نعت جہانِ رنگ و نظر میں چاہے نہ پوری ہو اپنی کوئی خواہش مگر یہ اک آرزو کہ جس کو بنا لیا حرزِ جاں محمدؐ میں تکتے تکتے تمہارے در کو کچھ ایسے سوؤں کہ پھر نہ جاگوں نصیب ہو جائے چشم تر کو کبھی جو وہ آستاں، محمدؐ چراغِ دل بجھ گیا ہے شاہا […]
غزل جاں سے سوا عزیز دیانت قلم کی ہے سچائی جو بھی ہے وہ امانت قلم کی ہے طوفان بن کے اٹھتے ہیں لفظوں کے پیچ و خم ہر موجِ فکر زندہ کرامت قلم کی ہے الفاظ کے رہین ہیں دنیا کے انقلاب تلوار کی کہاں ہے جو طاقت قلم کی ہے بے شک خیال […]
سرِ شاخِ نشیمن چہچہانا اور ہے اے دل کسی کنجِ قفس کو گھر بنانا اور ہے اے دل ہنسی اہلِ چمن کی بھی نہایت خوب ہے لیکن پسِ دیوارِ زنداں مسکرانا اور ہے اے دل کسی دشمن سے پنجہ آزمائی اور ہوتی ہے کسی کی دوستی کو آزمانا اور ہے اے دل تعلق کے ہزاروں […]
در تو در ، سایۂ دیوار سے ڈر لگتا ہے اپنا ہوتے ہوئے غیروں کا نگر لگتا ہے دن نکلتے ہی امڈ آتے ہیں کالے سائے کسی آسیب کا اس گھر پہ اثر لگتا ہے خون آلودہ سبھی ہاتھ ہیں دستانوں میں اب کے اندیشہ بہ اندازِدگر لگتا ہے اوڑھنے روز نکلتی ہے رِدا زخموں […]
عجب یہ شاد مانی ہے عجب یہ خوش گمانی ہے ادھر والے کنارے سے اُدھر والا کنارہ خوب تر ہوگا نہایت پر فضا ہوگا نہایت خوش نما ہوگا مگر اس خوش گمانی کو مٹانے پر تُلا ہے دل میں اس کو کیسے سمجھائوں کہ ہیںسب ایک سے ساحل سواچھا ہے کہ نائواورچپو اس کنارے پرہی […]