پہلی ملاقات سے آخری ملاقات تک ۔ فردوس تبسم قریشی
تحریکی رابطوں کے ذریعے مجھے کچھ خواتین سے حریم ادب کا پتہ چلا جہاں لکھاریوں کی باقاعدہ محفل ہوتی ہے یہ سن کرمیں بہت خوش ہوئی چنانچہ اپنے شوق کی تکمیل کے لیے اپنے شوہر کے ساتھ بیتِ احسن گئی ۔ اُس دن میں بالکل اُس چھوٹے طالب علم کی طرح گھبرائی ہوئی تھی جیسے اُس کا سکول میں پہلا دن ہو۔ گیارہ بجے حریمِ ادب کا آغاز فرات غضنفر صاحبہ کی زیر صدارت ہؤا۔تلاوت کلام پاک اورمختصر درسِ قرآن کے بعد سب سے پہلے مجھے ہی بولنے کاموقع دیا جسے سن کر میں گھبرا گئی لیکن ایک با وقار خاتون نے مجھے حوصلہ دیتے ہوئے کہا گھبرائونہیں اعتماد کے ساتھ سنائو جو کچھ لکھ کر لائی ہو ۔مجھے اُن کا دوستانہ اور بے تکلفانہ انداز بہت اچھا لگا حالانکہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ شخصیت کون ہے ۔
وہ فرزانہ چیمہ تھیں محفل کے بعد ایک دوسرے سے تعارف ہؤا تو پتہ چلا کہ اس محفل میں ام عبد منیب ، آسیہ راشد ، عفت قریشی، سامیہ احسن اور بہت سی نامور رائٹر ز موجود ہیں۔ میںاُس دن بہت پر جوش تھی ۔ جن کے نام میں نے رسالوں کے صفحات پر دیکھے تھے انہیں آج اپنی آنکھوں سے…

