تعلیمی ہجرت ۔ عقیلہ اظہر
تم نے دیکھا ہے میرے بیٹے کو
یہ بتائو کہ کیسا لگتا ہے
دورکتنا ہے میری آنکھوں سے
میرے دل کے قریب رہتا ہے
وہ ہے میرے وجود کا حصہ
کیا وہ میرے بنا ادھورا ہے
یہ حرام وحلال کے چکر
جانے کیسے وہ بچتا رہتا ہے
سال بھر ہی ہو&ٔا ہے اس سے ملے
فاصلہ مدتوں کا لگتا ہے
مال و اولاد آزمائش ہیں
یہ بھی اک امتحان لگتا ہے
تم سے اک بات پوچھنی تھی مجھے
کیا اسی طرح بات کرتا ہے
ڈگریوں کے حصول کی خاطر
اپنے کھو کر پرائے پاتا ہے
یہ بتائو لباس ہے کیسا
جینز اورشرٹ ہی پہنتا ہے
ایک کرتا سفید اک شلوار
دیس میں منتظر سا رہتا ہے
کتنا معصوم کتنا کمسن تھا
اب وہ کتنے برس کا لگتا ہے
ذہن جب بھی پکارتا ہے اسے
دل دھڑک کر فراز؎۱کہتا ہے
میری آنکھوں سے دیکھ کرکہنا
کتنا پیارا ہے کیسا لگتا ہے
جب پکاتی ہوں کوئی ایسی چیز
جس کو وہ بھی پسند کرتا ہے
لقمہ لقمہ اتارنا مشکل
لمحہ لمحہ عجیب کٹتا ہے
پھول اب بھی لبوں سے جھڑتے ہیں
کھلکھلا کر وہ اب بھی ہنستا ہے
دل لگائے یہ اس سے کہہ دینا
جو رگِ جاں کےپاس رہتا ہے
یہ نہ کرنا خیال ریحانہ ؎۲
خط یہ خالہ نے کیسا لکھا ہے
میری بھانجی میرے بیٹے سے ملنے امریکہ گئیں ، اس موقع پر ایک خط
؎۱ : بیٹے کا نام
؎۲ : بھانجی کا نام
٭٭٭

