بتول مئی ۲۰۲۱اللہ کا تقویٰ-بتول مئی ۲۰۲۱

اللہ کا تقویٰ-بتول مئی ۲۰۲۱

اللہ کا تقویٰ بندے کوگناہ سے بچانے کا بڑا سبب ہے، اور یہ ایمان کے بڑے مقامات میں سے ہے۔ تقویٰ قیامت کے روز نجات کا سفینہ ہو گا۔قرآن کریم میں تین سوسے زائد مرتبہ تقویٰ کے مشتقات کا ذکر آیا ہے۔ اور ۸۱ مرتبہ تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے جو اس کی انسانی زندگی میں اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تین مرتبہ فرمایا: ’’انّ اللہ یحب المتقین‘‘ بلا شبہ اللہ متقین سے محبت کرتا ہے۔تو یہ متقین کے لیے کس قدر خوشی کی بات ہے۔
تقویٰ کے لغوی معنی بچاؤ اور حائل ہو جانے کے ہیں، یہ’’ وقی ‘‘ سے بنا ہے۔ یعنی تقویٰ بندے کو اللہ کے غضب اور اس کی معصیت سے بچاتا ہے۔ تقویٰ بندے میں اللہ کا خوف اور اس کی خشیت پیدا کرتا ہے، بندہ اپنی عبادت کو صرف اسی کے لیے خالص کر لیتا ہے اور اس سے ڈر کر گناہوں اور معصیت کے کاموں سے اجتناب کرتا ہے۔
تقویٰ کیا ہے؟
تقویٰ وہ بنیادی شرط ہے جو ہدایت اور رہنمائی کے راستے پر چلنے کے لیے ضروری ہے۔ قرآن کتابِ ہدایت ہے اور یہ ’’ھدیََ للمتقین‘‘ ہے۔اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی ’’متقی‘‘ ہو۔ بھلائی اور برائی میں تمیز کی صلاحیت رکھتا ہو۔ برائی سے بچنا اور نیکی کو اختیار کرنا چاہتا ہو، اور خواہش ِ نفس کا پجاری نہ ہو یعنی نفس کی باگیں خواہشات کے گھوڑے کے حوالے نہ کرتا ہو۔
کسی شخص نے حضرت علیؓ سے سوال کیا کہ تقویٰ کیا ہے تو انہوں نے جواب دیا: ’’وہ جلیل (جل جلالہ‘) کا خوف، اور تنزیل (قرآنِ کریم) کے مطابق عمل، اور یومِ رحیل (قیامت کے دن) کی تیاری کا نام ہے‘‘۔(کوثر المعانی الداری فی کشف خبایا صحیح بخاری، ج۱، ص۴۰۲)
تقویٰ ایک مخفی کلمہ ہے، لیکن اس کا چلن زندگی کے ہر گوشے میں محسوس ہوتا ہے۔تقویٰ ایک ایسا عصائے سحری ہے جس سے ہر مشکل قفل کھلتا چلا جاتا ہے۔فرمایا:
’’جو تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا اور اسے وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اس نے گمان بھی نہ کیا ہو گا‘‘۔ (الطلاق، ۲۔۳)
تقویٰ بہتر ہے
انسان فائدوں کے حاصل کرنے کا حریص ہے، تو سب سے بڑا فائدہ تقویٰ میں ہے، قرآن کریم میں ارشاد ہے:
’’اگر وہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کے ہاں اس کا جو اجر ملتا وہ ان کے لیے زیادہ بہتر تھا۔ کاش انہیں خبر ہوتی!‘‘(البقرۃ،۱۰۳)
متقین کی روش
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو، یقیناً اللہ تمہارے ان سب اعمال سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو‘‘۔ (الحشر، ۱۸)
سید قطب کہتے ہیں: یہ ایک قلبی حالت ہے، الفاظ کے لیے ممکن نہیں کہ وہ تقویٰ کی حالت کی تصویر کشی کر سکیں۔یہ ایک ایسی حالت ہے جس میںدل بیدار اور حساس ہوتا ہے اور اللہ کا تیز شعور رکھتا ہے، اور یہ شعور ہر حالت میں ہوتا ہے۔ انسان اللہ سے خائف، بہت محتاط اور اس بات سے حیا کرنے والا ہوتا ہے کہ اللہ اسے ایسے حال میں پائے جو اللہ کو پسند نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تو ہر لمحہ دیکھ رہا ہوتا ہے اس لیے اللہ سے کوئی بچ نہیں سکتا۔
تقویٰ فطرت انسانی کے اس خاص رجحان کی تعبیر ہے جس نے

 اسے آئین پسند بنا دیا ہے۔ہر شخص یہ بات محسوس کرتا ہے کہ ہم اس دنیا میں مطلق العنان بنا کر نہیں بھیجے گئے کہ جو چاہیںکہہ گزریں یا کر گزریں۔ بہت سے ظالمانہ افعال ،قتل و غارت،  لوٹ کھسوٹ ، اور اخلاق سے گری ہوئی حرکات کرتے ہوئے اس کے اندر ہی سے ایک آواز ابھرتی ہے اوراسے ٹوک دیتی ہے اور حدودمیں رہنے کا تقاضا کرتی ہے۔اسی طرح کچھ کام کرنے پر ابھارتی ہے، یہ تقویٰ ہی کے فطری جذبہ کی پیداوار ہے۔ (دیکھیے:روزہ اور قرآن، سید مناظر احسن گیلانی)
تقویٰ کی حد
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے‘‘۔ (آل عمران، ۱۰۲)
اس خدا خوفی کے لیے کوئی حد مقرر نہیں کی گئی، یہ ڈرنے والے کے دل کا کام ہے کہ وہ خدا خوفی میں کس مقام تک جا پہنچتا ہے۔ یعنی جس قدر وہ تصور کر سکتا ہے یا جس قدر اس میں اس کی طاقت ہو۔ قلب ِ مؤمن اس میدان میں جس قدر آگے بڑھے گا، اس کے سامنے نئے نئے آفاق کھلیں گے اور اس کا رہوارِ شوق مہمیز پائے گا۔(فی ظلال القرآن، تفسیر نفس الآیہ)
جس نے اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کا تقویٰ اختیار کیا اس نے تقویٰ کا حق ادا کر دیا۔اور تقویٰ کا حق یہ ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے اور اس کی نافرمانی نہ کرے، اور اسے یاد رکھے اور بھول نہ جائے،اور وہ اس کا شکر گزار ہو اور ناشکری نہ کرے تو یہی تقویٰ ہے۔
کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ ’’اللہ سے ڈرو، جیسا کہ ڈرنے کا حق ہے‘‘ تو یہ آیت مسلمانوں پر بہت گراں گزری اور انہوں نے کہا کہ ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے کہ ڈرنے کا حق ادا کرے کہ اس سے نہ کوئی قصور سرزد ہو اور نہ وہ زیادتی کا مرتکب ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’لہٰذا جہاں تک ممکن ہو اللہ سے ڈرتے رہو‘‘۔ (التغابن، ۱۶) یعنی جس نے استطاعت بھر اللہ کا تقویٰ اختیار کیا اس نے اس کا حق ادا کر دیا۔اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر بڑی نرمی فرمائی جب کہا: ’’اللہ کسی نفس پر اس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا‘‘۔ (البقرۃ، ۲۸۲)
تقویٰ روزے کے ثمرات میں سے ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کر دیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروؤں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو‘‘۔(البقرہ، ۱۸۳) یعنی بندہ رمضان المبارک سے باہر آئے تو وہ تقویٰ کی صفت حاصل کر چکا ہو۔
اہل ِ تقویٰ کے فضائل
قرآن کریم تقویٰ والوں کے فضائل بھی بیان کرتا ہے:
۱۔ اللہ تعالیٰ کی محبت
’’کیوں نہیں، جو بھی اپنے عہد کو پورا کرے گا اور برائی سے بچ کر رہے گا، وہ اللہ کا محبوب بنے گا، کیوں کہ متقی لوگ اللہ کو پسند ہیں‘‘۔ (آل عمران، ۷۶)
یہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا معیار ہے۔ یہ اخلاقی اصول ہے۔ جس نے اس کا لحاظ رکھا تو اللہ اس کے ساتھ محبت کرے گا اور اسے اعزاز و اکرام نصیب ہو گا۔
’’اور اللہ متقیوں کا ساتھی ہے‘‘۔ (الجاثیۃ، ۱۹)
اور ان اولیاء اللہ کے لیے ہی اس کی جانب سے ہر خیر ہے، ارشاد فرمایا:
’’سنو! جو اللہ کے دوست ہیں، جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا، ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔ دنیا اور آخرت دونوں زندگیوں میں ان کے لیے بشارت ہی بشارت ہے‘‘۔ (یونس، ۶۲۔۶۴)
۲۔ اہل تقویٰ ہی بہترین اشخاص
دنیا میں انسان بلندی کا خواہاں ہوتا ہے، اللہ کے نزدیک دنیا اور آخرت میں اہل ِ تقویٰ ہی سر بلند ہیں۔ فرمایا:

’’درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے‘‘۔ (الحجرات، ۱۳)

اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو برابر بنایا ہے۔ انسان اور انسان کے درمیان فضیلت اور برتری کی بنیاد اگر کوئی ہے تو وہ صرف اخلاقی فضیلت ہے۔ بندے کا تقویٰ جس قدر زیادہ ہو گا جنت میں اس کا مرتبہ اسی قدر بڑھتا جائے گا، اور وہ اسی قدر جنت الفردوس میں رسول اللہؐ سے قریب ہوتا جائے گا۔کیونکہ آپ انسانوں میں سب سے زیادہ متقی ہیں، آپؐ نے فرمایا:
’’میں تم میں سب سے زیادہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے والا اور سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہوں‘‘۔ (الصحیح الجامع، ۱۴۴۸)
۳۔ رزق حلال تقویٰ والوں کا نصیب
تقویٰ پاکیزہ رزق کے حصول کا مصدر بھی ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گااللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ پیدا کر دے گا، اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اس کا گمان بھی نہ جاتا ہو گا‘‘۔ (الطلاق، ۲۔۳) رزق کی تنگی کا شکوہ کرنے والوں کے لیے یہ اکسیر نسخہ ہے کہ اپنے اندر اللہ کا تقویٰ مزید پیدا کریں۔
۴۔ برکتوں کے نزول کا ذریعہ
اللہ تعالیٰ کی برکتوں کو پانے کا ذریعہ بھی تقویٰ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے‘‘۔ (الاعراف،۹۶)
یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ِ جاریہ کا ایک پہلو ہے۔ اگر بستیوں کے لوگ جھٹلانے کے بجائے مان لیتے اور بد کرداری کے بجائے تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو اللہ ان پر آسمان وزمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتا، آسمانوں اور زمین سے ان پر برکات کی بارش ہوتی ۔ جو لوگ خوفِ خدا سے کام لیتے ہیں ان کی زندگی بظاہر اسباب کے مطابق چل رہی ہوتی ہے لیکن درحقیقت ایک غیبی قوت مدد گار ہوتی ہے۔
جو برکات مومنین اور اہل ِتقویٰ پر سایہ فگن ہوتی ہیں وہ مختلف النوع ہوتی ہیں۔اس برکت کے کئی رنگ ہیں، مومنین کی ضروریات کی چیزوں میں برکت ہوتی ہے، ذاتِ انسانی میں برکت ہوتی ہے، انسانی شعور میں برکت ہوتی ہے، اور ان برکات کے نتیجے میں زندگی بڑھتی ہے، اور اس کے اندر سکون و اطمینان پیدا ہوتا ہے۔ (دیکھیے: فی ظلال القرآن، تفسیر نفس الآیۃ)
تقویٰ کی کمی کی بنا پر برکت بھی ختم ہو جاتی ہے، ارشاد ہے:
’’اور اگر لوگ راہِ راست پر ثابت قدمی سے چلتے تو ہم انہیں خوب سیراب کرتے‘‘۔ (الجن، ۱۶)
۵۔ نیکیاں بڑھانے کا ذریعہ
تقویٰ سے نیکیاں بڑھتی اور گناہ کم ہوتے ہیں، اللہ کا ارشاد ہے:
’’اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کی برائیوں کو اس سے دور کر دے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا‘۔ (الطلاق۔ ۵)
تقویٰ نہ صرف برائیوں سے دور کرتا ہے بلکہ اس کے گناہ بھی معاف ہوں گے اور اجر بھی زیادہ ہو گا۔
۶۔ اہل تقویٰ کی قبولیت
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اللہ تو تقویٰ والوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے‘‘۔ (المائدۃ، ۲۷)
آدمؑ کے دو بیٹوں نے اللہ کے حضور اپنی قربانی پیش کی تو ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی نہ ہوئی اور اس نے اپنے بھائی کو قتل کرنے کا اعلان کیا تو دوسرے بھائی نے یہی کہہ کر اسے اپنے نفس کے محاسبے کی جانب متوجہ کیا کہ اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے۔
۷۔ اہلِ تقویٰ کی نجات
قیامت کے دن اہل ِ تقویٰ ہی بلند درجوں پر فائز ہوں گے، ان کی حالت کو اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا ہے:
’’جن لوگوں نے یہاں تقویٰ کی روش اختیار کی، ان کے اسبابِ کامیابی کی وجہ سے اللہ ان کو نجات دے گا، ان کو نہ کوئی گزند پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے‘‘۔ (الزمر، ۶۱)

۸۔ اہل ِ تقویٰ جنت کے وارث
قیامت کے دن حقیقی کامیابی متقین ہی کو ملے گی، ارشاد ہے:
’’یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اس کو بنائیں گے جو متقی ہو گا‘‘۔ (مریم، ۶۳)
جو جنت کی وراثت چاہتا ہے ، اسے اللہ نے راہ بتا دی ہے۔ یعنی توبہ، ایمان اور عملِ صالح۔
تقویٰ کے لوازمات
اہل تقویٰ میں شامل ہونا ، مسلمان کے دل کی آرزو ہے، کچھ اعمال ایسے ہیں جو تقویٰ کو بڑھانے میں مدد گار ہیں:
۱۔ مکروہ اور حرام میں ملوث ہونے کے خوف سے بعض مباحات کو بھی چھوڑ دینا؛ حضرت عطیہ بن عرویؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’’بندہ اس وقت تک تقویٰ والوں کے درجہ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ایسی چیزوں کو بھی نہ چھوڑ دے جن میں کوئی حرج نہ ہو، تاکہ وہ ان چیزوں سے بچ جائے جن میں حرج ہے‘‘۔ (رواہ الترمذی)
یعنی وہ اگر ایسے حلال کو ترک کر دے جس میں کوئی فائدہ نہیں، اس خطرے کے پیشِ نظر کہ کہیں وہ حرام میں نہ مبتلا ہو جائے۔امام احمدؒ کہتے ہیں کہ : ’’تقویٰ اس شے کو چھوڑ دینے کا نام ہے جس کی نفس خواہش کرے، اور تجھے اس سے خوف ہے (کہ وہ حرام نہ ہو)‘‘۔
۲۔ تقویٰ کا احساس غالب رہنا
حضور اکرم ؐ نے معاذ بن جبلؓ کو نصیحت کی تھی: ’’تم جہاں بھی ہو، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو‘‘۔ (رواہ الترمذی)
یعنی بندہ ہر وقت اپنے اوپر اس احساس کو طاری رکھے اور زبان سے اس کا ذکر بھی کرتا رہے تاکہ اس کا دل چوکنا رہے۔وہ زیرِ لب یہ کلمات دہراتا رہے: ’’اللہ سے ڈرو، تم جہاں کہیں بھی ہو‘‘۔ اور جب نفس معصیت کا ارادہ کرے تو یہی احساس اسے گناہ ترک کرنے پر آمادہ کرے، اور وہ تقویٰ کی منزل پا لے۔
۳۔ کثرتِ دعا
رسول اللہؐ کی اس دعا کو اپنی مناجات میں شامل کر لیں: ’’اے اللہ میرے نفس کو تقویٰ عطا فرما، اور اس کو پاک کر دے، تو ہی اسے بہترین پاکیزگی عطا کر سکتا ہے، تو ہی اس کا ولی اور اس کا مولا ہے‘‘۔ (رواہ مسلم)
رسول اللہ ؐ یوں دعا مانگا کرتے:’’اے اللہ میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، عفت مآبی اور تونگری کا سوال کرتا ہوں‘‘۔ (رواہ مسلم)
۴۔ عفو ودرگزر
معاملات اور باہمی رویے میں عفو و درگزر تقویٰ کی صفت کے قریب ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’اگر تم نرمی سے کام لو، تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے‘‘۔ (البقرۃ،۲۳۷)
۵۔ قول و عمل میں سچائی
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور جنھوں نے اس کو سچ مانا وہی متقین ہیں‘‘۔ (الزمر، ۳۳)
۶۔ شعائر اللہ کی تعظیم
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اور جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے‘‘۔ (الحج، ۳۲)اور یہ شعائر نماز کی ادائیگی ہو یا قربانی کے جانور ، یا احرام اور بندگی کی دیگر نشانیوں کا احترام، یہ دلوں کے تقویٰ کو بڑھاتا ہے۔
۷۔ صالحین کا ساتھ
انسان کے جیسے رفیق اور دوست ہوں اس پر ویسے ہی اثرات مرتب ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سچوں کاساتھ دو‘‘۔ (التوبۃ، ۱۱۹)
یعنی ان لوگوں کے ساتھ رہو جن کی نیتیں خالص، دل بے لوث اور اعمال میں اخلاص ہے۔
تقویٰ کے ثمرات تقویٰ کا شجر ایسا بلند پایہ سایہ داردرخت ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں بہترین پھلوں سے لدا رہتا ہے۔اس پر بڑے متنوع پھل

لگتے ہیں جنہیں شمار نہیں کیا جاتا سکتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو۔اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا۔جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، اس نے بڑی کامیابی حاصل کر لی‘‘۔ (الاحزاب، ۷۰۔۷۱)
۱۔ اللہ تعالیٰ کی معیت
متقی کو اللہ کی معیت ملتی ہے، وہ ہر مشکل میں اس کا مدد گار ہے، خطرات میں اس کی حفاظت کرتا ہے، اس کی اعانت بھی کرتاہے، اور بڑی محبت سے اسے نیکی کی توفیق عطا کرتا ہے۔
’’اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ متقین کے ساتھ ہے‘‘۔ (البقرۃ، ۱۹۴)
۲۔ اللہ کی محبت
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں تقویٰ والوں سے محبت کرتا ہے، فرمایا:
’’ہاں، جو بھی اپنا عہد پورا کرے گا اور برائی سے بچ کر رہے گا، وہ اللہ کو محبوب ہے ، کیونکہ اللہ متقین سے محبت کرتا ہے‘‘۔ (آل عمران، ۷۶)
۳۔ متقی کے گناہوں کی مغفرت
جب اللہ بندے کو حق و باطل کا شعور دیتا ہے اور وہ تقویٰ کی راہ پر چل نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی کوشش کو قبول کرتے ہوئے اس کی غلطیوں سے صرف نظر فرماتا ہے۔
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم خدا ترسی کی روش اختیار کرو گے تو وہ تمہارے لیے کسوٹی بہم پہنچائے گا، اور تمہاری برائیوں کو تم سے دور کرے گا اور تمہارے قصور معاف کرے گا۔ اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے‘‘۔ (الانفال، ۲۹)
۴۔ متقی اللہ کا ولی
اللہ تعالیٰ متقین کا دوست اور ولی بن جاتا ہے۔متقی اللہ سے تعلق کی ایسی فضا میں رہتا ہے جہاں اسے زمانے کے حوادث غم میں مبتلا کرتے ہیں نہ قلق میں۔نہ وہ کفِ افسوس ملتا ہے نہ ندامت اس کا مقدر بنتی ہے۔ اگر اسے کوئی نقصان ہو بھی جائے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کا عوض عطا کر دیتا ہے، یا بہترین اجر کی امید پر اسے مطمئن کر دیتا ہے۔اسے مشکل کے ساتھ ہی آسانی میسر آتی ہے۔بڑے بڑے جانگسل لمحات اللہ کی معیت کے آسرے پر آسان ہو جاتے ہیں۔وہ دشمن کی تدبیروں اور بڑی بڑی چالوں سے مامون رہتا ہے، کیونکہ اللہ نے اس کی پیٹھ تھپکی ہے کہ: ’’اگر ان سب حالات میں تم صبر اور تقویٰ کی روش پر قائم رہو تو یہ بڑے حوصلے کا کام ہے‘‘۔ (آل عمران، ۱۸۶)
اور اس سے بڑی بشارت کیا ہو گی کہ آخرت کا گھر تیرے رب کے ہاں متقین کے لیے ہے۔
اللھم انی اسئلک الھدی واتقی والعفاف والغنی۔
اے اللہ میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی اور تونگری کا سوال کرتی ہوں۔آمین
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here