ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ابتدا تیرے نام سے- بتول جون ۲۰۲۱

قارئین کرام! عید الفطر سے چند روز پہلے لیلۃ القدر کی تلاش کی گھڑیوں میں اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ میں موجود نمازیوں پر فائرنگ کی۔اس سے چند روز قبل وہ مشرقی یروشلم میں مسلمانوں کے مکانات پر جبری قبضہ کرنے کا تنازعہ بھی کھڑا کرچکے تھے۔اس کے نتیجے میں مقامی آبادی میں شدید اشتعال پیدا ہؤااور فلسطینیوں نے مزاحمت کا آغاز کیا۔ مگر اس مزاحمت کا کوئی تناسب نہ تھا کیونکہ دنیا کے سب سے بڑے زندان میں مقید اس آبادی کے مقابل دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی رکھنے والی فوج تھی۔ شہری آبادیوں پر اسرائیل کے جوابی حملوں میںسینکڑوں فلسطینی خاص کربچے شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے۔رہائشی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں ، ہسپتال، سکول اور میڈیا کے دفاتر بھی نشانے پر رکھے گئے۔
اسرائیل جس کا وجود ہی ناجائز ہے کیونکہ وہ فلسطینیوں کی زمین پر قابض ہے،لہٰذا اپنے اس ناجائز قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے اس کے پاس دہشت گردی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔۱۹۴۸ سے اب تک اسرائیل کے جرائم پر نگاہ ڈالی جائے تو اس میں کوئی شک نہیں رہتا کہ اسرائیل ایک دہشت گرد ملک ہے اور دہشت گردی کی اگر کوئی تعریف ہو سکتی ہے تو وہ ہے جو اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے ساتھ کررہی ہے۔اس کے برعکس اسرائیل اور اس کے سب سے بڑے پشت پناہ امریکہ و یورپی یونین نے حماس کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے جو نہ صرف اپنی زمین پراس ناجائزقبضے کے خلاف مزاحمت کررہی ہے بلکہ غزہ کے عوام کی نمائندہ سیاسی قوت بھی ہے۔تقریباً تمام بچی کھچی فلسطینی آبادی کو غزہ اور مغربی کنارے کے چھوٹے سے علاقے میں دھکیل دینے کے بعد اب چونکہ اسرائیل اور اس کی حامی طاقتوں کا اصل مقصد پورے فلسطین خاص کر حرم شریف اور مقدس مقامات پر قبضہ کرنا ہے،لہٰذا فلسطینیوں کو ان کی آبائی زمینوں سے بے دخل کرنے کے اقدامات جاری رہتے ہیں۔ اس اقدام کے تحفظ کے لیے اسرائیل کے ’’دفاع‘‘ـ کے نام پرکبھی پتھروں کے جواب میں گولیاں برسانا، حیلوں بہانوں سے فلسطینی آبادی کو ظلم کا شکار بنانا اس کی سوچی سمجھی پالیسی ہے کیونکہ تنگ آمد بجنگ آمد کے تحت فلسطینی مزاحمت کرتے ہیں اور نتیجے میں اور زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔
۱۹۶۷ کے اسرائیلی قبضے کے بعد شدید ترین اسرائیلی مظالم کے نتیجے میں فلسطینیوں کی پہلی انتفاضہ تحریک ۱۹۸۷ سے ۱۹۹۳ تک چلتی رہی۔پھرسنہ ۲۰۰۰ میں کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے نتیجے میں دوسری انتفاضہ شروع ہوئی جو ۲۰۰۵ تک جاری رہی۔دونوں ادوار میں مغربی میڈیا جسے ’’عالمی‘‘ میڈیا کہا جاتا ہے، فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کو ہمیشہ چھپاتا یا معمولی بنا کر پیش کرتا رہا ہے۔مگرحالیہ اسرائیلی دہشت گردی اس دور میں ہوئی ہے کہ سوشل میڈیا پرہر طرح کی خبریں اور حقائق موجود ہیںجس کے نتیجے میں فلسطینیوں کی جدوجہد کے مناظر عام افراد تک پہنچے ہیں۔ ساتھ ہی اسرائیل کی دہشت گردی کے خلاف اٹھنے والی آوازیں دنیا بھر میں سنی جانے لگی ہیں۔امریکی اور برطانوی حکومتوں کی اسرائیلی ظلم کی پشت پناہی اور مجرمانہ ساتھ پر خود ان ممالک کے اندر صیہونی نظریے کے مخالفین کھل کر بول رہے ہیں۔ایسے میں یہ بہت اہم ہوگیا ہے کہ ہم مسئلہِ فلسطین کو تاریخی تناظر میں دیکھ کر اس کے مختلف پہلوؤں سے باخبر ہوں کیونکہ جہاں خبریں موجود ہیں وہیں اسرائیلی پراپیگنڈہ بھی وافر موجود ہے۔خصوصاً نئی نسل کو جو سوشل میڈیا کا سب سے زیادہ استعمال کرتی ہے،حقائق کی درست تفہیم کی طرف مائل کرنا ضروری ہے۔کوئی بھی موقف قائم کرنے کے لیے یروشلم، فلسطین اور بیت المقدس سے جڑی تین ہزار سالہ تاریخ، اور اس کے بعد پہلی عالمی جنگ سے لے کر آج تک کے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھنا ضروری ہے۔ آج کے ذرائع معلومات کی موجودگی میں یہ سب جاننا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
اُدھر فلسطینی اور اِدھر کشمیری عوام کو اپنی سرزمینوں پر غاصبانہ قبضے کے خلاف جانیں قربان کرتے ہوئے بہتّر سال بیت چکے ہیں۔جو ظلم ان دونوں اقوام کے ساتھ روا رکھا جارہا ہے، آج کی نام نہاد مہذب دنیا میں اس ظلم کے آگے بین الاقوامی قانون کی بے بسی پر حیرت ہوتی ہے۔مگر زیادہ دکھ تو باون مسلمان ممالک کی حکومتوں اور فوجوں پر ہے جو مجرمانہ بے حسی کا شکار ، اپنے اپنے مفادات کی اسیرہیں۔

حالیہ ظلم کی لہر کے بعددنیا بھر میں فلسطینیوں کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف عوامی مظاہرے دیکھے گئے۔ پاکستان میں بھی مختلف شہروں میں عوام نے بھرپور ریلیوں اور مظاہروں کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ یہ مظاہرے جدید دنیا میں عوامی جذبات کے اظہار کا ایک مانا ہؤا انداز ہے جس کے ذریعے حکومتوں اور پالیسی ساز اداروں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے اورامکان پیدا ہوتا ہے کہ مقتدر حلقے اپنے فیصلوں میںاس عوامی احتجاج، مذمت یا مطالبات کو مدنظر رکھیں گے۔ہمارے ہاں اکثر یہ سننے میں آتا ہے کہ ان احتجاجوں کا کیا فائدہ ہے،زبانی کلامی احتجاج اور مذمت سے کیا ہوگا۔یہ بات مسلم حکومتوں کی بے بسی یا بے حسی کے تناظر میں تو درست ہے، حکومتوں کو احتجاج نہیں عملی اقدامات اور بین الاقوامی فورمز پرڈپلومیسی کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ مگر ایسا نہ ہو رہا ہو تو عوام کیا کریں؟ کیا اپنے مسلمان بھائی بہنوں، معصوم بچوں کو مرتا ہؤا دیکھ کر خاموش ہو رہیں، اپنی زندگیوں میں مگن رہیں؟ خود کو بری الذمہ سمجھ لیں؟ ظاہر ہے ایسے موقع پر اپنا کردار ادا کرنے کے طریقے سوچے جائیں گے ۔ احتجاج کے ذریعے ضمیر عالم کو جھنجوڑنے کی کوشش کرنا یقیناً مظلوم کا ساتھ دینے اور ظالم کا ہاتھ پکڑنے کا فرض نبھانے کے برابر ہے۔ جہاں مالی مدد ہو سکتی ہو، وہاں مال کے ذریعے بھی ساتھ دینا اپنایہی دینی فرض ادا کرنے کی ایک کوشش ہے۔اگر اسرائیل مخالف اور فلسطینیوں کے حق میں ہزاروں افراد کے بڑے بڑے مظاہرے نیویارک، لندن، وین کوور، میلبورن ، پیرس، شکاگو، میلان، برلن، آک لینڈ اور سان فرانسسکو کی سڑکوں پر ہوسکتے ہیں، اور استنبول، جکارتہ ، صنعااور عمان میں دشمن کو للکارا جا سکتا ہے تو پاکستان تو امت کے سوادِ اعظم کا مرکزِ نگاہ اپنے قیام کے وقت سے ہے۔ پھر کیا ایسا نہ ہوتا کہ کراچی لبیک یا اقصیٰ کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھتا! البتہ بحیثیت امت اپنے زوال کے اسباب پر غور کرنا اور ان کو دور کرنے کی اجتماعی و انفرادی منصوبہ بندی کر کے اس پہ عمل پیرا ہونا یقیناً وہ اصل کام ہے جو ہمیں اس بھنور سے نکال سکتا ہے۔
امریکہ کو فوجی اڈے دینے کی خبر گرم ہے۔ اگرچہ تردید آچکی ہے مگر خدشات ہنوز باقی ہیں۔ پہلے ہم نے ایک سپر پاور کو شکست دے کراسے افغانستان سے نکلنے پر مجبور کردیا لیکن پھر ایک دوسری سپر پاور کو افغانستان تک رسائی دے کر اس کی جنگ اپنے ذمے لے لی ۔ اس پر ائی جنگ میں ہزاروں جانیں اور اربوں ڈالر گنوائے اب امریکہ نام کی ہاری اور پٹی ہوئی قوت میں دوبارہ جان ڈالنے کے لیے اگر ہماری سرزمین اور ہمارے لوگ استعمال ہوں گے تو اس سے بڑی بدقسمتی کوئی نہ ہوگی، ملک اب امریکہ کے حکم کاغلام بننے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
عدیم ہاشمی کے حسبِ حال اشعار کے ساتھ اجازت دیجیے، اگلے ماہ تک بشرطِ زندگی!

مفاہمت نہ سکھا جبرِ ناروا سے مجھے
میں سر بکف ہوں لڑادے کسی بلا سے مجھے
زباں نے جسم کا کچھ زہر تو اگل ڈالا
بہت سکون ملا تلخیِ نوا سے مجھے
بکھر چکا ہوں میں اب مجھ کو مجتمع کر لے
تو اب سمیٹ بھی اپنی کسی صدا سے مجھے
میں مررہا ہوں پھر آئے صدائے کن فیکون
بنایا جائے مٹا کے پھر ابتدا سے مجھے
میں ریزہ ریزہ بدن کا اٹھا رہا ہوں عدیمؔ
وہ توڑہی تو گیا اپنی التجا سے مجھے

دعاگو، طالبہِ دعا
صائمہ اسما

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x