ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

آپ نے پوچھا – نور مارچ ۲۰۲۱

عروسہ شاہ ۔ سکھر
س: نئی اور پرانی نسل میں اختلاف رائے کیوں پیدا ہوتا ہے ؟
ج: پرانی نسل دنیا کو تجربہ کی عینک سے دیکھ رہی ہوتی ہے اورنئی نسل رنگین فلٹر والی عینک سے ۔ البتہ جب نئی نسل کو تجربے والی عینک مل جاتی ہے تو دونوں باہم شیر و شکر ہو جاتی ہیں ۔

٭ ٭ *

فریحہ یوسف ۔ اوکاڑہ
س: ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں ۔ ایک اچھا، ایک برا ، کورونا کا اچھا پہلو کیا ہے ؟
ج: دلوں کا نرم ہونا ۔ کسی سیانے کا کہنا ہے کہ اگر دنیاوی آزمائشیں اور مصیبتیں نہ ہوتیں تو لوگ تکبر، خود پسندی ، فرعونیت اور سخت دلی جیسی بیماریوں میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوجاتے ۔

٭ ٭ ٭

صدف بلال ۔ سرگودھا
س: کیا چیز انسان کے حصول مقصد کے لیے حوصلہ اور طاقت دیتی ہے ؟
ج: جذباتی وابستگی۔
’’ ایک کنجوس کا گھر بارہویں منزل پر تھا ۔ ایک دن بالکنی میں کھڑے ہوئے اس نے اپنا بٹوہ نکالا تو ایک دس کا نوٹ چھوٹ کر بالکنی سے نیچے گرگیا ۔ کنجوس بجلی کی تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا ہوا نیچے پہنچا اور ہانپتے ہوئے گارڈ سے پوچھا !’’ میرا دس کا نوٹ کہاں ہے ؟‘‘ گارڈ نے سکون سے جواب دیا ۔’’ آپ بہت جلد نیچے آگئے ، نوٹ تو ابھی چوتھی منزل پر پہنچا ہے ۔‘‘ ٭

٭ ٭ *

معین عالم ۔ راولپنڈی
س: چھینک آئے تواس کا مطلب ہے کسی نے یاد کیا ۔ اگر آتے آتے رک جائے تو پھر کیا مطلب ہوتا ہے ؟
ج: کسی نے یاد کرنے کی کوشش کی مگر ساتھ ہی کہہ دیا ’’ چلو دفع کرو‘‘

٭ ٭ ٭

کامران جٹ ۔ لاہور
س: پہلےڈینگی تھا ۔ اب کرونا آگیا ہے ۔ دل بہت پریشان رہتا ہے ۔
ج: رکاوٹیں اور آزمائشیں تو سردی اور گرمی کی طرح ہوتی ہیں ۔ جب بندہ جان لے کہ یہ لازمی ہی آئیں گی تو وہ ان کے آنے پر غصہ کرتا ہے اور نہ مایوس اور غمگین ہوتا ہے ۔

٭ ٭ ٭

تانیہ پرویز ۔ کراچی
س: اگر اچانک گھر میں مہمان آجائے تو آپ کے کیا جذبات ہوتے ہیں ؟
ج: سمجھ نہیں آتی کہ پہلے صوفوں سے کپڑے اٹھائیں یا قالین سے گدیاں مونگ پھلی کے چھلکے پھینکیں یا چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ سجائیں۔

٭ ٭ *

عادل گجر ۔ لاہور
س: آپی، دوسروں کو ہنسانے کا طریقہ تو بتائیں۔
ج: بڑامشکل سوال ہے ۔ کبھی تو لوگ حالات کی ستم ظریفی پر ہنس دیتے ہیں اور کبھی مسخرے کی حرکتوں پر رو پڑتے ہیں ۔ اور کبھی کبھی ……
احمد :’’ آج دفتر میں احسن نے بڑا اچھا لطیفہ سنایا تھا ، پھر تم ہنسے کیوں نہیں ؟‘‘ ارشد : ’’لطیفہ واقعی اچھا تھا مگر میری آج کل احسن سے بول چال بند ہے اس لیےمیں نے سوچا کہ گھر جا کر ہنس لوں گا ۔‘‘

٭ ٭ *

مریم کائنات ۔ لاہور
س: آپی ، سنا ہے زمین گھومتی ہے لیکن مجھے محسوس کیوں نہیں ہوتی؟
ج: اس کا سائنسی جواب تو کتابوں میں مل جائے گا لیکن عقل یہ کہتی ہے کہ زمین و آسمان کی یہی نشانیاں ہیں جو یقین دلاتی ہیں کہ اس کائنات کو بنانے والا ایک خالق ہے جس نے تدبر ، تناسب اور توازن سے ہر چیز کو بنایا ہے جوزندگی بسر کرنے میں انسان کے معاون ثابت ہو ذرا تصور تو کیجیے اگر آپ کو زمین گھومتی ہوئی محسوس ہو ۔ یقیناً چلنا پھرنا ، کھانا ، پینا غرض ہر کام دشوار ہوجائے ۔

فارعہ

٭ ٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
1 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
Maryam Zaki
Maryam Zaki
11 months ago

Like it

1
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x