ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

آوا گون – بتول جنوری ۲۰۲۲

آوا گون ہندودھرم کا ایک بنیادی عقیدہ ہے جو اس کو نہ مانے وہ ہندو مذہب کا فرد نہیں ۔ اس کے مطابق موت کے بعد جسم اگرچہ فنا ہو جاتا ہے مگر روح قائم رہتی ہے ، اعمال کے مطابق دوسرے اجسام کا روپ دھار لیتی ہے اور یوں ایک سفر مسلسل جاری رہتا ہے ۔ ہندو مت کا یہ نظریہ میںنے سنا تو تھا مگر اس پریقین نہ تھا ، مگر ایک واقعہ نے میرے خیالات پر اثر ڈالا ۔ میں آوا گون کے نظریے کو مکمل مانتا تو نہیں مگر اس پر اب کسی حد تک یقین رکھتا ہوں۔
بیرون ملک تعلیم حاصل کر کے جب میں وطن واپس آیا تو اپنی مادرِ علمی(Alma Mater) میں ہی بحیثیت استاد متعین ہوگیا ۔ ایک عجب تجربہ تھا ،وہی کمرے جہاںآپ کبھی بحیثیت طالب علم بٹھے تھے ، وہ ڈیسک جس پر آپ سر رکھ کر سوتے تھے ۔ وہ راہداریاںجہاں آپ اپنے اساتذہ کو سلام کرتے گزرتے تھے ، وہ فضا جہاں آپ اپنے ساتھی طالب علموں کے ہمراہ دھماچوکڑی مچاتے تھے ، اب آپ کو استاد کی صورت دیکھ رہی تھی ۔ پہلے دن کلاس میں لیکچر کے لیے کھڑا ہؤا تو ماضی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ وہ ڈیسک جس پر پندرہ برس قبل میں نے بچپنے میں پر کار کی نوک سے اپنا نام کھوداتھا، اب اس پر کوئی اور اپنا نام لکھ رہا تھا ۔ وہ سامنے والی کرسی پر میں بیٹھا تھا اور ساتھ والی نشست پر میرا دوست مظہر زیدی جوجوانی میں ہی اگلے جہاں کے سفر پر چل نکلا۔ ایسا محسوس ہؤا کہ وہ ابھی پچھلا دروازہ کھول کر آئے گا، بیٹھے گا اور سر گوشی میں کہے گا ، گرمی بہت ہے ، آج تو مر گئے ، یہ استاد بھی بالکل بے کار ہے۔
اسی کمرے میں ہم نے شاید یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلا امتحانی بائیکاٹ کیا تھا ۔ جو ان خون تھے ، استاد کسی ذاتی بنا پرا متحانات کے ہفتے سے قبل ہی اپنے مضمون کا امتحان لینا چاہ رہے تھے ہم راضی نہ تھے مگر استاد صاحب نہ مانے ۔ یہ رعایت دی کہ امتحان کثیرانتخابی(Multiple Choice Questions)ہوں گے کہ چار ممکنہ جوابات میں سے ایک درست کا انتخاب کرنا ہوگا ۔ سو ہمیں امتحان سے گزرنا تھا ، ہم نے مل کر اس امتحان کے بائیکاٹ کا لائحہ عمل بنایا ۔ اُدھر پرچہ تقسیم ہؤا، ادھرتین منٹ بعد پہلا طالب علم جوابی کاپی واپس کر رہا تھا اور اس کے پیچھے بارش کے قطروں کی مانند پوری کلاس پیپر واپس کر رہی تھی ۔ کسی نے سوال پڑھنے کی زحمت بھی نہ کی تھی ۔ منصوبے کے مطابق پہلے سوال کا جواب سب نے پہلا ممکنہ جواب ، دوسرے سوال کاجواب دوسرا ممکنہ جواب ، تیسرے سوال کا جواب تیسرا ممکنہ جواب اور چوتھے سوال کا جواب چوتھا ممکنہ جواب چنا تھا ۔ یہی رابطہ (Pattern) اگلے سوالات کے جوابات میں دیا گیا ، درست یا غلط کے پیمانے سے قطع نظر تمام جماعت کے برابرنمبر تھے ۔ ایسا پرچہ پھر کبھی نہ حل کرنے کا موقع ملا ۔ ڈانٹ تو بہت پڑی مگر استاد صاحب کو پرچہ دوبارہ لینا پڑا اور کلاس کی مرضی کی تاریخ پر۔
اپنی مادر علمی میں پڑھنا آسان کام نہیں ، عجب محسوسات تھے ۔ میرے سامنے بڑی قد آور مثالیں تھیں ، شعبہ ریاضی کے ڈاکٹر امین تھے جو کہ اپنے شاگردوں کے لیے پدرانہ شفقت رکھتے تھے ، محبت آمیز وملنسار ۔ ان کا ایک واقعہ مشہور تھا جب ہمارے ایک طالب علم ساتھی نے انہیں امتحانی پرچے چیک کرتے دیکھا ۔ ڈاکٹر صاحب کے دفتر کادروازہ کھلا تھا اور وہ دنیا سے بے خبر پرچے چیک کررہے تھے ۔ ان کی لگن اور شاگردوں سے محبت اسی چیکنگ سے ہی ظاہر ہو رہی تھی ۔ جواب کے ایک ایک قدم (ِStep)پر درست کا نشان لگاتے تھے اور خوش ہو کر اونچی آواز میں کہتے تھے : شاواپتر ۔ ہمارا دوست چھپ کر ان کے اس والہانہ پن سے محظوظ ہونے لگا ۔ شاوا پتر ، شاوا پتر کی آوازیںسن کر اس کے لبوں پر

مسکراہٹ تھی ، مگر یہ مسکراہٹ قہقہے میں بدل گئی جب ڈاکٹر صاحب نے درست نشان لگاتے لگاتے امتحانی پرچے پر غلط کا نشان لگایا اور اسی روانی میں بآواز بلند بولے ، حرام دا پتر۔ اب ایسے شفیق اور خیال کرنے والے استاد کے نقش قدم پر چلنا آسان تو نہ تھا۔
ہمارے ہم جماعت کے والد ڈاکٹربٹ تھے جنہوں نے پوری ڈگری کے درمیان ہمیں کوئی کورس نہ پڑھایا کہ اپنے بیٹے کو کسی رعایت دینے کاخیال بھی ذہن میں نہ آئے ۔ ایسے استاد جو پرچہ بانٹ کر طالب علموں کو کہتے تھے کہ ہمیں آپ پر بھروسہ ہے اور پھر کلاس روم سے چلے جاتے تھے اور کیا مجال کہ کوئی طالب علم کسی دوسرے کے پرچے کی جانب آنکھ بھی اٹھا کر دیکھے اعتماد اور اس کی آبیاری میں نے اسی یونیورسٹی میںسیکھی۔
اس تمام پس منظر میں یہاںپڑھانے سے گھبرایا ہؤا تھا۔
پہلے دن شعبہ کے سر براہ ( ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ) ڈاکٹر ندیم سے ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی ۔ میری طرح اپنی پہلی ڈگری اسی یونیورسٹی سے حاصل کی تھی اور بعد میں امریکہ سے ڈاکٹریٹ کر کے آئے تھے ۔ میں نے اپنی پریشانی کا ذکر کیا کہ اس سے قبل پڑھانے کا کوئی تجربہ نہیں اور اپنے پرانے اساتذہ کی قد آوریت دیکھتا ہوں توخود کو ایک بونا پاتا ہوں ۔ کہنے لگے کہ آپ اسی ادارے کے فارغ التحصیل ہیں ، یہاں کی اقدار سے بخوبی واقف ہیں ، ماحول آشنا ہیں ، محنت کیجیے ، ایمانداری سے کام کریں ۔ آپ کے سامنے تابندہ مثالیںہیں،مجھے امید ہے کہ آپ اس ادارے کے لیے اچھا اضافہ ثابت ہوں گے ۔میری ہمت بندھائی ، میری ان سے پہلی ملاقات تھی ، پر اعتماد اور خوش اخلاق۔
جب ڈیپارٹمنٹ میں کچھ عرصہ گزرا تو علم ہؤا کہ ڈاکٹرندیم پراعتماد ہونے کے ساتھ ساتھ موقع شناس ہیں ، زبان دانی کو آسانی سے بڑھا کر چرب زبانی پرلے جاتے ہیں، کردار کے نہیں بلکہ گفتار کے غازی ہیں ۔ اپنے اُوپر والوں کے سامنے بچھ بچھ جاتے جبکہ ماتحتوں کو بلا وجہ بے نقط سنانے لگتے ہیں ۔ اکثر ان کے متعلق مختلف قصے سننے کوملنے لگے ۔ ان کے ساتھ میرے بیتے ایک واقعہ سے ہی آوا گون پر میرے یقین کی بنیاد پڑی۔
ہماری یونیورسٹی کا شمار ملک کی بہترین یوینورسٹیوںمیں ہوتا تھا ، معاشرے کی ہر سطح سے ذہین طلبا یہاں داخلہ لیتے تھے ۔ ان طلبا میں سے چند لا پرواہ بھی ہوتے تھے مگر پڑھائی کی چھلنی ہمارے ہاں بڑی سخت تھی کہ دانے دانے کو الگ کر دیتی تھی اُس سال پانچویںسمسٹر کے طلباء کو میں نے ایک کورس پڑھایا، یہ ایک بنیادی کورس تھاکہ اس کے بعد آنے والے کورسز پر انحصار کرتے تھے ۔
کہا جاتا ہے کہ سسٹم میں طلبا کو پورا سمسٹر باقاعدگی سے پڑھنا پڑتا ہے ، حقیقتاً سمسٹر سسٹم میں استاد کو بھی پورا سمسٹر باقاعدگی سے کام کرنا پڑتا ہے ۔ لیکچرز کے ساتھ ہفتہ وارانہ کام طلبا کوتفویض کریں ، ہفتے میںایک غیر اعلانیہ مختصر امتحان (جسے Quizکہتے ہیں) لیجیے ، لیب کے کام میں پہلے رہنمائی کریں پھر طلبا کو کام دیں اور بعد میں اس کی درستگی کریں ۔ سمسٹر کے دوران عموماً تین عدد ایک گھنٹہ دورانیہ کے امتحانات لیں جن کو ہماری یونیورسٹی میں (OneHour) کہا جاتا تھا بعض جگہ اسے Sessional کہا جاتا ہے ۔ اگرکوئی طالب علم کسی بنا پر غیر حاضر ہو تو اس کے لیے علیحدہ امتحان بنائیں ۔ امتحانی پرچوں کا تیار کرنا اور تمام امتحانی کاپیوں کی وقت پر تصحیح کر کے واپس دینا استاد کے لیے اچھا خاصا کام ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ طلبا کی رہنمائی ، تعلیم و تربیت سے لے کر انفرادی و اجتماعی معاملات تک آپ کو خوب مصروف رکھتے ہیں ۔ غرض صحیح استاد بننا سہل کام نہیں مگر یقیناً بہت شرمندہ ہے ۔
تمام چھوٹے سے چھوٹے امتحان بھی چیک کر کے واپس کیے جاتے کہ طلبا اپنی غلطیوں سے باخبر ہوںاور انہیں نہ دہرائیں ۔ ان تمام امتحانی چیکنگ کی بنیاد پر نتیجہ بنتا ۔ سمسٹر کے آخر میںحتمی ( فائنل) امتحان ہوتا ۔ اساتذہ اس وقت خوب مصروف ہوتے کہ سمسٹر کے تمام امتحانات کی بنیاد پر مکمل نتیجہ تیار کریں اور وقت پر رجسٹرار کو جمع کرائیں ۔ رجسٹرار کو جمع کرنے سے قبل صدر شعبہ یعنی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ نتیجہ کو دیکھتے ، اگر کوئی رائے ہوتی تو بتا دیتے اور اپنے دستخط ثبت کر تے ۔ یہ رائے استاد کی رضا مندی پر منحصر ہوتی کہ ہماری یونیورسٹی کی روایات میں استاد مقدم تھا۔

سو اس سمسٹر کے آخری دن تھے اور میںوقت پر کام مکمل کرنے کی کوشش میں تھا ۔ فائنل امتحان چیک کر کے اپنی کلاس کو دکھایا کہ وہ اپنے نمبروں کی جانچ کر لیں ۔یہ بھی ایک عجب تجربہ ہوتا ہے طلبا اپنے نمبر بڑھوا نے کی کوشش کرتے ہیں اور مختلف توجیہات دیتے ہیں ، بعض درست اور بعض ہنسی آمیز ، اسی یونیورسٹی کے سابقہ طالب علم ہونے کے ناتے میںان تمام پینتروں سے عملی طور پرواقف تھا ۔طالب علم آپ کے پاس پرچہ لے کر آئے گا ، سر ، آپ نے میرے نمبر یہاں پر کاٹے ہیں ، میں اصل میں یہ کہنا چا رہا تھا ( اس وقت تک اسے درست جواب کا علم ہوچکا ہوتا ہے ) مگر صحیح طور پر لکھ نہیں سکا، سر میرے نمبر بڑھتے ہیں کہ اب استاد مخمصے میں ہے کہ کیا کرے ، اسی وقت دوتین سوال پوچھنے پر طالب علم کی موضوع پر گرفت کا اندازہ ہو جاتا ہے ۔ ایک اور کسی ساتھی کا پرچہ اٹھائے آجائے گا ، سر آپ نے میرے ساتھی طالب علم کو تو میری طرح کے جواب کے اتنے نمبر دیے ہیں اور دیکھیے مجھے کم نمبر دیے ہیں ۔ سر میرے نمبر بھی بڑھائیے کہ ان معرکوں کا ایک عمومی حل یہی تھا کہ آپ پرچے کا حل پہلے بتائیں جس میں ہر جواب اور اس کے عمل کے واضح نمبر متعین کر دیں اور تمام پرچے اس کے مطابق چیک کریں ۔ کسی طالب علم کے نمبری استفسار پر یہ حل شدہ پرچہ آپ کی بہت مدد کو آتا ۔
طلبا کو فائنل پرچہ دکھانے اور رجسٹرار کو رزلٹ جمع کرانے میںچند دن کا وقفہ ہوتا ہے ۔ جب یہ آخری پرچہ دکھادیا جاتا ہے تو طلبا میرے مضمون میں فیل ہو رہے تھے ۔ انہیں میں ایک میری لیکچر شپ سے قبل نوکری کے بڑے افسرکا بیٹا تھا ۔ شام کو ان صاحب کا فون آگیا ۔ کھل کر تو نہ کہا مگر اشارے کنائے میں عندیہ دیا کہ کسی طرح فرزند کو پاس کر دوں ۔ میں مروتاً فون بند نہ کر سکا مگرکوئی حامی نہ بھری۔
اگلے دن صبح یونیورسٹی میں دفتری نے آکر پیغام دیا کہ صدر شعبہ اپنے دفتر میں رزلٹ کے ہمراہ یاد کرتے ہیں ۔ڈاکٹرندیم خلاف معمول بڑے ملنسار تھے ، بٹھایا اور رزلٹ پر نگاہ ڈالی ۔ کہنے لگے ، آپ کے پڑھانےکی تعریف سنی ہے آپ پڑھاتے بھی محنت سے ہیں مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کے مضمون میں کچھ طلبا فیل ہیں اس سے آپ کا اچھا تاثر نہیں جاتا میں نے کہا یہ تو طلبا کی کار کردگی ہے ۔ اگر کچھ فیل ہیں تو دوسرے بھی تو ہیں جنہوںنے اپنی محنت سے نوے فیصد کے قریب نمبر حاصل کیے ہیں ۔ میں باقاعدگی سے طلبا کوان کی کار کردگی بتاتا رہا ہوں۔ یہ فیل شدہ طلبا مسلسل تنبیہہ کے باوجود پڑھائی کی طرف توجہ نہ دے رہے تھے ۔ میں نے انہیں فیل نہیں کیا بلکہ یہ خود فیل ہوئے ہیں ۔ کہنے لگے کہ بہتر ہے کہ آپ انہیںپاس کر دیں ۔
یہ ایک لمحہ تھا، ایک ساکت لمحہ ۔ ایسا لمحہ جو پھیلے تو کئی برسوںپر محیط ہو جائے ۔ زندگی لمبی نہیں صرف لمحوں پر مشتمل ہے۔ایک لمحہ ہی زندہ ہوتا ہے ، باقی تو ہم صرف سانس لیتے ہیں ۔ لمحہ فیصلہ مانگتا ہے ، اپنے گردو پیش سے بالا تر ہوکر ایک لمحے کا غلط فیصلہ زندگی بھر کا پچھتاوا بن جاتا ہے ، برس ہا برس کا ماتم ، سینہ کوبی کرتا ۔وقت ایک لمحے کا غلام ہوتا ہے ۔ زنجیر بپا ،کڑیوں میں جکڑا ہؤا کسی پیرول یا رہائی کے امکان کے بغیر۔
میں چپ چاپ بیٹھا تھا ۔ ڈاکٹر صاحب نے میری ہچکچاہٹ بھانپ لی ۔ ملائم لہجہ میں کہنے لگے ، میں آپ کا بڑا ہؤا ، آپ کی بہتری چاہتا ہوں۔ آپ ان فیل شدہ کوپاس کردیں ۔ کسی کرم کی طفیل میں اس لمحہ کاادراک کرپایا تھا ۔ ڈاکٹر صاحب ، میں اسی ادارے کا طالب علم رہا ہوں ، یہاں کی روایات کا امین، میرے لیے یہ ممکن نہ ہوگا۔
ڈاکٹر ندیم نے میری جانب دیکھا اورنیا پینترا بدلا ، کہنے لگے ، دیکھیے ،میں آپ کے ساتھ ہوں، مگر مجھے اوپر سے کہا گیا ہے کہ ان طلبا کوپاس کریں ۔ ان کو پاس کرنا ہوگا ۔
میںنے ان کی جانب نظر اٹھا کردیکھا ۔ منظر بدل چکا تھا ۔ کرسی پر گہرے رنگ کا گھنگریالے بالوںوالا پالتو کتا تھا ۔بھاگ کر اپنے مالک کی گود میںچڑھ جانے والا گیند پھینکو تو لپک کر اٹھا لائے ،شاباش پائے ۔ مالک کے چہرے کی جانب منہ اٹھا کردیکھنے والا متواتر دمہ ہلانے والا ۔وفا دار، مالک کے کردار سے بالا تر ہوکر وفا دار ۔
میں نے ڈاکٹر صاحب سے معذرت کی مگر وہ پینترے بدل بدل کر آتے رہے ۔ گھنٹہ گزر چکا تھا اورذہنی طور پر تھک چکا تھا۔ڈاکٹر صاحب کا لہجہ تلخ ہوتا جا رہا تھا ۔ کہنے لگے ، لیکچرر صاحب ، میرا خیال تھا کہ آپ

زندگی کے حقائق سمجھتے ہیں ، مگر لگتا ہوو: کہ ایسا نہیں ہے ۔ آپ کوسبق ملے گا تو تب ہی سمجھیں گے۔
یہ دھمکی تھی اورڈاکٹر صاحب کا روپ بدل چکا تھا ۔ ان کی آنکھوںمیں غصہ ، نفرت ، تضحیک سب کچھ تھا، ان کی باچھیں لٹک رہی تھیں ۔ میں نے اپنے مضافاتی قصبے کے باہر سالانہ منعقدہ میلے میں کئی دفعہ کتوںکی لڑائی دیکھتی تھی ۔ میری نظروں کے سامنے اب ایک بل ڈاگ تھا ۔ پلا ہؤا چھوٹے کان ، جسم گٹھا ہوا ، سیاہ رنگ، باچھیں لٹکی ہوئیں ، آنکھیں نفرت آمیز ، چہرہ نشان زدہ،منہ دوسرے کی گردن دبوچنے کوبیتاب۔ میں نے سوچا کہ کیا یہی آوا گون ہے ۔
کتوں کی لڑائی میںلوگ، رسے اور ڈنڈے لے کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ اگر ایک کتا دوسرے کی گردن دبوچ لے تو آپ جتنا مرضی رسا ڈال کر کھینچیں وہ گردن نہ چھوڑے گا جب تک گوشت کا لوتھڑاالگ نہ کر لے ۔ ایسے میں کتے کے منہ میں ڈنڈا ڈال کر منہ کھلوانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔یہ بپھرے ہوئے کتے کے ساتھ آسان کام نہیں ،مگر پھربھی کامیاب ہونا یقینی نہیں ۔ اس پر آخری حربہ کتے کے کان میں پانی ڈالنا ہوتا ہے ۔ پانی کی تھوڑی سی مقدار کان میں جاتے ہی کتا دوسرےکی گردن چھوڑ دیتا ہے ۔
کان میں پانی ڈالنے کاموقع آگیا تھا ۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو کہا ۔ ڈاکٹر صاحب میں تو نتیجہ نہ بدلوں گا آپ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کی حیثیت سے اپنے دستخط کر کے تبدیل کر دیں اورویسے آج سے قبل تو آپ بھی ایمانداری کا درس دیتے تھے ڈاکٹر صاحب کامنہ کھل گیا ۔ کہنے لگے جائیے میں سمجھ گیا ، آپ نہ مانیں گے ، مجھے کچھ اورکرنا ہوگا۔
میںاٹھا اوراپنے دفتر آگیا ۔ تھوڑی دیر میں ایک اور لیکچرر تشریف لائے اورہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے حکم کے مطابق تمام رزلٹ کی کاپیاں لے گئے ۔ نتیجہ میں ردوبدل ہوئی اور تمام جگہ پر پڑھانے والے اساتذ کی جگہ پر دوسرے لیکچرر نے دستخط کیے اور صدر شعبہ کے سائن کے بعد رجسٹرار کے پاس نتیجہ جمع ہوگیا ۔ وہ پتھرجسے میںنے بھاری جان کر چھوڑ دیا تھا ، دوسرے لیکچر رنے چوم کراٹھا لیا۔
اس واقعہ کے بعد میںآوا گون پر یقین رکھتا ہوں ۔ موت کے بعد کا تو علم نہیں مگر زند گی میں لوگ اپنی جون بدلتے ہیں۔ اگلا روپ ان کے اعمال کے مطابق ہوتا ہے ، خوبصورت یا بد صورت، خوش آمیز یا زہر آلود ، خوشبو دار یا بدبو دار ۔ بس ذرا وقت گزاریے واسطہ پڑے گا اور آپ جان جائیں گے ۔
(فنون 142)

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x