عقیلہ اظہر

تعلیمی ہجرت ۔ عقیلہ اظہر

تم نے دیکھا ہے میرے بیٹے کو
یہ بتائو کہ کیسا لگتا ہے
دورکتنا ہے میری آنکھوں سے
میرے دل کے قریب رہتا ہے
وہ ہے میرے وجود کا حصہ
کیا وہ میرے بنا ادھورا ہے
یہ حرام وحلال کے چکر
جانے کیسے وہ بچتا رہتا ہے
سال بھر ہی ہو&ٔا ہے اس سے ملے
فاصلہ مدتوں کا لگتا ہے
مال و اولاد آزمائش ہیں
یہ بھی اک امتحان لگتا ہے
تم سے اک بات پوچھنی تھی مجھے
کیا اسی طرح بات کرتا ہے
ڈگریوں کے حصول کی خاطر
اپنے کھو کر پرائے پاتا ہے
یہ بتائو لباس ہے کیسا
جینز اورشرٹ ہی پہنتا ہے
ایک کرتا سفید اک شلوار
دیس میں منتظر سا رہتا ہے
کتنا معصوم کتنا کمسن تھا
اب وہ کتنے برس کا لگتا ہے
ذہن جب بھی پکارتا ہے اسے
دل دھڑک کر فراز؎۱کہتا ہے
میری آنکھوں سے دیکھ کرکہنا
کتنا پیارا ہے کیسا لگتا ہے
جب پکاتی ہوں کوئی ایسی چیز
جس کو وہ بھی پسند کرتا ہے
لقمہ لقمہ اتارنا مشکل
لمحہ لمحہ عجیب کٹتا ہے
پھول اب بھی لبوں سے جھڑتے ہیں
کھلکھلا کر وہ اب بھی ہنستا ہے
دل لگائے یہ اس سے کہہ دینا
جو رگِ جاں کےپاس رہتا ہے
یہ نہ کرنا خیال ریحانہ ؎۲
خط یہ خالہ نے کیسا لکھا ہے

میری بھانجی میرے بیٹے سے ملنے امریکہ گئیں ، اس موقع پر ایک خط
؎۱ : بیٹے کا نام
؎۲ : بھانجی کا نام
٭٭٭

مزید پڑھیں

لینڈنگ – بتول جون ۲۰۲۳

’’ آج تو بہت دیر ہوگئی ہے ۔‘‘ بلال بالوںمیں کریم لگا کر کنگھاکر رہا تھا ۔ پھر اپنے لیپ ٹاپ کو بیگ میں بند کر تے ہوئے رانیہ سے کہا ’’میرا بلیزر لا دو دوسری الماری میں ہے۔‘‘
رانیہ اپنا سامان پیک کر رہی تھی۔ آج اس کی فلائٹ پر ڈیوٹی تھی۔ ائیر ہوسٹس کا اپنا کام ہی وقت پر ختم نہیں ہو پاتا ۔
’’ لادو ‘‘ بلال نے جوتے کے بند باندھتے ہوئے رانیہ کی طرف دیکھ کر کہا ۔
رانیہ کی زبان پر کچھ آتے آتے رہ گیا پھر جلدی سے بلیزرلاکر دے دیا ۔ بلال نے اسے دیکھتے ہی ہاتھ پھیلا دیا کہ پہنادے ۔ رانیہ نے دیکھ کر بھی نظر انداز کر دیا اور کوٹ مسہری پر رکھ دیا ۔ اس کے پاس وقت کہاں تھا ۔ گاڑی کسی بھی لمحہ اسے لینے آنے والی تھی ۔ دیر کر کے وہ کوئی خطرہ تو مول نہ لے سکتی تھی ۔
ایسے چھوٹے چھوٹے واقعات گھر میں وقوع پذیر ہوتے رہتے تھے ۔ رانیہ یہ نو کری اپنی مرضی اور خوشی سے کر رہی تھی اس لیے ہر کام اسے اپنی نوکری سے پیچھے ہی نظر آ تا تھا ۔
ثانیہ بڑی تھی ، اب پندرہ برس کی ہونے کو…

مزید پڑھیں