محمد فصیح الرحمنآزادی کی قیمت ...

آزادی کی قیمت – نوردسمبر ۲۰۲۰

41 اگست مسلمانوں کی آزادی کا دن ہے جو کہ قائداعظم محمد علی جناح اور دیگر کئی عظیم لیڈروں کی اَن تھک محنت اورکوششوں کے بعد 1947 ء کو پاکستان کی صورت میں ملا۔ آج کی نوجوان نسل یہ دن بہت دھوم دھام اور جوش وخروش سے مناتی ہے۔ بچے گلیوں میں خوب شوروغل کرتے ہیں۔ باجے بجاتے ہیں۔ اس دن ٹیلی ویژن پر جشنِ آزادی کے نام سے طرح طرح کے پروگرامز نشر کیے جاتے ہیں تقریری مقابلے کروائے جاتے ہیں۔ بچے اپنے گھروں کو جھنڈیوںسے سجاتے ہیں۔
لیکن افسوس !
کوئی بھی ان حالات کا جائزہ نہیں لیتا جن کا سامنا مسلمانوں کو 14 اگست 1947 کو کرنا پڑا تھا۔ بھارتی فوجیوں نے مسلمانوں کو بے تحاشا اذیتیں دیں۔ لاکھوں مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہایا گیا۔ مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کاٹ کر پھینکا جا رہا تھا۔ جو مسلمان پاکستان کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑ کر بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آرہے تھے انھیںراستے میں ہی ما ردیا جاتا تھا۔ کوئی گھرانہ ایسا نہیں تھا جس کے تمام افراد صحیح سلامت پاکستان پہنچے ہوں۔ بہت سے مسلمانوں کو ان کے گھروں میں ہی مار دیا گیا۔
اسی کے پیشِ نظر ایک چشم دید واقعہ بیان کیا جارہا ہے۔ ذرا غورکیجیے۔
میں اپنے گھر کے صحن میں کھلونوں سے کھیل رہا تھا اور میرا چھوٹا بھائی جھولے میں سو رہا تھا اور ماں کچن میں کھانا پکا رہی تھی اور والد محترم تلاوت کر رہے تھے کہ اچانک سے کسی نے زور زور سے ہمارے گھر کا دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیا۔ میری ماںسمجھ گئی کہ بھارتی فو آے ہ ہیں۔ ماں نے ھے ایک ریری میں لالا اور چارپائی کے چے چ پا د دیا۔ اور ابھی وہ میرے چھوٹے بھائی کو بھی پکڑنے جا ہی رہی تھیں کہ بھارتی فوجیوں نے گھر کا دروازہ توڑ دیا اور اند داخل ہوگئے۔انہوں نے سب سے پہلیمیرے والد کو گولی ماری اور وہ وہیں گِر کر مر گئیپھر انہوںنے میرے بھائی کو جھولے میں لیٹے دیکھا اوراسے مارنے کے لیے اس کی طرف بڑھے۔ میری ماں چیختی رہی کہ اس معصوم کی جان نہ لو۔ لیکن بھارتی فوجیوں نے میرے بھائی کو اٹھایا اورپاؤں کے نیچے رکھ کر اس کا سر کچلنے لگے۔ وہ معصوم بچہ جو پہلے جھولے میں سو رہا تھا، ظالموں نے اس پھول کو بھی ابدی نیند سلا دیا۔ میری ماں کی چیخوں سے آسمان کا عرش کانپ رہا تھا۔ میری آنکھوں میں بھی آنسو بھر آئے تھے۔ میں چاہتا تھاکہ اپنی ماں کو ان ظالموں سے بچا لوں لیکن انہوں نے میری ماں کو بھی گولی مار دی۔ یہ دیکھ کر میں بے ہوش ہو گیا۔ اس کے بعد مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا ہوا اور کیا نہیں۔ میں جب ہوش میں آیا تو اپنے محلے کے حاجی صاحب کے گھر میںلیٹا ہواتھا جو کہ بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔ میں نے ہوش میں آتے ساتھ ہی ان سے پوچھا کہ میں کہاںہوں ؟ اس وقت میں بہتڈرا ہوا تھا۔
انہوںنے مجھے تسلی دی اور کہا کہ اب ہم پاکستان میں ہیں اور اب ہم آزاد ہیں۔ اب ہمیں کوئی بھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔یہ سن کر میں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اور رونے لگا۔ مجھے وہ سب یاد آنے لگا جو بھارتی فوجیوں نے میرے والدین اور بھائی کے ساتھ کیا تھا۔ انھیں بے دردی سے مارا گیا تھا۔
حا جی صاحب نے میرے سے رونے کی وجہ پوچھی تو میں نے ساری داستان ان کو سنا دی۔جسے سن کر وہ بھی آبدیدہ ہو گئے۔پھر میں نے حا جی صاحب سے اپنے بارے میں پوچھا کہ وہ مجھے کس طرح حفاظت سے اپنے ساتھ لے آئے ہیں؟حاجی صاحب نے مجھے سارا قصہ بتایا کہ وہ کس طرح ہجرت کر کے مجھے اپنے ساتھ لے کر آئے ہیں۔ سارا قصہ سن کر میںزار و قطار رویا۔ حا جی صاحب نے مجھے گلے لگایا اور کہا کہ اب ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اب ہم آزاد ہیں۔ میں نے کہایہ تو اللہ کا بہت کرم ہے۔اس کے ساتھ ہی میں نے حا جی صاحب کا بھی شکریہ ادا کیا۔
کیاا آپ نے کبھی ان حالات کے بارے میں سوچا ہے… ؟
(انتہائی افسوس کے ساتھ)… نہیں!… کبھی بھی نہیں !
ہم تو گلیوں میں شوروغل کرتے ہیں باجے بجاتے ہیں اور کسی بیمار کا خیال نہیں کرتے اور یہ بھی نہیں سوچتے کہ باجے کے شور سے کتنے لوگ تنگ ہو رہے ہیں۔ ہم پورے اہتمام سے جھنڈیاں لگاتے ہیں جو کہ بعد میں پیروں تلے روندی جا رہی ہوتی ہیں۔ ہم راتوں کو آتش بازی کرتے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں کے آرام میںخلل پیدا ہوتا ہے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارا وطن ہمیں بہت سی قربانیوں کے بعد حاصل ہواہے۔ ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہوناچاہیے۔ ہمارا پیارا وطن ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اس کی حفاظت کریں ، اس کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ ہمارا پیاراوطن ایک خداداد ملک ہے جو کہ اسلام کے نام پر بنا ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس میں اسلامی قوانین نافذ کریں اور ان پرعمل کریں۔
آخر میں اپنے ہم وطنوں سے درخواست ہے کہ آئیے ! آج کے دن عہد کریں کہ اپنے ملک سے وفاداری کریں گے اور ایک قوم بن کر رہیں گے اور لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ اس لا الٰہ الا اللہ کے نام پر بنائی گئی مملکت خداداد ’’پاکستان‘‘ کو ہمیشہ قائم ودائم رکھے اور اس کو دشمنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین !

!پاکستان زندہ باد

٭…٭…٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here