نجمہ راجہ یاسین

عہدِ نبویؐ میں نظام تعلیم – بتول اپریل ۲۰۲۲

عہدِ نبوی ؐ میں نظامِ تعلیم کے مطالعہ سے پہلے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ زمانۂ جاہلیت کے نظامِ تعلیم پربھی نظر ڈالی جائے۔ زمانہ جاہلیت کے بارے میں ڈاکٹر حمید اللہ اپنی کتاب کے ایک باب’’ زمانہ جاہلیت میں تعلیم ‘‘ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیںکہ ’’مدرسوںکے معاملے میں کیسے یقین آئے گا کہ اس زمانے میںوہاں نہ صرف تعلیم گاہیں تھیں بلکہ ایسی تعلیم گاہیں تھیں جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوںتعلیم پاتے ہوں۔ بہرحال ابن قتیبہ نے بیان کیا ہے کہ مکہ کے قریب رہنے والے قبیلہ ہذیل کی ضرب المثل فاحشہ عورت ظلمہ جب بچی تھی تو مدرسہ جاتی تھی جہاں اس کا دلچسپ مشغلہ یہ تھا کہ دواتوںمیں قلم ڈال اور نکال کر کھیلا کرے ۔ اس دلچسپ واقع سے اتنا تو معلوم ہو جاتا ہے کہ قبیلہ قریش کے رشتہ دار قبیلہ ہذیل میں ایسے مدرسے تھے جوچاہے کتنے ہی ابتدائی نوعیت

مزید پڑھیں

عہدِ نبویؐ میں نظام تعلیم – بتول مئی ۲۰۲۲

عہدِ نبویؐ میںمسجد کا کردار تعمیرات کے باب میںہم دیکھ آئے ہیں کہ آپؐ نے ہجرت کے بعد سب سے پہلے جس بات کی طرف توجہ دی وہ مسجد کی تعمیر تھی ۔ مسجد نبویؐ جس جگہ تعمیر ہوئی اس کے بارے میں روایات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں آپؐ کی ہجرت سے قبل نمازپڑھائی جاتی تھی ۔ اسلامی معاشرے میں مسجد کا کردار بہت اہم ہے ۔ آپ ؐ نے نئے معاشرے کی تعمیر کے لیے جو پہلی اینٹ رکھی وہ مسجد ہی تھی ۔ مسجداسلامی معاشرے میں روحانی اورمادی رہنمائی کا اولین سر چشمہ ہے ۔ مسجد عبادت گاہ ، علم کامرکز و منبع اور ادب کی مجلس ہے ۔ اسلام کے دورِ اوّل میں مسجد نبوی بطور مدرسہ استعمال ہوتی تھی ۔ معاشرے کے لیے تمام کوششیں اسی مسجد سے وابستہ تھیں ۔ مسجد ایک اجتماعی ادارہ ہے ۔ مسجد ایک تعلیم

مزید پڑھیں