ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

آپ کا شکریہ – نوردسمبر ۲۰۲۰

مُنیبہ عرف مُنی سڑک کے ایک طرف پریشان صورت بنائے کھڑی تھی۔ سڑک پر گاڑیوں کی آمدو رفت بہت زیادہ تھی ، جس کی وجہ سے وہ سڑک پار نہیں کر پا رہی تھی۔ وہ اپنی سہیلی شمع سے ملنے گئی تھی اور گھر واپس جا رہی تھی۔
’’ کیا ہوا لڑکی ؟ پریشان کیوں ہو؟‘‘ایک بڑی عمر کے لڑکے نے اس سے پوچھا۔اُس کے لہجے میں ملائمت تھی۔
’’ وہ میں سڑک پار نہیں کر سکتی!‘‘ منی نے جھٹ سے بتایا۔
’’ آئو، میں تمھیں سڑک پار کروا دوں !‘‘ لڑکے نے اس کا بازو تھاما اور سڑک پار کروا دی۔سڑک پار کرنے کے بعد منی گھر کی جانب سر پٹ بھاگی۔ کیوں کہ اسے کافی دیر ہو گئی تھی ۔ اور اب یقینا امی جان سے اچھی خاصی ڈانٹ پڑنی تھی۔

٭…٭…٭

’’ عبیرہ… !‘‘ منی وقفے کے وقت اپنی ہم جماعت اور دوست عبیرہ کے پاس آئی ۔ اس کے لہجے میں پریشانی تھی۔
’’کیا بات ہے ؟‘‘ عبیرہ نے چونک کر اُسے دیکھا۔
’’ آج جلدی میں میں امی جان سے لنچ باکس لے سکی نہ پیسے۔ اب مجھے بے حد بھوک لگ رہی ہے ۔ ‘‘ وہ اس کے قریب بیٹھ گئی۔
’’ اچھا!‘‘ عبیرہ نے سر ہلایا ۔’’ فکر مت کرو۔ میرا کھانا ہے ناں ، مل کر کھاتے ہیں !‘‘
عبیرہ نے لنچ باکس کھولا تو آلوئوں کے پراٹھوں کی خوشبو نے اُن کی بھوک بڑھا دی ۔وہ مزے لے لے کر پراٹھے کھانے لگیں۔
’’ پراٹھے بہت مزیدار تھے! ‘‘ جب پراٹھے ختم ہو گئے تو منی یہ کہتی ہوئی اپنے ڈیسک پہ آ بیٹھی۔
’’ کیسی لڑکی ہے ؟ اس نے تو میرا شکریہ بھی ادا نہیں کیا۔‘‘عبیرہ نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور سر جھٹک کر انگریزی کا سبق یاد کرنے لگی۔

٭…٭…٭

’’ منی ! ادھر آنا ذرا !‘‘ رفعت پھوپھی نے دور کھڑی منی کو بلایا۔
’’ جی پھوپھو!‘‘ وہ ان کے پاس آکر ادب سے بولی۔
’’ یہ لو تمھارا تحفہ !‘‘ انھوں نے بیگ سے ایک ڈبا نکال کر منی کو تھمایا ۔منی خوش ہو گئی اس نے تحفہ کھولا تو اس جیسی ایک پیاری سی گڑیا نکل آئی ۔ اس کی خوشی دو چند ہو گئی۔
’’ میں جا کر اس سے کھیلتی ہوں ۔‘‘ وہ ہنستی مسکراتی وہا ں سے چلی گئی جبکہ رفعت پھوپھی سوچنے لگیں کہ اس نے تو تحفہ ملنے پر شکریہ بھی ادا نہیں کیا۔
رفعت پھوپھی حیدر آباد رہتی تھیں ، وہ کراچی اپنے بھائی علیم صاحب سے ملنے آئی تھیں اور اپنے سب بھتیجے بھتیجیوں کے لیے ڈھیر سارے تحائف بھی لائی تھیں ۔ اشعر ، بشریٰ اور فضا کو انھوں نے جب تحفے دیے تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سمائے تھے اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا تھا ، جس پر وہ بے حد خوش ہوئی تھیں۔

٭…٭…٭

’’ اپیا ! میری وردی تو استری کر دیں ۔‘‘ منی چہرے پہ معصومیت سجائے اور ہاتھوں میں اسکول کی وردی تھامے بشریٰ کے سامنے کھڑی تھی۔
بشریٰ نے نظر بھر اس کے معصوم چہرے کو دیکھا اور بولی:’’ تم خود نہیں کر سکتیں؟‘‘
’’ نہیں اپیا ! میں خود نہیں کر سکتی کیوں کہ میرا قد چھوٹا ہے اور میز ، جس پہ کپڑے استری کیے جاتے ہیں ،اونچی ہے !‘‘ وہ معصومیت سے بولی۔
’’ اچھا دو وردی !‘‘ بشریٰ اُٹھ کھڑی ہوئی ۔’’ میں استری کر دیتی ہوں !‘‘
منی نے اسے وردی تھما ئی اور چلی گئی۔

٭…٭…٭

’’ منی !‘‘ بشریٰ نے کچھ دور بیٹھی منی کو پکارا۔
’’ جی اپیا!‘‘ منی نے وہیں سے ہانک لگائی۔
’’ میں نے اس رسالے میں ایک بڑی پیاری حدیث مبارکہ پڑھی ہے ، آئو تمھیں بھی سنائوں !‘‘ بشریٰ نے کہا تو وہ فوراً اس کے پاس آگئی۔
’’ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا :
’’جو شخص لوگوں کے احسان کا شکریہ ادا نہیں کرتا، وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکربھی بجا نہیں لاتا۔ جس شخص کا دل سامنے نظر آنے والے محسن کے شکر کا عادی اور اس پر آمادہ نہیں ، وہ شخص غائب ذات کے احسانات و انعامات کا شکر گزار کیسے ہو سکتا ہے ؟‘‘ (رواہ ابو دائود)
بشریٰ حدیث مبارکہ سنا رہی تھی اورمنی وہ وقت یاد کر رہی تھی جب لوگوں نے اس کی مدد کی، مگر اس نے اپنے محسنوں کا شکریہ بھی ادا نہیں کیا ۔
’’ اپیا! اتنی پیاری حدیث مبارکہ سنانے پر آپ کا بے حد شکریہ !‘‘ منی مسکرا کر بولی تو بشریٰ بھی مسکرانے لگی۔

٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x