شمیم لودھی

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش… ۔ شمیم لودھی

یہی کوئی سن تھاپچاسی۔ جی ہاں ! آپ سمجھ گئے ہوںگے 1985 جب میرا بیٹا عادل ایک سال کا میری گود میں تھا ۔ میری عطائے الٰہی اولاد میں سب سے چھوٹا۔ بڑے بچے سکول میں اور شوہر پاک فضائیہ میں اپنے منصب کی ذمہ داری پر ہوتے۔ اس فرصت کے محدود اوقات میں جھٹ سے منصوبہ بندی کر کے ملاقاتوں کے لیے نکل پڑتی۔ کئی گھر صرف پشتو سمجھ سکتے اس کے لیے مقامی اپنی ملازمہ سے مدد حاصل کرتی ۔ کچھ عربی دان عرب سے وہاں ملازمت کے سلسلے میں رہائش پذیر تھے ۔ وہاںکچھ نہ کچھ انگریزی زبان سے کام چلا یا جاتا ۔ اپنے گھر میں درسِ قرآن و حدیث کے لیے دعوت دی سامنے ایک ریٹائرڈ o.cیعنی کمانڈنگ افسر پاک فضائیہ کا اپنا ذاتی گھر تھا ۔ ساتھ ہی تمباکو بورڈ کے ڈائریکٹر بہادر علی کا گھر تھا ۔ ان سب خواتین کو بلاتی اورمل بیٹھ کر ترجمہ سورہ عنبکوت کیا۔آپا جان رشیدہ کشور صاحبہ سے پشاور جاتے ہوئے ناظمہ جماعت اسلامی کے نمبر لیے تھے رب کریم ان ہستیوں کو اجر عظیم سے نوازتا رہے ۔
تاج صنوبر خیبر مارکیٹ پشاور شہر میں تھی جبکہ میں کینٹ میںتھی۔ رابطے سے رابطے نکلتے گئے ۔ میرے…

مزید پڑھیں

اک ہاتھ جو رہتا تھا دعا کی طرح سر پہ ۔ شمیم لودھی

عوام الناس کا آنا جانا لگا رہتا تھا اُس ادارے میں ۔ مروجہ اور سرسری طریقے پر آمد و رفت جاری ہی تھی کہ یکا یک کچھ تبدیلیاں سب کی نظروں میں آگئیں مثلاً طالبات کا مرد کلرک کے کمرے تک جانا ہوتا تو اس کے دفتری میز تک پہنچ ہوتی مگر اب بیرونی کھڑکی کا صرف اتنا حصہ کٹوا کر راستہ رکھ دیا گیا جہاں طالبات کمرہ کلرک سے باہر رہ کر اپنے واجبات اورفنڈز جمع کرائیں ۔ ہوسٹل کی لڑکیاںبراہ راست گیٹ پر آکر مطلوبہ اشیا چوکیدار سے کہہ کر بازار سے منگوایا کرتیں ۔ انہیںروک دیا گیا اور حد بندی کی پابندی لگادی گئی ۔ کالج کے تمام مرد نوکروںکا داخلہ ممنوع قرار دیا جن کی رہائشی کمروں تک سیدھی رسائی تھی ۔ مجھے یعنی شمیم لودھی کو پرنسپل صاحبہ کے کمرے میں طلب کیا جہاں سارا سٹاف نصف دائرے میںموجود تھا ۔ مجھے متعا رف کروانا مقصود تھا ۔ انگلش کی لیکچرار گورڈن کالج پنڈی سے تعلیم یافتہ ، فزکس کی گولڈ میڈلسٹ ، بیالوجی کی پنجاب یونیورسٹی لاہور کی سند یافتہ…..یوں سب شخصیات سے آگاہی کروائی ۔مندرجہ بالا کالج میں سب تبدیلیاں جس بڑی شخصیت کی مرہون منت تھیں وہ تھے میرے پیارے ابا جان…

مزید پڑھیں