بتولاعتدال - بتول فروری ۲۰۲۱

اعتدال – بتول فروری ۲۰۲۱

اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں ارضی خلیفہ بنا کر بھیجا، اور اسے تاکید کی کہ وہ اس کی نعمتوں کو صحیح طریقے سے حاصل کرے اور انہیں صحیح مقام پر خرچ کرے، خواہ وہ بدنی نعمتیں ہوں ، طاقتیں ہوں یا وسائل ۔ ان سب کو حاصل کرنے کا طریقہ بھی درست ہو اور ان کا استعمال بھی اس کی رضا کے راستے میں ہو۔
دنیا میں سب سے زیادہ بے چینی، انتشار اور عدم سکون کا سبب اعتدال کی راہ کو چھوڑ دینا ہے۔ افراط و تفریط کے رویے نے افراد کو بھی صحیح راہ سے ہٹا دیا اور قوموں کو بھی عدم توازن کا شکار کیا۔عربی زبان میں میانہ روی کے لیے’’ قصد‘‘ کا لفظ بولا جاتا ہے۔یعنی ایسا عمل جوافراط اور تفریط کے درمیان ہو۔ اگر چال ہے تو درمیانی چال، گفتگو ہے تو درمیانی آواز، اگر خرچ کا معاملہ ہو تو اسراف اورتبذیر کے درمیان اعتدال کا خرچ۔ راستہ اختیار کرے تو دائیں اور بائیں جھکنے کے بجائے سیدھا راستہ اختیار کرنا اعتدال کا راستہ ہے۔
میانہ روی اسلام کی بنیادی خصوصیت ہے، جسے وہ مسلم فرد اور مسلم جماعت کی زندگی کے اندر ایک حقیقت کی شکل میں پیدا کرتا ہے، یہ خصوصیت اس کے نظامِ تربیت و اخلاق اور نظام ِ معیشت اور قانون معاشرت سب میں پائی جاتی ہے، اسی سبب سے اسلامی نظام کا ہر جزو مدارِ توازن اور اعتدال کی راہ پر ہے۔
عارضی دنیا میں انسانوں کے تین گروہ پائے جاتے ہیں، اور ان کی بنیاد ان کے تصور دین پر ہے:
پہلے تصورِ دین کے مطابق دنیا ایک قید خانہ ہے۔ اس کا جسم اس کی روح کے لیے ایک پنجرے کی حیثیت رکھتا ہے، انسان کی نجات اسی میں ہے کہ وہ اس قید خانے کی دیواروں کو اپنے ہاتھوں سے توڑ ڈالے، یعنی دنیا کو چھوڑ کر ایک گوشے میں بیٹھ کر اللہ کی جانب متوجہ ہو۔ یہ رہبانیت ہے۔
دوسرے تصور کے مطابق انسان کو دنیا سے منہ موڑنے اور جسم کے تقاضوں کو نظر انداز کرنے کی ضرورت نہیں، اسے اپنی انفرادی زندگی میں خدا کی عبادت کرنی چاہیے، اور دین انسان اور اللہ کا پرائیویٹ معاملہ ہے، رہے اجتماعی زندگی کے معاملات ، تو وہ اسے دنیا داری کے تقاضوں کے مطابق چلانے چاہئیں۔ یہ دین اور دنیا کو دو الگ حیثیتوں سے زندگی میں مقام دینے کا عمل ہے، کہ زندگی میں عبادات کو اللہ کی مرضی کے مطابق ادا کیا جائے اور دنیوی معاملات کو دنیا کے پیمانے کے مطابق۔ نہ دین دنیوی معاملات میں اثر انداز ہو نہ دنیا داری عبادت میں حائل ہو سکے۔
تیسرا تصور یہ ہے کہ دنیا یہ منہ موڑنا اور اپنے جسم کو تکلیف میں ڈالنا بھی غلط ہے اور دین اور اللہ کی فرمانبرداری کو محض انفرادی معاملہ قرار دینا بھی بالکل غلط ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ انسان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کی فرمانبرداری میں گزارے، اور پورے کا پورا اسلام میں داخل ہو جائے۔نہ رہبانیت درست ہے نہ ادھوری دین داری، بلکہ درست راہ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی غیر مشروط اطاعت کو اختیار کرے اور محمدﷺ کے طریقے کا اتباع کرے۔
مومن کے نزدیک وہ دنیا لعنت زدہ ہے جو انسان کو خدا سے غافل اور دین سے بے پروا بنا دیتی ہے، اور اس کی کتاب و سنت میں مذمت کی گئی ہے، لیکن دنیا کی وہ نعمتیں جو اسے اللہ سے غافل نہ کریں بلکہ دین کے تقاضوں کو پورا کرے میں مددگار ہوں، وہ ہر لحاظ سے پسندیدہ اور مطلوب ہیں۔ قرآن مجید میں انہیں’’حسنہ‘‘ بھی کہا گیا ہے اور ’’ثواب الدنیا‘‘ بھی! (دیکھئے: اسلامی نظامِ حیات، پروفیسر خورشید احمد،ص۲۱۶۔ ۲۲۴)
اعتدال اور میانہ روی ایک عام حکم ہے، اور مسلمان کی زندگی کے تمام کاموں میں اس کی کارفرمائی ہے۔افراط و تفریط دونوں مذموم خصلتیں ہیں نہ افراط ٹھیک ہے نہ تفریط۔ مسلمان کی پوری زندگی میں اعتدال اور میانہ روی کارفرما نظر آتی ہے، حتیٰ کہ مومن عبادت میں بھی اعتدال کو اختیار کرتا ہے، نہ اس میں غلو وشدت پائی جاتی ہے نہ اہمال و تفریط، کہ وہ عبادت کے معاملے میں انتہائی کمی اور کوتاہی کا شکار ہو۔
امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ : بندوں کے تصرفات اقوال و اعمال میں دو طرح کے ہوتے ہیں:
ایک تو عبادات، جن کے ذریعے بندوں کے دین کو درست سمت پر رکھا جاتا ہے اور یہی اللہ سے محبت کا ذریعہ بھی ہیں۔ان کے بارے میں شریعت کے ضابطے کے ذریعے ہی کوئی حکم لگایا جا سکتا ہے۔
دوسرے عادات، جو دنیا کے معاملات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ان میں کچھ عادات ایسی ہیں جن کے بارے میں شریعت نے احکام دیے ہیں اور کچھ عادات کے بارے میں حتمی احکامات نہیں دیے اور اس وسیع میدان کو انسان کی عقل اور تجربے کے لیے چھوڑ دیا، کہ وہ ان کو اختیار کرتے ہوئے عمومی اسلامی اصولوں کو پیشِ نظر رکھے۔ (کتاب مفاہیم اسلامیہ، رفعت عوضی)
انسان کے لیے یہ زندگی عارضی ہے اور آخرت کا گھر دائمی ہے، اوراس دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کرنا ہے انسان کا مقصود رہنا چاہیے۔ اس دنیا کی عارضی لذات اور آخرت کی مستقل نعمتوں کو پانے کے لیے بندہ اللہ کے دیے ہوئے مال کو اعتدال کے ساتھ کس طرح خرچ کرے، اس بارے میں خالقِ ارض وسماء نے بہترین رہنمائی فرمائی ہے، ارشاد ہے:
’’جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دنیا میں اپنا حصّہ بھی فراموش نہ کر۔ احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے‘‘۔ (القصص، ۷۷)
رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’جس نے میانہ روی اختیار کی وہ مفلس نہیں ہوتا‘‘۔ (مسند امام احمد)
قرآن کریم میں علم و عمل کے حوالے سے تین طرح کے لوگوں کا ذکر کیا ہے، فرمایا:
’’پھر ہم نے اس کتاب کا وارث بنا دیا ان لوگوں کوجنہیں ہم نے (اس وراثت کے لیے) اپنے بندوں میں سے چن لیا۔ اب کوئی تو ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے، اور کوئی بیچ کی راس ہے، اور کوئی اللہ کے اذن سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے‘‘۔ (فاطر، ۳۲)
یعنی مسلمان سب کے سب ایک جیسے نہیں بلکہ تین طبقوں میں تقسیم ہیں:
۱۔ اپنے نفس پر ظلم کرنے والے، جو سچے دل سے ایمان تو لاتے ہیں مگر عملاً کتاب اللہ اور سنت رسولؐ کی پیروی کا حق ادا نہیں کرتے، یہ مومن ہیں مگر گنہگار ہیں۔مجرم ہیں مگر باغی نہیں ہیں، ایمان کمزور ہے مگر منافق اور دل و دماغ سے کافر نہیں ہیں۔ اسی لیے انہیں ظالم ا لنفسہ کہا گیا ہے۔
۲۔ بیچ کی راس : یہ وہ لوگ ہیں جو وراثت کا حق کم و بیش ادا تو کرتے ہیں مگر پوری طرح نہیں کرتے۔ فرماں بردار بھی ہیں اور خطا کار بھی۔ ان کی زندگی اچھے اور برے دونوں اعمال کا مجموعہ ہے۔
۳۔ نیکیوں میں سبقت لے جانے والے: یہ وارثین ِ کتاب میں صفِ اول کے لوگ ہیں۔ خدا کے تمام بندوں میں وہ بندے سب سے افضل ہیں جو قرآن اور محمدؐ پر ایمان لا کر اس انتخاب میں کامیاب ہو گئے ہیں۔اس کی تفصیم اس حدیث میں بھی ملتی ہے، جسے ابو الدّرداء ؓ نے روایت کیا ہے، حضورؐ نے فرمایا: جو لوگ نیکیوں میں سبقت لے گئے، وہ جنت میں کسی حساب کے بغیر داخل ہوں گے۔ اور جو بیچ کی راس رہے، ان سے محاسبہ ہو گا مگر ہلکا محاسبہ۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے، تو وہ محشر کے طویل عرصے میں روک رکھے جائیں گے، پھر انہی کو اللہ اپنی رحمت میں لے لے گا، اور یہی لوگ ہیں جو کہیں گے کہ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے غم دور کر دیا‘‘۔(رواہ احمد)
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہؐ کی امت کو امتِ وسط قرار دیا ہے، فرمایا:
اور اسی طرح تو ہم نے تمہیں امتِ وسط بنایا ہے‘‘۔ (البقرۃ، ۱۴۳)
اس سے مراد ایک ایسا اعلیٰ و اشرف گروہ ہے، جو عدل و انصاف اور توسط کی روش پر قائم ہو۔یہ وسط کے ہر مفہوم کے اعتبار سے وسط ہے، یعنی احسن و افضل امت بھی ہے اور میانہ روی اور اعتدال اختیار کرنے والی بھی، اور مادی اور حسی اعتبار سے بھی متوسط۔
زمانے کے لحاظ سے بھی یہ امت ِ وسط ہے، اس امت سے عقل و دانش کا دورِ بلوغ شروع ہوتا ہے۔
یہ امت امتِ وسط ہے، اس میں غلو پایا جاتا ہے نہ افراط و تفریط، بلکہ وہ ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔وہ ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جہاں لوگ ایک جانب رب سے جڑیں اور دوسری جانب خلق سے۔ وہ ان میں جذبہء خدمتِ خلق ابھارتی ہے۔اور ایسی قانونی تدابیر بھی اختیار کرتی ہے جن کے ذریعے فرد جماعت کا خادم ہو اور ریاست اور جماعت فرد کی کفیل ہوں اور امتِ وسط یہ کام بڑی ہم آہنگی اور انتہائی مناسب طریقے سے انجام دیتی ہے۔ (دیکھیے : فی ظلال القرآن، نفس الآیۃ)
اللہ تعالیٰ نے قرآن کی ابتداء میں وہ دعا سکھائی ہے جو افراط و تفریط سے پاک امتِ مسلمہ کے راستے کو بیان کرتی ہے: ’’اے اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا‘‘۔ (الفاتحہ)ایسا راستہ جو یہود و نصاریٰ کے راستے سے ہٹ کر انعام یافتہ لوگوں کا راستہ ہے۔ اور پھر یہ دعا نماز کی ہر رکعت میں مانگی جاتی ہے۔
اعتدال، بہترین راہ
کلامِ عرب میں وسط کو بہترین راہ کہا جاتا ہے، اور جب کسی چیز کو وسط کہا جائے تو وہ اپنی نوع میں بہترین قسم ہوتی ہے۔ اگر وسط اور اعتدال کا ذکررائے، عقیدہ یا عمل سے ہو تو اس مراد یہ ہے کہ اس میں نہ شدت پائی جاتی ہے نہ ایسی نرمی جو مذموم ہو، بلکہ احسنِ عمل پر مشتمل رویہ ہے۔
افراط و تفریط پر مبنی عمل
اللہ تعالیٰ کو اپنی صاف اور سیدھی راہ پر چلنے والے اور توسط اختیار کرنے والے بندے مطلوب ہیں، اسی لیے صاف اور واضح ہدایات دیں، اور فرمایا:
’’کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہشِ نفس کی پیروی اختیار کر لی ہے اور جس کا طریق ِ کار افراط و تفریط پر مبنی ہے‘‘۔ (الکھف، ۲۸)
جو شخص خدا کو بھول کر اپنے نفس کا بندہ بن جاتا ہے، اس کے ہر کام میں بے اعتدالی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ حدود آشنا ہو کر رہ جاتا ہے۔ ایسے آدمی کی اطاعت کا یہ مطلب ہے کہ اطاعت کرنے والا خود بھی حدود ناآشنا ہو جائے اور جس جس وادی میں مطاع بھٹکے اسی میں مطیع بھی بھٹکتا چلا جائے۔ (تفہیم القرآن، ج۳، ص۲۳)
خرچ میں توسط
اسلام انصاف اور اعتدال کا دین ہے، اور ہر معاملے میں اعتدال اور میانہ روی کا حکم دیتا ہے، اسی بنا پر مومنوں کو اسراف اور تبذیر سے بھی منع کیا اور بخل سے بھی، ارشاد الٰہی ہے:
’’اے بنی آدم! ہر مسجد کی حاضری کے وقت اپنی زینت اختیار کرو اور کھاؤ پیو البتہ اسراف نہ کرو۔ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ (الاعراف، ۳۱)
اسراف یہ ہے کہ جو چیزیں اللہ نے حرام ٹھہرائی ہیں ان پر خرچ کیا جائے، خواہ کم خرچ کیا جائے یا زیادہ۔ مثلاً شراب، نشہ آور اشیاء، سونے چاندی کے برتن، مردوں کے لیے ریشمی لباس یا سونے کے زیورات، خواہ وہ کسی رسم و رواج کے سبب ہی مردوں کو سونے کی انگوٹھی دینا ہو (جو کہ ہمارے مسلمان گھرانوں میں رواج پا چکا ہے)۔اسی طرح مال لٹانا اور مال اڑانا (اھلکت مالاً لبداً) بھی جائز نہیں خواہ اپنے اوپر لٹایا جائے یا دیگر لوگوں پر۔ رسول اللہ ؐنے مال کو ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ یا جس چیز کی ضرورت نہ ہو اس پر اتنا خرچ کیا جائے کہ ہاتھ خالی ہو جائے۔
رسول اللہؐ نے دعا سکھائی جس میں ’’القصد فی الفقر و الغنی‘‘ کے الفاظ ہیں، یعنی تنگ دستی اور اور فراخی دونوں حالتوں میں میانہ روی اختیار کرنا۔ یعنی نہ تو فراخی میں ہاتھ بالکل ہی کھول دے اور نہ تنگدستی میں ہاتھ گردن سے باندھ لے بلکہ ان دونوں میں اعتدال سے خرچ کرے۔
اللہ تعالیٰ نے اسراف اور بخل سے بچتے ہوئے اعتدال اور میانہ روی سے مال خرچ کرنے کا سلیقہ سکھایا ہے، ارشاد ِ الٰہی ہے:
’’وہ آپ ؐ سے خرچ کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجئے ، جو زائد ہو‘‘۔ (البقرۃ، ۲۱۹)
امام رازیؒ کہتے ہیں: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو خرچ کرنے کا طریقہ سکھایا ہے، چناچہ نبی کریمؐ سے خطاب کر کے فرمایا:’’رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی اور فضول خرچی نہ کرو۔ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہوتے ہیں‘‘۔ (بنی اسرائیل، ۲۵)
اور فرمایا:’’نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو‘‘۔ (بنی اسرائیل، ۲۹) نیز فرمایا: جو خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف سے کام لیتے ہیں اور نہ تنگی سے‘‘۔ (فرقان، ۶۷)
رحمٰن کے بندوں کی صفت ہے کہ وہ اعتدال اور میانہ روی کا نمونہ ہیں، اسی بنا پر ان کی زندگی نہایت متوازن ہے۔وہ فرد کو ملکیت رکھنے کی اجازت دیتا ہے لیکن دولت کو خرچ کرنے کی کھلی چھٹی نہیں دیتا۔ اسراف اور بخل دونوں سے معاشرے اور اجتماعی اقتصادیات کو نقصان پہنچتا ہے۔ اگر مال روک دیا جائے تو کساد بازاری پیدا ہوتی ہے اور اگر اگر ضرورت سے زیادہ خرچ کیا جائے تو دوسروں کی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے اور پھر اس سے اخلاقی فساد بھی پیدا ہوتا ہے، چنانچہ اسلام اعتدال اور توازن کو ایک مسلم شخصیت کا حصہ بنا دیتا ہے اور اس کا تعلق ایمان سے جوڑ دیتا ہے۔کہ یہ عباد الرحمن کی صفت ہے۔ (دیکھئے: فی ظلال القرآن، نفس الآیۃ)
مسرفین عیاشی، قمار بازی، شراب نوشی اور یار باشی ، میلوں ٹھیلوں اور شادی بیاہ میں بے دریغ مال خرچ کرتے ہیں ،اور اس سب کو ضروری خیال کرتے ہیں، اسی طرح اپنی حیثیت سے بڑھ کر اپنی شان دکھانے کے لیے غذا، مکان، لباس اور تزئین و آرائش پر اپنی دولت لٹاتے ہیں، وہ زر پرست نہیں، مگر خرچ کا مقصد محض عیش و عشرت ہے، کبھی شان دکھانا اور ناک اونچی رکھنا، اور فیاضی کی داستانیں مشہور کروانا ہے۔ ایسے نمونے ہر معاشرے میں پائے جاتے ہیں، کبھی کسی تقریب یا شادی بیاہ کے خرچ کی میڈیا رپورٹنگ اس کے ڈنکے بجوانے میں مدد گار بنتی ہے۔ حال ہی میں ہمارے ملک کے دو تاجروں کے ایسے ہی تذکرے نے کئی روز تک عوام و خواص کی توجہ حاصل کی۔اسلام میں یہ رویہ کسی طرح بھی محمود نہیں، نہ ہی بخل اور مال کو سینت سینت کر رکھنا قابل ِ تعریف ہے۔ رسول اللہؐ اور آپ کے صحابہ کی زندگی اعتدال اور میانہ روی کی بہترین مثال ہے۔اسراف ناجائز کاموں میں خرچ کرنا بھی ہے، اور جائز کاموں میں خرچ کرتے ہوئے حدِ اعتدال کو چھوڑ دینا بھی، خواہ استطاعت سے زائد خرچ کرے یا ضرورت سے زیادہ! یا اپنی دولت کو صرف اپنے اوپر خرچ کرے اور اس میں دوسروں کا حصّہ نہ نکالے۔
بخل یہ ہے کہ آدمی اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضرورتوں پر اپنی مقدرت اور حیثیت کے مطابق خرچ نہ کرے، اور یہ بھی کہ خیر اور بھلائی کے کاموں پر خرچ نہ کرے۔
رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’اپنی معیشت میں توسط اختیار کرنا آدمی کے فقیہ (دانا) ہونے کی علامتوں میں سے ہے‘‘۔ (احمد و طبری)
خرچ کے مدارج
نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کے پاس مال ہو تو وہ اپنے نفس سے ابتدا کرے، پھر جو زیرِ کفالت ہوں ان پر، اور ان کے بعد دوسرے لوگوں پر خرچ کرے‘‘۔ (رواہ مسلم، ۹۹۷)
آپؐ کا ارشاد ہے: ’’بہترین صدقہ وہ ہے جو آدمی کو غنی رہنے دے‘‘۔ (مسند احمد بن حنبل، ۱۵۵۷۷)
رسول اللہؐ اپنے گھر والوں کے لیے ایک سال کی خوراک ذخیرہ رکھتے تھے‘‘۔ (رواہ البخاری، ۵۶۵۷)
شخصیت میں اعتدال
دین صرف اقتصادی اور معاشی رویے ہی میں اعتدال کا خواہاں نہیں ہے بلکہ آدمی کی پوری شخصیت ہی کو معتدل بنانا چاہتا ہے، خواہ وہ چال ہو یا اس کی آواز ، یا رخ پھیر بات کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے صاف ہدایت کی:
’’اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین میں اکڑ کر چل، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا۔اپنی چال میں اعتدال اختیار کر اور اپنی آواز پست رکھ، سب آوازوں سے بری آواز گدھوں کی ہوتی ہے‘‘۔ (لقمان، ۱۸۔۱۹)
مغرور شخص کے انداز ِ کبر اور سرتابی کو بیان کیا گیا ہے، کہ لوگوں سے منہ پھیر بات کرنے کے پیچھے کیا سوچ کار فرما ہوتی ہے۔ لوگوں کو حقیر سمجھنے والے کو اللہ بھی پسند نہیں کرتا اور لوگ بھی اسے ناپسند کرتے ہیں۔ جو خود کو اونچا خیال کرتا ہے، اور اس کا اظہار اپنی رفتارمیں کرتا ہے، اللہ تعالیٰ ایسے خود پسندوں کو پسند نہیں کرتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کو شائستہ گفتگو پسند ہے۔ گرجدار آواز سے بات کرنے والا عموماً بے ادب ہوتا ہے یا اسے اپنی بات پر یقین نہیں ہوتا، اور اپنی شخصیت کی کمزوری کو آواز سے شور میں دبانا چاہتا ہے۔ بے مقصد اونچی آواز کو اللہ تعالیٰ نے ایک نہایت مکروہ حقیر اور احمقانہ آواز سے تشبیہ دے کر اسے نہایت قابلِ نفرت بنا دیا ہے۔ (دیکھیے: فی ظلال القرآن)
اطاعت میں میانہ روی
اللہ تعالیٰ نے اسلام کو دینِ رحمت بنایا ہے، اور قرآن انسانوں کی زندگی میں بہار بن کر آیا ہے، فرمانِ الٰہی ہے:
’’یہ قرآن ہم نے تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تو مشقت میں پڑ جائے‘‘۔ ((طہٰ، ۲)
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ ان کے پاس تشریف لائے جب کہ ان کے پاس ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ آپؐ نے پوچھا: ’’یہ کون ہے‘‘ ۔ حضرت عائشہ نے جواب دیا: ’’یہ فلاں عورت ہے جو (نفلی) نمازیں کثرت سے پڑھتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’ٹھہرو! تم اسی چیز کو لازم پکڑوجس کی تم طاقت رکھو، اللہ کمی قسم! اللہ نہیں اکتاتا، یہاں تک کہ تم خود اکتا جاؤ‘‘۔ اور اللہ کو سب سے زیادہ محبوب اطاعت وہ ہے جس پر اسے اختیار کرنے والا ہمیشگی اختیار کرے۔ (متفق علیہ)
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ تین آدمی نبی کریمؐ کی ازواج کے گھر آئے، اور ان سے نبیؐ کی عبادت کے متعلق پوچھا۔ جب انہیں (اس کی تفصیل)بتائی گئی تو انہوں نے اسے اپنے لیے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا نبی کریمؐ سے کیا مقابلہ؟ آپؐ کے تو اگلے پچھلے گناہ معاف ہیں، (ہمیں تو آپؐ سے زیادہ عبادت کرنے کی ضرورت ہے)چناچہ ان میں سے ایک نے کہا، میں ہمیشہ ساری رات نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا، میں ہمیشہ روزے رکھوں گا اور کبھی روزے کا ناغہ نہیں کروں گا۔ تیسرے نے کہا، میں عورتوں سے کنارہ کش رہوںگااور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ رسول اللہؐ کو جب یہ باتیں پہنچیں تو آپ ان کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے پوچھا، تم نے اس اس طرح کہا ہے؟ اور ان کے اثبات پر فرمایا: خبر دار! اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کا سب سے زیادہ خوف دل میں رکھنے والا ہوں، لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں، (رات کو) نماز بھی پڑھتا ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ (پس یہ سارے کام ہی میری سنت ہیں)اور جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔ (رواہ البخاری ومسلم)پس خیر و برکت اور ثواب صرف نبی کریمؐ کے طریقے کے اتباع میں ہے جو اعتدال اور میانہ روی پر مبنی ہے۔
بہترین رویہ افراط و تفریط کے درمیان اعتدال ہی کا خرچ ہے۔ رسول اللہؐ کا فرمان ہے:
’’دولت مندی میں اعتدال کتنا اچھا ہے، محتاجی میں درمیانگی کتنی اچھی ہے اور عبادت میں میانہ روی کتنی اچھی ہے‘‘۔ (کنز العمال، جلد دوم، ص۷)
رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’درست رہنمائی، اچھی چال اور میانہ روی نبوت کا پچیسواں جزو ہے‘‘۔
حضرت ابنِ مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’اپنی طرف سے دین میں سختی کرنے والے ہلاک ہو گئے‘‘، اور یہ آپؐ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا۔(رواہ مسلم)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’یقیناً دین آسان ہے، اور جو اس دین میں بے جا سختی کرتا ہے تو دین اس پر غالب آ جاتا ہے(یعنی ایسا انسان مغلوب ہو جاتا ہے اور دین پر عمل ترک کر دیتا ہے) پس تم سیدھے راستے پر رہو اور میانہ روی اختیار کرواور اپنے رب کی طرف سے ملنے والے اجر پر خوش ہو جاؤ اور صبح و شام اور رات کے کچھ حصے کی (عبادت) سے مدد حاصل کرو‘‘۔ ( رواہ البخاری)
حضرت عبد اللہ بن جابر بن سمرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریمؐ کے ساتھ (آپ کی اقتداء) میں نمازیں پڑھتا تھا، پس آپؐ کی نماز بھی درمیانی ہوتی تھی اور آپؐ کا خطبہ بھی درمیانہ۔ (رواہ مسلم)
حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو اس شخص پر نظر پڑی جو دھوپ میں کھڑا تھا۔ آپؐ نے اس کی بابت پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ اس کا نام ابو اسرائیل ہے، اس نے نذر مانی ہے کہ دھوپ میں کھڑا رہے گا، نہ بیٹھے کا نہ سایہ حاصل کرے گا ،اور نہ کسی سے بات کرے گا اور روزہ رکھے گا۔ آپؐ نے فرمایا: اس سے عہو وہ گفتگو کرے، اور سایہ حاصل کرے اور بیٹھ جائے، البتہ اپنا روزہ پورا کرلے‘‘۔ (رواہ البخاری)
میانہ روی اور اعتدال کا یہی وہ معیار ہے جو اللہ اور اس کے رسولؐ نے سکھایا ہے۔افراط و تفریط سے پاک راہ ِ توسط اختیار کرنا ہی مطلوب ہے، یہی اس دین کی ساخت اور اس کا طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توسط کی راہ پر چلائے۔ آمین

ڈاکٹر میمونہ حمزہ

٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here