی پر زندگی گزارنی ہو گی تاکہ وہ راضی ہو جائے ۔
وہ کیسے راضی ہوگا یہ بھی تو مجھ ہی کو سوچنا ہے ۔ سمجھ میں آگیا کہ حسد کی آگ ، نفرت کینہ ، بغض، قومیت اورعصبیت اور تکبر اور لڑائی کی آگ سے بچنا ہوگا تب جہنم کی آگ سے بچ سکیں گے۔
اللہ مجھے استقامت دے اور اس واقعہ کو میرے لیے صحیح راستہ پر چلنے کا سبب بنا دے ۔ دعا ہے اللھم اجرنا من النار آمین۔
٭…٭…٭
نیت
فریدہ عظیم ۔ لاڑکانہ
عمل کا دارومدار نیت پر ہے ، ہمیشہ ہی یہ جملہ سنتے آئے تھے پڑھا بھی اور لکھا بھی مگر کبھی غور نہیں کیا ۔ زبانی ، کلامی بس کہنے سننے کی بات لگی ۔ ہماری زندگی میں بے شمار لمحے ایسے آتے ہیں جب الفاظ یا جملے عملی شکل میں سامنے آتے ہیں ۔ جب جب زندگی میں نیت خراب کی اس کا فوری نتیجہ سامنے آجاتا ہے ۔ ایسا ہی کچھ میرے ساتھ ہؤا۔ آلو بخارے کی چٹنی مجھے بہت پسند ہے چٹنی کا سوچتے ہی منہ میں پانی بھر آیا ۔ خیر بات ہو رہی تھی چٹنی کی ۔ گھر گئی تو بھابھی نے بوتل بھر کر بنا دی اور اب میں نے طے

کرلیا کہ یہ صرف میں کھائوں گی ۔ کبھی ایسا نہیں ہؤا کہ کوئی چیز اکیلے کھائی ہو مگر بد نیتی کی حد کردی اور اپنے طور پر ایسی جگہ رکھ دی کہ کسی کی نظر نہ پڑے ۔ پھر کاموں میں بھول گئی کہ کوئی چٹنی بھی تھی ۔ جب کافی دن بعد خیال آیا تو یہ یادنہیں آ رہا تھا کہ رکھی کہاں تھی بہت ڈھونڈا مگر مل کر نہ دی ۔ فکر ہو رہی تھی کہ زیادہ دن ہوگئے ہیں ۔ خراب ہوجائے گی ۔ ذہن الجھ گیا۔ گئی کہاں ؟ اور پھر اس الجھن نے سمجھا دیا کہ میری بد نیتی کی نظر ہوگئی۔ میں نے سوچا تھا نا کہ اکیلے کھائوں گی اللہ میاں ناراض ہوگئے ہیں اور بوتل چھپا دی ہے ۔ اب ہم معافی مانگ رہے ہیں ۔ اللہ میاں جی اب کبھی ایسا نہیں سوچوں گی ۔ سب کو دے کر کھائوں گی ۔ بس مل جائے ساری کی ساری تیرے بندوں کو دے دوں گی۔ اور وہ مل گئی! اس چھوٹے سے وقفے میں میرے لیے بہت عبرت تھی مالک ناراض ہو گیا تو میں کہیں کی نہیں رہوں گی ۔ بچا اور چھپا کر رکھنا تو میری رسوائی کا سبب بن جائے گا ۔ یہ اس رب کی مہر بانی تھی کہ اس نے مجھے متنبہ کیا خیر خواہ ہے

وہ رب جو اپنے بندوں کو راستہ دکھاتا ہے ۔
اور یہی نہیں بارہا ایسا ہؤا کہ کبھی کچھ کھانے کا سوچا تو کوئی نہ کوئی آموجود ہؤا۔ کچھ نہیں تو کام والی ماسی آموجود ہوئی ۔ باجی وہ میں پوچھنے آئی تھی کہ آج کیا پکے گا اور ہاتھ میں پکڑی ہوئی منہ تک جاتے جاتے رک گئی ۔ ارے ہاں زینب آئو ۔لو یہ تم بھی کھائو ۔ یہ سب مناظر آخرت کی تیاری کے ہیں جو میرا رب میرے لیے کر رہا ہے اور ان تمام واقعات کو محسوس کر کے اپنے رب کی محبت دل میں اور زیادہ ہو جاتی ہے اورباربار یہ کلمات زبان سے نکلتے ہیں ۔ سبحان اللہ وبحمدہٖ سبحان اللہ العظیم۔
٭…٭…٭
فیصلہ لمحے کا

اسما معظم
اس کو افلاس کی زندگی نے خوف میں مبتلا کر رکھا تھا ۔اوپر سے بچے اور ضعیف و لاغر باپ کی ذمہ داری کے احساس نےاس کے ہونٹوں سے مسکراہٹیں چھین لی تھیں ۔تاہم مایوسی کے اس گھٹاٹوپ اندھیرے میں امید کی ایک کرن رہ رہ کر چمکتی اور اسے حوصلہ دیتی تھی۔ اور وہ تھا اس کا اپنے خدا پر کامل یقین ۔یہی وہ یقین تھا جو اس کو اس حالت میں بھی مسلسل جدوجہد پر آ مادہ کیے رکھتا تھا ۔اس نے اپنے روزگار پر نکلنے کے لیے کمرہمت باندھی اور اٹھ کھڑا ہوا ۔کھڑکی کے قریب آ کر اس نے باہر نظر دوڑائی ۔چلچلاتی دھوپ نکلی ہوئی تھی ۔ایسا لگ رہا تھا سورج سوا نیزے پر آ گیا ہے۔زمین ایسی خشک پڑی تھی جیسے برسوں کی پیاسی ہواور کبھی سیراب نہ ہوئی ہو۔حبس کے مارے سانس لینا بھی مشکل تھا۔پیڑ پودے بالکل ساکت تھے۔
وہ آ ج پھر تلاش معاش میں گھر سے نکلا۔ کئی جگہوں پر پھرا۔ لیکن ہرجگہ وہی رسمی اور رٹے رٹائے جملے اس کے کانوں میں پڑتے رہے ۔
’’اچھا ٹھیک ہے دیکھیں گے‘‘
’’یار اگلے ہفتے چکر لگانا شاید کوئی جگہ نکل آ ئے‘‘۔
’’فون نمبر دے دو ضروت ہوئی تو رابطہ کر یں گے‘‘۔
وہ بھوکا پیاسا تھکا ہارا سڑک کے کنارے کنارے سر جھکائے سوچتا چلا جا رہا تھا ۔وہ سوچ میں اتنا محو تھا کہ اس کو موسم کی شدت کابھی احساس نہ رہا۔ آ مدورفت کم تھی۔ لوگ اپنے گھروں،ٹھکانوں اور سایوں میں پناہ لیے ہوئے تھے اور اشد ضرورت کے بغیر کوئی باہر نہیں نکل رہا تھا۔چلتے چلتے وہ ایک بس اسٹاپ پر پہنچا اور دم لینے کے لیے اسٹاپ کی نشست پر جا بیٹھا ۔
اسٹاپ پر کوئی دوسرا مسافر موجود نہ تھا۔ اچانک اس کی نظر بس اسٹاپ کے کونے میں پڑے بٹوے پر پڑی ۔اس نے ادھر ادھر دیکھا اور جلدی سے بٹوے کو اٹھالیا۔اس کا دل دھڑکنے لگا اس سے قبل کہ وہ بٹوہ کھول کر د یکھتا ایک اور شخص اسٹاپ میں داخل ہؤا اوراس کے قریب آ کر بیٹھ گیا۔ اس نے بٹوہ فوراً اپنی جیب میں ڈال لیا۔
چند ثانیے کے بعد ایک گاڑی آ ہستہ آ ہستہ چلتی ہوئی اسٹاپ کے سامنے آ رکی۔ اور گاڑی چلانے والے نے ان دونوں سے پکار کر پوچھا ۔
آ پ لوگوں کو یہاں سے کوئی بٹوہ تو نہیں ملا؟
اسٹاپ پر بیٹھے دوسرے شخص نے نفی میں سر ہلادیا۔

کار کے ڈرائیور نے اب اس پر سوالیہ نظر ڈالی۔ ان چند لمحوں میں اس کے ذہن میں اپنے گھر کے حالات کے سارے مناظر ایک تیز رفتار ریل کی طرح گزر گئے اس کے ہاتھ کی گرفت جیب میں اڑسے ہوئے بٹوے پر سخت ہو گئی۔ گھر کے انہی مناظر میں سے ایک منظر اچانک اس کے ذہن میں لہرایا ۔ ابا کہہ رہے تھے ۔
’’بیٹا !بہت ساری چھوٹی بڑی غلطیاں اور گناہ زندگی میں ہو گئے ہیں لیکن الحمدللہ حرام کبھی دانستہ نہیں کھایا۔اس پر اللہ سے بڑی معافی کی امید ہے ‘‘۔
وہ ایک جھٹکے سے اٹھا ۔اس اثناء میں گاڑی والا مایوس سا ہو کر ایکسیلیٹرپر پاؤں رکھ چکا تھااور گاڑی دھیرے دھیرے آ گے بڑھنی شروع ہو گئی تھی ۔اس نے آ گے بڑھتے ہوئے ہاتھ اٹھا کر کہا۔
’’ رکیے صاحب !‘‘
اور گاڑی کے دروازے تک جا پہنچا۔ کار رک چکی تھی اور کار والا حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔اس نے گاڑی کے دروازے پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے، کھلے شیشے سے اندر جھانکا اور پوچھا آ پ کا بٹوہ کس طرح کا تھا؟ کار والے نے جواب میں بٹوے کی نشانی بتائی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس بٹوے میں 14 ہزار روپے ہیں اور ساتھ ہی چند کارڈز بھی ہیں جن میں سے ایک کارڈ میرے لیے بہت اہم اور قیمتی ہے۔کار والے کی یہ بات سن کراس نے اپنی جیب سے بٹوا نکالا اور کار والے کو دے دیا۔ کار والے نے جلدی سے بٹوہ کھولا اور اندر موجود اشیا ء کا جائزہ لیا سب سے پہلے اس نے کارڈز نکالے ان کو دیکھا ان میں سے اپنا ضروری کارڈ بھی موجود پاکر اس کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ پھر اس نے رقم گنی ۔وہ پوری تھی۔ اب اس نے بٹوہ دیش بورڈ میں ڈالا اور نظراٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔اور پوچھا۔
’’تم کون ہو؟ اور کیا کام کرتے ہو؟ ‘‘
اس نے اپنا نام بتایا اور کہا ’’بے روزگار ہوں ۔کئی دن سے نوکری کی تلاش میں گھوم رہا ہوں‘‘۔
کار والے نے پوچھا ۔
’’کتنا پڑھے ہوئے ہو؟‘‘
اس نے جواب دیا ’’بی اے‘‘۔
کار والا یہ سن کر ایک لمحے خاموش رہا پھر بولا۔
’’ کار میں بیٹھ جاؤ۔میرے پاس بی اے والے کے لیے تو ملازمت نہیں ہے لیکن ایک ایماندار شخص کے لیے ملازمت ضرور موجود ہے‘‘۔
٭ ٭ ٭
میری بیاض سے
مہوش خولہ راؤ
یادوں کا قصہ کھولوں تو
کچھ دوست بہت یاد آتے ہیں
میں گزرے پل کو سوچوں تو
کچھ دوست بہت یاد آتے ہیں
زندگی کے طویل سفر میں بہت سے لوگ ملے اور بچھڑ گئے۔ان بچھڑنے والوں میں جامعہ کے قرآن و حدیث کے ساتھی دنیا کے بہترین ساتھی تھے۔ان سے ملنے والی محبت و اخلاص نے ایسا گرویدہ کیا کہ پوری دنیا میں وہ چہرے رویے ڈھونڈتی ہوں لیکن نہیں ملتے۔
حرابتول ،آمنہ ،مصباح، طوبیٰ، طاہرہ، ریحانہ شمائلہ ،عابدہ، رمشا ، ثناء،خزیمہ برونائی سے اور میمونہ زبیر جرمنی سے پڑھنے آئیں یہ دونوں ابروڈ ہی واپس ہوگئیں۔ باقی سہیلیاں شادی کے بعد ملک کے ہر صوبے میں جا بسیں۔ کوئی پنجاب کوئی سرحد کوئی بلوچستان۔ میں سندھ کی باسی تھی وہیں رہی۔ تسبیح کے دانے چھ سالہ مختصر ساتھ کے بعد بکھر گئے۔لیکن دل آج بھی باہم مربوط ہیں۔ آپ حیران ہوں گے ہمیں اک دوسرے کی غم خوشی کا دس سال بعد بھی اندازہ ہوجاتا ہے۔اک دوجے کے خواب میں آجاتے ہیں۔جامعہ کے سینئرز، اساتذہ ، جونئیرز بھی زندگی کے سفر کے قیمتی ساتھی تھے۔ان کے ساتھ دورہء تفسیر کا یادگار سفر کسی کیڈٹ کالج سے اک قدم آگے کا نظم و ضبط، مطالعاتی دورے، آڈیٹوریم میں لی جانے والی ورکشاپس ،حدیث لٹریچر کلاسز،شیف آنٹیز کے ممتا سے لبریز تناول کیے گئے کھانے ،وارڈن کی طالبات کے ساتھ شکووں سے پُر میٹنگز ،ہنگامی اجلاس ، لائبریری کا کوالٹی ٹائم ،اسمبلی مارچ، باجماعت نماز،فارم ہاؤس

سیر وتفریح، اسپورٹس ڈے،تکہ اور فئیر ویل پارٹیز …سب یادیں تلخیِ دوراں میں ایک توانائی کے ٹانک کا کام دیتی ہیں۔جس کے پاس مخلص ہم نشینوں کی یادوں کی حسین پٹاری ہو وہ کیا غم کھائے۔
نہ کوئی غم خزاں کاہےنہ خواہش ہےبہاروں کی
ہمارے ساتھ ہے امجدؔ کسی کی یاد کا موسم
اپنی بیاض سے قصے چن چن کر لاؤں تو موٹی ضخیم کتاب تیار ہوگی۔ لبوں پر مسکراہٹ بکھیرنے والا اک واقعہ تحریر کروں گی۔ امید ہے وہ آپ کو لطف دے گا۔
زمانہ ِامتحان تھا۔شانزہ خوشی رضیہ منعم کو لٹریچر پرچے کی تیاری کروانے کے چکر میں اپنی نہیں کرسکی۔دماغ پچی ہو&ٔا تو کہنے لگی ایک گھنٹے کا آرام کر رہی ہوں ایک بجے مجھے اٹھا دیا جائے۔ایک بجے جب اٹھایا تو شانزہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔رضیہ زہرہ کا دماغ آئیڈیاز کا کارخانہ تھا۔ چئیر پر چڑھ کر وال کلاک کی سوئی تین پر کردی۔شانزہ کو جھنجوڑ کر کہا وقت دیکھو تین بج گئے،فجر میں گھنٹہ دو گھنٹہ ہےتمھارے پاس تیاری کے لیے بالکل وقت نہیں۔
شانزہ سوتی ایسے جیسے حالت قیام میں ہو۔بندھے ہاتھ کے ساتھ پٹ سے آنکھ کھولی۔بوتھی آل ریڈی ہونّق تھی لیکن بغیر چشمے کے آپ ہی کچھ اندازہ کریں ،تین کا سن کر مزید ہونق ہوگئی۔چہرے پر چشمش (پیار کا نام) نے چشمہ گھبراہٹ سے سیٹ کیا۔گھڑی کو تین بجاتے دیکھ کر چہرے کے تاثرات پر جیسے زلزلہ آگیا۔رضیہ تو تین کا اعلان کر کے شانزہ کی نیند بھگانے کے لیے کڑک چائے کا کپ اٹھائے نارمل انداز میں کھڑی تھی۔لیکن شانزہ کے چہرے کے چٹخے تاثر نے پیٹ میں بل ڈال دیے۔ شانزہ اپنے تمام حواس کے ساتھ بدحواس ہوگئی۔
نہیں تین نہیں بج سکتے’’ پھرمجھے پکڑ کر‘‘ خولہ تین کیسے بج سکتے ہیں’’اور پھر دھاڑیں مار مار کر ایک ایک کو پکڑ کر ‘‘نہیں تین نہیں بج سکتے…ہم ایسے بےحمیت دوست کہ شانزہ کی حالت کو انجوائے کرتے آہستہ سے میں نے کہا’’اب تو بج گئے‘‘۔
ہنس ہنس کر نڈھال ہوتے اسے وضو خانے لائے، تسلیاں کاندھے پر تھپکیاں ساتھ تھیں ’’سنبھالو خود کو‘‘۔
وضو خانے میں موجود تہمینہ ،سعیدہ آغا گروپ اسٹڈی میں مشغول تھے۔بھانڈا پھوڑا کہ تین نہیں بجے ایک ہی بجا ہے۔شانزہ کو لگا اسے جھوٹی تسلی دی جارہی ہے۔تہمینہ نے گراؤنڈ میں موجود اسٹڈی کرنے والے مختلف گروپس کی طرف اشارہ کیا ’’جاؤ جس سے جا کر وقت پوچھو‘‘ ساتھ ہمیں گھوری سے نوازا ’’کچھ بھی ہوسکتا ہے، اس طرح پریشان نہیں کرتے‘‘۔
میں نے ہاتھ اٹھا دیے ’’رضیہ زہرہ کی تخریب کاری ہے‘‘۔
شانزہ نے مردانہ انداز میں منہ پر ہاتھ پھیر کر دھمکی دی کہ بدلہ ضرور لیا جائے گا،اور پھر تہمینہ، سعیدہ کے دیے حوصلے پر تیاری شروع کی۔
٭ ٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x