کوئی دارو تو اس مرضِ کہن کا بھی خدارا دو جو خدمت گار کا حق ہے، اسی کو حق وہ سارا دو غلام اب ہے کوئی، کوئی نہ آقا اب کسی کا ہے انہیں اس آخری خطبے کا وہ پیغام پیارا دو جہالت، درد، غربت کی نہ چکی پیس دے ان کو اخوت، عدل، شفقت […]
امیدِ صبحِ بہار رکھنا سدا گلوں پہ نکھار رکھنا بُھلا کے رکھنا خزاں کا موسم بہار یوں ذی وقار رکھنا سہانی رُت ہے اب آنے والی یہ زرد پتے اتار رکھنا اچھلتی موجیں سمندروں میں یونہی دلِ بےقرار رکھنا چھلکنے پائے نہ چشمِ پُرنم چھپا کے غم صد ہزار رکھنا اداس موسم کے رتجگوں میں […]
ساون آیا، برسی برکھا، رت یہ سہانی آئی ہے ڈالی ڈالی کوکے کوئل، کیا یہ سندیسہ لائی ہے سکھیوں نے ڈالیں پینگیں اور اُڑیں فلک کو چھونے رنگ برنگے آنچل بکھرے، قوس ِ قزح سی چھائی ہے ساون آیا برسی برکھا، رت یہ سہانی آئی ہے پیار کا موسم آ پہنچا، ہے ساون کا پیغام […]
گھنگھور گھٹاؤں نے پیغام سنایا ہے ہر دل کو لبھانے کا موسم یہ آیا ہے گونجے ہے جہاں سارا اک شوقِ نوا سے اب مرغانِ چمن نے بھی کیا رنگ جمایا ہے من بھر گیا خوشیوں سے، غم دور ہوئے سارے امیدِ وصل کا اک سندیسہ لایا ہے رم جھم ہے بوندوں کی، دل پر […]
غزل ہم سفر پھر نئے سفر میں ہیں ہم اسی آرزو کے گھر میں ہیں حالِ دل کی خبر نہ پھیلا دیں وہ جو بے تابیاں نظر میں ہیں بیش قیمت ہیں ہر گہر سے وہ سچے موتی جو چشمِ تر میں ہیں غم نہ کر ان دیوں کے بجھنے پر ساعتیں چند اب سحر […]